بند کریں
اتوار جنوری

مزید خصوصی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
”بنگلہ دیش میں انصاف کا قتل عام “
پاکستان کو حسینہ واجد کی بپھری ”بلا خیزیوں “کے سامنے فوری بند باندھ کر 10ہزار قیدیوں کو پھانسی کے ”پھندے “پر جھولنے سے روکنا ہو گا ،کیونکہ انکا جرم پاکستان سے ”محبت “ہے بنگلہ دیشی حکومت ”انسانی حقوق کی دھجیاں “اڑا کر اپنے مخالفین کو چن چن کر قتل کر رہی ہے
مسرت قیوم:
بنگلہ دیش میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں” یوپی یونین“ اورانسانی حقوق کی تنظیموں کا منہ چڑھارہی ہیں۔ پاکستان کو حسینہ واجد کی بپھری ”بلا خیزیوں “کے سامنے فوری بند باندھ کر 10ہزار قیدیوں کو پھانسی کے ”پھندے “پر جھولنے سے روکنا ہو گا ،کیونکہ انکا جرم پاکستان سے ”محبت “ہے بنگلہ دیشی حکومت ”انسانی حقوق کی دھجیاں “اڑا کر اپنے مخالفین کو چن چن کر قتل کر رہی ہے۔
اس وقت خالدہ ضیاء کو سارے جھگڑے ساری عداوتیں اور ساری چپقلشیں ایک طرف رکھ کر حسینہ واجد کی بڑھتی جارحیت کے سامنے بند باندھنے کیلئے میدان میں نکلنا چاہیے۔سیاسی دوریاں ختم کر کے خالدہ ضیاء کو اب آگے بڑ ھنا چاہیے کیونکہ بنگلہ دیش کی حکومت نے ” اخلاقیات“ اور انسانی حقوق کی دھجیاں اڑا دی ہیں۔حسینہ واجد کے منہ کو ” خون“ لگ گیا ہے جس بنا ء پر وہ” پاکستان سے محبت“ رکھنے کے جرم میں مخالفین کو ختم کرنے پر تلی ہوئی ہے۔
سیاستدانوں کو پھانسیاں دینے کے سلسلے نے شیخ حسینہ واجد کے والد بنگلہ بندھوشیخ مجیب الرحمن کی روح کو بھی ”شرمندہ“کردیاہے۔حسینہ واجد نے اپنے والد کے وعدوں سے رو گردانی کرکے یقینی طور پر ان کی روح سے ” غداری “کی ہے۔دہلی میں5اپریل سے 9اپریل 1974ء تک پاکستان ،بنگلہ دیش اور بھارت کے وزراء خارجہ کے درمیان سہ فریقی معاہدہ طے پایا تھا اس میں شیخ مجیب الرحمن کی حکومت کے ” وزیرخارجہ کمال حسین “نے واضح طور پر اعلان کیا تھا کہ 1971ء کے واقعات کی بنا پر کسی کیخلاف بھی مقدمہ نہیں چلایا جائیگا۔
اس سے قبل بنگلہ دیش کی حکومت نے” 195“ پاکستانیوں کو جنگی جرائم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزام میں گرفتار کرکے جیلوں میں ڈال رکھا تھا۔سہ فریقی معاہدہ کے نتیجہ میں ہی بنگلہ دیش کی حکومت نے ان پاکستانیوں کو رہا کرکے دیگر قیدیوں کے ہمراہ وطن واپس بھیجا تھا۔ اس معاہدہ کے” پیرا گراف نمبر14“ میں بنگلہ دیش کے وزیراعظم شیخ مجیب الرحمن کے اس اعلان کو بھی نوٹ کیا گیا ہے جس میں انہوں نے اپنے عوام سے اپیل کی تھی کہ 1971ء میں روا رکھی جانے والی ” چیرہ دستیوں “اور تباہی کو بھلا کر نئے سرے سے سفر کا آغاز کیا جائے۔
لیکن حسینہ نے اقتدار کے ”نشے“ میں اپنے والد کی تمام باتوں کو ”پاوں تلے روند“ ڈالا ہے اس معاہدہ کے ” پیرا گراف نمبر 15 “میں پاکستانی وزیراعظم کی اپیل کا بھی ذکرہے جس میں انہوں نے بنگلہ دیش سے اپیل کی تھی کہ ماضی کو بھلاکر آگے بڑھا جائے ،اسکے جواب میں بنگلہ دیشی وزیرخارجہ نے اپنی حکومت کے اس فیصلے سے پاکستان اور بھارت کو آگاہ کیا کہ 1971ء کے واقعات کی بنا پر کسی کیخلاف کوئی ”مقدمہ“ نہیں چلایا جائیگا لیکن 2010 ء میں ایک” مقامی قانون“کے ذریعے جنگی جرائم کے ” ٹربیونل“ قائم کئے گئے جنہیں عالمی جنگی جرائم کے ٹربیونل کا نام دیا گیا۔
یہ ٹربیونل ”شہادتوں “کے بغیر اور انصاف کے عالمی تقاضوں کے برعکس ”اندھا دھند “سزائے موت کے حکم سنا رہے ہیں لیکن اس پر پاکستانی حکومت کی طرح عالمی برادری کی طرف سے بھی بھرپور آواز نہیں اٹھائی جارہی۔ پاکستان نے بنگلہ دیش میں حزبِ مخالف کے دو رہنماووٴں کو پھانسی دیے جانے پر شدید ردِ عمل کا اظہار کرتے ہوئے بنگلہ دیش سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ نو اپریل 1974 کو کیے جانیوالے ”معاہدے “پر عمل کرتے ہوئے مفاہمتی انداز اپنائے لیکن بنگلہ حکومت اب بے گناہوں کو پھانسی دے رہی ہے۔
صلاح الدین قادر اور علی احسن مجاہدپر ”قتل عام اور ریپ “کا الزام تھا جس کی دونوں نے تردید کی تھی۔دفتر خارجہ پاکستان کے ترجمان نے کہا ”کہ پاکستان 1971 کے سانحہ کے تناظر میں بنگلہ دیش میں جاری” متعصب عدالتی“ کارروائی سے متعلق عالمی برادری کے ردعمل کو بھی دیکھ رہا ہے۔“لیکن اس وقت امریکہ سمیت عالمی برادری کا اس پر خاموش رہنا کئی سوالوں کو جنم دے رہا ہے کیونکہ مرنے والے سبھی کلمہ گو ہیں اور انکے نورانی چہروں پر سنت رسول سجی ہوئی ہے ،پاکستان آج بھی سہ فریقی معاہدے میں 1971 کے معاملات کو بھلا کر آگے بڑھنے کی سوچ اپنانے پرزوردے رہا ہے اس سے ”خیرسگالی“ اورہم آہنگی کو فروغ ملے گا۔
پھانسی کی سزا پانے والے صلاح الدین قادر چودھری ایک بااثر سیاست دان کے طور پر بھی جانے جاتے تھے اور وہ ”چھ“ بار رکن پارلیمان رہ چکے تھے۔ جبکہ علی احسن محمد مجاہد بنگلہ دیش کی جماعت اسلامی کے مرکزی رہنما تھی۔بنگلہ دیش میں حسینہ واجد کی حکومت پاکستان دشمن جو کارروائیاں کر رہی ہے اس پر عالمی طاقتوں کو متوجہ کرنا ضروری ہوگیا ہے۔
دونوں ملکوں کے درمیان کھیلوں کے مقابلے ہوتے رہے اور باہم تجارت ”34 کروڑ “ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔جنرل ضیاء الحق کے دور میں بنگلہ دیش کو تحفہ کے طور ”ایف 6 طیاروں “کے متعدد سکویڈرن بھی دئیے گئے اور دونوں ملکوں میں نئے سرے تعلقات کو فروغ حاصل ہوا۔لیکن شیخ مجیب کی بیٹی نے تمام تعلقات کو پس پشت ڈالکر راستے جدا کرنیکی ابتداء کر دی ہے بنگالی ایک ”بے وفا“ قوم ہے یہ جس ٹہنی پہ بیٹھتی ہے اسے ہی کاٹنا شروع کر دیتی ہے۔

بنگلہ دیش کے صدر ضیاء الرحمن، حسین محمد ارشاد اور خالدہ ضیاء کے اقتدار کے دور میں پاکستان اور بنگلہ دیش میں دوستانہ فضا کو بہت فروغ ہوا۔ْْہوا خاص طور پر تجارت بہت بڑھنے لگی۔ مگر اچانک حسینہ واجد بنگلہ دیش پر نازل ہوگئی۔ اسکے ” ذہن“ میں پہلے ہی پاکستان دشمنی کا زہر بھرا ہوا تھا، اس میں بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی نے کئی درجہ اضافہ کر دیا اور حسینہ واجد نے 46 سال قبل کے واقعات کی” پٹاری “ پھر سے کھول کر اس وقت پاکستان کی حمایت کرنیوالے افراد کو پھانسیوں پر لٹکانا شروع کر دیا۔
اب تک جماعت اسلامی سے وابستہ” 9 افراد“ کو پھانسی دی جا چکی ہے اور یہ سلسلہ ابھی جاری ہے۔ الزام یہ ہے کہ71ء میں پاکستان کی حمایت کیوں کی تھی؟ حقیقت یہ ہے کہ حسینہ واجد 1971 کے واقعات سے زیادہ 15” اگست 1975 “کو اپنے والد شیخ مجیب الرحمان اور خاندان کے دوسرے تمام افراد کے فوج کے ہاتھوں ”قتل عام“ کا انتقام لے رہی ہے۔ اس کے ذہن میں یہ بات بھر چکی ہے کہ فوج کو جماعت اسلامی نے پاکستان کی شہ پر بغاوت پر ابھارا تھا۔ اسے شاید قدرت کے انصاف کااندازہ نہیں! شیخ مجیب الرحمن حسینہ واجد سے کہیں زیادہ طاقت ور تھا، لیکن اس کے ساتھ جو ہوا وہ سب کے سامنے ہے۔
تاریخ اشاعت: 2015-11-28

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان