بند کریں
بدھ فروری

مزید خصوصی مضامین

پچھلے مضامین -
داعش پاکستان میں ؟
مقامی نیٹ ورک فورسز پر حملے شروع کر چکا ہے اسے بعض لوگ پاکستان کے خلاف سازش بھی قرار دیتے ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ”آپریشن ضرب عضب“ کی وجہ سے امریکہ اب پاکستان میں طالبان یا القاعدہ کی موجودگی کا نعرہ لگا کر دباوٴ نہیں بڑھا سکتا
اسعد نقوی :
القاعدہ اور طالبان کے بعد اب دنیا بھر میں عسکری تنظیم ”داعش “ موضوع بحث بنی ہوئی ہے۔اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ القاعدہ کے طاقتور رارہنما اسامہ بن لادن ایک مشکوک امریکی آپریشن میں مارے گئے اور دوسری طرف پاکستانی فورسز نے طالبان کے خلاف آپریشن ضرب عضب شروع کر کے پاکستان میں اُن کا مضبوط مرکز سمجھا جانے والا وسیع علاقہ خالی کرالیا ہے ۔
افغان طالبان کے امیر ملا عمر مجاہد کے بارے میں یہ بات ظاہر ہے کہ وہ اپنی سرگرمیوں کا مرکز افغانستان کو ہی بنائے ہوئے ہیں اور اپنے ملک سے باہر کارروائیوں میں شامل نہیں ہوتے ۔دیگر الفاظ میں ان کا مقصد اپنے ملک کو امریکی افواج سے خالی کرکے وہاں اپنی حکومت بنانا ہے۔ اسکے برعکس القاعدہ دنیا بھر میں خلافت کے نام پر متحرک تھی لیکن اس کے خلاف بھی بڑے پیمانے پر کارروائیاں ہوئیں۔
القاعدہ کے بعد اسی نظریہ یعنی عالمی خلافت کیلئے دولت اسلامیہ عراق و شام کے نام سے جنگجوابھرے۔ یہ تنظیم ماضی میں القاعدہ کی ذیلی شاخ سمجھی جاتی تھی لیکن اس کے موجودہ امیر ابوبکر البغدادی نے اپنی خلافت کا اعلان کر دیا۔ اس کے ساتھ ساتھ اس نے متعدد شہروں پر بھی عملاََ قبضہ کر کے اسلامی ریاست کا اعلان کر دیا ہے۔ عالمی خلافت کے اعلان کے بعد داعش اپنا نام بھی بدل چکی ہے اور اب یہ ”دولت خلافت اسلامیہ“ ہے۔
البتہ ابھی تک میڈیا اور عوام میں اس کا پرانا نام ”داعش “ ہی رائج ہے ۔
داعش کی بڑھتی ہوئی کارروائیوں اور کامیابیوں نے عالمی میڈیا کو اس ک جانب متوجہ کر دیا ہے۔امریکی انتظامیہ اسی طرح داعش کے خلاف متحرک اور پریشان نظر آتی ہے جیسے ماضی میں طالبان اور القاعدہ کے خلاف متحرک تھی۔ اب داعش کانام پاکستان میں بھی سنائی دے رہا ہے۔
اسے بعض لوگ پاکستان کے خلاف سازش بھی قرار دیتے ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ”آپریشن ضرب عضب“ کی وجہ سے امریکہ اب پاکستان میں طالبان یا القاعدہ کی موجودگی کا نعرہ لگا کر دباوٴ نہیں بڑھا سکتا۔طالبان اور القاعدہ کے خلاف پاکستانی جدوجہد اور فورسز کی قربانیاں پوری دنیا کے سامنے ہیں لہٰذا داعش کی موجودگی امریکی دباوٴ بڑھانے کا باعث بن سکتی ہے۔

پاکستان میں عملی طور پر داعش کے جنگجووٴں کی آمد کو کائی حوالہ نہیں مل سکا لیکن مقامی گروہوں کا داعش کی بیعت اور اس کے مش کو آگے بڑھانے کا عمل شروع ہو چکا ہے۔اس کی ابتدا مختلف شہروں میں داعش کے حق میں وال میں چاکنگ سے ہوئی۔ مختلف دیواروں پر داعش کی عمایت میں نعرے لکھے گئے۔ اس سلسلے میں انتطامیہ متحرک ہوئی تو معلوم ہوا یہ نعرے کالعدم حزب التحریرکے کارکنان نے لکھے تھے۔
حزب التحریر کا مقصد بھی خلافت اور شریعت کا نفاذ ہے لیکن اس کی اصل پہنچان ”لٹریچراور دعوت“ ہے۔ لہٰذا اسے دیگر عسکری گروپوں میں شامل نہیں کیا جاتا تھا۔ داعش کے حق میں وال چاکنگ کے پس پردہ ”حزب التحریر “کا علم ہونے پر انتظامیہ نے معمول کی پکڑو ھکڑ تو کی لیکن اس مسئلے کو زیادہ سنجیدگی سے نہیں لیا۔ یہی وجہ تھی کہ وزیرداخلہ چودھری نثار علی خان نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ وال چاکنگ کامطلب یہ نہیں کہ داعش پاکستان میں موجود ہے ان کے مطابق کچھ لوگ تھوڑے فائدے کیلئے داعش کا نام لے رہے ہیں۔
چودھری نثار کے برعکس سابق وفاقی وزیر داخلہ رحمٰن ملک پاکستان میں داعش کی موجودگی کی تصدیق کرتے ہیں۔ ان کے مطابق یہاں نہ صرف داعش بلکہ اس کی قیادت بھی موجود ہے ۔ رحمٰن ملک کے مطابق ان کا اپنا ایک نیٹ ورک ہے لہٰذا وہ پر اعتماد انداز میں یہ بات بتا رہے ہیں اور سکیورٹی فورسز نے اس حوالے سے گرفتاریاں بھی کی ہیں۔
اصل صورتحال یہ ہے کہ پاکستان میں داعش کے نام پر وال چاکنگ اور پمفلٹ ہی نہیں بلکہ عسکری کارروائیاں بھی کی جار ہی ہے۔
ان کارروائیوں میں فورسز کے جوان بھی جاں بحق ہو چکے ہیں۔ذرائع کے مطابق پاکستان سے دولت خلافت اسلامیہ کی بیعت کرنے والی ایک جہادی تنظیم ”تحریک خلاف وجہاد“ نے داعش کے امیر ”خلیفة المسلمین ابوبکر البغدادی “ کی بیعت کے بعد اپنا نام تبدیل کر کے انصار الخلافتہ والجہاد “ رکھ لیا ہے۔اس تنظیم نے داعش کی مدد کیلئے پاکستان میں ”آپریشن نصرف خلافت“ کے نام سے کارروائیاں شروع کر دی ہیں جن میں صرف ستمبر نے نومبر میں 3 رینجرز اور 38 پولیس اہلکار و افسروں کے ساتھ ساتھ 15 قریب مخالف فرقہ کے لوگوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
داعش کے نام پر اس تنظیم نے اپنی کارروائیوں کی ذمہ داری بھی قبول کی ہے۔ترجمان ابوجندل الخراسانی نے بتایا ہ کہ وہ مزید ایسے حملے وہ مزید ایسے حملے جاری رکھیں گئے اور اس سلسلے کو آگے بڑھائیں گے۔اپنے جذباتی بیان میں ان حملوں کی وجوہات بیان کرنے کے ساتھ ساتھ پاکستانی عوام سے اپیل بھی کی گئی ہے کہ لوگ ایسے لباس نہ پہنیں جو سکیورٹی اداروں خصوصاََ پولیس کی وردی سے ملتا جلتا ہو اور ایسی جگہوں سے بھی دور رہنے کا کہا گیا ہے جہاں پولیس اہلکار موجود ہیں۔
دوسری جانب طالبان کے ناراض گروہ بھی داعش میں شمولیت کا اعلان کر چکے ہیں۔ جامعہ حفظہ کی طالبات ایسا ویڈیو پیغام بھی ریکارڈ کراچکی ہیں جس میں داعش کی عمایت اور ساتھ دینے کا اعلان کیا گیا ہے اور اُنہیں بتایا گیا ہے کہ یہ طالبات داعش کی کامیابی کیلئے دائیں کرتی ہیں۔ ملا عبدالعزیز اور اُم حسان یہ اعتراف کر چکی ہیں کہ طالبات نے یہ ویڈیواُن کی اجازت اور رضا مندی سے ریکارڈ کرائی ہے۔

یہ ساری صورتحال واضح کر رہی ہے کہ داعش کے عرب جنگجو پاکستان میں نہ بھی آئیں تو بھی اس تنظیم کے مشن کو آگے بڑھانے کیلئے اس کا سیٹ اپ تیار کیا جا رہا ہے۔ اس حوالے سے بات وال چاکنگ اور پمفلٹ تک محدود نہیں بلکہ عسکری کارروائیوں اور سکیورٹی اداروں کے اہلکاروں کو نشانہ بنانے کا عمل جاری ہے۔ اگر حکومت صرف کبوتر کی طرح آنکھیں بند رکھے گی تو اس کے نتیجے میں ویسے ہی حالات پیدا ہو سکتے ہیں جیسے طالبان کو نظر انداز کرنے کے بعد پیدا ہوئے تھے۔
داعش ایک حقیقت ہے اور القاعدہ کی طرز پر مقامی بھرتیوں اور مقامی اتحاد کے ذریعے ہی کام کرے گی۔ اس صورتحال میں کسے کای کردار ادا کرنا ہے اس کا فیصلہ پالیسی سازوں کو بروقت کرنا ہوگا ورنہ پاکستان کو ایک بار پھر ” نئے ڈرون حملوں “ اور ”نئے آپریشن ضرب عضب “ کرنا پڑسکتا ہے۔
تاریخ اشاعت: 2014-12-22

(0) ووٹ وصول ہوئے