بند کریں
جمعرات فروری

مزید خصوصی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
2سال بعد یوسف رضا گیلانی کا علی حیدرگیلانی سے ٹیلیفونک رابطہ
اس گرم ترین موسم میں یہ خبر، نا صرف سید یوسف رضا گیلانی اور ان کے اہل خاندان کے لیئے خوشگوار ہوا کا جھونکا ہے بلکہ اہل ملتان کے لیئے بھی یک گونہ اطمینان کا باعث ہے
شاہد راحیل خان
دو سال کے عر صے کے بعدبلآخر، سابق وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی کا اپنے بیٹے سید علی حیدرگیلانی سے ٹیلیفونک رابطہ ہو گیا اور ان کی فون پر آٹھ منٹ تک بات چیت ہوتی رہی۔ الیکٹرانک میڈیا کی خبروں کے مطابق پی ٹی آئی کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے بھی سید حیدر گیلانی سے فون پر بات کی ہے۔ سید یوسف رضا گیلانی کے مطابق ان کا بیٹا خیریت سے ہے اور حوصلے میں ہے۔
اس گرم ترین موسم میں یہ خبر، نا صرف سید یوسف رضا گیلانی اور ان کے اہل خاندان کے لیئے خوشگوار ہوا کا جھونکا ہے بلکہ اہل ملتان کے لیئے بھی یک گونہ اطمینان کا باعث ہے ۔ یاد رہے کی سید علی حیدر گیلانی کو،جو خود بھی صوبائی اسمبلی کی نششت کے امیدوار تھے۔ 2013 کی انتخابی مہم کے دوران اغوا کر لیا گیا تھا۔ اور اس وقت سیاسی گرما گرمی کی وجہ سے بعض سیاسی مخالفین نے اسے سیاسی ڈرامہ بھی قرار دیا تھا۔
مگرسید یوسف رضا گیلانی نے اپنے لخت جگر کی جدائی پر اپنے سیاسی مخالفین کی ایسی دل دکھانے والی باتیں اور تبصرے بھی بڑے حوصلے اور صبرسے برداشت کیئے رکھے تھے۔ دوسال تک حکومت پاکستان سید یوسف رضا گیلانی اور پنجاب کے سابق و مقتول گورنر سلمان تاثیر کے بیٹے شہباز تاثرکی باز یابی کے لیئے کوشش کرنے کے دعوے کرتی رہی، مگر کوئی نتیجہ نہ نکل سکا۔
حالانکہ یہ بات زبان زد عام تھی کہ سید حیدر گیلانی اور شہباز تاثیر دونوں ہی کے اغوا کنندگان کا تعلق افغانستان سے ہے اور دونوں مغوی افراد افغانستان میں ہیں۔اب حکومتی کوششوں سے مایوس ہو کر یوسف رضا گیلانی نے دو سال تک صبر و استقامت سے کام لینے کے بعد خود افغانستان میں اغوا کنندگان سے رابطے کا فیصلہ کیا اور گزشتہ دنوں خود افغانستان گئے اور اس طرح اغواکنندگان نے بلآخرٹیلیفون پر ان کی بات ان کے بیٹے سے کروا دی۔
اور ا?ٹھ منٹ تک ہونے والی اس ٹیلیفونک گفتگو میں شاہ محمود قریشی نے بھی شامل ہو کر سید یوسف رضا گیلانی کے دکھ اور خوشی میں شرکت کر کے ایک اچھی مثال قائم کی ہے۔
سیاسی مخالفتیں اور مفادات اپنی جگہ مگر صاحب اولاد ہونے کے ناطے ، ذرا دل پر ہاتھ رکھ کر سوچیں کہ دو سال تک جوان بیٹے کی جدائی کا دکھ سہنے والے باپ کا صرف آٹھ منٹ بیٹے سے بات کرتے ہوئے اور وہ بھی ٹیلیفون پر، صرف اپنے لخت جگر کی آواز سنتے ہوئے کیا حالت ہوئی ہو گی۔
اس کے باوجود سید یوسف رضا گیلانی الیکٹرانک میڈیا کی سکرین پر اپنے بیٹے کے بارے میں بتاتے ہوئے پر اعتماد نظر آئے۔اور ساتھ ہی یہ بھی بتایا کہ ان کا بیٹا نا صرف خیریت سے ہے بلکہ حوصلے میں ہے۔یہ تو ہے ایک باپ کی ہمت و کوشش جو اپنے جوان مغوی بیٹے کی باز یابی کے لیئے کوشاں بھی ہے اور پر امید بھی۔ مگر سوال ہمارے ان اداروں کے بارے میں اٹھتا ہے جن پر عوام کی جان ومال کے تحفظ کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔
دن دہیاڑے کسی عام آدمی کا نہیں ، ملک کا وزیر اعظم رہنے والے شخص کا بیٹا اغوا کر لیا جاتا ہے، ملک کے سب سے بڑے صوبے کا گورنر پہلے سر عام قتل کر دیا جاتا ہے اور پھر اس کا جوان بیٹا بھی اغوا کر لیا جاتا ہے، اور ہمارے لاء اینڈ آرڈر کے ذمہ دار ادارے منہ دیکھتے رہ جاتے ہیں۔ایسے سر عام ہونے والے لا قانونیت کے واقعات سے عام پاکستانی شہری کا احساس عدم تحفظ اور بڑھ جاتا ہے۔
مانا کہ یہ لا قانونیت ایک دن کی پیداوار نہیں ، مگر یہ بھی ماننا پڑے گا کہ اس لاء قانونیت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی سنجیدہ کوشش کسی دور میں ہوتی دکھائی نہیں دی۔لاء اینڈ آرڈر کا مکمل طور پر نفاذ کرنے کے ذمہ دار ادارے اکثر لا ء قانونیت کے واقعات رونما ء ہو جانے کے بعد حرکت میں آتے ہیں۔حکومتی سطح پر ناکامی کے بعد ،ملک کا وزیر اعظم رہنے والی شخصیت سید یوسف رضا گیلانی کو خود اپنے مغوی بیٹے کی بازیابی کے لیئے قدم اٹھانا پڑا۔
یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ دہشت گرد عناصر خواہ ان کا تعلق کسی بھی گروہ سے ہو ، ان کے سامنے ہمارے لاء اینڈ آرڈر کے ادرارے کتنے بے بس ہیں۔خیر۔ اس جملہ معترضہ کے ساتھ ہی، سید یوسف رضا گیلانی کومیری طرف سے دلی مبارک باد کہ ان کا صبر اور حوصلہ بلآخر کام آیا اور دو سال کے عرصہ طویل ،جس کا ایک ایک لمحہ سید یوسف رضا گیلانی اور ان کے اہل خانہ کے لیئے اذیت بن کر گزرا،کے بعدانہیں اپنے لخت جگر کی خیریت معلوم ہوئی۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ جلد از جلد سید حیدر گیلانی اور شہباز تاثیر کو اغوا کنندگان کے چنگل سے رہائی نصیب فرمائے۔آمین۔
تاریخ اشاعت: 2015-05-27

(0) ووٹ وصول ہوئے