بند کریں
منگل جنوری

مزید خصوصی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
ڈرتے ہیں اے زمیں تیرے آدمی سے ہم
قصور واقعے کی تفصیلات منظرعام پر آنے کے بعدپنجاب حکومت نے فی الفور رجسٹرار ہائی کورٹ سے درخواست کی تھی کہ اس واقعے پر جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا جائے۔ اب تک کی اطلاعات کے مطابق متاثرہ بچوں کی تعداد سے قطع نظر گرفتار ملزمان نے اعتراف جرم کر لیاہے
مصنف : اجمل جامی
لاہور ہائیکورٹ کے معزز چیف جسٹس جناب منظور ملک صاحب نے بالکل درست فیصلہ صادر فرماتے ہوئے قصور میں پیش آئے واقعات پر جوڈیشل کمیشن کی تشکیل سے معذرت کر لی ہے۔ قصور واقعے کی تفصیلات منظرعام پر آنے کے بعدپنجاب حکومت نے فی الفور رجسٹرار ہائی کورٹ سے درخواست کی تھی کہ اس واقعے پر جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا جائے۔ اب تک کی اطلاعات کے مطابق متاثرہ بچوں کی تعداد سے قطع نظر گرفتار ملزمان نے اعتراف جرم کر لیاہے، پولیس کے پاس ویڈیو ریکارڈنگ کے شواہد بھی موجود ہیں، ثبوت ، ملزم اور اعتراف جرم کے بعد کاہے کا جوڈیشل کمیشن؟ پاکستان میں جوڈیشل کمیشنزکامیاب ہی کتنے ہوئے ہیں؟ ہاں البتہ مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی کی تشکیل ضرور سودمند ثابت ہو سکتی ہے۔
متعلقہ اداروں کی معاونت سے معاملے کی تحقیقات کی جاسکتی ہیں اور اس کے لیے خلوص نیت درکار ہے اور کچھ نہیں ۔ سچ پوچھیں تو یہ ایک غیر روایتی کیس ہے جسے پولیس اب تک روایتی طریقے سے نمٹانے کی کوشش کر رہی ہے۔
کچھ دانشوروں نے اس مدعے کے فروعی پہلووں پر روشنی ڈالتے ہوئے اسے معمول کی کارروائی قرار دے کر حسین خان والا کے متاثرہ خاندانوں کے زخموں پر نمک پاشی کی ہے۔
یہ بحث غیر ضروری ہے کہ اس واقعے کےمحرکات زمینی تنازعے سے جڑے ہیں یا یہ کسی سیاسی چپقلش کا شاخسانہ ہے۔ یہ کہنا بھی نامناسب ہے کہ یہ خبر کسی بھی طرح شہ سرخی بننے کے لائق نہیں ، بحث یہ بھی نہیں کہ بچوں کی تعداد کتنی ہے اور دو سو اسی ویڈیوز کا مطلب ہر گز نہیں کہ یہ دو اسی کرداروں پر مبنی ہیں۔ اصل مسئلہ انتظامی نااہلی اور جنسی جرائم کے تدارک کے لیے درکار سیاسی بصیرت کا فقدان ہے، اصل معاملہ جنسی جرائم کی تفتیش، مقدمات کے اندراج، عدالتی کارروائی اور انصاف کی فراہمی کے لیے ضروری قوانین اور انتظامی قابلیت کا نہ ہونا ہے۔

ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر اور ریجنل پولیس آفیسر کے بیانات تضادات سے بھرے پڑے ہیں، مقامی ایم پی اے آج کی تاریخ(11 اگست 2015) تک حسین خان والا کا دورہ کرنے کی ہمت نہیں کر سکے۔متاثرین کہتے ہیں کہ احمد سعید کو دو ہزار تیرہ میں کرمو اوراس کے خاندان کی حمایت حاصل رہی ہے۔کہنے والے تو یہ بھی کہتے ہیں کہ انہی موصوف کی وجہ سے پولیس ملزمان کے خلاف کاروائی سے گریزاں رہی۔
مقامی ایم این اے شیخ وسیم البتہ متاثرین کے درمیان ضرور دیکھے گئے۔ انتظامیہ اور سیاستدان متاثرین کو اب وزیر اعلیٰ سے لے کر وزیر اعظم تک لے جانے کے وعدے کرتے ہیں، لیکن چند روز پہلے جب ہزاروں متاثرین اور علاقہ مکینوں نے اس ظلم و ستم کے خلاف وزیر اعلیٰ ہاوس لاہور تک مارچ کرنے کی کوشش کی تو انہیں قصور کی مرکزی شاہرا ہ تک بھی نہ آنے دیا گیا۔

حقیقت فقط یہ ہے کہ درجنوں بچوں کیساتھ زیادتی کی گئی، ان کی فلمیں بنائی گئیں، انہیں اس فعل کا عادی بنانے کی پوری کوشش کی گئی۔ بچوں کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی غرض سے انہیں بلیک میل کیا گیا، ڈرایا دھمکایا گیا، ان کی کمر میں مختلف ٹیکے لگائے گئے، انہیں بندوقیں دکھائی گئیں، ان کی گردنوں پر تیز دھار آلے رکھے گئے، ان سے گاوں کی موٹریں چوری کروائی گئیں، انہیں گھر میں موجود طلائی زیورات چرانے کو کہا گیا، گھر کی جمع پونجی بٹور لی گئی، الغرض وہ کونسا مکروہ اور قبیح عمل ہے جس کے ارتکاب پر ان بچوں کو مجبور نہیں کیا گیا۔
۔اور آپ فرماتے ہیں کہ دیہاتوں میں یہ سب معمول کی بات ہے؟ آپ فرماتے ہیں کہ یہ ویڈیوز اور ان میں ہونے والا فعل بالرضا ہےیعنی یہ کوئی جرم ہی نہیں کہ کم عمر بچوں کیساتھ بد فعلی کی ویڈیوز بنائی جائیں ؟ ان سے پیسہ بٹورا جائے، ان ویڈیوز کو بیرون ملک پورن سائٹس کو بیچا جائے؟ حد ہے!! سلام ہے آپ کی فہم و فراست کو، ہم تو آپ کے دیوانے رہے ہیں، لیکن یہ کیا کہ آپ معاملہ دبانے کے لیے کج فہمی پر اتر آئے؟
حضور معاملہ سنگین بلکہ نہایت سنگین ہے۔
آپ حسین خان والا جائیے، کوشش کیجیے کہ آپ کے پاس وقت کی قلت نہ ہو، اگر زحمت نہ ہو تو کسی بھی مقامی صحافی کے توسط سے درجن بھر ویڈیوز دیکھیئے، کئی ویڈیوز میں یقناً کرداروں کی نشاندہی کرنا مشکل ہو گا، لیکن آپ ایسی ویڈیوز ضرور دیکھ سکیں گے جن میں چہروں کی شناخت بآسانی ہو سکتی ہے۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ معاملہ اس وقت تک سمجھ میں نہیں آئے گا جب تک آپ ویڈیو دیکھنے کیساتھ ساتھ آڈیو سننے کی سکت نہ رکھتے ہوں۔
دل پر پتھر رکھ کر کوشش کیجیے گا کہ آواز بھی سن سکیں اور پھر اس کے بعد اسی گاوں کے گلی کوچوں میں ان کرداروں کو شناخت کرنے کی کوشش کیجیے گا۔ ممکن ہو تو ان سے ملاقات کر دیکھیں، اور ہاں یہ بھی جاننے کے سعی ضرور کیجیے گا کہ اگر کہیں معاملہ باہمی رضامندی کا بھی تھا تو کیوں تھا؟ اس نہج تک آنے سے پہلے ان بچوں پر کیا بیتی؟ وقت ہو تو کھوج لگانا زیادہ مشکل نہیں۔
ہاں!ایک آٹھ سالہ بچے کی تلاش بھی ضرور کیجیے گا، اس بچے کیساتھ کیا بیتی، میرے لفظ میرا ساتھ دینے سے انکاری ہیں۔
یہ بچے جب بے یارو مددگار اور بے بس ہو گئے تو ان کے پاس اس کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں تھا کہ یہ ان درندہ صفت لوگوں کے احکام کی پیروی کرتے رہتے،اپنی اور اپنے خاندان کی عزت کا پاس کرتے یا پھر گلی محلے میں آکر ننگے ہو جاتے۔
آپ ہی بتائیں کہ کیا دیہات میں بسنے والے ایسے معاملات کا ذکر سرعام کرتے ہیں؟ ہر گز نہیں، بد قسمتی سے رسم و رواج اور خاندانی وقار کی خاطر یہاں اسی معاشرے میں عزتوں کا قتل عام ہوتا رہا ہے،ایسے میں یہ بچے بھلا کس کھاتے میں آتے ہیں؟ زمینی تنازع کسی ایک خاندان سے ہو سکتا ہے، دو سے ہو سکتا ہے، دو چار سے ہو سکتا ہے، درجنوں خاندانوں کیساتھ اسے منسوب کرنا سمجھ سے بالا تر ہے ، زمین بھی ایسی جو سرکار کی تھی، محکمہ انہار کی تھی، اور اس کا معاملہ لاہور ہائیکورٹ کے ایک حکم امتناعی سے تقریباً حل ہو چکا تھا۔
زمین کا تنازع انہی کا ہو گا جو زمینوں کے مالک ہیں، کسی ایسے شخص کو تو ہرگز نہیں ہو سکتا جو اس گاوں میں محض دو وقت کی روٹی ہی بمشکل پوری کرتا ہو۔ ایسے شخص کے بچے کےساتھ بھی پچھلے پانچ برسوں سے یہی سب ہوتا چلا آرہا تھا، یہ بزرگ اور نحیف شخص کرمو کے گھرانے کی خدمت میں پیش ہو کر منت سماجت کرتا ہے کہ میرے بچے کےساتھ آپ کے لڑکے یہ سب کر رہے ہیں، ساڑھے چار تولہ سونا بھی ہتھیا لیا گیا ہے، مجھے اس سے سروکار نہیں، برائے مہربانی میرے داڑھی کا واسطہ، میری شرافت کا واسطہ، اب میرے بچے کو معاف کردیں، جو ہوا سو ہوا، اب ہمیں سکھ کا سانس لینے دیں، کرمو کے بڑوں نے یقین دہانی کرائی کہ ہم اپنے بچوں کو سمجھائیں گے، لیکن ایسا نہ ہوسکا۔
اس بزرگ کے گھر کی عورتیں دوپٹے پھیلا کر بار بار فریاد کرتی رہیں کہ خدا را ہمیں جینے دیا جائے، لیکن انسانیت کرمو کے گھرانے سے اٹھ چکی تھی۔ ایک بیوہ اپنے بچے کے ساتھ پیش آئے واقعے پر دل گرفتہ پولیس سٹیشن فریاد کرنے پہنچی تو دادرسی کی بجائے اسے گالم گلوچ سے نوازا گیا۔ یہی نہیں بلکہ اس کی ویڈیو بنا کر اس گروہ کو پیش کی گئی کہ یہ خاتون پولیس اسٹیشن تک کیسے پہنچ گئی، اس کا انتظام کرو۔
یہ بیوہ گاوں واپس پہنچی تو اسے بھی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تا کہ باقی متاثرین اس سے سبق سیکھیں۔ اس خاکسار کو شکوہ تو بہت سے کرتا دھرتا کرداروں سے ہے، لیکن ان ملاوں کا کیا کیجیے کہ جن کے فتوے کی روشنی میں اسی شہر قصور میں کوٹ رادھا کشن کے قریب چک نمبر انسٹھ میں ایک مسیحی جوڑے کو بھٹے کے دہکتے کوئلوں پر زندہ جلا دیا گیا تھا؟ حسین خان والا میں پچھلے پانچ برسوں سے کوئی ایسا فتوی صادر نہ کیا گیا۔

ان گنت کہانیاں ہیں جو گاوں حسین خان والا کے گلی کوچوں میں دفن ہو چکی تھیں، ان گھناونی وارداتوں کے منظر عام پر آتے ہی حسین خان والا کے در و دیوار ان کہانیوں کے عینی شاہد بن چکے ہیں۔ وہ جن کی زبانیں گنگ تھیں اب ماتم کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ دیہاتوں میں کون اپنا داغ دار دامن آشکار کرنے میں پہل کرتا ہے؟ سب اپنی عزتوں کی خاطر خاموشی میں عافیت جانتے ہیں لیکن اب نہیں، اب معاملہ منظر عام پر آچکا ہے۔
پتھرائی آنکھیں دیکھنے والوں کے ضمیر جھنجوڑتی ہیں۔ صدمہ تو شاید ماضی بن چکا، متاثرین کے چہروں پر غم ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتا۔ ایسے میں اگر انہیں انصاف نہ ملا تو عین ممکن ہے ان کے لیے ان کی جانیں اپنی تمام قدر و قیمت کھودیں۔ جیتے جی تو یہ بہت پہلے ہی مر چکے ہیں، اب تو فقظ جان کا بوجھ ہے جسے یہ بچے اور ان کے اہل خانہ اٹھائے پھر رہے ہیں؛
اے آسمان تیرے خدا کا نہیں ہے خوف
ڈرتے ہیں اے زمیں تیرے آدمی سے ہم
تاریخ اشاعت: 2015-08-12

(3) ووٹ وصول ہوئے

مصنف کا نام     :     اجمل جامی

اجمل جامی بحثیت اینکر اور نمائندہ خصوصی دنیا نیوز کے ساتھ وابستہ ہیں

اجمل جامی کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-

: متعلقہ عنوان