بند کریں
منگل جنوری

مزید خصوصی مضامین

پچھلے مضامین -
امن و سیاسی استحکام کی صبح نو کا آغاز
سال 2015ء کا سورج پاکستانی قوم کے لئے خوشیوں، خوشحالی، امن اور سیاسی استحکام کی امیدیں لئے آج صبح طلوع ہو چکا ہے جبکہ سال گزشتہ 2014کا آخری سورج پچھلے سال کی تمام حکومتی کاوشوں اور اپوزیشن کی کارکردگی کو اپنے دامن میں سمیٹے غروب ہو چکا
فرخ سعید خواجہ:
سال 2015ء کا سورج پاکستانی قوم کے لئے خوشیوں، خوشحالی، امن اور سیاسی استحکام کی امیدیں لئے آج صبح طلوع ہو چکا ہے جبکہ سال گزشتہ 2014کا آخری سورج پچھلے سال کی تمام حکومتی کاوشوں اور اپوزیشن کی کارکردگی کو اپنے دامن میں سمیٹے غروب ہو چکا۔ قوم کو بجا طور پر امید ہے کہ دہشت گردی کا خاتمہ کرنے کے لئے جو قومی اتفاق رائے ہو چکا 2015ء میں اس کے ثمرات حاصل ہوں گے۔
جہاں تک پچھلے سال کا تعلق ہے سیاسی لحاظ سے خاصا ہنگامہ خیز تھا۔ 11مئی 2013ء کے عام انتخابات کے نتیجے میں بر سر اقتدار آنے والی مسلم لیگ ن کو مسلم لیگ فنکشنل، نیشنل پیپلز پارٹی، جمعیت علماء اسلام(ف) پشتون خواہ ملی عوامی پارٹی، نیشنل پارٹی بلوچستان کی حمایت حاصل ہے، سابق حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کا رویہ حکمرانوں کے ساتھ دوستانہ ہے، جہاں حکومت ان کے نزدیک غلط قدم اٹھاتی پیپلز پارٹی اس کا محاسبہ کرتی ہے۔
تاہم وہ کسی ایسی کارروائی کا حصہ بننے کے لئے تیار نہیں جس سے نواز شریف حکومت کو گزند پہنچے۔ یہ وہی رویہ ہے جو زرداری حکومت کے دور میں مسلم لیگ ن کا تھا جس پر انہیں اس وقت فرینڈلی اپوزیشن کا طعنہ بار بار سننا پڑا ۔ آج وہی صورتحال پیپلز پارٹی کی ہے ان کو اپنی پالیسی پر نہ صرف غیروں سے بلکہ اپنوں سے بھی شکوے شکایات سننا پڑ رہے ہیں۔ حتیٰ کہ پارٹی چیئر مین بلاول بھٹو زرداری اپنے والد آصف زرداری کی مفاہمانہ سیاست سے اختلاف کے باعث فی الوقت لندن میں قیام پذیر ہیں 18اکتوبر کو کراچی میں بلاول بھٹو کی جلسئہ عام میں جارحانہ تقریر نے پیپلز پارٹی کے لئے بالخصوص ان کی سندھ حکومت کے لئے جو مسائل پیدا کئے اس پر ان کے والد اور پارٹی کے شریک چیئر مین آصف علی زرداری نے انہیں ٹوکا۔
نوجوان خون جوش میں آگیا تاہم باپ بیٹے کا معاملہ وہی ہے جو مسلم لیگ ن میں دو بھائیوں نواز شریف، شہباز شریف کا ہے۔ دونوں بھائیوں کی سیاسی زندگی میں کئی مواقع پر کسی مسئلے پر اختلاف رائے ہوا مگر عام طور پر پذیرائی میاں نواز شریف کی رائے کو حاصل ہوئی۔ اس کا سبب یہ ہے کہ شہباز شریف نواز شریف کو بھائی ہی نہیں مسلم لیگ کا مسلمہ لیڈر بھی سمجھتے ہیں۔
رائے دینے کا حق استعمال کرتے ہیں اور لیڈر کے فیصلے کو قبول کرتے ہیں۔ ان دونوں بھائیوں کو لڑتا دیکھنے کے خواہش مندوں کے حصے میں ہمیشہ مایوسی ہی آئی ہے۔ آصف زرداری اور بلاول بھٹو زرداری کے درمیان بہت سے معاملات پر اختلاف رائے ہے جس کا آصف علی زرداری اپنی پارٹی میں سرگردہ افراد کے سامنے بارہا ذکر کر چکے ہیں۔ ماہ نومبر میں یوم تاسیس کے سلسلے میں آصف زرداری بلاول ہاؤس لاہور میں قیام پذیر رہے جبکہ بلاول بھٹو زرداری نے یہاں آنے سے اجتناب کیا۔
اس دوران دو اہم باتیں ہوئیں ایک یہ کہ پارٹ کہ اندر سے نواز شریف حکومت کو ٹف ٹائم دینے کا مطالبہ ہوا۔ آصف زرداری نے اس پر کہا کہ وہ نواز شریف یا ان کی حکومت کے ساتھ نہیں ہیں بلکہ سمجھتے ہیں کہ اس وقت نواز شریف حکومت الٹا نے میں مدد کرنا در اصل جمہوریت کو ختم کرنے کے عمل میں شریک ہونا ہے اس کا سب سے زیادہ نقصان خود ہم پیپلز پارٹی والوں کو ہو گا۔
اس پر بھی لوگ مطمئن نہ ہوئے تو جناب زرداری نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ آپ نئے عام انتخابات کے لئے تیار ہیں تو ہم میدان میں نکل آتے ہیں۔نئے عام انتخابات کا سننا تھا کہ مطالبہ کرنے والوں کو چپ لگ گئی۔ زرداری صاحب نے کہا کہ اپنی صفوں کو درست کرو اور پھر ہم میدان میں نکلیں گے۔ دوسرا واقعہ ان کی بلاول بھٹو زرداری کے ان دوستوں کے بارے میں ہدایت تھی جنہوں نے اودھوم چوکڑی مچا رکھی ہے۔
ان میں فخر عالم، شکیب احمد قریشی، نصیر ابڑو اسحاق بلوچ وغیرہ شامل تھے لیکن ان کے ساتھ ہشام ریاض شیخ بھی گیہوں کے ساتھ گھن کی طرح پس گئے۔ حالانکہ ہشام ریاض شیخ ان بھائی لوگوں جیسے کسی کام میں شامل یا ان کے شریک کار نہیں تھے۔ پیپلز پارٹی میں باپ بیٹے کے اختلافات بہر حال ایک ایسی حقیقت ہیں جسے دونوں باپ بیٹا خودتسلیم کرتے ہیں۔ شہید بے نظیر بھٹو کی برسی سے پہلے جناب زرداری لندن گئے اور صاحبزادے کو ساتھ لانا چاہا لیکن بلاول بھٹو نے فی الحال پاکستان کی سیاست سے دور رہنے کی ٹھان لی ہے لہٰذا وہ واپس نہیں آئے۔

ادھر مسلم لیگ ن کی حکومت نے سال گزشتہ میں عوام کو ریلیف دینے کا آغاز کر دیا ہے۔ پیٹرول اور بجلی کی قیمتوں میں کمی کی گئی جس کا سلسلہ نئے سال میں جاری رہنے کی توقع ہے۔ پچھلے ڈیڑھ برس میں حکومت نے جو منصوبے شروع کئے ان کے بھی ثمر آور ہونے کے دن قریب ہیں۔ مسلم لیگ ن کو گزرے سال میں پاکستان تحریک انصاف نے شدید مشکلات سے دو چار کئے رکھا تا ہم سانحہ پشاور کے بعد اب وہ اپنا دھرنا اٹھا چکے ہیں۔
جس کے بعد دونوں جماعتوں کے درمیان جاری مذاکرات میں ایک مرتبہ پھر پچھلا ساز بجانے کی باتیں ہو رہی ہیں۔ ہمیں دونوں جماعتوں کے قائدین سے توقع ہے کہ اپنے اپنے مئوقف میں مزید لچک پیدا کر کے نہ صرف پچھلے الیکشن میں دھاندلی کے الزام کی حقیقت قوم کے سامنے لانے کا بندوبست کر یں گی بلکہ آئندہ عام انتخابات کو شفاف ترین بنانے کے لئے انتخابی اصلاحات لانے میں بھی کامیابی حاصل کر لیں گی۔
ایسا ہونا خود ان دونوں جماعتوں سمیت ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کے لئے بہتر ہو گا۔
مسلم لیگ ن کے مخالفین میں مسلم لیگی دھڑوں کا چھان بورا بھی شامل ہے۔ مسلم لیگ ق کے چوہدری شجاعت حسین، چوہدری پرویز الٰہی مسلم لیگ ن اور نواز شریف ، شہباز شریف کے سیاسی مخالف تو ہیں ہی پیر صاحب پگاڑہ اور ان کی فنکشنل مسلم لیگ مرکزی حکومت میں ان کی حلیف ہونے کے باوجود دائیں بائیں دیکھ رہی ہے۔
پرویز مشرف کی آل پاکستان مسلم لیگ اگرچہ بحیثیت جماعت کوئی اہمیت نہیں رکھتی لیکن پرویز مشرف کی شخصیت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ مسلم لیگ ن سے ٹوٹے باپ بیٹا سردار ذوالفقار علی خان کھوسہ اور سردار دوست محمد خان کھوسہ بھی چوہدریوں کی طرح نواز شریف ، شہباز شریف کے ذاتی مخالف بن چکے ہیں۔ سردار ذوالفقار کھوسہ نے حال ہی میں کہا ہے کہ پرویز مشرف مارشل لاء لگانے کے اقدام پر قوم سے معافی مانگ لیں تو وہ انہیں مائنس مسلم لیگ ن متحدہ مسلم لیگ کے صدر کے طور پر قبول کر سکتے ہیں ہمارے نزدیک سردار ذوالفقار علی خان کھوسہ کی سیاست دم توڑ چکی ہے کیونکہ وہ اپنے ساتھ مسلم لیگ ن کے اہم لوگوں حتیٰ کہ یوتھ ونگ کے لیڈر میاں غلام حسین شاہد کو بھی نہیں چلا سکے جسے وہ اپنا دایاں بازو سمجھتے تھے میاں غلام حسین شاہد نے دو ٹوک انداز میں اعلان کر دیا ہے کہ نواز شریف ان کے قائد ہیں اور مسلم لیگ ن ان کی جماعت ہے وہ کسی باغی کا ساتھ نہیں دے سکتے۔
اس کے بعد سے سردار صاحب کی غلام حسین شاہد سے سلام دعا بھی نہیں رہی۔
ہاں البتہ قدیم مسلم لیگی سردار ظفر اللہ خان مرحوم کے صاحبزادے سردار نصر اللہ کی کونسل مسلم لیگ کے یکم جنوری کو انتخابات ہونے جا رہے ہیں جس میں چوہدری محمد حسین چٹھہ مرحوم کے صاحبزادے چوہدری نعیم حسین چٹھہ کو کونسل مسلم لیگ کا نیا صدر منتخب کیا جائے گا۔ سردار ذوالفقار علی کھوسہ اس دھڑے سمیت حامد ناصر چٹھہ کے مسلم لیگی دھڑے کو ساتھ ملانے کی طرف راغب ہو جائیں تو الگ بات ہے تا ہم ہماری رائے مین ان تمام مسلم لیگی دھڑوں کی مسلم لیگ ن کے مقابلے میں عوامی حیثیت سوالیہ نشان ہی رہے گی۔
تاریخ اشاعت: 2015-01-02

(0) ووٹ وصول ہوئے