بند کریں
پیر جنوری

مزید خصوصی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
گلگت بلتستان کی عدالت سے 81برس قید کی سزا
الطاف حسین کے خلاف فائنل راؤنڈ شروع ہو گیا ؟۔۔۔۔اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستانی سیاست کے مقبول ترین مگر متنازعہ کرداروں میں الطاف حسین کا نام ایم کیو ایم کی تشکیل کے بعد سے ہمیشہ سرفہرست رہا ہے۔ ایک طرف اہل زبان کی اکثریت ہے، جن کی نگاہ میں الطاف حسین ہی ان کے نجات دہندہ ہیں
مصنف : ذبیح اللہ بلگن
پاکستان کے شمالی علاقے گلگت بلتستان میں انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت نے متحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ الطاف حسین کو مختلف مقدمات میں دو مرتبہ عمر قید سمیت مجموعی طور پر 81 سال قید کی سزا سنائی ہے۔الطاف حسین کو یہ سزا پاکستان کے سکیورٹی اداروں کے خلاف متنازع تقاریر کرنے پر سنائی گئی ہے۔واضح رہے کہ الطاف حسین کو سزا کے ساتھ ساتھ جائیداد ضبط کرنے کے علاوہ 24 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔
پاکستان کے سکیورٹی اداروں کے خلاف متنازع تقاریر پر الطاف حسین کے خلاف گلگت بلتستان کی عدالتوں میں نو مقدمات درج کروائے گئے تھے۔ ان تمام مقدمات پر انسداد دہشت گردی کے عدالت نے 21 ستمبر کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔خیال رہے کہ پاکستان کے سکیورٹی اداروں کے خلاف اشتعال انگیز تقاریر کرنے اور ہندوستان کی خفیہ ایجنسی را سے مدد مانگنے اور فوج پر تنقید کرنے پر متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین کے خلاف ملک میں سو سے زائد مقدمات درج ہیں اور لاہور ہائیکورٹ نے الطاف حسین کے براہ راست خطاب نشر کرنے پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔
ذیل میں ہم ایم کیو ایم اور اس کے قائد کے حوالے سے جائزہ لے رہے ہیں کہ ایم کیوایم اور اس کے قائد الطاف حسین اپنے ابتدائی دور سے لے کر گلگت بلتستان کی عدالت کے حالیہ فیصلے تک کن نشیب و فراز سے گزرے ہیں ۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستانی سیاست کے مقبول ترین مگر متنازعہ کرداروں میں الطاف حسین کا نام ایم کیو ایم کی تشکیل کے بعد سے ہمیشہ سرفہرست رہا ہے۔
ایک طرف اہل زبان کی اکثریت ہے، جن کی نگاہ میں الطاف حسین ہی ان کے نجات دہندہ ہیں اور دوسری طرف الزامات کی وہ طویل فہرست جو ہر دور میں اس جماعت پر عائد کئے جاتے رہے اور جن کی رو سے یہ جماعت ملک دشمن اور پڑوسی ملک کی حمایت یافتہ جماعت ہے۔ اب اگرچہ یہ الزامات دوہرانے اور نئے انکشافات کرنے والوں میں برطانوی خبر رساں ادارہ بی بی سی بھی شامل ہوچکا ہے، تاہم گلگت بلتستان کی عدالت کے حالیہ فیصلے سے قبل تک ملکی عدالتوں میں از روئے قانون یہ ثابت نہ ہوسکاتھا کہ آیا الطاف حسین واقعی وطن دشمن ہیں اور ان کی جماعت لسانیت کے نام پر ملک دشمن عناصر کے ہاتھ مضبوط کرنے میں ملوث رہی ہے یا نہیں۔
تاہم اب معلوم ہوتا ہے کہ صورتحال قدرے تبدیل ہورہی ہے کیونکہ ان الزامات کو دوہرانے والوں میں اب بین الاقوامی میڈیا بھی شامل ہوچکا ہے اور اس تنظیم کی سرگرمیوں کے بارے میں تحقیق کرنے والوں میں لندن کی سکاٹ لینڈ یارڈ پولیس بھی شامل ہے۔ ایسے میں یہ امید کی جاسکتی ہے کہ آنے والے وقت میں اصل حقیقت مزیدعیاں ہوجائے۔
”مہاجر کارڈ“ کھیلنے والی اس سیاسی جماعت پر لگایا جانے والا جو الزام ہر دور میں کسی نہ کسی انداز میں نمایاں ہوکے سامنے آتا رہا ہے، وہ اس کے پڑوسی ملک میں موجود پاکستان دشمن عناصر سے تعلقات ہیں۔
اس تعلق کی ایک بڑی وجہ جماعت کے رہنما، کارکنان اور ہمدردوں کا آبائی پس منظر ہے۔ متحدہ قومی مومنٹ کے سربراہ الطاف حسین نے اس دور میں ہوش سنبھالا تھا جب ملک میں لسانی تعصب کو ہوا ملنا شروع ہوئی تھی اور اسی تعصب کی کربناک مثال کی صورت میں ملنے والا سقوط ڈھاکہ کا زخم ابھی تازہ ہی تھا۔الطاف حسین تعلیمی اداروں میں مقبولیت کے جھنڈے گاڑنے والی طلباء تنظیم کو ”مہاجر قومی مومنٹ“ کے نام سے باقاعدہ ایک سیاسی جماعت کی شکل دینے میں کامیاب ہو گئے۔
اس دور میں کسی بھی شخص کا لسانی بنیادوں پر تنظیم قائم کرنا اچنبھے کی بات نہ تھی بلکہ سندھ کارڈ کھیلنے والے وزیراعظم کے ایوان اقتدار میں جا پہنچنے کے بعد سے ایسی تنظیموں کی تشکیل عام تھی اور پنجابی، پختون، گلگتی، بلوچ سمیت مختلف قومیتوں سے تعلق رکھنے والی طلباء تنظیمیں عام تھیں۔ کہنے کو تو اس جماعت کا نصب العین مہاجروں کی آواز ایوانوں تک پہنچانا اور ایک پاکستانی شہری کی حیثیت سے ان کے جائز حقوق ان کو دلوانا تھا تاہم اصل میں جس قسم کی مذموم کارروائیوں کو اس جماعت سے منسوب کیا گیا، انہیں دنیا میں رائج اخلاقیات کا کوئی بھی پیمانہ وطن دوست قرارنہیں دے سکتا۔
وطن دشمنی پر مبنی ان الزامات کی ایک طویل فہرست ہے جو اس جماعت سے منسوب کی جاتی ہے، اور اس کا ایک مختصر خاکہ پیش ہے۔
الطاف حسین کی اس تنظیم پر لگائے جانے والے الزامات کو دور کے اعتبار سے دو حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے ۔ پہلا دور وہ تھا جب نوے کی دہائی میں متحدہ قومی مومنٹ مہاجر قومی مومنٹ کے نام سے جانی جاتی تھی اور تنظیم میں پھوٹ پڑنے ، اس کیخلاف آپریشن کئے جانے اور گرفتاریوں کے ڈر سے بیرون ملک فرار مرکزی قیادت کے سبب یہ تنظیم بے یارومددگار اور کمزور پڑ گئی تھی جبکہ دوسرا دور نوے کی دہائی کے اختتام کا ہے جب ملک میں جمہوریت کی بساط لپیٹ دی گئی اور ایم کیو ایم فوجی حکمران کی حلیف جماعت بنی اور پھر الطاف حسین کی وفاداریاں ان کیلئے شکوک و شبہات میں اضافے کا باعث بنیں۔
اسی کی دہائی میں الطاف حسین ملک میں قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔ یہ رائے بھی عام موجود تھی کہ وہ جنرل ضیاء کی پیداوار ہیں تاہم اس تنظیم کی تمام تر قیادت کے متوسط طبقے سے تعلق رکھنے کے سبب انہیں متوسط طبقے کی خوب حمایت حاصل تھی اور یہ رائے موجود تھی کہ ملک میں حقیقی جمہوریت اسی تنظیم کے مرہون منت آسکتی ہے تاہم 1985میں ہونے والے غیر جماعتی بنیادوں پر انتخابات کے بعد صورتحال میں تبدیلی آنا شروع ہوگئی اور تنظیم کے نام کے ساتھ مار پٹائی، تشدد، غنڈہ گردی اور اغوا جیسے الزامات بھی جڑنے لگے۔
1986میں حیدرآباد میں تنظیم کے جلسے میں جاتے ہوئے کارکنوں کو کراچی میں سہراب گوٹھ کے مقام پر نشانہ بنایا گیا۔ الطاف حسین نے اگرچہ اس کارروائی کا ذمہ دار ایجنسیوں کو ٹھہرایا جن کا مقصد مہاجروں اور پختون برادری کو آپس میں لڑانا تھا تاہم دوسری جانب اس دور کے اخبارات کا جائزہ لیا جائے تو یہ امر عیاں ہوجاتا ہے کہ اس دور میں ملک میں یہ تاثر عام ہونے لگا تھا کہ یہ بدامنی کسی بیرونی قوت کے اشارے پر پھیلائی جارہی ہے اور ایم کیو ایم سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ایسا کررہی ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ کئے جانے والے ایک معاہدے کی وجہ سے پارٹی سربراہ الطاف حسین کیلئے بد دلی پیدا ہونے لگی اور کچھ ہی عرصے میں ایم کیو ایم حقیقی کے نام سے ایک اور دھڑا سامنے آگیا جس کی قیادت آفاق احمد نے کی۔ اپنے مقصد کے اتنا قریب پہنچ کے پیچھے ہٹ جانے سے ایم کیو ایم کی وفاداری پر بھی سوال اٹھنے لگے اور خود الطاف حسین کی سیاست بھی روز روشن کی طرح عیاں ہوگئی۔
پارٹی دو حصوں میں تقسیم ہونے کی وجہ سے اختیارات کے حصول کی جنگ چھڑ گئی الطاف حسین کراچی کا کنٹرول کسی دوسری جماعت کے پاس جاتا دیکھنا نہیں چاہتے تھے ، کم و بیش یہی سوچ آفاق احمد کی بھی تھی جو کہ باغی گروپ کے سربراہ تھے ۔یہی وجہ ہے کہ دونوں دھڑوں سے وابستہ اراکین کی بوری بند، تشدد زدہ اور مسخ شدہ لاشیں ملنا معمول ہوگیا۔ دہشت گردی کی اس آگ کو بھڑکانے کیلئے اسلحہ اور نقد کہاں سے آرہا تھا، اس بارے میں پاکستانی ایجنسیاں خاموش تھیں ۔
اس دور میں ہفت روزہ تکبیر، روزنامہ جسارت جیسے اخبارات نے متعدد ایسی رپورٹس جاری کیں، جن میں یہ انکشاف کیا گیا تھا کہ اس گینگ وار کو پڑوسی ملک بھارت کی پوری طرح مدد حاصل ہے۔دوسری جانب امن و امان نافذ کرنے والے اداروں سے وابستہ جوانوں پر حملے بھی اس دور میں بڑھے جن کے بارے میں الطاف حسین کا یہ دعویٰ رہا کہ انہیں دراصل ڈرگز مافیا نشانہ بناتا ہے۔
انہیں نشانہ بنانے والے کون تھے،یہ حقیقت ایم کیو ایم کے کارکنان کی گرفتاری کے بعد کھلنا شروع ہوگئی۔ ایم کیو ایم سے تعلق رکھنے والے مشہور زمانہ قاتل اجمل پہاڑی بھی اسی دور میں پہلی بار فوجیوں پر ایک حملے میں ملوث ہونے کے الزام میں گرفتار ہوا تھا۔ اگلے ہی برس پاک فوج میں تعینات میجر کلیم اغوا ہوگئے۔ انہیں اغوا کرنے والوں کا تعلق ایم کیو ایم سے ثابت ہوا اور تنظیم کے متعدد ارکان میجر کلیم اغواء و تشدد کیس میں گرفتار ہوئے۔
میجر کلیم پر کیا جانے والا بہیمانہ تشدد فوج کو غصہ دلانے کیلئے کافی تھا۔ اس اغوا نے ایم کیو ایم کیخلاف آپریشن کی راہیں آسان کیں اور آپریشن کا باقاعدہ آغاز ہوگیا۔ یہ آپریشن جس کا مقصد پورے سندھ سے جرائم پیشہ عناصر کا خاتمہ کرنا تھا، اس وقت میڈیا کی توجہ کا مرکز بن گیا جب جولائی1992میں فوج کی جانب سے یہ دعویٰ سامنے آیا کہ ایم کیو ایم کے دفتر سے انہیں جناح پور کے نقشے اور دیگر کاغذات ملے ہیں جن سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ایم کیو ایم کراچی کو محض سندھ سے الگ کرنے کی منصوبہ بندی نہیں کررہی تھی بلکہ وہ علیحدہ ملک بنانے کی تیاریاں کررہی تھی۔
آنے والے چند برس تک ایم کیو ایم کے بھارت سے تعلقات کے حوالے سے خبروں کی بازگشت تھمی رہی تاہم اس تنظیم کے دشمن ملک سے تعلقات کا معاملہ ایک بار پھر اس وقت زیر بحث آگیا جب متحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ الطاف حسین نے دورہ بھارت میں پاکستان کے قیام کو ایک غلطی قرار دے ڈالا۔ اس سلسلے میں الطاف حسین نے4نومبر2004کو بھارت کا رخ کیا تھا۔ اس دورے کا مقصد بھارتی جریدے ہندوستان ٹائمز کے زیر اہتمام ہونے والی ایک کانفرنس میں شرکت تھی۔
اپنے بیان میں الطاف حسین نے کہا تھا کہ ” تقسیم تاریخ کی سب سے بڑی غلطی تھی، اس تقسیم سے زمین تقسیم نہیں ہوئی تھی بلکہ خون کو تقسیم کیا گیا تھا“۔ یہ جوش خطابت تھا یا پھر ان کے دل کی آواز کہ الطاف حسین اس تقریر میں یہاں تک کہہ گئے تھے کہ بھارتی حکومت سے ان کی درخواست ہے کہ وہ پاکستان میں مقیم مہاجروں کو اپنے ہاں پناہ دیں۔ ” میں پوری بھارتی حکومت ، اسٹیبلشمنٹ، اپوزیشن سے اپیل کرتا ہوں کہ اگر آج کے بعد سٹیبلشمنٹ میں سے کوئی مہاجروں کو ہجرت کا طعنہ دے تو تو خدا کیلئے انہیں معاف کریں اور اپنے ہاں پناہ دیں“۔
اس بیان کے بعد ایم کیو ایم، بھارت گٹھ جوڑ ایک بار پھر میڈیا کا پسندیدہ ترین موضوع بن گیا اور ماضی کے گڑے مردے اکھیڑ لانے کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوگیا تاہم قابل ذکر امر یہ ہے کہ ایک پاکستانی شہری کی جانب سے اس بیان کے باوجود بھی حکومت پاکستان نے کسی قسم کا نوٹس لینا گوارا نہ کیا۔ اس نوٹس نہ لئے جانے کی وجہ الطاف حسین کیلئے جنرل صاحب کے دل میں موجود نرم گوشے کی موجودگی تھی، جس کا اندازہ اس امر سے بھی کیا جاسکتا ہے کہ بدنام زمانہ قانون این آر او کی بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے اور پاک صاف ہونے والوں میں ایم کیو ایم ہی سب سے آگے رہی، یہ علیحدہ امر ہے کہ میڈیا کے ذریعے یہ تاثر دیا گیا کہ این آر او محض محترمہ بینظیر بھٹو اور موجودہ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی وطن واپسی کی راہیں ہموار کرنے اور ان کیخلاف مقدمات ختم کرنے کیلئے ترتیب دیا گیا تھا۔
این آر او کے ذریعے ایم کیو ایم کے ساڑھے 3ہزار سے زائد قائیدین اور کارکنان کیخلاف درج مقدمات ختم ہوئے تھے۔
ڈاکٹر عمران فاروق قتل سے شروع ہونے والی تفتیش کا دائرہ کار اس وقت وسیع ہوگیا جب لندن پولیس کو ایم کیو ایم کے دفتر اور الطاف حسین کی رہائش گاہ سے5لاکھ پاؤنڈز کی خطیر رقم ملی۔ اس رقم کی موجودگی کے حوالے سے الطاف حسین مناسب جواب نہ دے سکے جس کے بعد ان کیخلاف منی لانڈرنگ کے الزامات میں بھی تحقیقات شروع ہوگئیں۔
یہ تحقیقی عمل ایم کیو ایم کیلئے اس وقت اور بھی مصیبت کا باعث بن گیا جب برطانوی حکام کو ایم کیو ایم کے زیر استعمال ایک عمارت سے ایسی فہرست ملی جس میں مارٹر گولوں اور بموں کا تذکرہ موجود تھا ، نیز ان کی قیمتیں بھی درج تھیں۔ یہ فہرست وہاں پر کیوں موجود تھی، اس بارے میں ایم کیو ایم کا کوئی بھی لیڈر تسلی بخش جواب نہیں دے سکا تھا۔ ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس اور منی لانڈرنگ کیسز ابھی ایم کیو ایم کیلئے حلق کی ہڈی بنے ہی ہوئے تھے کہ مارچ2011میں بدنام زمانہ ٹارگٹ کلر اجمل پہاڑی نئی کراچی سے گرفتار ہوگیا۔
دوران تفتیش اجمل پہاڑی نے 111قتل میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا۔ اس سلسلے میں اپنے اعترافی ویڈیو بیان میں اجمل پہاڑی نے یہ انکشاف بھی کیا کہ اسے بھارتی سیکیورٹی ایجنسی نے خصوصی تربیت دی تھی۔ اجمل پہاڑی کے مطابق تربیت دینے پر مامور عملہ پانچ بھارتی فوجی افسران پر مشتمل تھا۔ ان افراد نے اجمل پہاڑی کو بتایا تھا کہ متحدہ کے سربراہ الطاف حسین کراچی کو پاکستان سے الگ کرنا چاہتے ہیں۔
اکتوبر2013کو ملک کے تمام قومی و مقامی روزناموں نے ایک خبر شائع کی جس کے مطابق ایم کیو ایم کے لانڈھی دفتر سے بھارتی ساخت کا اسلحہ برآمد کیا گیا۔ حالیہ تاریخ میں یہ پہلا موقع تھا کہ جب کسی ملک دشمن سرگرمی میں ایم کیو ایم کا نام سرکاری سطح پر باقاعدہ نام لیا گیا۔ ایم کیو ایم کے پاس اس قدر وافر مقدار میں اسلحہ کیوں تھا، اس کا جواب تنظیم کے پاس نہیں ہے، البتہ اسی اسلحے کی ایک جھلک اس وقت دیکھنے کو ملی تھی جب سال رواں کے اوائل میں رینجرز نے متحدہ کے مرکز نائن زیرو پر چھاپہ مارا۔
رینجرز ترجمان کے مطابق یہاں سے غیر قانونی اسلحہ برآمد ہوا جس کی پاکستان درآمد پر پابندی عائد ہے اور خطرہ ہے کہ یہ اسلحہ نیٹو کنٹینرز سے چرایا گیا ہے۔ ایم کیو ایم نے یہ اسلحہ رینجرز کی ملکیت قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اسے رینجرز کے جوان اپنے ہمراہ کمبلوں میں چھپا کر لائے تھے۔
بیانات، انکشافات اور ایم کیو ایم کے بیرون ملک تعلقات کے حوالے سے خبروں کے ضمن میں سال رواں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
اس برس کے دوران ایک دو نہیں بلکہ متعدد شخصیات اور اداروں نے ایم کیو ایم کیخلاف ایک جیسے ہی دعوے کئے جن سے ان شکوک و شبہات کو تقویت ملتی ہے کہ ایم کیو ایم کے بھارت سے تعلقات کے معاملے میں کچھ نہ کچھ حقیقت ضرور ہے۔ اس ضمن میں 30اپریل 2015متحدہ کی سیاسی تاریخ میں ایک کڑے امتحان کے طور پر یاد رکھی جائے گی۔ اس روز کی سیاسی گہماگہمی کا آغاز ایس ایس پی ملیر راؤ انور کی پریس کانفرنس سے ہوا۔
اس روز ایس ایس پی ملیرنے ایک متنازعہ پریس کانفرنس سے خطاب کیا جس میں دعویٰ کیا کہ انہوں نے ایم کیو ایم کے دو ایسے کارکنوں کو گرفتار کیا ہے جنہوں نے را کے ہاتھوں تربیت لینے کا اعتراف کیا ہے۔ ایس ایس پی راؤ انور نے دو ملزمان طاہر ریحان عرف طاہر لمبا ولد محمد انور خان اور محمد جنید خان ولد نظیر خان کو پیش کیا اور کہا کہ دونوں کا تعلق متحدہ قومی موومنٹ سے ہے اور انہیں خفیہ اطلاع پر کراچی کے علاقے احسن آباد سے گرفتار کیا گیا ہے۔
طاہر کے ساتھ گرفتار ہونے والے جنید کے بارے میں معلوم ہوا کہ وہ جاوید لنگڑا کا بھائی ہے۔واضح رہے کہ ماضی میں ایم کیو ایم کے سرگرم کارکن اور 92کے آپریشن کے دوران پراصرار طور پر بھارت جا پہنچنے والے جاوید لنگڑا اب مقامی شہریت حاصل کرکے وہیں رہائش پذیر ہیں اور اب را کیلئے کام کرتے ہیں۔
راؤ انوار نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ لندن میں ایم کیو ایم کے رہنماء ندیم نصرت اور محمد انور ہی دراصل را کے نمائندوں سے رابطہ کرتے ہیں اور اپنے کارکنوں کی تربیت کیلئے رابطے کرتے ہیں جبکہ کراچی میں موجود حماد صدیقی اور فاروق شیخ کراچی میں موجود کارکنوں کے بھارت جانے کے تمام انتظامات کرتے ہیں۔
راؤ انوار کے مطابق بھارت میں تربیت پانے والے نیٹ ورک میں 70کے قریب افراد ہیں۔ اس سلسلے میں عموماً نوجوانوں کو کراچی سے بنکاک یا سنگاپور بھیجاجاتا ہے اور پھر وہاں سے لندن سیکریٹیریٹ رابطہ کرنے پر ان کا رابطہ ایک ایسے سہولت کار سے کروایا جاتا ہے جو ان کے بھارت پہنچانے کا بندوبست کرتا ہے۔ انہیں دہلی ایئرپورٹ کے ذریعے بھارت پہنچایا جاتا ہے جہاں جاوید لنگڑا ہی ان کا استقبال کرتے ہیں اور پھر ان کی تربیت کی جاتی ہے۔
ایم کیو ایم کیلئے راؤ انوار ہمیشہ سے ہی کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہیں رہے ہیں۔ 1994 کے آپریشن میں بھی راؤ انوار پیش پیش تھے تاہم اس پریس کانفرنس کے بعد انہیں فوری طور پر اپنے عہدے سے معطل کردیا گیا اور ان کیخلاف کارروائی کا آغاز ہوگیا ۔ایم کیو ایم نے راؤ انوار کے بیانات کو تو یہ کہہ کرمسترد کردیا کہ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ راؤ انوار جیسا چھوٹا آدمی کس کے کہنے پر بول رہا ہے تاہم اس سے ایک روز قبل سامنے آنے والے صولت مرزا کے بیانات کو مسترد کرنا خود ایم کیوایم کیلئے بھی مشکل تھا کیونکہ صولت مرزا کے ایم کیو ایم سے دیرینہ تعلقات میں کوئی ابہام باقی نہ رہا تھا۔
صولت مرزا کا یہ بیان اس جے آئی ٹی رپورٹ میں شامل تھا جو صولت مرزا کی جانب سے اپنی پھانسی سے محض ایک روز قبل دیئے گئے بیانات کے بعد ترتیب دی گئی تھی۔اس رپورٹ کے مطابق صولت مرزا سے جیل میں حیدرعباس رضوی نے ملاقات کی جس میں انہیں کہا گیا کہ مہاجر کاز کیلئے حتمی لڑائی کا وقت آگیا ہے، اس کیلئے جیل میں موجود کارکنوں کو تیار کرو اور جو رہا ہورے ہیں انہیں بھی تیار کرو۔
صولت مرزا کے مطابق حیدرعباس رضوی نے کہا کہ بھارت میں بی جے پی کی حکومت آنے والی ہے جو پاکستان میں آزاد مہاجر سٹیٹ کیلئے سپورٹ کرے گی۔ اسی روز رات گئے ایس ایس پی راؤ انوار کی پریس کانفرنس کے جواب میں ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے لندن سے ٹیلی فونک خطاب کیا۔ یہ خطاب ایک قائد کی اپنے کارکنوں سے کی گئی ایک سادہ سی بات چیت ہرگز نہ تھی بلکہ ملکی سیاست پر ایک ایٹم بم تھا جو الطاف حسین نے گرایا۔
اس خطاب میں انہوں نے کھلم کھلا خواہش ظاہر کی کہ اگر بھارتی دہشت گرد ایجنسی انکا ساتھ دے تو وہ کیا کچھ کرسکتے ہیں۔ اس تقریر میں انہوں نے را سے درخواست کی کہ وہ ان کے کارکنوں کو فوجی تربیت دے ، اس کے بعد دنیا کو معلوم ہوجائے گا کہ کس کا خون بہتا ہے۔ الطاف حسین نے کہا کہ ” ہمیں روزانہ را کا ایجنٹ بنا دیا جاتا ہے۔ہمیں گاندھی کی اولاد ہونے کے طعنے دیئے گئے۔
را والوں سے کہتا ہوں کہ ایک دفعہ ہمارا ساتھ تو دے دو، حقوق نہ ملے تو نہ ملک رہے گا اور نہ تمہاری چھڑیاں اور نہ تمہارے بلے“۔ انہوں نے اس موقع پر واضح الفاظ میں اپنے کارکنوں کو ہتھیار اٹھانے کا بھی پیغام دیا اور کہا کہ جو ہتھیار ڈالتے ہیں، وہی محب وطن کہلاتے ہیں اور پاکستان کے بانیوں کو غدار کہا جاتا ہے۔ کارکن آج سے جسمانی تربیت شروع کردیں۔
ملک کے امن کیلئے بہت برداشت کرلیا۔ صوبے بنانے پر ہمیں خون بہانے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔ دیکھیں گے دریائے سندھ پر کس کا خون بہتا ہے“ ۔
راؤ انوار کی پریس کانفرنس اگرچہ ان کے ماضی کے سبب متنازعہ ہوگئی تاہم ایم کیو ایم کے خلاف اٹھنے والی ایک اہم آواز برطانوی نشریاتی ادارے برٹش براڈ کاسٹنگ کارپوریشن (بی بی سی) کی ثابت ہوئی۔ بی بی سی کے آئن بینٹ جونز نے اگلے ہی ماہ کی 24 تاریخ کو ایک رپورٹ جاری کی جس میں دعویٰ کیا گیا کہ متحدہ قومی موومنٹ کو بھارت سے حاصل مالی معاونت کے باقاعدہ ثبوت برطانوی حکومت کے پاس موجود ہیں۔

ایم کیو ایم نے بی بی سی کی رپورٹ پر اپنے استدلال میں یہاں تک کہہ ڈالا کہ اس ادارے کی کوئی حیثیت نہیں اور اسکی رپورٹس پر آنکھیں بند کرکے اعتماد نہیں کیا جاسکتا کیونکہ ماضی میں بعض واقعات میں بی بی سی نے اپنی ہی رپورٹس کو واپس لیا اور معافی مانگی ہے تاہم ایم کیو ایم حکام کو اس وقت چپ سادھ لینے میں ہی عافیت محسوس ہوئی جب اس رپورٹ کے منظر عام پر آنے کے قریباً ایک ہفتے بعد ہی بھارتی روزنامہ اس دعوے کے ساتھ منظر عام پر آیا کہ اس نے وہ دستاویزات حاصل کی ہیں جو متحدہ قومی موومنٹ کی لیڈرشپ کی جانب سے سکاٹ لینڈ یارڈ کو جمع کروائی گئیں۔
ان دستاویزات کی مدد سے ایم کیو ایم اور بھارتی بدنام زمانہ خفیہ ایجنسی را کے درمیان تعلق نہایت واضح ہوجاتا ہے۔ انڈین ایکسپریس میں شائع ہونے والی اس رپورٹ کے مطابق لندن میں ایم کیو ایم کے رہنما طارق میر سے سکاٹ لینڈ یارڈ نے30مئی 2012کو ایک انٹرویو لیا تھا۔ اس انٹرویو میں انہوں نے اعتراف کیا تھا کہ خفیہ ایجنسی را ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین کے دست راست سمجھے جانے والے محمد انور کے ذریعے ایم کیو ایم کی مالی معاونت کرتی تھی۔
اس کیلئے را دبئی کے ایک بنک اور ایک ٹریڈنگ کمپنی کے ذریعے رقوم بھجواتی تھی اور محض تین برس کے اندر ایم کیو ایم کے اراکین نے اس ذریعے سے 15لاکھ ڈالر سے زائد کی رقم وصول کی۔ واضح رہے کہ جیسمین ویلی نامی یہ ٹریڈنگ کمپنی بھی دبئی میں قائم ان ان گنت کمپنیز میں سے ایک ہے جو سرمائے کی دنیا بھر میں غیر قانونی ٹرانسفر کی خدمات مہیا کرتی ہیں ۔
اس کمپنی کے مالکان کا تعلق بھارت سے ہے، جس کی وجہ سے یہ شبہہ بھی ظاہر کیا جاتا ہے کہ یہ کمپنی ممکنہ طور پر را کا ایک کور ہو اور را اس کے ذریعے دنیا بھر میں فنڈز مہیا کرتی ہے۔
ملک دشمن سرگرمیوں میں متحدہ کے ملوث ہونے کا جب بھی تذکرہ کیا جائے تو ہمیشہ پڑوسی ملک بھارت اوراس کی خفیہ ایجنسی را کا ہی نام سننے کو ملتا ہے تاہم بعض رپورٹس اس جانب بھی اشارہ کرتی ہیں کہ ایم کیو ایم کے بدنام زمانہ دہشت گرد تنظیم بلیک واٹر کے ساتھ بھی خفیہ تعلقات رہے ہیں۔
اس سلسلے میں 31دسمبر2009کو برطانوی جریدے ”دی لندن پوسٹ“ نے ایک ایکسکلوژو رپورٹ شائع کی تھی جس میں یہ انکشاف کیا گیا تھا کہ یوم عاشور پر کراچی میں ہونے والی قتل و غارت گری میں ایم کیو ایم کو بلیک واٹر کی معاونت حاصل تھی۔ جس وقت یہ رپورٹ منظر عام پر آئی، اس وقت ایم کیو ایم نے اس پر شدید برہمی کا اظہار کیا تاہم 2011میں جب ایم کیو ایم کے کارکن اجمل پہاڑی کو گرفتار کیا گیا تو اس نے مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی کے سامنے اعتراف کرتے ہوئے ایم کیو ایم کے اس واقعے میں ملوث ہونے کا انکشاف کیا۔
اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ایم کیو ایم کے بلیک واٹر سے بھی گہرے تعلقات ہیں کیونکہ یہ حملہ من و عن بلیک واٹر کے طریقہ واردات کے مطابق تھا ۔ اجمل پہاڑی کے مطابق انہیں وقوعے سے تین روز قبل ہونے والی میٹنگ میں یہ حکم ملا تھا کہ وہ ماتمی لباس زیب تن کریں اور ماتمی جلوس میں شامل ہوجائیں اور دھماکوں کے بعد لائٹ ہاؤس، بولٹن مارکیٹ کے اطراف میں دوکانوں کو آگ لگائیں اور قتل و غارت گری کریں۔
ایم کیو ایم اور امریکہ کے مابین دوستی بھی کسی بھی طور سے پاکستان کے مفاد میں مثبت قرار نہیں دی جاسکتی ہے۔ بعض رپورٹس کے مطابق سابق صدر جنرل پرویز مشرف کے دور میں ایک وقت ایسا بھی آیا تھا جب جنرل صاحب کی ہمدردیاں ایم کیو ایم کیلئے ختم ہوگئیں تھیں۔ دراصل یہ انٹیلی جنس رپورٹس تھیں، جن کی روشنی میں ایم کیو ایم کی ملک دشمن سرگرمیوں کے سبب جنرل مشرف پر ایم کیو ایم کے حمائت سے ہاتھ کھینچ لینے کیلئے دباؤ بے حد بڑھ گیا تھا۔
ایسے میں اس وقت کے امریکی سفارت خانے سے ایک اہم شخصیت نے جنرل مشرف سے ہنگامی بنیادوں پر ملاقات کی تھی اور انہیں ایم کیو ایم کیخلاف کوئی بھی کارروائی کرنے سے باز رکھا تھا۔ حالات و واقعات کے تجزئیے کی صلاحیت کے حامل قارئین کو یہ بھی یاد ہوگا کہ 11ستمبر کو امریکی ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر حملے کے بعد پاکستان میں واحد ایم کیو ایم ہی وہ جماعت تھی جو امریکہ پر حملے کیخلاف سراپا نوحہ کناں تھی، جبکہ دیگر جماعتوں کیلئے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہورہا تھا کہ وہ بے گناہ امریکیوں کی ہلاکت پر اظہار افسوس کریں یا افغان طالبان کی جرات پر ان کیلئے داد و تحسین کے ڈونگرے برسائیں۔

اس وقت پاکستان کی مختلف عدالتوں میں ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کے خلاف مقدمات زیر سماعت ہیں اور ان میں سے بعض مقدمات کے فیصلے بھی سنائے جاچکے ہیں ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس قدر واضح ثبوتوں کے باوجود ملک کی اعلیٰ عدالتیں ایم کیوایم اور اس کے قائد کے خلاف سنائے جانے والے فیصلوں کی توثیق کریں گی یاایک بار پھر عدم ثبوتوں کی بنیاد پر ایم کیو ایم کے قائد کو ریلیف دے دیا جائے گا؟۔
تاریخ اشاعت: 2015-10-14

(0) ووٹ وصول ہوئے

مصنف کا نام     :     ذبیح اللہ بلگن

ذبیح اللہ بلگن کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-