بند کریں
منگل فروری

مزید خصوصی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
چترال میں قیامت خیز سیلاب
چترال کے بالائی علاقہ گہکیر ، بندو گول اور کوشٹ میں زبردست بارش ہوئی۔ جس کے نتیجے میں تین مقامات پر طوفانی سیلاب آئے اور کئی گھروں کو نقصان پہنچا۔ سیلاب سے اپر چترال کو جانے والی سڑک بندو گول کے مقام پر مکمل طور پر کٹ گیا
میاں آصف علی شا ہ کاکاخیل:
چترال میں قیامت صغریٰ۔ سیلاب نے تباہی مچادی۔متعدد افراد جاں بحق ،150گھر ، 5مسجد ، 30رابط پل 50دکانات سینکڑوں اراضی سیلاب میں بہہ گئے۔ دریائے چترال ڈیم کی شکل اختیار کر گیا۔ سڑکیں تباہ ، مین چترال پشاور روڈ بروز گول کے مقام پر آرسی سی پْل گرنے سے بلا ک۔ اورغچ ، دروش ایون ، شغور میں سیلابی پانی گھروں میں داخل ہو گیا بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب شدید بارشوں کے نتیجے میں چترال کے مختلف علاقوں میں سیلاب آیا۔
اور کئی لوگ اپنے گھروں سے محروم ہو گئے۔ سب سے زیادہ نقصان کالاش ویلی بمبوریت میں ہو ا۔ جہا ں پندرہ گھر مکمل طور پر دریا برد ہو گئے۔ جبکہ دس کو جزوی طور پر نقصان پہنچا۔ بمبوریت پولیس تھانہ کے اے ایس آئی حیات اللہ کے مطابق سیلاب سے سلطان روم ، غلام حسن ، فضل رحیم ، ظاہر شاہ ، قیوم ، شاہ جی ، فضل ، کریم ، اور ہاشم ساکنان برون کے گھر بہہ گئے ہیں۔
اسی طرح شیخاندہ بمبوریت میں سیف الرحمن ، فریدون ، سلام اللہ ، سید جلال ، منہاج الدین ،عبدالبصیر ، ہدایت الرحمن ، عبدالحق ،سید محمد ، ظاہر شاہ ، کریم اور فیض اللہ کے مکانات جبکہ کراکاڑ میں ولی خان اور عبدالستار کے مکانات سیلاب کی نذر ہو گئے۔ سیلاب میں چترال سکاؤٹس مس واقع کندیسار بمبوریت ، پی ٹی ڈی سی موٹل انیڑبمبوریت اور ایک بجلی گھر کو بھی نقصان پہنچا۔
بمبوریت کے پورے ایریا میں موجود ایک درجن پُل مکمل طور پر بہہ گئے۔ اب مقامی لوگوں کو نقل و حمل میں شدید مشکلات درپیش ہیں۔ بروز کے مقام پر سیلاب میں زوجہ قربان الدین اور دختر شمس الدین سیلاب میں بہہ گئے۔ جن میں سے زوجہ قربان الدین کی لاش دریائے چترال سے نکال لی گئی ہے۔ جبکہ بچی کی لاش کی تلاش جاری ہے۔ بروز ہی میں تین گھر سیلاب برد ہو گئے۔
شالی کے مقام پر ایک مسجد شہیدہوئی۔ بروز گولدہ میں سیلاب نے پْل گرا دیا۔ جس کے نتیجے میں چترال پشاور روڈ مکمل طور پر بلاک ہو گیا ہے۔ اور چترال شہر سے رابطہ منقطع ہو گیاہے۔سیلاب نے برون کے مقام پر اپنا رخ تبدیل کرکے تقریبا ایک کلو میٹر طویل سڑک کو متاثر کیا ہے اور اپنے لئے نیا راستہ بنایا ہے جس کی وجہ سے سڑک بُری طرح خراب ہو چکی ہے۔
سیلاب سے خیر آباد پُل مکمل طور پر بہہ گیا ہے۔ اور خیر آباد گاؤں کا رابطہ مین سڑک سے منقطع ہو گیا ہے۔ لوگ دریا کے دوسری طرف پھنس گئے ہیں۔ دروش سے ایک شخص عبد الرحمن نے بتایا کہ دریائے چترال کی سطح غیر معمولی بلند ہونے سے دریاء کے قریب ترین گھروں سمیت پولو گراؤنڈ دروش میں پانی داخل ہو گیا ہے۔ اور لوگ نقل مکانی کر رہے ہیں۔ شغور میں پندرہ دکانات سیلاب میں بہہ گئے۔
مین شغور پْل کے نالہ اوی میں آنے والے سیلاب نے دریاء کے بہاؤ کا راستہ روک دیا اور ڈیم بن گیا ہے جس کی وجہ سے شغور گاؤں کے لوگ دریا کے دوسری طرف محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔ سیلاب سے ایون ہائیڈل پاور سٹیشن ،اور واپڈا ہاؤس چترال کے چینل مکمل طور پر خراب ہو چکے ہیں۔ اور بجلی ، پینے کے صاف پانی اور آمدورفت کا نظام مکمل طور پر تباہ ہو گیا ہے۔
