بند کریں
جمعرات جنوری

مزید خصوصی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
بسنت ایک خونی تہوار…
ایک دور تھا جب مکانات زیادہ تر چھوٹے اور ایک منزلہ ہوتے تھے اور پتنگ بازی کرنے والے کچھ منچلے بڑے بڑے بانسوں پر تاریں یا کانٹے لگائے کئی پتنگوں کو پکڑتے سڑکوں پر دوڑتے دکھائی دیتے
خالد یزدانی:
بسنت سنسکرت زبان کا لفظ ہے جس کے اردو میں معنی ”بہار“ کے ہیں اسی حوالے سے مومن نے لکھاتھا۔
اے چارہ گر جہاں میں ہے جلوہ گربسنت
یاں میرے گھر بسنت، واں تیرے گھر بسنت
برصغیر میں بسنت موسمی تہوار کے حوالے سے مشہور رہا ہے کہ جب موسم سرما رخصت ہو رہا ہوتا، باغوں میں پھول اور کھیتوں میں سرسوں کی زرد پتیاں اپنی بہار دکھا رہی ہوتی ہیں تو اس فضا میں برصغیر کی شاعری بھی اسی رنگ میں رنگی دکھائی دیتی تھی البتہ وقت کے ساتھ الفاظ کی نشست و برخاست بدل جاتی رہی ہے۔
قطب شاہ کے دور سے آج تک شعرا نے اس تہوار کو اپنے اپنے انداز میں بیان کیا کل تک بسنت کے موقع پر پنجاب کے اکثر علاقوں میں لوگ بسنتی لباس پہن کر خوشی کے گیت گایا کرتے تھے۔ سرسوں کے کھیتوں کے قرب و جوار میں جشن کا سا سماں ہوتا تھا اور اس موقع پر کھلے میدانوں میں پتنگ بازی بھی ہوتی تھی۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو یہ ایک ہندوانہ تہوار ہی کہلاتا تھا ویسے بڑی بڑی عجیب و غریب پتنگوں کو فضا میں بلند کرنے کا آغاز 208 قبل از مسیح چین سے ہوا تھا انہی دنوں ہان نامی ایک جنرل نے پتنگ کو جنگ میں استعمال کیا تھا اسی طرح اہل یونان آسمانی بلاوٴں سے نجات کے لئے بڑی بڑی پتنگیں اڑایا کرتے تھے۔
1752ء میں آسمانی بجلی بارے معلومات حاصل کرنے کے لئے فرینکلین نے پتنگ فضا میں بلند کی تھی اسی طرح 1883ء میں برطانیہ کے ڈگلس نے ہوا کی رفتار معلوم کرنے کے لئے پتنگ اڑائی اور اسکے ساتھ ایک کیمرہ بھی منسلک کردیا تھا تاکہ فضا کی تصاویر زمین تک پہنچیں، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ پتنگ اڑانے کا رجحان بھی بڑھا ، چین کے ساتھ جاپان میں بھی ساحل سمندر پر پتنگیں اڑنے لگیں اور اب بھی ہر سال چین میں ستمبر کے مہینے اور جاپان میں مئی میں پتنگوں کا دن منایا جاتا ہے۔
برصغیر میں کئی دہائیوں سے بسنت منانے کا شوق جار ی رہاخاص طور پر مشرقی پنجاب میں ”بسنتی لباس“ کی وجہ سے بھی جانا پہچانا جانے لگا تھا پھر یہی تہوار جو کھیتوں اور کھلی جگہوں پر منایا جاتا تھا بڑی بڑی بلڈنگوں، رنگ برنگی روشنیوں گانوں کی ریکارڈنگ اور گولیوں کی تڑ تڑاہٹ اور بوکاٹا کے شور سے گونجنے لگا۔ ہندووٴں اور سکھوں کے ساتھ طویل عرصہ گزارنے کے نتیجہ میں مسلمانوں نے ان کی بہت سی رسموں کی طرح اسے بھی اپنانا شروع کر دیا تھا اور یوں بسنت ، بسنتی رنگ سے لہو رنگ میں بدلنے لگا عام ڈور کے ساتھ دھاتی تار استعمال ہونے لگی پھر کیمیکل ڈور انسانی جانیں لینے لگا۔

ایک دور تھا جب مکانات زیادہ تر چھوٹے اور ایک منزلہ ہوتے تھے اور پتنگ بازی کرنے والے کچھ منچلے بڑے بڑے بانسوں پر تاریں یا کانٹے لگائے کئی پتنگوں کو پکڑتے سڑکوں پر دوڑتے دکھائی دیتے اور اسی تناظر میں کبھی کبھار حادثات بھی پیش آجاتے تھے۔ مگر جب سے آبادی کے ساتھ ٹریفک میں بھی اضافہ ہوا یہ کھیل ہر سال حادثات کا سبب بھی بننے لگا۔
ہر سال کئی قیمتی جانیں ضائع ہونے لگیں۔ دھاتی تار کی وجہ سے ٹرانسفارمر کے ساتھ الیکٹرانک سامان جل جانے لگے یوں آہستہ آہستہ ایک تفریح خطرناک رخ اختیار کرتی چلی گئی۔ اگرچہ عام شہریوں کی جان و مال کی حفاظت کے لئے حکومتی سطح پر اقدامات بھی کئے جانے لگے اور ان کے اعلانات بھی ہونے لگے کمیٹیاں بھی تشکیل دے دی گئی پولیس ایکشن میں بھی آنے لگی مگر پتنگ بازی کا جنون کم نہ ہوا۔
اور اسکی وجہ سے ہر سال سینکڑوں جانیں پتنگ بازی کی نظر ہونے لگیں۔ جس میں نوجوان، بوڑھے اور بچے بھی شامل ہوتے بسنت کے موقع پر ہر سال کتنے لوگ زخمی اور کتنے اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے اسکا باقاعدہ ریکارڈ رکھنا یا ملنا تو کار دار د رہے گزشتہ چند سالوں میں پرنٹ اور الیکٹرانک میں آنے والی خبروں سے ہی اندازہ لگ جاتا تھا وطن عزیز میں بسنت کے موقع پر چھتوں سے گر کر ہوائی فائرنگ کی زد میں آکر یا گاڑیوں سے ٹکرانے والوں کی تعداد بڑھتی چلی جا رہی تھی۔
2003ء میں صرف لاہور میں دس افراد گلا کٹنے سے ہلاک اور تین سو سے زیادہ زخمی ہوئے اسی طرح 2005ء میں بسنت کے دوران چالیس افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوگئے تھے اسی سال شدید جانی و مالی نقصان کے باعث پتنگ بازی پر پابندی لگا دی گئی مگر پھر بھی موت کا کھیل جاری رہا۔ اور آج بسنت پر پنجاب حکومت نے پابندی لگا رکھی ہے۔ اور اسی حوالے سے میڈیا اور شاہراوٴں پر بڑے بڑے بورڈوں پر اس خطرناک کھیل کی ہولناکی سے بھی عوام کو آگاہی کی مہم جاری ہے۔
اور قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی پتنگ اور ڈور بنانے والوں کے خلاف کارروائی کر رہے ہیں۔ اسی لئے گزشتہ کچھ عرصہ سے اس خونی کھیل پر پابندی سے عوام الناس نے سکھ کا سانس لیا کہ اب انسانی جانوں کے ساتھ ان کو بجلی کی آنکھ مچولی او دیگر مشکلات سے نجات ملی۔ دیکھا جائے تو بسنت آج کے دور میں ایک تکلیف کا باعث بن گیا تھا جس کے نتیجہ میں کوئی اندھی گولی کا نشانہ بن جاتا تھا تو کوئی موٹر سائیکل سوار یا راہ گیر اپنی گردن کٹوا کر ہسپتال پہنچ جاتا تھا جانی و مالی نقصانات کے تناظر میں ہی دیکھا جائے تو بسنت ہر لحاظ سے نقصان کا ہی باعث تھا جبکہ جشن بہارا ں کے نام سے اسے جاری رکھنے اور اس کام سے وابستہ افراد کے بے روزگار ہونے پر بھی واویلا مچایا گیا۔
مگر آج صورت حال یہ ہے کہ حکومت نے اسی ”بسنتی کھیل“ کو ممنوع قرار دے کر پابندی لگا دی ہے کہ یہ لہو رنگ میں تبدیل ہوتا چلا جا رہا تھااور کئی گھروں کے چراغ بجھتے چلے جا رہے تھے۔ آج بھی جب اس حوالے سے یا بسنت کے دن قریب آتے ہیں تو ان بچوں کے والدین پر کیا گزرتی ہوگی جو ان کی آنکھوں کے سامنے تڑپ تڑپ کر اپنی جان سے گزر گئے اور آج تو یہ وقت اور پیسے کا بھی ضیاع تھا۔
آج صورتحال یہ ہے کہ حکومت اور قانون نافذ کرنے والوں نے بسنت کا سامان بنانے والوں کے خلاف کارروائی کرتی ہے اس کے ساتھ پنجاب حکومت نے مختلف جگہوں پر بینرز آویزاں کر رکھے ہیں جن پر پتنگ بنانے فروخت کرنے اور اڑانے والوں کو تنبیہ کی گئی ہے اس کے باوجود بعض منچلے اس پابندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنے ساتھ دوسروں کی جانوں سے کھیلنے سے باز نہیں آتے ایسے عناصر کے خلاف بھر پور اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔
تاریخ اشاعت: 2015-02-14

(0) ووٹ وصول ہوئے