بند کریں
اتوار فروری

مزید خصوصی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
کرپشن کاہرجانہ ایماندارشہری بھریں
لیسکونے 4ماہ میں 1ارب سے زیادہ یونٹس غائب کردیئے گئے
حکومت بجلی چوروں کے خلاف ایکشن لینے کے دعوے توبہت کرتی ہے ‘لیکن سچ یہ ہے کہ بجلی چوری پر قابوپانے میں سرکار مکمل طور پرناکام ہوچکی ہے۔اس کی ایک وجہ شاید یہ بھی ہوکہ بجلی چوروں میں کئی بڑے نام اور بااثرافراد کوبھی ملوث بتایا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ طویل لوڈشیڈنگ کے دوران بھی بجلی کے بلوں نے عام شہری کوبدحواس کررکھا ہوتاہے اور سردیوں میں کم استعمال کے باوجود بھاری بل پریشان کیے رکھتے ہیں۔
صورتحال ااس سطح پر پہنچ چکی ہے کہ ایک رپورٹ کے مطابق صوبائی دارالحکومت میں جبلی چوری اور لائن لاسز میں اس قد اضافہ ہوگیا ہے کہ لیسکو کی چار ماہ میں ایکا رب یونٹ بجلی غائب ہوچکی ہے۔ دوسری جانب لیسکو نے صارفین پر اووربلنگ کی صورت میں بوجھ ڈالنا شروع کردیا۔ رواں مالی سال کے پہلے چارماہ میں لیسکو نے 7ارب 74کروڑ یونٹس بجلی حاصل کی تھی جس میں سے لیسکو 6 ارب 74کروڑیونٹس کی بلنگ کرسکا جبکہ ایک ارب ایک کروڑ یونٹس چوری اور لائن لاسز کی نذرہوگئے ۔
بجلی چوری اور لائن لاسزکی شرح ساڑھے9فیصد سے 16 فیصدتک رہی۔ جولائی میں32کروڑ80 لاکھ اور اگست میں31کروڑ 50لاکھ یونٹس کی بلنگ نہ ہوسکی۔ذرائع کے مطابق ستمبر میں 21 کروڑ 10 لاکھ اور اکتوبر میں16کروڑ یونٹ غائب ہوئے۔ یہاں یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ صارفین اووربلنگ‘ غلط میٹرریڈنگ سمیت دیگر مسائل کاشکار کیوں ہیں۔ محض چارماہ میں ایک ارب ایک کروڑ یونٹس کی چوری کاجوبوجھ بل ادا کرنے والے صارفین پر ڈالا گیا اس کی شکایت سننے کیلئے بھی شاید کوئی موجود نہیں ہے۔
سوال یہ ہے کہ لیسکو کی غفلت‘ نااہلی‘ کرپشن اور غیرذمہ داری کابوجھ صارف ہی کیوں اٹھاتارہے ہمارامسئلہ یہ ہے کہ یہاں جوشہری قانون کی پابندی کرتاہے اس پر مزید دباؤ ڈال دیاجاتاہے لیکن جوشہری طاقت اور عہدے کے بل بوتے پر قانون کا مذاق اڑاتا ہے اسے مزید سہولیات فراہم کردی جاتی ہیں۔ سوال یہ بھی ہے کہ لیسکو حکام بااثر افراد پر ہاتھ کیوں نہیں ڈالتے اور بجلی چوری روکنے کیلئے ٹھوس اقدامات کیوں نہیں کرتے۔
شہریوں کوتو اس سوال کاجواب بھی نہیں مل پارہاکہ موسم تبدیل ہونے اور اے سی‘ کولربندہونے کے باوجود ان کے یونٹس کوآگ کیوں لگی ہوئی ہے۔ اگر 4ماہ میں ایک ارب ایک کروڑ یونٹس کابوجھ محض ایک شہرکے ایماندار شہریوں کواٹھانا پڑاتوپاکستان کے دیگر علاقوں کی صورتحال کااندازہ لگاناراکٹ سائنس نہیں ہے۔ گزارش ہے کہ لیسکو اپنے ”غائب“ ہونے والے یونٹس کوخود تلاش کرے اور عام شہریوں کی جیبوں میں سے نکلوائے۔
کیا واقعی لیسکو حکام میٹر ریڈرزاور دیگر عملہ کویہ علم نہیں ہوتا کہ کون کنڈے ڈال کربجلی چوری کررہاہے۔سیاسی جلسوں میں تو یہ بات ریکارڈ پر بھی آچکی ہے لیکن ملبہ صرف عام شہری پرہی گرتا ہے۔ ایسا ظالمانہ فعل ہی شہریوں کوٹیکس دینے سے روکتاہے۔ بد قسمتی سے ہمارے ہاں عام شہری توپس رہاہے لیکن بااثر اور طاقتور مافیاپر کوئی ہاتھ ڈالنے پر آمادہ نہیں ہوتا۔
تاریخ اشاعت: 2015-12-18

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان