بند کریں
منگل فروری

مزید خصوصی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
ڈاکٹرز نے تن سے جدا سر کو دوبارہ جوڑ کر ناممکن کو ممکن بنا دیا
جدید سائنس نے جہاں انسان کو خلا کی وسعتوں میں پہنچا دیا ہے تو وہیں میڈیکل سائنس نے اپنی شاندار ترقی سے انسانیت کی بیش بہا خدمت کی ہے اور ایسے معجزاتی آپریشن کیے جس کا کبھی تصور بھی نہیں کیا جا سکتا
جدید سائنس نے جہاں انسان کو خلا کی وسعتوں میں پہنچا دیا ہے تو وہیں میڈیکل سائنس نے اپنی شاندار ترقی سے انسانیت کی بیش بہا خدمت کی ہے اور ایسے معجزاتی آپریشن کیے جس کا کبھی تصور بھی نہیں کیا جا سکتا اور اسی سائنس کا ایک معجزہ سامنے آیا آسٹریلیا میں جہاں ڈاکٹرز ایک حادثے میں تن سے سر جدا ہوجانے والے بچے کے سر کو سرجری کے ذریعے واپس جوڑ کر اسے نئی زندگی دلانے کا باعث بن گئے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق 16 ماہ کا بچہ جیکسن ٹیلر اپنی بہن اور والدہ کے ساتھ کار میں محو سفر تھا کہ اچانک سامنے سے آنے والی کار سے ان کی کار ٹکرا گئی جس میں جیکس شدید زخمی ہوگیا اور اس کی گردن سر سے جدا ہوگئی جس پر جیکس کو فوری طور پر ایئر ایمبولینس کے ذریعے برسبین کے جدید ترین اسپتال پہنچایا گیا جہاں ڈاکٹرز نے اس کی سرجری شروع کردی۔
6 گھنٹے تک جاری رہنے والی اس سرجری کے ذریعے نہ صرف بچے کا سر واپس لگا دیا بلکہ اسے نئی زندگی عطا کردی۔
آسٹریلیا میں گاڈ فادر آف اسپائنل سرجری کرنے والے ڈاکٹر اور سرجری کے سرجن جیف آسکن نے گردن کے ساتھ ہالو ڈیوائس کو لگایا جبکہ اس کو جوڑنے کے لیے تار کا باریک گرین ٹکڑا استعمال کیا جبکہ ہڈیوں کو گرافٹ کرنے کے لیے جیکس کی رگوں کا استعمال کیا۔ سرجن کا کہنا تھا کہ کئی بچوں کا اس طرح آپریشن کیا جا چکا ہے جس میں کم ہی بچے زندہ رہ سکے تاہم اس طرح کے آپریشن سے اگر کوئی زندہ بچ جائے تو پھر بھی زندگی بھروہ اپنی گردن کو حرکت نہیں دے سکتے۔
تاریخ اشاعت: 2015-10-08

(0) ووٹ وصول ہوئے