بند کریں
بدھ جنوری

مزید خصوصی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
عمارت سازی کے قوانین
پاکستان میں ان کی اہمیت ردّی کاغذسے زیادہ نہیں
بدر:
پاکستان میں ہردوسرے دن کوئی نہ کوئی عمارت حادثے کاشکارہوجاتی ہے۔ کہیں معمولی بارش سے چھت گرجاتی ہے توکبھی آتشزدگی کے نتیجے میں محصور افراد جل کرکوئلہ بن جاتے ہیں۔ اکثر عمارتوں میں زلزلہ کی وجہ سے دراڑیں پڑچکی ہیں۔ مہذب دنیا میں ایسی صورت حال نظر نہیں آتی۔ اگر ہم تقابل کریں تو اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان میں بھی بلڈنگ کوڈاور بائی لازمود ہیں لیکن یہ بھی سچ ہے کہ اکثران قوانین کوردی کی ٹوکری میں پھینک دیاجاتاہے۔
سرکاری اہلکارچند پیسوں کے لالچ میں اپنا ایمان بیچ دیتے ہیں اور قوانین کے برعکس ہوں اور الالچ کی بنیاد پرایسی عمارتیں کھڑی کردی جاتی ہیں جو سینکڑوں افراد کی زندگیوں کوداؤ پرلگائے ہوئے ہیں۔
دنیا بھرمیں عمارتوں کی تعمیرات کے سلسلے میں سخت قوانین رائج ہیں۔ عمارت کی بنیادرکھنے سے قبل ہی جگہکی نوعیت اور نقشے سمیت متعدد اجازت ناموں کی ضرورت ہوتی ہے۔
کوئی بھی شخص محض کسی جگہ کامالک ہونے کی بنیاد پر وہاں اپنی مرضی سے عمارت تعمیر کروانے کااہل نہیں ہوتا۔ اسی طرح عمارتوں کی تعمیر کے بعد بھی اس کے معائنہ کاسلسلہ جاری رہتا ہے۔ کسی بھی لمحے سرکاری اہلکاروں کویہ محسوس ہوکہ عمارت کسی سانحہ کی وجہ بن سکتی ہے تو مالک کواسے ٹھیک کروانا پڑتا ہے وگرنہ عمارت سیل کردی جاتی ہے۔ اس سلسلے میں بھاری جرمانے بھی کیے جاتے ہیں۔
ترقی یافتہ ممالک میں تواپنی متعین مدت پوری کولینے والی عمارتوں کومکمل طور پر گراکردوبارہ تعمیرکیاجاتاہے۔ اسی طرح عمارتوں کے استعمال کی نوعیت کے حوالے سے بھی ترقی یافتہ ممالک انتہائی حساس نظر آتے ہیں۔ وہاں ماحولیاتی آلودگی، شور اور دیگر ناپسندیدہ صورت حال کے بارے میں بھی قوانین موجودہیں۔ ہرجگہ گھر، پلازے یافیکٹری تعمیرکرنیکی اجازت نہیں ہے۔
آسان الفاظ میں کہاجاسکتا ہے کہ ترقی یافتہ دنیا انڈسٹری اور رہائشی دنیا کوالگ الگ رکھے ہوئے ہے۔
ایک طرف ترقی یافتہ دنیا کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔ برج خلیفہ سمیت متعدد بلند وبالا عمارتوں کے حوالے سے بری خبریں سننے میں نہیں آتیں۔ دوسری جانب وطن عزیز کی صورت حال بھی ہمارے سامنے ہے جہاں سندرانڈسٹریل سٹیٹ کی دوغیر قانونی منزلوں کے گرنے کے سانحہ کی گرددبی نہیں تھی کہ ایک اور کارخانے میں آگ لگ گئی۔
پاکستان میں ایسے حادثات اب معمول کاحصہ بن چکے ہیں۔ لاہورشہر میں ہی اس قدرغیر قانونی اور خطرناک تجاوزات بن چکی ہیں کہ گنتی محال ہے۔ بعض رہائشی علاقوں کایہ حال ہے کہ لوگوں نے گلی کے اوپر بھی چھت بنا کرگھروں کوملالیاہے۔ شہروں کے گنجان آباد علاقوں میں اکثر گھروں میں رہائشی اور کارخانہ اکٹھا چل رہاہے۔ قوانین کے مطابق انڈسٹریل علاقہ رہائشی آبادی سے دور ہوتا ہے لیکن اب ایسا نہیں ہے۔

فیکٹری اور کارخانوں کی چمنی جہاں زہریلا دھواں اگلتی ہیں وہیں بچے گہری سانس لیتے ہیں۔ یہ صورت حال خطرناک بیماریوں کوجنم دیتی ہے۔ یہاں جونہریں کھیتوں کوسیراب کرنے کے لیے بنائی گئی تھیں اب انہی نہروں میں فیکٹریوں کا زہریلا کیمیکل پھینکا جاتاہے۔ سینکڑوں عمارتیں اس قدر بوسیدہ ہوچکی ہیں کہ کسی بھی وقت گرسکتی ہیں۔ اس کے باوجود یہ پوری طرح آباد ہیں۔
پاکستان میں عالمی معیار کے مطابق عمارات تعمیرنہیں کی جاتیں۔ پاکستان میں23فیصد عمارتیں بوسیدہ ہوچکی ہیں۔ راولپنڈی کے تیرہ منزلہ پونچھ ہاؤس میں بھی دراڑیں آچکی ہیں۔
اسی طرح قوانین بتاتے ہیں کہ بلدیاتی عمارتوں کے ساتھ ایمرجنسی راستہ تعمیر کرناضروری ہوتا ہے۔ یہ راستہ بظاہر عام استعمال میں نہیں آیالیکن اس کی تعمیراس انداز میں کی جاتی ہے کہ کسی بھی سانحہ کی صورت میں اس عمارت میں موجود افراد اس ایمرجنسی راتے کے ذریعے باہرنکل سکیں اور ریسکیو عملہ بھی اس راستے کی مدد سے اندرجاسکے۔
مثال کے طورپر عمارت میں آتشزدگی کی صورت میں لفٹ، سڑھیاں دھویں سے بھرجاتی ہیں اور اس راستے سے گزرنے والے راستے میں ہی دم گھٹنے سے مرجاتے ہیں۔ اس کے برعکس ایمرجنسی راستہ کھلا، ہوا داراور عمارت کی دیوار سے باہر بنایا جاتاہے تاکہ ایسی صورت میں وہ جان بچانے والوں کے لیے نقصان دوثابت نہ ہو۔ بدقسمتی سے پاکستان میں ایسے ایمرجنسی راستے کاتصور ہی نہیں ہے۔
ہمارے ہاں بلند عمارتوں میں صرف ایک ہی راستہ رکھاجاتا ہے جوکسی حادثے میں بندہوجائے تولگوں کے باہرنکلنے کی کوئی صورت نہیں بچتی۔ لاہور ایل ڈی اے کی عمارت میں آتشزدگی کے نتیجے میں محصور افراد کی کئی منزلہ عمارت سے کودنے اور زمین پرگرکرمرنے کا عمل براہ راست نشریات میں دیکھا جاچکاہے۔ ایسی ہی صورت حال کراچی اور دیگر علاقوں میں بھی پیش آچکی ہے۔
اندرون لاہور کا ڈھانچہ توایسا خطرناک ہے کہ آتشزدگی کی صورت میں فائربریگیڈ کی گاڑیاں جائے حادثہ تک ہی نہیں پہنچ پاتیں کیونکہ تنگ گلیوں اور غیر قانونی بالکونیوں نے تمام راستے بندکردئیے ہوئے ہیں۔تحقیق کے مطابق پاکستان کی اکثر سرکاری اور نجی عمارتیں اور پل اپنی مدت پوری کرچکی ہیں۔ اسکے باوجود ان عمارتوں میں زندگی اپنے پورے رنگوں کے ساتھ موجودہے اور ان پلوں پر سے بھاری ٹریفک گزررہی ہے۔
دیگر الفاظ میں رہائش ،دفاتر کاروبار اور راستوں سمیت ہرجگہ پاکستانی موت کے منہ میں بیٹھے ہوئے ہیں۔قوانین تو یہ بھی بتاتے ہیں کہ عمارت کی بلندی کے حساب سے اس کے سامنے اور پہلو میں جگہ چھوڑنی پڑتی ہے۔ اس جگہ پرکوئی تعمیرنہیں ہوسکتی۔ اس کامقصد روشنی اور ہوا کے ساتھ ساتھ حادثے کی صورت میں خالی جگہ کی موجودگی کویقینی بناناہے۔ دوسری جانب ہمارے ہاں ایسا نظر نہیں آتا۔
مارکیٹس میں پابندی کے باوجود تہہ خانے کھودنے کا کلچر عام ہے۔ غیرقانونی تجاوزات کی ملک بھرمیں بھرمارہے۔ نقشہ منظور کروانے کے باوجود من پسند تعمیرات توواضح کرتا ہے کہ سرکاری اہلکار کس قدر رشوت لیتے ہیں۔ بدقسمتی سے ان سب معاملات کوجن افراد نے دیکھنا ہے وہ اختیارات کافائدہ اٹھا کردولت بٹورنے میں مصروف ہیں۔
ضرورت اس امرکی ہے کہ ملک بھر میں موجود ایسی خطرناک عمارتوں کاسروے کیاجائے۔
انہیں یاتو عالمی معیار کے مطابق تعمیر کیاجائے یاپھر مدت پوری کرجانے والی عمارتوں کوگراکر دوبارہ تعمیرکیا جائے۔ دولت کی ہوس سنداسٹیٹ کے مالک کوقوانین روندکردوغیرمنزلیں تعمیرکرنے پر مجبور کردیتی ہے لیکن سچ یہ ہے کہ یہی ہوس اور فیصلے اسے بھی موت کے حوالے کرگئے ہیں۔ ارباب اقتدار کواس جانب بھی توجہ دینی ہوگی کہ اگرملک بھر میں عمارتوں کی یہی صورت حال ہے تواس کے ذمہ دارکون ہیں؟ کیاصرف ایسی عمارتوں کے مالکان مجرم ہیں یا پھر ان کے اقدامات پر آنکھیں بندکرکے جیب گرم رکھنے والے سرکاری اہلکار و افسران بھی ان جرائم میں برابر کے شریک ہیں۔
اس طرح سوال یہ بھی ہے کہ کیا ایسے افسران اور اہلکاروں پر فرائج ست غفلت کامقدمہ ہی چلنا چاہیے یاپھر یہ براہ راست معصوم لوگوں کے قتل اور اقدام قتل کے بھی ملزم ہیں۔
تاریخ اشاعت: 2015-11-26

(0) ووٹ وصول ہوئے