درین اثنا ڈسٹرکٹ ڈیزاسٹر منیجمنٹ کے اہلکاراور ریلیف انچارج رشید احمد نے بتایا کہ اب تک بروز اور شالی کے متاثرین کیلئے خیمے اور خوراک فراہم کئے گئے ہیں۔ جبکہ بمبوریت متاثرین کی فہرست کی تیاری کے بعد اْن کو ریلیف کے سامان پہنچائے جائیں گے۔
چترال کے بالائی علاقہ گہکیر ، بندو گول اور کوشٹ میں زبردست بارش ہوئی۔ جس کے نتیجے میں تین مقامات پر طوفانی سیلاب آئے اور کئی گھروں کو نقصان پہنچا۔
سیلاب سے اپر چترال کو جانے والی سڑک بندو گول کے مقام پر مکمل طور پر کٹ گیا۔ اور نالہ بندوگول کسی بھی قسم کی آمدو رفت کے قابل نہ رہا۔ جبکہ کوشٹ پُل جس کے ذریعے اپر چترال کا رابطہ بحال تھا۔ ٹوٹ جانے سے رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔ اس پُل کے ٹوٹ جانے سے اپر چترال کی دو لاکھ کی آبای کے ایک سو پچاس سے زیادہ دیہات چترال شہر سے کٹ کر رہ گئے ہیں۔
جن میں موڑ کہو ، تورکہو ، اور مستوج کے علاقے شامل ہیں۔ بندو گول اور ملحقہ دیہات کے لوگوں میں ہیجانی کیفیت اور خوف کی لہر پائی جاتی ہے۔ اور لوگوں کو آمدورفت کے مسائل اور خوراک کی شدید قلت کا سامنا ہے۔بندو گول ایریا میں لوگ نقل مکانی کرکے محفوظ مقامات میں پناہ لئے ہوئے ہیں۔ جہاں اُن کے لئے اور جانوروں کے خوراک کیلئے کوئی انتظام موجود نہیں ہے۔
علاقے میں سیلاب کی وجہ سے پائپ لائن ختم ہو گئے ہیں۔ اور بعض مقامات پر صدیوں سے موجود چشمے غائب ہو گئے ہیں۔ گرم چشمہ کے مقام ْمردان ، دروشپ اور شغور میں آنے والے سیلاب نے پورے علاقے کو مفلوج کرکے رکھ دیا ہے۔ اور لوگوں کو راستے کی بندش کے پیش نظر اٹھارہ سے بیس گھنٹے پیدل چل کر چترال شہر پہنچنا پڑتاہے۔دروشپ کے ملیامیٹ ہونے والے اٹھارہ خاندانوں کے لوگ کھلے آسمان تلے پڑے ہوئے ہیں۔
جو لباس ، خوراک اور چھت سے محروم ہو چکے تھے۔۔ گرم چشمہ روڈ بند ہونے کی وجہ سے اس علاقے کو معاشی طور زبردست نقصان پہنچا ہے کیوں کہ یہاں آلو کی کماؤ فصل کو بروقت علاقے سے مارکیٹ تک نہ پہنچایا گیا۔ تو لوگ اپنی سال بھر کی آمدنی سے محروم رہیں گے۔ علاقے کے ایک معروف شخصیت سلطان محمد نے بتایا کہ حالیہ سیلاب گرم چشمہ کی تاریخ کا بد ترین سیلاب ہے جس سے اس علاقے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مْردان ویلی میں تمام آبپاشی نہر ناقابل مرمت ہو چکی ہیں۔ جن کی دوبارہ تعمیر کی ضرورت ہے۔ فوری طور پر علاقے میں نے پانی کی بحالی کیلئے اقدامات کئے جانے چاہیں۔ انہوں نے کہا۔ حکومت کو ان کی بحالی کیلئے کمیونٹی کی بروقت مدد کرنی چاہیے۔درین اثنا کالاش ویلی بمبوریت میں بدستور سیلاب کا سلسلہ جاری ہے اور سینکڑوں گھرانے نقل مکانی کرکے درختوں کے نیچے پناہ لی ہو ئے ہیں۔
رمبور اور بمبوریت ویلی کی سڑکیں بدستور بند ہیں۔ اور مقامی لوگ پہاڑوں کی پگڈنڈیوں سے ہوتے ہوئے جان ہتھیلی پر رکھ سفر کرتے ہیں۔ اور اشیاء خوردونوش اور دیگر ضروریات لے جانا انتہائی مشکل ہو گیا ہے۔ ایک کالاش نوجوان لوک رحمت نے بتایا کہ اشیاء کی قلت کی وجہ سے اُن کی قیمتیں آسمانوں تک پہنچ گئی ہیں اور بعض لوگ قلت کا ناجائز فائدہ اٹھارہے ہیں۔
لوک نے کہا کہ اس عید پر کلاش ویلیز میں بہت بڑی تعداد میں سیاحوں کی آمد کے لوگ منتظر تھے۔ اور اچھی آمدنی کی توقع کی جارہی تھی۔ لیکن عین عید کے دنوں میں سیلاب نے تمام خواہشات اور توقعات پر پانی پھیر دیا۔جس سے ہوٹلنگ سے وابستہ افراد ، تاجروں اور کاروباری افراد کو کروڑوں کا نقصان ہوا ہے۔ درین اثنا تمام متاثرین نے حکومت اور ضلعی انتظامیہ سے امدادی سرگرمیاں تیز کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
جبکہ چترال سکاوٹس نے پیر کے روز سے سات ہزار پانچ سو کلو گرام خوراک متاثرین میں تقسیم کرنے کا آغاز کیا ہے۔ اور ابتدائی طور پرکا لاش ویلی بمبوریت ،گرم چشمہ میں پہلی کھیپ تقسیم کی گئی۔ جنرل آفیسر کمانڈنگ ملاکنڈ نادر خان نے اس موقع پر چترال کا دورہ کیا۔ اورمتاثرین میں امدادی اشیاء کی تقسیم کا آغاز کیا۔
کورکمانڈر پشاور لفٹننٹ جنرل ہدایت الرحمن نے منگل کے روزچترال کا دورہ کیا۔
کمانڈنگ مالاکنڈ ڈویژن میجر جنرل نادر خان بھی اُن کے ہمراہ تھے۔ کور کمانڈر نے چترال میں سیلاب سے متاثرہ علاقے کالاش ویلیز ، گرم چشمہ کا فضائی دورہ کیا۔ جبکہ اپر چترال کے گاؤں کوراغ میں متاثرین سیلاب اور لوگوں سے ملے۔ کمانڈنٹ چترال سکاؤٹس بریگیڈئر نعیم اقبال ، ایم پی اے چترال سید سردار حسین ،آرمی اور چترال سکاؤٹس و ضلعی انتظامیہ کے آفیسران اس موقع پر موجود تھے۔
کورکمانڈر نے متاثرہ خاندانوں کے افراد کی حوصلہ افزائی کی اور اپنے خطاب کہا کہ چترال پر بہت مشکل وقت آ یا ہے۔ تاہم پاک آرمی مشکل کی اس گھڑی میں اُن کے ساتھ ہے۔ انہوں نے کہا کہ متاثرین میں ایک سو پچیس ٹن اشیاء خور د و نوش تقسیم کی جائیں گی۔ اور سڑکوں کی بحالی تک پاک آرمی زندگی رواں دواں رکھنے میں اپنی تمام صلاحیتیں اور وسائل بروئے کار لائے گی۔
کور کمانڈر نے کہا کہ خوراک کی قلت نہیں ہونے دی جائے گی اور اگر ضرورت پڑے گی تو گلگت کے راستے بھی خوراک کی فراہمی کا انتظام کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اپر چترال کے علاوہ ، گرم چشمہ اور کالاش ویلیز میں بھی سیلاب نے بڑی تباہی مچا دی ہے۔ لیکن پاک آرمی مقامی لوگوں کے تعاون سے ان مشکلات پر قابو پانے میں کا میاب ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ میری ذاتی توجہ چترال کی طرف ہے۔
کیونکہ گلگت چترال ایک ہی علاقے ہیں اور گلگت سے تعلق رکھتا ہو ں۔ کور کمانڈر ایم پی اے چترال سید سردار حسین کے مطالبے پر اپر چترال میں محصور لوگوں کو چترال پہنچانے کیلئے ہیلی کاپٹر سروس مہیا کرنے کا اظہار کیا۔ اور چترال بونی روڈ کی بحالی کیلئے مشینری ، افرادی قوت اور دیگر ضروری وسائل مہیا کرنے کے سلسلے میں انجینئرنگ کور افسران کو ہدایات دیں۔
اس موقع پر میجر جنرل نادرخان نے امدادی کاروائیوں سے متعلق کہا کہ نقصانات کی بحالی کے سلسلے میں کام کی رفتار کو تیز کرنے کیلئے لائن ڈیپارٹمنٹس کے صوبائی ہیڈز چترال پہنچ گئے ہیں۔ اور اُن سے میٹنگ کرکے اقدامات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ ایم پی اے سردار حسین نے پاک آرمی کی طرف سے ہنگامی بنیادوں پر ریلیف کی تقسیم اور دیگر امدادی کاروائیوں پر کور کمانڈر ، جی او سی اور کمانڈنٹ چترال سکاؤٹس اور پاک آرمی کا شکریہ ادا کیا۔ اس موقع پر متاثرین اور مقامی لوگوں نے پاک آرمی کے حق میں زبردست نعرے لگائے۔ کمانڈنٹ چترال سکاوٹس بریگیڈئر نعیم اقبال نے بھی خطاب کیا۔
تاریخ اشاعت: 2015-07-24

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان