بند کریں
اتوار فروری

مزید خصوصی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
دورہ زمبابوے، فْول پروف سیکورٹی پلان
سیکورٹی اداروں کیلئے کڑا امتحان۔۔۔۔۔ مہمان ٹیم کی لاہور میں موجودگی کے دوران ان کے روٹ پر کرفیو کا سماں ہو گا اور کسی کو وہاں داخلے کی اجازت نہیں ہوگی جبکہ ان کے روٹ ہیلی کاپٹر کے زریعے فضائی نگرانی بھی کی جائے گی
احسان شوکت:
زمبابوے کرکٹ ٹیم کا دورہ پاکستان اوروطن عزیز میں چھ سال کے عرصے کے بعد انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی ملک و قوم کے لئے انتہائی خوش آئند ہے۔ جو دہشت گردی کے گھٹن ذدہ ماحول میں ٹھنڈی ہوا کا جھونکا ہے۔زمبابوے کرکٹ ٹیم گزشتہ شب لاہور پہنچ گئی ہے۔ اب مہمان ٹیم کی سکیورٹی ہماری سب سے بڑی ذمہ داری اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لئے کڑا امتحان ہے۔
زمبابوے کرکٹ ٹیم کی سکیورٹی کے لئے انتہائی سخت انتظامات کئے گئے ہیں جبکہ مہمان ٹیم کو سٹیٹ گیسٹ کا درجہ دیاگیا ہے۔ زمبابوے کرکٹ ٹیم کو فول پروف سیکورٹی فراہم کرنے کے لیے پولیس کے چار ہزارجوانوں کے علاوہ رینجرز کے دودستے اور قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کے اہلکاروں کو بھی تعینات کئے گئے ہیں۔زمبابوے کرکٹ ٹیم کے مجموعی طور پر 6 ہزار سے زائد اہلکار وں کو تعینات کیا گیا ہے۔
ایلیٹ کی 60 گاڑیاں، 2 ہیلی کاپٹرز اور خصوصی ٹریفک پلان بھی ترتیب دیا گیا ہے۔ زمبابوے ٹیم کے ہوٹل سے لے کر سٹیڈیم تک کے تمام راستوں کی چیکنگ کرتے ہوئے راستے میں تمام غیر ضروری رکاوٹوں کو ختم کردیا گیا ہے۔ مہمان ٹیم کی لاہور میں موجودگی کے دوران ان کے روٹ پر کرفیو کا سماں ہو گا اور کسی کو وہاں داخلے کی اجازت نہیں ہوگی جبکہ ان کے روٹ ہیلی کاپٹر کے زریعے فضائی نگرانی بھی کی جائے گی۔
موبائل فون سروس بھی معطل رہے گی۔مہمان ٹیم کی لاہور موجودگی کے دوران نشتر سپورٹس کمپلیکس لاہور سمیت زمبابوے ٹیم کے ہوٹل میں کسی بھی شخص کو شناخت کے بغیر داخل نہیں ہونے دیا جائے گاجبکہ میچ کے موقع پر فور لئیر سکیورٹی ہو گی۔چار مقامات پر تلاشی کے بعد شائقین سٹیڈیم میں داخل ہوں گے۔ زمبابوے کی کرکٹ ٹیم کے پاکستان کے دورہ کے موقع پر سٹیدیم میں سکیورٹی انتظامات کے علاوہ مہمان ٹیم کو ہوٹل سے سٹیڈیم تک پہنچانے کے لئے بھی انتہائی سخت انتظا مات کئے گئے ہیں۔
مہمان ٹیم کی لاہور میں موجودگی کے دوران ان کے روٹ پر مال روڈ پر ہوٹل سے لے کر قذافی سٹیڈیم تک راستے میں آنے والی تمام دکانیں ،مارکیٹیں ،سڑکیں اور چھوٹے راستے پولیس قناعتیں ، لوہئے کے بیرئیرز اور خاردار تاریں لگا کر بند کر دے گی جبکہ سراغ رساں کتوں کی مدد سے تمام راستوں کی چیکنگ بھی کی گئی ہے۔ کسی بھی قسم کی ٹریفک اورشہریوں کو روٹ پر جانے کی اجازت نہیں ہو گی۔
مہمان ٹیم کی بس کو پولیس اور رینجرز کی سکیورٹی کے حصار میں قذافی سٹیڈیم تک پہنچایا جائے گا۔اس کے علاوہ شہر میں ہیوی ٹریفک کے داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے جبکہ جبک شہر میں داخلے کے لئے خصوصی اجازت نامہ درکار ہو گا۔ یہ اقدام زمبابوے ٹیم کی لاہور آمد کے موقع پر سکیورٹی خدشات کے پیش نظر کیا گیا ہے۔دوسرے اضلاع جانے والی ہیو ی ٹریفک بائی پاسسزسے گزرے گی جبکہ تا حکم ثانی کسی بھی قسم کی ہیوی ٹریفک شہر میں داخل نہیں ہو سکے گی۔
سکیورٹی کے علاوہ زمبابوے کرکٹ ٹیم کی آمد پرٹریفک انتظامات کو بھی حتمی شکل دے دی گئی ہے۔
اس دوران دو شفٹوں میں2ایس پیز، 7ڈی ایس پیز،22 انسپکٹرز،111 پٹرولنگ آفیسرز اور 978ٹریفک وارڈنز فرائض سرانجام دیں گے۔ ایس پیز اور ڈی ایس پیز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ کہ مہمان ٹیم کے روٹ کے ساتھ ساتھ معمول کی ٹریفک کے بہاؤ کو بھی برقرار رکھیں اور پٹرولنگ کرتے ہوئے ٹریفک کو متبادل راستوں سے گزاریں گے تاکہ معمول کی ٹریفک متاثر نہ ہو۔
سیکٹر انچارجز اور وارڈنز کو بریفنگ دی گئی ہے کہ وہ ٹریفک کی روانی کے ساتھ ساتھ مشکوک افراد، مشکوک گاڑیوں پر بھی نظر رکھیں۔ ایسے عناصر بارے فوری طور پر افسران کو آگاہ کرتے ہوئے ٹھوس کارروائی عمل میں لائیں۔ وارڈنز کو ہدایت کی گئی ہے کہ رانگ پارکنگ بارے کارروائی یقینی بنائیں ۔ اس کے علاوہ شہریوں اور میچ دیکھنے آنے والے شائقین کا بھی فرض ہے کہ وہ بھی ٹریفک قوانین پر عمل پیرا ہوکر اچھا شہری ہونے کا ثبوت دیں۔

ایس پی سکیورٹی کیپٹن (ر)لیاقت علی ملک نے کہا ہے کہ حکومت نے ملکی حالات کے پیش ِ نظر انٹرنیشنل کرکٹ بحال کرنے کیلئے زمبابوے کرکٹ ٹیم کو لاہور آنے کی دعوت دی تو ان کی سکیورٹی انتظامات تمام اداروں کے ساتھ ساتھ لاہور پولیس کیلئے بھی بہت بڑا چیلنج تھا، لیکن لاہور پولیس نے اس کڑے وقت میں اس چیلنج کو قبول کیا اور زمبابوے کرکٹ ٹیم کی آمد پر سخت حفاظتی انتظامات کرنے کی گارنٹی دی۔
زمبابوے کرکٹ ٹیم کا دورہ کا دورانیہ 19 مئی سے یکم جون تک ہوگا جس کا 4 سطحی سکیورٹی پلان ترتیب دیا گیا ہے۔ ز مبابوے کرکٹ ٹیم کی لاہور آمد سے پہلے پہلے فل ڈریس ریہرسل ائیر پورٹ پر کی گئی جس کی نگرانی وزیرِ داخلہ کرنل (ر) شجاع خانزادہ اور رانا ثناء اللہ نے کی اور دوسری فل ڈریس ریہرسل مال روڈ سے قذافی تک کی گئی۔ جس کی قیادت سی سی پی او لاہور کیپٹن (ر) امین وینس اور ڈی آئی جی آپریشنز ڈاکٹر حیدر اشرف نے کی۔
ائیر پورٹ سے ہوٹل اور ہوٹل سے قذافی سٹیڈیم تک خصوصی ٹریفک پلان ترتیب دیا گیا ہے۔ سپیشل سنائپرز اور کمانڈوز بھی تعینات کیئے گئے ہیں۔ قذافی سٹیڈیم کے ارد گرد مارکیٹیں بند رہیں گی اور موبائل فون سروس بھی معطل رہے گی۔ مہمان کرکٹ ٹیم کی سکیورٹی ہماری ذمہ داری ہے سکیورٹی ڈیوٹی میں کسی بھی قسم کی کوئی کوتاہی نہیں برتی جائے گی۔ جبکہ قذافی سٹیڈیم اور اس سے ملحقہ علاقوں میں روزانہ کی بنیاد پر سرچ آپریشن کیا جائے گا۔

غرض پولیس و قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے زمبابوے کرکٹ ٹیم کی سکیورٹی کے لئے انتہائی سخت انتظامات کئے گئے ہیں۔مگریہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ ہمارے دشمنوں خصوصاََ غیر ملکی دشمن عناصر کو یہ بات ایک آنکھ نہیں بھا رہی ہے کہ پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ بحال ہو۔اس لئے ہمیں نہ صرف اندرونی بلکہ بیرونی دشمن سے بھی محتاط رہنا ہو گا۔ ضرورت بات کی ہے کہ پوری قوم متحد ہو کر دشمن کے ناپاک ارادوں کو خاک میں ملا دے اور ہمیں دہشت گردی کے عفریت سے نجات مل سکے۔
تاریخ اشاعت: 2015-05-20

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان