بند کریں
ہفتہ فروری

مزید خصوصی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
7سال بعد قومی پریڈ کی پْر جوش تقریب
سات سال قبل سیکیورٹی کے پیش نظر یوم پاکستان کے سلسلے میں ان تقریبات کو بھی منسوخ کرنا پڑا۔ سابق دور حکومت میں آخری بار مسلح افواج کی پریڈ جناح سٹیڈیم میں محدود پیمانے پر ہوئی
نواز رضا:
پاکستان میں دہشت گردی کے عفریت نے جہاں عام پاکستانیوں کی زندگی کو تلپٹ کر دیا وہاں دہشت گردی سے لاحق خطرات کے پیش نظر قومی سطح پر ہونے والی تقریبات بھی متاثر ہوئے بغیر نہ ر ہیں۔ ہر سال یوم پاکستان پر مسلح افواج کی پریڈ منعقد ہوتی تھی لیکن سات سال قبل سیکیورٹی کے پیش نظر یوم پاکستان کے سلسلے میں ان تقریبات کو بھی منسوخ کرنا پڑا۔
سابق دور حکومت میں آخری بار مسلح افواج کی پریڈ جناح سٹیڈیم میں محدود پیمانے پر ہوئی، اس بار سات سال کے وقفے کے بعد شکر پڑیاں کے دامن میں یوم پاکستان پر شاندار تقریب کا نعقاد کیا گیا۔ قومی ایام پر مسلح افواج کی پریڈ دنیا بھر میں منعقد کئے جانے کی روایت پائی جاتی ہے ، جس کے ذریعے جہاں اس سے ملک قوم کی یکجہتی اور امنگوں کی عکاسی ہوتی ہے وہیں اس کی عسکری قوت کا بھی بھر پور اظہار ہوتا ہے۔
23مارچ 2015ء کو یوم پاکستان پر ملک بھر میں جوش و جذبے کے ساتھ تقریبات کا انعقاد اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کا عفریت بڑی حد تک کچل دیا گیا ہے۔ یوم پاکستان پر مسلح افواج کی پریڈ سے اس تاثر کو تقویت ملی ہے کہ پاکستان ایک” محفوظ ملک “ ہے۔ پوری دنیا کو یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ پاکستان نے ”ضرب عضب “ آپریشن میں دہشت گردوں کا سر کچل دیا ہے ، اور اس کام میں ملک کے عوام اور مسلح افواج شانہ بانہ کھڑے ہیں۔
شکر پڑیاں کے دامن میں ہونے والی مسلح افواج کی پریڈ کو آئندہ برسوں میں یاد گار حیثیت حاصل ر ہے گی۔پاکستان ایئر فورس کو ہمیشہ مسلح افواج کی پریڈ کی ”دلہن“ سمجھا جاتا ہے۔ اس کے جانباز ہوابازوں نے ملکی ساختہ لڑاکا طیاروں ایف۔ 17تھنڈر اور امریکی ساختہ لڑاکا طیاروں ایف-16-کو جس مہارت کے ساتھ اڑایا اس کو بنانے والے بھی دنگ رہ گئے ہیں۔
پاکستان کے شاہینوں نے ایف 16کو 500فٹ کی بلندی پر اڑا کر اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں پر شکر پڑیاں میں موجود ہزاروں شرکاء تقریب سے خوب داد وصول کی۔ یوم پاکستان کی پریڈ میں 60کلو میٹر سے لے کر ڈیڑھ ہزار کلو میٹر تک مار کرنے والے میزائلوں کی نمائش بھی کی گئی جس کے ذریعے دشمن کو یہ باور کرا دیا گیا ہے کہ پاکستان کی طرف کوئی طاقت میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتی۔
توقع ہے کہ وفاقی حکومت یوم پاکستان کی تقریبات کا انعقاد سلسلہ جاری اسی طرح رکھے گی جس سے جہاں پاکستانی قوم کا مورال بلند ہو گا وہاں پاکستان کی عسکری قوت کی بھی خوب دھاک بیٹھے گی۔
11مئی2013ء کے عام انتخابات کی” شفافیت “ کے خلاف اٹھنے والی پاکستان تحریک انصاف کی احتجاجی تحریک جوڈیشل کمیشن کے قیام پر منطقی انجام کو پہنچ گئی ہے پچھلے 6 ماہ سے زائدوفاقی حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان جاری مذاکرات کے نتیجہ میں جوڈیشل کمیشن کے قیام پر اتفاق رائے ہو گیا ہے وفاقی حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان جوڈیشل کمیشن کے قیام پر تو اتفاق رائے پایاجاتا تھا لیکن اس کے ’ٹرمزآف ریفرنس “ پر اختلاف رائے کی وجہ سے بات آگے بڑھ پا نہیں رہی تھی وفاقی حکومت ایسا جوڈیشل کمیشن قائم کروانا چاہتی تھی جس کا دائرہ اختیار ر عمران خان کے الزامات تک محدود ہو جب کہ تحریک انصاف” انتخابی بے ضابطگیوں“ کو” منظم دھندلی‘ ‘ کا حصہ قرار دے کر نواز شریف حکومت گرانا چاہتی ہے بالآخر پاکستان تحریک انصاف وفاقی حکومت کے تیار کردہ ”ٹرمزآف ریفرنس “ پر جوڈیشل کمیشن قائم کرنے پر آمادہ ہو گئی سردست وفاقی وزیر خزانہ و اقتصادی امور محمد اسحق ٰ ڈار اور پاکستان تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمد قریشی ،سیکریٹری جنرل جہانگر ترین اور اسد عمر کے ساتھ مذاکرات کے نتیجہ میں ”جوڈیشل کمیشن “ کے قیام پر اتفاق رائے ہوا ہے قومی اسمبلی کے 20ویں سیشن کے غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی ہونے کے فوراً بعد صدارتی ا?رڈیننس کا اجراء ہو جا ئے گا جوڈیشل کمیشن قائم ہو نے کا نوٹیفیکیشن جاری ہے کے بعد تحریک انصاف بھی نعرے لگاتی ہوئی اسمبلیوں میں لوٹ آئے گی وزیر اعظم محمد نواز شریف منگل کو تمام پارلیمانی جماعتوں کی قیادت کو جو ڈیشل کمیشن کے قیام پر اعتماد میں لیا ہے متحدہ قومی موومنٹ کے سو ا تما م پارلیمانی جماعتوں کے قائدین نے مبینہ ا نتخابی دھاندلی کی تحقیقات کے لئے جوڈیشل کمیشن کے قیام کی حمایت کر دی ہے ایم کیو ایم نے صدارتی ا?رڈیننس کے اجراء سے جو ڈیشل کمیشن کے قیام کو آئین سے متصادم قرار دیا ہے ، ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا ہے کہ جوڈیشل کمیشن آئین کے آرٹیکل 225 اور 189 سے متصادم ہے آئین پارلیمنٹ اور سیاسی جماعتوں کے تابع نہیں ہے بلکہ پارلیمان اور سیاسی جماعتیں آئین کے تابع ہیں۔
آئین کے آرٹیکل 225 کے مطابق الیکشن ٹربیونل کے علاوہ الیکشن کو اور کسی جگہ بھی چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔ پاکستان تحریک انصاف نے ”طوعاً کرئاً“ جوڈیشل کمیشن کے قیام کے لئے وفاقی حکومت کے تیار کردہ ”ٹرمز ا?ف ریفرنس “ کو قبول کر لیا ہے یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں پاکستان تحریک انصاف کی مبینہ انتخابی دھاندلیوں کے خلاف احتجاجی تحریک ” شکست “ کی ایک طویل داستان ہے14 اگست 2014ء سے 23مارچ 2015ء تک عمران خان کو مسلسل اپنے موقف میں پیچھے ہٹنا پڑا اس کی مدد کے لئے کوئی ”امپائر “ آیا اور نہ ہی اس کی انگلی اٹھی۔
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نواز شریف کے استعفے سے کم پر بات نہیں کرتے تھے پھر وہی عمران نہ صرف نواز شریف کے استعفے کے مطالبہ سے دست برداہو گئے بلکہ ان کی حکومت میں ہی اپنے الزامات کی تحقیقات کرنے پر آمادہ ہو گئے۔ حتیٰ کہ انہیں اپنے 126 روزہ دھرنے سے بھی کوئی خاطر خواہ ”سیاسی مقاصد حاصل “ نہیں ہو سکے بھلاہو” سیاسی جرگہ “کا جس نے عمران خان کو اپنے ”فیس سیونگ“ کا جواز فراہم کر دیا وفاقی حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان طویل ڈیڈلاک ختم کرانے میں ” سیاسی جرگہ نے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔
جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے دونوں جماعتوں کے درمیان ڈیڈ لاک ختم کر انے کیلئے سیاسی جرگہ کی 50سے زائد میٹنگز کیں بعض اوقات ایسا دکھائی دیتا تھا کہ سیاسی جرگہ کی تمام کوششیں لا حاصل ثابت ہو گیں لہٰذا دونوں جماعتوں کے درمیان جوڈیشل کمیشن کے قیام پر اتفاق رائے پیدا کرنے میں سیاسی جرگہ کے ارکان کا کلیدی کردار ہے۔ جوڈیشل کمیشن قائم پر اتفاق رائے پیدا کرنے لئے ” سیاسی جرگہ“ نے ایک ایسا فارمولہ وضع کیا جو بالاخرگذشتہ ہفتے وفاقی حکومت اور تحریک انصاف کو پیش کر دیا گیا جسے پہلے مرحلے میں مسلم لیگ (ن) کی اعلیٰ قیادت کی جانب سے قبولیت حاصل ہو گئی اس کے بعد تحریک انصاف نے بھی اس فارمولہ کی تائید کر دی۔
سیاسی جرگہ کے سربراہ سراج الحق بالخصوص اور بالعموم ر حمٰن ملک اپنے ساتھیوں سمیت مبارک باد کے مستحق تھے جن کی کوششیں رنگ لے آئی ہیں۔ انہوں نے عمران خان کی ”شکست“ کو فتح “(win،win ) کی پوزیشن میں تبدیل کرنے کی کوشش کی ہے۔
وفاقی حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان مبینہ دھاندلیوں کے خلاف تحقیقات کے لئے جوڈیشل کمیشن قائم کرنے پر اتفاق رائے پیدا ہونے کے بعد پاکستان تحریک انصاف کی کور کمیٹی کا اجلاس اسلام آباد میں ہوا جس میں بظاہر پاکستان تحریک انصاف نے اپنی اسمبلیوں میں واپسی کو جوڈیشل کمیشن کے نوٹیفیکیشن کے اجراء سے مشروط کر دیا ہے۔
جب کہ پاکستان تحریک انصاف کے ارکان جنہوں نے کم و بیش سات ماہ قبل اسمبلیوں سے استعفے دے دئیے تھے اسمبلیوں میں واپس دوڑے جانے کے لئے تیار کھڑے تھے اور ان استعفوں کے باوجود یہ ارکان اسمبلی مراعات بھی وصول کر رہے تھے۔ حکومت نے بھی مصلحتاً ان کے استعفوں کی منظوری کے مسئلے پر در گزر سے کام لئے رکھا۔ جس کی پاکستان کی پارلیمانی تاریخ میں نظیر نہیں ملتی کہ پا رلیمانی نظام کے استحکام کے لئے اس پر برداشت سے کام لیا گیا۔
پاکستان تحریک انصاف 11مئی2013ء کے انتخابات کی شفافیت پر تو سوال اٹھاتی ہے لیکن اس کی تنظیم سازی کیلئے اپنے ہاں ہونے والے انتخا با ت ہی دھاندلی کا شکار ہونے کی وجہ سے کالعدم قرار دے دئیے گئے ہیں۔ پارٹی کی تمام تنظیمیں توڑ دی گئی ہیں اور انٹرا پارٹی الیکشن از سر نو کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ دونوں جماعتوں کے درمیان جوڈیشل کمیشن کے ”ٹرمز آف ریفرنس“کے الفاظ پر اختلاف چلا آرہا تھا جو اب بظاہر دور ہو گیا ہے پاکستان تحریک انصاف اپنے مطالبات سے کئی قدم پیچھے ہٹی ہے اگر یہ کہا جائے تو مبالغہ آرائی نہ ہو گی کہ وفاقی حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان جوڈیشل کمیشن کے قیام اور اس کے اختیارات کے حوالے سے جو 4نکاتی معاہدہ طے پا ہے ہے اس میں پاکستان تحریک انصاف کو عملاً شکست ہوئی ہے جن نکات پر پر اتفاق رائے ہوا ہے ان کے مطابق جوڈیشل کمیشن تحقیقات کرکے اس بات کا تعین کرے گا کہ 2013ء کے انتخابات شفاف ، غیر جانبدارانہ ، ایماندارانہ ، منصفانہ اورقانون کے مطابق کرائے گئے یا نہیں ، آئین کی شق نمبر 3/218 کے تحت جوڈیشل کمیشن جائزہ لے گا کہ 2013ء کے انتخابات دھاندلی زدہ تھے یا منظم طریقے سے ان کے نتائج پر کوئی اثر انداز ہوا تھا ، 2013ء کے انتخابات کا نتیجہ عوامی مینڈیٹ کے مطابق تھا یا نہیں؟ ۔
جوڈیشل کمیشن 2013ء کے انتخابات کی انکوائری کیلئے جے آئی ٹی اور ایس آئی ٹی سے بھی مدد لے سکے گا۔ تحریک انصاف کو جوڈیشل کمیشن کے وہی ”ٹرمز آف ریفرنس“ قبول کرنا پڑے ہیں جن پر وفاقی حکومت پہلے دن سے قائم ہے اب جن” ٹرمز آف ریفرنس“ پر معاہدہ کو عمران خان جمہوریت کی” فتح قرار دے رہے ہیں ان پر الزامات ثابت کرنے کی ذمہ داری آگئی ہے عمران خان کے لئے نجم سیٹھی پر 35پنکچر لگانے اور سابق چیف جسٹس افتخارمحمد چوہدری اور جسٹس (ر) رمدے پر انتخابی دھاندلی کے الزامات عائد کرنا آسان ہے لیکن ان کو ثابت کرنا ان کے بس کی بات نہیں وزیر اعظم محمد نواز شریف نے جس طرح پہلے بھی عمران خان کو سیاسی میدان میں شکست دی ہے اب وہ جوڈیشل کمیشن کے قیام سے عام انتخابات میں منظم دھاندلی اور انتخابی نتائج پر اثر انداز نہ ہونے کا سرٹیفیکیٹ حاصل کر کے ایک بار ان کی الزامات پر مبنی سیاست کے غبارے سے ہوا نکا ل دیں گے اگر یہ کہا جائے کہ عمران خان ،نواز شریف کے تیار کردہ” ٹرمز آف ریفرنس“ پر جوڈیشل کمیشن قائم کرنے پر رضامندہو کر ایک بار پھر ان کے ”ٹریپ“ میں آگئے ہیں مبالغہ آرائی نہیں ہو گی البتہ اکا دکا ہونے والی” انتخابی بے ضابطگیوں “ کو منظم دھاندلی یا انتخابی نتائج تبدیل کرنے تعبیر نہیں کیا جاسکتا تحریک انصاف جس پارلیمنٹ کو جعلی ہونے کا طعنہ دیتی تھی اسی پارلیمنٹ کے ایوان بالا میں اپنے 6سینیٹر لا بٹھا ئے اور پھر ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کا انتخاب لڑنے کا شوق بھی پورا کر لیا جہاں سے سینیٹ کی کوئی نشست ملنے کی امید نہیں تھی وہاں سینیٹ کے انتخابات کا بائیکاٹ کر دیا اس پر طرفہ تماشا یہ کہ تحریک انصاف ایک طرف ضمنی انتخاب کا بائیکاٹ کرنے کا نعرہ لگا تی ہے دوسری طرف آزاد امیدوار کھڑے کرکے مسلم لیگ (ن) کا مقابلہ کرتی ہے اب تو اسی ”جعلی قومی اسمبلی“ میں کراچی سے نشست حاصل کرنے کے لئے اپنا امیدوار کھڑا کر دیا ہے وفاقی حکومت صدارتی آرڈننس کے اجراء کے جوڈیشل کمیشن کے قیام کا نوٹیفیکیشن جاری تو کردی لیکن جوڈیشل کمیشن کے قیام کی بیل بھی منڈھے چڑھتی نظر نہیں آتی کیونکہ جس روز کمشن قائم کرنے کا نوٹیفیکشن جاری ہو اگلے روز ہی اسے آئین سے” متصادم “ ہونے پر سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا جائے گا پھر جو ڈیشل کمیشن کے قیام کا فیصلہ سپریم کورٹ ہی کرے گی۔
تاریخ اشاعت: 2015-03-27

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان