بند کریں
جمعہ فروری

مزید خصوصی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
علامہ اقبال اور تشکیل پاکستان
انسانی تاریخ یقیناً اس امر کی مثال پیش نہیں کر سکتی کہ ایک شاعر دنیا کی ایک عظیم مملکت کا فکری موسس ہو جسے اس کی رحلت کے بعد ایک مجسم حقیقت کا درجہ مل جائے
ڈاکٹر سید محمد اکرام
حکیم الامت شاعر مشرق علامہ محمد اقبال ہمارے قومی رہنما اور سب سے بڑھ کر اس وطن عزیز پاکستان کے فکری خالق ہیں۔ انسانی تاریخ یقیناً اس امر کی مثال پیش نہیں کر سکتی کہ ایک شاعر دنیا کی ایک عظیم مملکت کا فکری موسس ہو جسے اس کی رحلت کے بعد ایک مجسم حقیقت کا درجہ مل جائے۔ فکر اقبال کی اساس چوں کہ وحی الٰہی پر مبنی ہے اس لئے اس کی عظمتوں اور وسعتوں کی کوئی انتہا نہیں۔
فکر اقبال کا اگر ہم اپنی عملی زندگی میں مشاہدہ کریں تو شاید اس حوالے سے قائداعظم سے بڑھ کر کوئی شخص اقبال کو نہیں پہچان سکا اور ان کو خراج عقیدت پیش نہیں کر سکا۔ قائداعظم نے 1940ء میں قرارداد پاکستان کی منظوری کے فوراً بعد فرمایا کہ آج اقبال ہمارے درمیان موجود ہیں، اگر وہ ہوتے تو یہ دیکھ کر خوش ہوتے کہ ہم نے بالکل وہی کر دیا ہے جس کا انہوں نے ہم سے مطالبہ کیا تھا۔
قائداعظم نے علامہ اقبال کے بارے میں مزید فرمایا: اقبال دور حاضر میں اسلام کے بہترین شارح تھے کیوں کہ اس زمانے میں علامہ اقبال سے بہتر اسلام کو کسی نے نہیں سمجھا۔ مجھے اس امر کا فخر حاصل ہے کہ ان کی قیادت میں مجھے ایک سپاہی کی حیثیت سے کام کرنے کا موقع مل چکا ہے۔ میں نے ان سے زیادہ وفادار رفیق اور اسلام کا شیدائی نہیں دیکھا۔
اقبال عظیم مسلمان مفکر تھے۔
اسلامی جمہوریت کے عظیم علمبردار تھے۔ فرد اور معاشرہ کی آئینی آزادی کے مبلغ تھے۔ہ قرآنی نظام حیات کو نہ صرف مسلمانوں کے لئے بلکہ تمام عالم انسانی کے لئے نجات دہندہ تصور کرتے تھے۔ انہوں نے دنیا کے دو بڑے عصری نظاموں یعنی سرمایہ داری اور اشتراکیت کو واضح الفاظ میں انسانی معاشرے کے لئے مضر قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا اور فرمایا کہ یہ دونوں نظام افراط و تفریط کا شکار ہیں۔
راہ اعتدال صرف وہ ہے جو ہمارے لئے رسول پاک نے متعین فرمائی ہے اور عالم انسانی کی بقا صرف اسی و اختیار کرنے میں ہے تاکہ ایک جماعت دوسری جماعت پر غالب نہ آ جائے۔ انسانوں نے اپنے وضع کردہ نظامات ذاتی حرص اور گروہی ہوس سے خالی نہیں ہوتے چنانچہ اس کے نتیجے میں آج بڑی طاقتیں کمزور اقوام کا اسی طرح استحصال کر رہی ہیں جیسے وہ استعماری دور میں کرتی تھیں۔
موجودہ دور بھی ان کا استعماری دور ہی ہے وہ غریب قوموں کو مسائل میں الجھا دیتی ہیں پھر انہیں مالی امداد دے کر اپنا اقتصادی غلام بنا لیتی ہیں۔
علامہ اقبال کی تعلیمات کا دوسرا اہم پہلو عالم اسلام کا اتحاد ہے جس کے وہ زندگی بھر داعی اور مبلغ رہے۔ ترکیہ، افغانستان، ایران ، فلسطین ، کشمیر اور دیگر مسلمان ممالک کی طرف ان کی خصوصی توجہ رہی وہ مدینہ و نجف کی خاک کو اپنی آنکھوں کا سرمہ قرار دیتے تھے۔
حرم ان کی سجدہ گاہ تھی، ان کا دل حجاز سے تھا زبان شیراز سے تھی۔ تہران کو مشرق کا جنیوا دیکھنا چاہتے تھے۔ بخارا، کابل اور تبریز کو اپنی آنکھوں کی روشنی سمجھتے تھے کوفہ و بغداد اور دجلہ و فرات ان کے کلام میں اسلامی تاریخ کے واضح استعارات ہیں۔ انہیں تمام عالم اسلام سے غیر معمولی محبت تھی۔جنوبی ایشیاء کے مسلمانوں کے لئے ان کا دل سب سے زیادہ غمناک تھا کیوں کہ اگر باقی سب اسلامی ممالک ایک استعماری پنجے میں گرفتار تھے۔
تو برصغیر کے مسلمان دو شدید منتقم طاقتوں کی استبداد کا نشانہ بنے ہوئے تھے۔ اگر انگریزوں کے جانے سے ہندوستان آزاد بھی ہوتا تھا تو مسلمان ہندوٴں کے انتقام کا ہدف بنتے تھے ۔ لہذا بعض مسلمان ہندوستانی قومیت کو اپنے لئے راہ نجات تصور کرتے تھے۔ وہ ایک حقیر اقلیت بن کر زندہ رہنا اپنا مقدرسمجھتے تھے۔ یہ وقت مسلمانوں پر بہت ہی تشویشناک تھا۔
علامہ اقبال نے نہایت بصیرت سے ایک علیحدہ آزاد وطن کا تصور پیش کیا جو اس قدر صحیح اور جاندار تھا کہ تھوڑے ہی عرصے میں قائداعظم کی بے مثال قیادت میں ایک مجسم حقیقت بن گیا۔ یہ عظیم الشان کارنامہ اسلام کی مضبوط بنیاد پر ہوا۔
علامہ اقبال نے ملت اسلامیہ کی حفاظت اور سربلندی کے لئے اس امر کا بھی اظہار فرمایا کہ تمام مسلمان ممالک اپنی اپنی جگہ اپنے وسائل کے مطابق اپنے آپ کو مستحکم کریں اور پھر ایک بین الاقوامی مسلم اتحادی تنظیم بنائیں جو ان کے سیاسی اور اقتصادی مسائل حل کرے اور مسلمان اقوام کو مکہ معظمہ کی موجودگی میں جنیوا وغیرہ سے بے نیاز کر دے۔
اگر مسلمان ممالک اپنے وسائل کو مجتمع کر لیں تو مسلم ممالک کے اکثر و بیشتر اقتصادی مسائل حل ہو سکتے ہیں آج سیاسی مسائل کی اصل اقتصادی مسائل ہی ہیں جنہیں غریب اور کمزور قومیں از خود حل نہیں کر سکتیں۔ اس لحاظ سے عالم اسلام کا اتحاد ناگزیر ہے اور آج یہی ایک راستہ ہے جس سے مسلمان نہ صرف زندہ رہ سکتے ہیں بلکہ اقوام عالم کے سامنے سر اٹھا کر چل سکتے ہیں۔

سبق پھر پڑھ صداقت کا شجاعت کا عدالت کا
لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم مسلمان دل و جان سے مسلمان ہو جائیں اور صدق و صفا اور حق گوئی و بیباکی کو اپنا شیوہ و شعار بنائیں۔ ایک دوسرے کی مدد اور معاونت کریں۔ اسی عمل سے ہمارا معاشرہ صحیح اسلامی معاشرہ بن سکتا ہے۔ البتہ اس عمل کے لئے ہمیں اپنے آپ کو بدلنا ہو گا۔
انسان میں تبدیلی محض باہر سے نہیں آتی بلکہ اسکے ضمیر کے تبدیل ہونے سے تبدیلی آتی ہے۔ قرآن مجید کے حکم کے مطابق ”اللہ تعالیٰ کسی قوم کی حالت کو اتنی دیر تک نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت کو نہ بدلے،، یہ فطرت کا اصول ہے اور یہی زندگی کا درس ہے۔ مکتب اقبال سعی و عمل اور کوشش و کار کا درس دیتا ہے۔
عصر حاضر کے سیاسی ، اقتصادی اور نظریاتی چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لئے جو چیز سب سے زیادہ ضروری ہے وہ تعلیم ہے۔
اس میدان میں ہم بہت پسماندہ ہیں۔ ہمیں اس وقت ایک مجاہدانہ روح کے ساتھ فروغ تعلیم کے لئے کام کرنا چاہئے کیونکہ ترقی کا یہی ایک ذریعہ زینہ ہے۔ اقبال جو ایک عظیم عالم ہیں ان کی غیر معمولی آفاقی حیثیت بنیادی طور پر تعلیم ہی سے ہے۔ آج دنیا میں آبرو مندانہ زندگی بسر کرنے کے لئے عصری تقاضوں کے مطابق ہمیں سانئسی علوم اور جدید ٹیکنالوجی کی اشد ضرورت ہے۔
اقبال کے نزدیک یہ علوم و فنون اسلامی تہذیب ہی کے عطا کردہ ہیں اور اسی کا تسلسل ہیں۔
ہمیں اس حقیقت کو بھی مدنظر رکھنا ہے کہ پاکستان ایک نظریاتی مملکت ہے اس کا استحکام اس کے نظرئیے کے استحکام سے وابستہ ہے، کیوں کہ وطن عزیز کی اساس کسی مخصوص قومیت پر نہیں بلکہ خالصتاًاسلامی ہے۔ ہم مسلمان ہیں اور اسلام ہی ہماری قومیت ہے۔ یہی ہمارا تشخص اور یہی ہماری زندگی ہے۔
دین انسانیت ہونے کے ناطے سے اخوت، محبت، رواداری، باہمی احترام اور عدل واحسان اسلام کے وہ زریں اصول ہیں جو علاقائی نہیں بلکہ آفاقی ہیں۔ ”وللہ المشرق و المغرب“ کی رو سے ساری روئے زمین ہمارے لئے قابل احترام ہے ساری مخلوق خدا کا کنبہ ہے۔ ’لکم دینکم ولی دین“ تمام عالم انسانی کے ساتھ رواداری، محبت اور احترام کا حکم دیتا ہے ہمارے سرور و آقا نبی کریم جن کی تعلیمات سے اقبال کا کلام مزین ہے۔
رحمتہ اللعالمین ہیں سب جہانوں کے لئے رحمت ہیں انسان سازی کے لئے علامہ اقبال کی تعلیمات کا بنیادی نکتہ نبی کریم کی سیرت پاک کی پیروی ہے۔ اس اعتبار سے ہمارے تمام تعلیمی نظام میں لازمی طور پر سیرت طیبہ کو خاص اہمیت دی جانی چاہئے۔ یہی فرد اور معاشرے کی زندگی کا راستہ ہے اور یہی ہماری نجات کا ضامن ہے۔
کی محمد سے وفا سے تو ہم ترے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم ترے ہیں
پاکستان مملکت خداداد ہے جسے انشاء اللہ قیامت تک قائم ر ہنا ہے۔
خودی کا سر نہاں لاالہ الا اللہ
خودی ہے تیغ فساں لاالہ الا اللہ
یہ نغمہ فصل گل و لالہ کا نہیں پابند
بہار ہو کہ خزاں، لا الہ الا اللہ
تاریخ اشاعت: 2015-04-22

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان