بند کریں
منگل فروری

مزید خصوصی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
آرمی چیف کا بھارت کو منہ توڑجواب
رمضان المبارک کی آمد پر مہنگائی کا طوفان۔۔۔۔ آئندہ انتخابات میں اگر حسینہ کو شکست ہوگئی اور خالدہ ضیاء کی پارٹی جیت گئی تو پھر یہی بنگلہ دیش پاکستان کا قریبی دوست بن جائے گا
سید شعیب الدین احمد:
بھارت ایک ایسا ہمسایہ ہے جہاں سے گزشتہ67برسوں میں کبھی خیر کی خبرنہ ملی ۔بھارت نے آزادی کے 67برسوں بعد پاکستان کی علیحدہ شناخت قبول نہیں کی۔وہ آج بھی اکھنڈ بھارت کے اپنے منصوبے پر کام کررہا ہے۔اس نے مشرقی پاکستا ن کو بنگلہ دیش بنوا کر پاکستان کو ضرور آدھا کردیا مگر بنگلہ دیش کو اپنا طفیلی ملک نہ بنا سکا۔
حسینہ واجد کا بنگلہ دیش بھارت کے بہت قریب ہے مگر آئندہ انتخابات میں اگر حسینہ کو شکست ہوگئی اور خالدہ ضیاء کی پارٹی جیت گئی تو پھر یہی بنگلہ دیش پاکستان کا قریبی دوست بن جائے گا۔بھارت کو پاکستان کی ترقی قبول نہیں ہے۔اس کے آرمی چیف سے سینئر رہنما تک پاکستان کو سبق سکھانے کیلئے یہاں دہشت گردی کو بہترین حکمت عملی قرار دیتے ہیں ۔ نہ جانے دہشت گردی کی مخالف اقوام متحدہ امریکہ،برطانیہ اور دیگر مغربی ممالک کیوں پاکستان میں دہشت گردی کی حمایت کے بھارتی دعوے کا نوٹس لینے پر تیار نہیں ہیں۔
پاکستان اور چین بہترین دوست ہیں اور دوستی کی مثالیں دی جاتی ہیں۔ چین نے اپنے دوست پاکستان کے مفاد کیلئے پاکستان میں اقتصادی راہداری منصوبے پر کام شروع کیا ہے۔اس سے پہلے چین گوادربندر گاہ کی تعمیر کر چکا ہے مگر بدقسمتی سے (ق) لیگ کے دور میں اس بندرگاہ کا زرداری کی حکومت آئی تو پاک چین دوستی کے نئے دور کا آغاز ہوا۔ آصف زرداری نے اپنے 5برسوں کے دوران مسلسل چین کے دور کئے۔
چین کیساتھا مختلف منصوبوں پر دستخط کئے اور پھر گوادر کی بندرگاہ چین کو سونپ دی۔ چین تک اقتصادی راہداری کی تعمیر کا منصوبہ بنایا۔ آصف زرداری گھر چلے گئے مگر (ن) لیگ سے چین نے اقتصادی راہداری کا معاہدہ کرہی لیا۔ اس منصوبے سے پاکستان میں ترقی کی نئی کھلیں گی اور لاکھوں افراد کو روز گار ملے گا۔ بھارت کو پاکستان کی ترقی اور خوشحالی سے چڑ ہے۔
بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج فورأٴ بول اٹھیں ہیں کہ بھارت چین اور پاکستان کے درمیان اقتصادی راہداری منصوبے کیخلاف ہے۔بھارت کو پاکستان میں خوشحالی کی چینی کوشش ہضم نہیں ہو رہی۔ چینی قیادت نے نریندی مودی کو کیا جواب دیا ہو گا؟ وہ سشما سوراج کے اپنے بیان سے ظاہر ہے۔ بھارت کو چین سے نکاسا جواب مل چکا ہے اور بھارت اب پاکستان کے ایک اور دیرینہ دشمن اسرائیل سے مزید پینگیں بڑھا رہا ہے۔
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی پہلے وزیراعظم ہوں گے جو اسرائیل کا دورہ کریں گے۔بھارت اور اسرائیل میں 23برس سے سفارتی تعلقات قائم ہیں مگر پاکستان کیخلاف ہر سازش کا تانا بان امریکہ اسرائیل اور بھارت میں بناجاتا ہے۔پاکستان دشمن یہ اتحاد ثلاثہ ااپنی کوششوں میں ناکام ہے سشما سوراج نے جو مودی سرکار کے ایک سال مکمل ہونے پر رپورٹ پیش کررہی تھیں کہا کہ بھارتی وزیراعظم نے بھارتی ناخوشی کا اظہار دورہ چین کے دوران چینی رہنماؤں سے بھی کیا تھا۔
مودی نے اس مخالفت کا جوازیہ یہ پیش کیا کہ یہ سڑک آزاد کشمیر سے گزرے گی اور بھارت کشمیریوں کو شہید کو اپنا اٹوٹ انگ قرار دیتا ہے۔ کشمیریوں پر اس کے مظالم کی مثال دنیا بھر میں کہیں اور نہیں ملتی۔ آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے بھارت کی دہشت گردی کی دھمکیوں اور پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کی مخالفت کا بھر پور جواب دیا ہے۔انہوں نے پھر واضح کیا ہے کہ پاک فوج بھارتی جارحیت کا مہ توڑ جواب سینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی طرف سے صدرممنون حسین کے اعزاز میں دیئے گئے استقبالیہ میں شرکت کے بعد اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے آرمی چیف کا کہنا تھا کہ بھارتی جارحیت پر مسلح افواج خاموش نہیں بیٹھیں گی۔جارحیت کا منہ توڑ جواب دی جائے گا اور ہر جارحیت کا جواب دی جانا چاہیے۔ آرمی چیف کے بیان سے بھارت کی تسلی ہوگئی ہوگی۔
الیکشن کمشن نے بالآخر وہ کام کر لیا جس کی ہر پڑھا لکھا شخص خواہش رکھتا ہے۔
خبیری کے اور گلگت بلتستان میں خواتین کو ووٹ ڈالنے سے روکنے کی پر ذی شعورمخالفت اور مذمت کر رہا ہے مگر الیکشن کمشن خاموش تھا۔سراج الحق کے سنیٹر بننے کے بعد خالی ہونے والی صوبائی نشت پر جب ضمنی انتخابات ہوئے تو حلقے کی 53ہزار خواتین ووٹرز کو ووٹ ڈالنے کا حق نہیں دیا گیا۔پورے انتخابی حلقے میں ایک بھی خاتون ووٹرنے ووٹ نہیں ڈالا جس کا چیف الیکشن کمشنر نے نوٹس لیا اور الیکشن ہی کا لعدم قرار دیدیا۔
چیف الیکشن کمشنر کو خیبرپی کے میں بلدیاتی انتخابات کے دوران بھی خواتین کو ووٹ ڈالنے سے روک جانے کا نوٹس لینا چاہیے۔ وہ تمام یونین کونسلیں جہاں خواتین کو ووٹ ڈالنے سے روکا گیا ہے وہاں یا تو مکمل الیکشن دوبارہ کریا جائے یا پھر حلقے کا حتمی رزلٹ اس وقت جاری کیا جائے جب خواتین کے پولنگ سٹیشن آباد ہوجائیں ۔
رمضان المبارک کی آمد آمد ہے۔
دنیا بھر میں مذہبی تہواروں کی آمد پر دکاندار قیمتیں اتنی کم دیتے ہیں کہ اشیاء کے حصول کیلئے بڑے بڑے سٹوروں کے کھلنے سے پہلے ہی باہر قطاریں لگ جاتی ہیں ۔ بدقسمتی سے پاکستان میں ایسا نہیں ہے۔رمضان المبارک پورے سال میں سب سے متبرک مہینہ ہے۔ اس مہینے کے دوران ہر چیز سستی ہوجانی چاہیے مگر بدقسمتی سے پاکستان تاجروں کو نیکی سمیٹنے کی فکر لگ جاتی ہے۔
ہر وہ چیز جو اس ماہ میں زیادہ استعمال ہوتی ہے اسے ذخیرہ کر لیا جاتا ہے اور پھر منہ مانگی قیمت پر فروخت کرتے ہیں ۔دنیا بھر میں تیل کی قیمتیں گھٹنے پر پہلے تو حکومت چپ کرکے بیٹھی رہی مگر جب شور بڑھا تو پٹرول کے دام کم کرکے واہ واہ کے ڈونگرے بھی اپنے آپ پر برسائے گئے۔ حکومت نے 42 ڈالر بیرل کی قیمت پر تیل کی فروخت کے معاہدے کئے تھے۔ عالمی مارکیٹ میں پٹرول کی قیمت بڑھتے ہی حکومت نے تیل کی قیمت بڑھادی ہے۔
تیل کی قیمت میں ایک تو یہ اضافہ ہی بلا جواز ہے ۔ دوسرا یہ اضافہ ایک ایسے وقت پر کیا گیا جب رمضان کی آمد آمد ہے۔تاجر مافیااب کرائے کو جواز بنا کر ہر چیزمہنگی کردے گا۔ پھل،سبزیاں،دہی،روٹی،نان اور دودھ سمیت ہر شے مہنگی کر دی جائے گی۔خداجانے ہمارے حکمران کب حقیقی حکمران بنیں گے اور تاجر کب مسلمان جربنیں گے۔
پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری پاکستان واپس آگئے ہیں۔
اپنی ماں اور نانا کی برسی پر ملک اور پارٹی سے دور رہنے والے بلاول کو اپنے والد سے شکایت کس حد تک دور ہوئیں؟ یہ تو قت بتائے گا مگر بلاول کو اب پارٹی چیئر مین بن کر دکھانا ہوگا۔ انہیں خود فیصلے کرنا ہوں گے اور ان فیصلوں پر عملدرا آمد بھی کرانا ہوگا۔ ان کی والدہ نے پارٹی کی چیئر پر سن شپ اپنی والدہ سے جس طرح حاصل کی تھی بلاول بھٹو اس بارے میں اپنے کسی انکل سے بات کرلیں تو انہیں خاصی رہنمائی مل جائے گی۔
بلاول کو اب پارٹی کو بھٹواور جیالوں کی پارٹی بناتا ہے تو پارٹی پر اپنے والد کی طرف سے مسلط کئے گئے مسلم لیگیوں سے نجات دلانا ہوگی۔پیپلز پارٹی ایک منفرد وکلچر کی حامل جماعت ہے۔مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کا کلچر جدا جدا ہے۔پیپلز پارٹی کے جیالوں نے اپنی مسلم لیگی قیادت کو قبول نہیں کیا۔جو مقابلہ کرسکتا تھا وہ کررہا ہے جو نہیں کر سکا وہ گھر بیٹھ گیا ہے۔بلاول کو اپنی جماعت کو دوبارہ چاروں صوبوں اور عوام کی جماعت بنانا ہے۔کامیابی اس وقت ممکن ہوسکے گی۔فیصلے اب بلاول نے کرنے ہیں۔
تاریخ اشاعت: 2015-06-15

(0) ووٹ وصول ہوئے