بند کریں
اتوار فروری

مزید خصوصی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
اہرام مصر
حیرت میں مبتلا کرنے والا عجوبہ۔۔۔۔ یہ دنیا کے سات عجوبوں کی فہرست میں شامل ہیں ان کی تعمیر کی بنیاد قدیم مصریوں کے اس دنیا میں ہیں ۔ دراصل وہ مرنے کے بعد دوبارہ اسی دنیا میں زندہ ہونے پر ایمان رکھتے تھے
عثمان یوسف قصوری :
اہرام مصر قدیم مصری تہذیب کا ایسا عظیم شاہکار ہیں جو ہزاروں سال گزرنے کے بعد بھی دنیا اپنے سحر میں مبتلا کیے ہوئے ہیں ۔یہ اس وقت کے( فرعون) بادشاہوں کی ایسی یادگار اور عجوبہ ہیں جن کے اندر بادشاہوں اور ان کی بیویوں کے مقبرے موجود ہیں ۔ وقت گزرنے کے باوجود یہ ابھی تک اصل حالت میں برقرار ہیں ۔یوں تو مصر میں 138کے قریب مضبوط عمارتیں موجود ہیں لیکن قاہرہ کے مضافاقی علاقے غزہ میں تین اہرام موجود ہیں ۔
یہ دنیا کے سات عجوبوں کی فہرست میں شامل ہیں ان کی تعمیر کی بنیاد قدیم مصریوں کے اس دنیا میں ہیں ۔ دراصل وہ مرنے کے بعد دوبارہ اسی دنیا میں زندہ ہونے پر ایمان رکھتے تھے اس لیے وہ موت کے بعد لاشوں کو حنوط کر کے ممی کی شکل میں اہرام کے اندر رکھ دیتے تھے اور ان ممیوں کے ساتھ زور جواہرات اور دیگر سامان بھی رکھا جاتا تھا جو صاحب مقبرہ کے خیال میں دوسرے جنم کے بعد اس کے لیے ضروری ہوتا تھا حتیٰ کہ ان کے پسندیدہ جانوروں ہتھیاروں ، لباس ،برتن آلات اور اکثر اوقات خادموں اور غلاموں کو بھی ان کے ساتھ ہی دفنا دیا جاتا تھا ۔

یہ اہراماس وقت کے فرعون بادشاہ خوفو کے لیے بنائے گئے یاد گار مقامات ہیں ۔ اس کا نقشہ خوفو کے وزیر ہیمون نے تیار کیا تھا۔ اہرام کی تعمیر کے وقت اس کی اونچائی 146.51میٹر تھی لیکن موجود انچائی (138.8) میٹر ہے کیونکہ 1300قبل مسیح میں ایک زلزلے کے دوران اس کے اوپر رکھاسفید پتھر گر گیا تھا جو سلطان ناصرالدین الحسن قاہرہ اٹھا کر لے گیا جس سے ایک مسجد اور ایک چھوٹا قعلہ تعمیر کرایا گیا ۔
آج بھی ان پتھروں کی باقیات اہرام میں موجود ہیں ۔ اس اہرام کاوزن تقریباََ 5.9ملین ٹن ہے اس حساب سے اس کی تعمیر میں 20سال کا عرصہ لگا اور روزانہ 800ٹن پتھر لگایا گیا ۔ ہر گھنٹے میں 12سے 13پتھر کے بلاکس لگائے گئے اہرام کی تعمیر کے لیے ایک لاکھ محنتی کاریگروں اور مزدوروں کے 5گروپ بنائے گئے ہر گروپ ایک ہزار قابل اور محنتی افراد پر مشتمل تھا ۔
اس وقت مصر میں جو اہرام دریافت ہیں وہ 2670سے 670قبل مسیح کے دوران تعمیر کیے گئے تھے ۔ ظاہر ہے کہ اس زمانے میں آج کی طرح بھری تعمیراتی مشینری موجود نہیں تھی اس کے باوجود انتہائی وزنی دیوہیکل پتھروں کی مدد سے اہرام تعمیر کیے جاتے رہے ۔ ان کی تعمیر کے سلسلے میں دنیا حیرت کے سمندر میں گم رہی کہ ہزاروں سا قبل ہیوی مشینر ی اور جدیدآلات کی مددکے بغیر کیسے ان اہرام کوٹنوں وزنی پتھروں سے تعمیر کیا گیا ۔
اس وقت مصریوں کے پاس جدید ٹیکنالوجی بھی موجود نہیں تھی ۔ سائنس دان ان کی تعمیر کا راز جاننے کے لیے مسلسل جستجو میں لگے رہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ پتھروں کے بلاکس جن کی مدد سے یہ اہرام بنائے گئے ان کا وزن 25ٹن سے 80ٹن کے درمیان ہوتا تھا ۔ انہیں تراش خراش کرنے کے بعد دور دراز کے مقامات سے یہاں لایاجاتا تھا ۔ محققین نے دعویٰ کیا ہے کہ ان بھاری پتھروں کو صحرا سے یہاں لایاجاتا تھا اور ان کو گیلی ریت پر پھسلاتے ہوئے یہاں پر منتقل کیا جاتا تھا ۔
ان کا کہنا ہے کہ بھاری پتھروں مجسموں اور دوسرے وزنی سامان کو جوصحرا سے یہاں لایا جاتا تھا اس کو سلیج پر رکھ کر مزدور اس کو کھنچتے تھے ۔ تجربات سے یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ جب ریت کو مناسب پانی کی مقدار سے گیلا کر لیا جائے تو اس پر موجود سامان کو کھنچنے میں درکارقوت نصف رہ جاتی ہے ۔
ماہرین اس سلسلے میں مصری تہذیب سے دریافت ہونے والی قدیم پینٹنگ کا حوالہ بھی دیتے ہیں اور یہ پینٹنگ 1900قبل مسیح میں مصر کے مقبر کی دیوار پر بنائی گئی تھی ۔
اس میں واضح طور پر ایک فرعون بادشاہ کی ممی جو سلیج کے نیچے ریت پر پانی چھڑکتا ہے اور مزدور اس کو کھنچنے میں مصروف ہیں ۔ اس فارمولے کے ذریعے اس قدربھاری پتھروں کو کھینچ کر ان یادگار اہراموں کو تعمیر کیا گیا ۔ جنھیں آج دنیا کے عجوبوں میں شمار کیا جاتا ہے اور واقعی یہ ہزاروں سال قبل بھاری مشینری اور جدید آلات کے بغیر قدیم مصریوں کا ایسا عجوبہ ہے جو دیکھنے والوں کو حیرت زدہ کردیتا ہے اور وہ کھول کر ان کے اس تعمیراتی نمونے کو داددینے پرمجبور دیتے ہیں۔
تاریخ اشاعت: 2015-07-18

(3) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان