بند کریں
ہفتہ فروری

مزید خصوصی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
علامہ اقبال اور احترام انسان
اقبال کے نزدیک انسان کائنات کی تخلیق کا عالی ترین مظہر ہے۔ اس کی تخلیق احسن تقویم پر ہوئی ہے وہ بظاہر ذرہ سا ہے لیکن سورج کی توانائیوں پر قابو حاصل کرلیتا ہے۔ وہ ایک قطرہ ہے جوانا البحر کا نعرہ لگاتا اور انا الحق بھی کہتا ہے
ڈاکٹر سید محمد اکرم
اقبال کے نزدیک انسان کائنات کی تخلیق کا عالی ترین مظہر ہے۔ اس کی تخلیق احسن تقویم پر ہوئی ہے وہ بظاہر ذرہ سا ہے لیکن سورج کی توانائیوں پر قابو حاصل کرلیتا ہے۔ وہ ایک قطرہ ہے جوانا البحر کا نعرہ لگاتا اور انا الحق بھی کہتا ہے۔ اس کے فکروعمل کی وسعتوں کا کوئی حساب نہیں اس کے ہنگامہ ہائے نوبہ نو کی کوئی انتہا نہیں۔
اقبال انسانی تہذیب کی روح و رواں اس با ت کو قرار دیتے ہیں کہ انسان کا احترام کیا جائے۔ انہوں نے کہا:
برتر از گردوں مقام آدم است
اصل تہذیب احترام آدم است
انہوں نے کہا:میں انسان کے شاندار اور درخشاں مستقبل پر پختہ یقین رکھتا ہوں اور میرا عقیدہ ہے کہ انسان نظام کائنات میں ایک مستقل عنصر کی حیثیت حاصل کرنے کی صلاحیتوں سے بہرہ ور ہے۔
یہ عقیدہ میرے خیالات وافکار میں آپ کو عموماً جاری و ساری نظر آئے گا۔ اس حوالے سے اقبال لکھتے ہیں:”قرآن مجید کا حقیقی مقصد تو یہ ہے کہ انسان اپنے اندر ان گو ناگوں روابط کا ایک اعلیٰ اور برتر شعور پیدا کرے جو اس کے اور کائنات کے درمیان قائم ہیں۔ قرآنی تعلیمات کا یہی وہ بنیادی پہلو ہے جس کے پیش نظر گوئٹے نے بہ اعتبار ایک تعلیمی قوت اسلام پر تبصرہ کرتے ہوئے ایکرمن سے کہا تھا کہ تم نے دیکھا اس تعلیم میں کوئی خامی نہیں۔
ہمارا کوئی نظام اور ہمیں پر کیا موقوف ہے کوئی انسان بھی اس سے آگے نہیں بڑھ سکتا“۔ اقبال کے نزدیک جو انسان کا احترام نہیں کرتا وہ انسان دوست نہیں ہے وہ خدا دوستی اور خدا پرستی کا دعویٰ نہیں کرسکتا۔ مخلوق سے محبت ہی خالق سے محبت ہے۔ اقبال جہاں انسان دوست قوتوں کا احترام کرتے ہیں وہاں انسان دشمن قوتوں کے رویوں کو بھی بے نقاب کرتے ہیں تاکہ آج پردہ تہذیب میں جو غارت گری اور آدم کشی کا عمل جاری ہے اسے روکا جاسکے۔
جس طرح مولانا رومی کے دور میں تاتاریوں نے انسان اور انسانیت کانام ونشاں مٹایا تھا اسی طرح اقبال کے دور میں مغربی استعمار نے قبائے انسانی کو چاک کیا اور کررہے ہیں بلکہ اب پہلے سے بھی بڑھ کر کررہے ہیں۔ یہی وہ سب سے بڑی وجہ ہے جس کے سبب اقبال مغربی تہذیب کے تباہ کن رویوں کے خلاف ہوگئے۔ ان کے کلام کا ایک عظیم حصہ لادین سیاست کی نفی اور بے رحم اور خودغرض ملوکیت کے خلاف بغاوت ہے۔
ان کی کتاب ”پیام مشرق“کا سرآغاز”وللہ المشرق والمغرب ہے“تاکہ مشرق ومغرب کے فاصلے اور اختلافات دور کئے جائیں اور تمام انسان بحیثیت انسان ایک دوسرے کا احترام کریں۔ علامہ کی ایک دوسر ی کتاب”ضرب کلیم“کا ذیلی عنوان ہے، اعلان جنگ دور حاضر کے خلاف اقبال نے مغرب کے استعماری عزائم اور اس کی لادین سیاست کے مقاصد جس طرح ستراسی سال پیشتر اس کتاب میں بیان کئے تھے وہ آج بھی اسی طرح واضح ہیں۔
اہل یورپ کی سب سے بڑی غلطی یہ تھی کہ انہوں نے مذہب وحکومت کو علیحدہ علیحدہ کر دیا۔ اس طرح ان کی تہذیب اخلاق سے محرم ہوگئی اور اس کا رخ دہریا نہ مادیت کی طرف پھر گیا۔ پہلی جنگ عظیم کے بعد لیگ آف نیشنز تشکیل پائی تو اقبال نے کہا اسلام نے جمعیت اقوام سے بڑھ کر جمعیت آدم کا پیغام دیا ہے۔اسلام امن وسلامتی کا مذہب ہے۔ اس کی تعلیمات کا خلاصہ محبت و مساوات کی بنیاد پر ایک آفاقی معاشرے کی تشکیل ہے تاکہ تمام بنی نوع انسان کا یکساں احترام کیا جائے۔
اسلام ناگزیر طور پر عالم انسانی کیلئے امن کا مذہب ہے۔ انسانیت کا مذہب کیونکہ اسلام اتحاد انسانی کا عظیم داعی ہے۔ ”اسلام نے بنی نوع انسان کے اتحاد کے ضمن میں جو پہلا قدم اٹھایا وہ ایک ہی نوع کے اخلاقی ضابطے رکھنے والوں کو اتحاد کی دعوت دینا ہے۔ قرآن کریم نے اعلان کیا کہ:اے اہل کتاب آؤ ہم اللہ تعالیٰ کی توحید پر متحد ہو جائیں جو ہم سب کے درمیان مشترک ہے۔
گذشتہ دو صدیوں سے مادی اقدار خصوصیت کیساتھ فروغ پذیر ہوئی ہیں۔ علوم وفنون کی ترقی سے حیرت انگیز انکشافات معرض ظہور میں آئے ہیں یہ عمل مغربی اقوام نے انجام دیا ہے۔ جس سے وہ بہت طاقت وربن گئیں۔ اس سے ان میں اپنی بالادستی اور برتری کا شدید احساس پیدا ہوا۔ انہوں نے جدید آلات کی مدد سے مشرقی اقوام پر سیاسی، ثقافتی غلبہ پا لیا۔ مذہب اور اس کی اعلیٰ اخلاقی اقدار کو مشکوک اور مبہم قرار دیا۔
اس طرح مشرق اور مغرب میں فاصلے بڑھتے گئے۔ یہاں تک کہ مشرق اور خصوصاً اسلامی مشرق مغربی اقوام کی چراگاہ بن گیا۔ اقبال نے کہا:
زیر گردوں آدم آدم را خورد
ملتے برملتے دیگر چرد
علامہ اقبال نے فرمایا:”اسلامی ریاست کا انحصار ایک اخلاقی نصب العین پرہے۔ پس اسلام ایک قدم ہے نوع انسانی کے اتحاد کی طرف۔ یہ ایک سوشل نظام ہے جو حریت اور مساوات کے ستونوں پر کھڑا ہے۔
اس وقت احترام انسانی کے لئے اسلام سب سے بڑی نعمت ہے۔“ مغرب میں گوئٹے نے نیشلزم کے خطرناک نتائج کی سخت تردید کی۔ اس کا دیوان شرقی وغربی وحدت انسانی کا بہترین آئینہ دار ہے۔ اس نے کہا میری خواہش یہ ہے کہ مشرق کو مغرب اور ایرانی کو جرمن کے نزدیک کردوں، مغربی ادیبوں سے کہا کہ دروازہ ادب کو اور کھل دو تاکہ ہماری مجلس میں سعدی اور حافظ بھی بیٹھ سکیں۔
اس نے اسلامی اقدار کو غیر معمولی انداز میں خراج تحسین پیش کیا اور اپنی نظم Stream(جوئے آب) میں دین اسلام کو انسان کیلئے ہر دور میں بہترین ضابطہ حیات قرار دیا۔
علامہ اقبال نے کہا:”نیشنلزم کا جو تجربہ یورپ میں ہوا اس کا نتیجہ بے دینی اور لامذہبی کے سوا کچھ نہیں نکلا۔۔۔رسول عربیﷺ کاوہ حکم موجود ہے جس میں فرمایا گیا تھا کہ آج میں نسل،ذات پات اور برادری کے تمام امتیازات کو پاؤں کے نیچے کچلتا ہوں۔
تم سب مسلمان ہو اور یہی تمہارا صحیح نام ہے۔“عالم انسانی کیلئے یہی راہ فلاح اور یہی سفینہ نجات ہے۔
علامہ اقبال نے اپنی وفات سے چند ماہ پیشتر سال نو کے پیغام میں جو یکم جنوری 1938ء کو ریڈیو لاہور سے نشر کیا گیا کہا:
”تمام دنیا کے ارباب فکردم بخودسوچ رہے ہیں کہ تہذیب کے اس عروج اور انسانی ترقی کے اس کمال کا انجام یہی ہونا تھا کہ انسان ایک دوسرے کی جان ومال کے دشمن بن کر کرہ ارض پر زندگی کا قیام ناممکن بنا دیں۔
دراصل انسان کی بقا کا رازانسانیت کے احترام میں ہے اور جب تک دنیا کی تمام علمی قوتیں اپنی توجہ کو احترام انسانیت پر مرکوز نہ کردیں یہ دنیا بدستور درندوں کی بستی بنی رہے گی۔ قومی وحدت بھی ہرگز قائم ودائم نہیں۔ وحدت صرف ایک ہی معتبر ہے اور وہ بنی نوع انسان کی وحدت ہے جو رنگ ونسل و زبان سے بالاتر ہے۔ جب تک اس نام نہاد جمہوریت، اس ناپاک قوم پرستی اور اس ذلیل ملوکیت کی لعنتوں کو مٹایا نہ جائے گا جب تک جغرافیائی وطن پرستی اور رنگ ونسل کے اعتبارات کو ختم نہ کیا جائے گا، اس وقت تک انسان اس دنیا میں فلاح وسعادت کی زندگی بسر نہ کرسکے گا اور اخوت وحریت اور مساوات کے شاندار الفاظ شرمندہ معنی نہ ہوں گے۔
خدا وند کریم حاکموں کو انسانیت اور نوع انسانی کی محبت عطا فرمائے۔“
تاریخ اشاعت: 2015-11-10

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان