بند کریں
ہفتہ فروری

مزید خصوصی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
بیویاں مت پڑھیں۔۔۔
نوٹ:اس آرٹیکل کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں، یہ صرف فکشن ہے اور شغل ہے۔ اپنے رسک پر سنجیدہ لیں۔۔
عاطف اشرف:
نوٹ:اس آرٹیکل کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں، یہ صرف فکشن ہے اور شغل ہے۔ اپنے رسک پر سنجیدہ لیں۔۔
دیکھا۔۔۔جس کام سے منع کرو وہی کرتی ہیں۔ٹائٹل میں واضح لکھا ہے کہ “بیویاں مت پڑھیں”لیکن پھر بھی پڑھی جا رہی ہے۔۔چلیں کوئی بات نہیں اگر پڑھنا شروع کر ہی دیا ہے تو حوصلے کے ساتھ ایک شوہر کے دل کاحال بھی سن ہی لیں۔
بیچارہ آپ کے سامنے بول تو نہیں سکتا اس لیے لکھنے کی جسارت کر رہا ہے۔
بیوی اور ٹی وی۔۔۔دونوں کے نام تو ملتے ہیں لیکن کام نہیں۔۔ٹی وی کی آواز تو میوٹ کا بٹن دبا کر بند ہوجاتی ہے لیکن بیوی کو کنٹرول کرنے کا ریموٹ کنٹرول آج تک ایجاد نہیں ہو سکا۔گوگل پر بیوی کو کنٹرول کرنے کے طریقے دھونڈیں تو گوگل بھی معذرت کر لیتا ہے۔ مشکل سے مشکل ریاضی کا سوال سمجھ میں آجاتا ہے، لیکن بیویوں کی سمجھ ناسمجھ خاوندوں کو آتی ہی نہیں۔
آپ دنیا جہان کی کوئی بھی دلیل دے کر دیکھ لیں۔ دنیا کے بہترین پیمانوں سے پرکھ ڈالیں۔۔بیویاں اسی صورت مانیں گی اگر یہ دلیل ان کی اپنی سوچ اور ذہن کے پیمانے پر پوری اترے گی۔۔ورنہ سارے دلائل گئے بھاڑ میں۔۔۔ دلائل سے یاد آیا۔۔کہ بیویوں سے آپ بحث کر ہی نہیں سکتے۔۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ جس معاملے پر بیویا ں لڑتی ہیں وہ لڑائی کے میرٹ پر پورا ہی نہیں اترتا۔
۔اور اگر آپ نے بھولے سے اس معاملے کو چھوٹی سی بات قرار دے دیا۔۔تو سمجھ لو بڑی لڑائی شروع ہو گئی۔۔فوراً لفظی تیر برسے گا”آپ کی نظر میں یہ چھوٹی بات ہے”۔۔؟ یہی نہیں۔۔چھوٹی بات پر ہونے والی چھوٹی لڑائی ناسمجھ خاوندوں کی بیوقوفیوں کی وجہ سے بڑی بن جاتی ہے۔اصل معاملے سے بات نکل کر ضمنی معاملات میں پڑ جائے گی۔دلیل کو مضبوط کرنے کے لئے آپ نے کوئی آس پاس کی مثال دے دی تو بیویاں اس مثال میں بھی لڑائی کو بھڑکانے کا کوئی نہ کوئی عنصر بڑی تیزی سے ڈھونڈ نکالیں گی۔
اور آپ کی زبان سے نکلا ہو اتیز آپ ہی کو واپس ماریں گی۔۔ جتنی زیادہ بحث کرتے جائیں گے اتنی ہی زیادہ ایشوز کھڑے ہوتے جائیں گے۔اس وقت تک جان نہیں چھوٹے گی جب تک آپ اپنی “غلط “غلطی نہیں مانیں گے۔۔کیونکہ بیویاں فرشتوں سے بھی زیادہ معصوم ہوتی ہیں۔ خاوند لڑائی ختم کرنے کے لئے معافی کا سہارا لے۔۔تو وقتی طور پر لڑائی تو ختم ہو جاتی ہے لیکن بیویوں کے دماغ سے ایسی باتیں قیامت تک نہیں نکلتیں۔
۔
جس بات پرناراض ہونا ہوتا ہے اس بات پر ناراض نہیں ہوتیں۔۔لیکن جس بات کی ناراضگی ہے وہ بتاتی بھی نہیں۔۔ اگر پوچھ لیا تو سمجھو مزید شامت آگئی،۔۔”آپ کو پتہ ہی نہیں کہ میں کس بات پر ناراض ہوں۔۔”یہ سن کر بیچارہ خاوند ایک تفتیشی افسر کی طرح اپنے دماغ میں ماضی اور حال میں گزرنے والے واقعات اور بیانات کی فلم چلاتا ہے۔۔لیکن سمجھ پھر بھی نہیں آتا۔
۔بات کا پتہ اس وقت چلے گا جب بیویاں اپنی مرضی سے خود بتائیں گے۔۔کہ یہ مسئلہ تھا۔۔جواب سن کر خاوند دل ہی دل میں بڑا ہنسے گا۔۔کہ کھودا پہاڑ نکلا چوہا وہ بھی مرا ہوا۔۔لیکن کامیاب شوہر وں کو ایسے وقت صرف اچھی ایکٹنگ کا سہارا لینا پڑتا ہے۔اگر ہنس گیا توسمجھوپھنس گیا۔۔
بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ بیویاں خاوند کی کوئی بھی نازیبا بات سنبھال کر رکھ لیتی ہیں، کہ بڑا ہتھیار ہے بڑی لڑائی میں استعمال کروں گی۔
۔اور آپ کو اس وقت پتہ چلتا ہے کہ دو ماہ پہلے آپ نے اپنے سالے سے متعلق کوئی سچ بولا تھا جو۔۔جورو۔کو برا لگ گیا۔۔
ویسے ساری بیویاں اپنے بچوں سے بہت پیار کرتی ہیں۔۔لیکن شادی بیاہوں پر جائیں تو بچے سنبھالنے کی ذمہ داری صرف شوہر کی ہے۔۔بیویوں کو پتہ ہی نہیں ہوتا کہ ان کے بچے کیا کر رہے ہیں کس حال میں ہیں۔۔میکے سے گھر واپس لے کر آوٴ تو راستے میں ہر مارکیٹ پر بیویوں کی عقابی نظر ہوتی ہے۔
۔”جوتیوں کی یہ نئی دکان کھلی ہے ذرا گاڑی روکیے کچھ لوں گی نہیں صرف ونڈو شاپنگ کرنی ہے۔۔گھر میں چینی بھی ختم ہے۔۔چلوساتھ ہی شاپنگ مال کا چکر لگا لیں گے”۔۔۔ اگرشوہر کی تنخواہ تازہ تازہ آئی ہے تو سجھ لو آج جیب تنہا رہ جائے گی۔۔چینی لینے چکر میں چین جانے کی ٹکٹ جتنی شاپنگ ہو جائے گی۔۔ اور ساتھ یہ احسان بھی سننے کو ملے گا۔۔ ”میں کونسی روز روز شاپنگ کرتی ہوں”۔
۔اس شاپنگ میں وہ گفٹ بھی شامل ہو گا جو اپنے کسی رشتے دار کی سالگرہ پر دینا ہے اور سالگرہ میں بھی گیارہ مہینے باقی ہوں گے۔۔۔
آفس میں کام کر رہے ہو تو ایس ایم آیس آئے گا۔جس کا مقصد گفتگو شروع کرنا ہوگا۔۔جواب دیں یا نہ دیں آپ دونوں صورتوں میں ہی پھنسیں گے۔۔جواب نہ دیا تو گھرمیں جواب طلبی ہو گی اور اگر جواب دے دیا تو پھر ایس ایم ایس کی لائن لگ جائے گی اور آپ آفس کے کام کی لائن سے ہٹ جائیں گے۔
۔
زبان سے کسی لڑکی کا نام نکل جائے تو سمجھ لو بجلی گر گئی۔۔ایک بے چارے شوہر نے اپنی داستان سناتے ہوئے کہا کہ “میں نے اپنی بیوی کو ایس ایم کیا کہ آج میرا ایکسیڈنٹ ہوا لیکن اچانک حنا نے دیکھ لیا اس نے مجھے ہسپتال پہنچایا۔۔ دونوں ٹانگیں فریکچر ہیں، پورے جسم پر چوٹیں آئی ہیں، چار گھنٹے بے ہوش رہا، اسپتال میں ہوں۔حالت تشویشناک ہے۔
۔ پہنچ جاوٴ”لیکن آگے سے بیوی کا جواب آیا۔۔”یہ حنا کون ہے؟”
دوستوں کے ساتھ کہیں جانا تو بیگم سے پیشگی اجازت لینا پڑتی ہے۔بغیر بتائے چلے گئے تو سمجھ لوشامت آگئی۔۔کھانا کیا کھایا، کون کون تھا، پیسے کس نے دیے،پوری رپورٹ دینا پڑتی ہے۔ اور آخر میں یہ سننا پڑتا ہے کہ دوست نظر آتے ہیں کیا بیوی کا کوئی حق نہیں۔۔حالانکہ ایک دن پہلے آپ بیوی کو شاپنگ اور ڈنر کروا چکے ہوتے ہیں۔
۔۔میرے ایک دوست عمیر صاحب کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا۔۔ہم سب دفتر کے لوگ مل کر فیصل ٹاوٴن کھانے پر گئے۔۔سب نے اپنی بیویوں سے پیشگی اجازت لی۔۔۔لیکن عمیر صاحب۔۔آداب ازواجیت۔۔بھول گئے۔۔ٹھیک کھانا کھانے کے دوران ان کا موبائل بجا۔۔ اور عمیر صاحب محفل چھوڑ کر فون سننے کے لئے اٹھ کر چلے گئے۔۔ہم سب سمجھ گئے کہ ماجراکیا ہے۔۔کیونکہ عمیر صاحب جب واپس آئے تو ان کے چہرے پر سنجیدگی نمایاں تھی۔
۔۔
میرے ایک دوست فیصل وڑائچ کہا کرتے ہیں کہ پہلے بیویوں کو خاوندوں کے ساتھ ایڈجسٹ ہونا پڑتا تھا لیکن آجکل خاوندوں کو بیویوں کے ساتھ ایڈجسٹ کرنے کا چیلنج درپیش رہتا ہے۔ہر کامیاب مردکے پیچھے ایک عورت کا ہاتھ ہوتا ہے۔۔لیکن ہر کامیاب شوہر کا راز اگر۔۔”رن مریدی ” کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔
تاریخ اشاعت: 2015-05-07

(2) ووٹ وصول ہوئے