بند کریں
منگل فروری

مزید خصوصی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
اشوک ( 300تا232قبل مسیح)
ہندوستان کی تاریخ میں غالباًسب سے اہم مہاراجہ اشوک ، موریہ خاندان کا تیسرا فرمانروااور اس سلسلہ کے بانی چندرگپت موریہ کا پوتاتھا ۔چندرگپت ایک ہندوستانی سینایتی ( سپہ سالار) تھا جس نے سکندر اعظم کی پورش کے بعد برسوں میں شمالی ہندوستان کا بیشتر علاقہ فتح کیا اور ہندوستانی تاریخ میں پہلی بڑی سلطنت کی بنیاد رکھی
محمد عاصم بٹ :
ہندوستان کی تاریخ میں غالباًسب سے اہم مہاراجہ اشوک ، موریہ خاندان کا تیسرا فرمانروااور اس سلسلہ کے بانی چندرگپت موریہ کا پوتاتھا ۔چندرگپت ایک ہندوستانی سینایتی ( سپہ سالار) تھا جس نے سکندر اعظم کی پورش کے بعد برسوں میں شمالی ہندوستان کا بیشتر علاقہ فتح کیا اور ہندوستانی تاریخ میں پہلی بڑی سلطنت کی بنیاد رکھی ۔

اشوک کا سال پیدائش غیر معلوم ہے ۔ غالباََ یہ 300قبل مسیح کے قریب پیدا ہوا ۔ 273قبل مسیح میں وہ مسند اقتدار پر جلوہ افراد ہوا ۔ اول اول اس نے اپنے دادا کی حکمت عملیوں کااتباع کیا اور اپنی قلمرہ کو عسکری فتوحات کے ذریعے پھیلایا ۔ اپنے اقتدار کے آٹھویں برس اس نے ہندوستان کی مشرقی سرحدوں پر واقع ریاست کلنگا کوگھمسان کی جنگ کے بعد جیتا ( آج اس ریاست کو اڑیسہ کہا جاتا ہے ) لیکن جب اسے اپنی فتح کے لیے انسانی جانوں کی قربانیوں کا احساس ہوا تو وہ خوف زدہ ہوگیا ۔
ایک لاکھ انسان اس جنگ میں کھپت رہے تھے جبکہ اس سے زیادہ زخمی ہوئے تھے ۔ اس صدمے اور پشیمانی کے عالم میں اشوک نے فیصلہ کیا کہ وہ ہندوستان کی فوجی فتح مکمل نہیں کرے گا ۔ بلکہ ہر طرح کی جار حانہ کوروائیوں کو ترک کردے گا ۔ اس نے بدھ مت کو مذہبی فلسفہ کے طور پر اپنایا اور دھرم کی فضیلتوں کو رائج کرنے کی کوشش کی جو راستی رحم اور عدم تشددپر مشتمل ہیں ۔

ذاتی طور پر اشوک نے شکار ترک کر دیا اور سبزی خور بن گیا جبکہ زیادہ اہم وہ متعدد صلح جویانہ اور سیاسی حکمت عملیاں ہیں جو اس نے اختیار کیں ۔ اس نے ہسپتال اور جانوروں کے اصطبل تعمیر کیے درشت قوانین کو متروک کیا سڑکیں بنوائیں اور نظام آپ پاشی کو ترقی دی ۔ اس نے سرکاری طور پر دھرم بھکشو ملازم رکھے جو مختلف علاقوں میں جا کر لوگوں کو تقویٰ کی تلقین کرتے اور دوستانہ انسانی تعلقات کی حوصلہ افزائی کرتے ۔
اس کے دور میں انتہا درجہ کی مذہبی رواداری کا رویہ اپنایا گیا ۔ تاہم اشوک نے خاص طور پر بدھ مت کی تعلیمات کے فروغ کے لیے کام کیا جو قدرتی طور پر جلد ہی مقبول عام کی سندکا حقدار ٹھہرا ۔ بدھ بھکشوؤں کو مختلف ممالک میں تبلیغ کے لیے بھیجا گیا ۔ بالخصوص سیلون میں انہیں نمایاں کامیابی حاصل ہوئی ۔
اشوک نے حکم دیا کہ اس کی زندگی کی تفصیلات اور اس کی حکمت عملیوں کو بڑی چٹانوں اور ستونوں پر کندہ کروا کے تمام سلطنت میں نصب کروائے جائیں ۔
ان میں سے کئی ایک ہنوز موجود ہیں ۔ ان یا د گاروں کے جغرافیائی پھیلاؤ سے ہمیں اشوک کی عظیم سلطنت کی وسعت کا درست اندازہ لگانے میں مدد ملتی ہے ۔ جبکہ ان پر کندہ تحریروں سے ہمیں اس کی زندگی متعلق گراں مایہ معلومات حاصل ہوتی ہیں ۔ جبکہ یہ ستون اپنے طور پر فن کے اعلیٰ نمونے بھی دیں ۔
اشوک کی موت کے بعد پچاس برسوں میں موریہ سلطنت حصوں بخروں میں تقسیم ہوگئی ۔
نہ ہی کبھی بعد میں یہ دوبارہ بحال ہوئی ۔ لیکن بدھ مت کے فروغ کے لیے اس کی مساعی کے سبب دنیا پر اس کے اثرات نہایت دور رس ثابت ہوئے ۔ جب اس نے عنان حکومت سنبھالا توبدھ مت ایک مختصر اور مقامی مذہب تھا صرف شمال مغربی ہندوستان میں ہی اسے کچھ مقبولیت حاصل تھی ۔ اس کی موت کے وقت ہندوستان بھر میں اس مذہب کے پیروکار موجود تھے اور دنیا میں ان کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہورہا تھا۔خود گو تم بدھ کے بعد بدھ مت کے دنیا میں ایک بڑے مذہب کے طور پر فروغ اشوک کاکردار سب سے اہم ہے ۔
تاریخ اشاعت: 2015-08-04

(1) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان