بند کریں
پیر فروری

مزید سماجی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
وی آئی پی کلچر
عوام خود سبق سکھانے پر تُل گئے حال ہی میں قومی ائیرلائن کے مسافروں نے جس طرح سیاسی راہنماوٴں کی توجہ اس جانب دلائی اور احتجاج کیا وہ اس بات کا اعلان ہے کہ اب پاکستان میں وی آئی پی کلچر ختم ہونے کا آغاز ہوگیا ہے
مصنف : سید بدر سعید
وی آئی پی کلچر پاکستان کیلئے زہر قاتل ہے۔ترقی یافتہ ممالک اس سے چھٹکارہ پا چکے ہیں لیکن ہمارے ہاں ابھی تک ہی کلچر پورے قد سے کھڑا ہے۔ حال ہی میں قومی ائیرلائن کے مسافروں نے جس طرح سیاسی راہنماوٴں کی توجہ اس جانب دلائی اور احتجاج کیا وہ اس بات کا اعلان ہے کہ اب پاکستان میں وی آئی پی کلچر ختم ہونے کا آغاز ہوگیا ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ وی آئی پی کلچر نے پورے ملک کا نظام تباہ کر دیا ہے۔
ماضی میں اس کی متعدد مثالیں ملتی ہیں لیکن اس صدی کے آغاز سے ہی ہمیں جس وی آئی پی کلچر کا سامنا کرنا پڑا وہ اپنی مثال آپ ہے۔ محافظ گاڑیوں کے طویل قافلے بلٹ پروف گاڑیاں ہٹوبچو کے نعرے شہر بھر میں پولیس اہلکاروں کی خاص تعیناتی اور راستوں کو سیل کردنیا عام سی بات بن گئی ہے۔ یہ سلسلہ پرویز مشرف اور آصف علی زرادری کے دور میں ہوتا ہوا موجودہ حکومت کے دور میں بھی نمایاں نظر آیا۔
یہی وجہ تھی کہ صوبائی دارالحکومت میں جب برطانیہ پلٹ گورنرپنجاب نے خصوصی پروٹوکول کی بجائے سادگی کا مظاہرہ کیا اور گورنر ہاوٴس میں ادبی تقریبات کا سلسلہ شروع ہوا تو اس حیرت سے دیکھا گیا۔ یہ ایک مثبت تبدیلی تھی جس کی وجہ غالباََ گورنر پنجاب کی ”برطانوی“ عادات تھیں۔ گورنر پنجاب کے سوا لگ بھگ سبھی سیاست دانوں نے وی آئی پی کلچر کا دامن چھوڑنے سے انکار کر دیا۔
ہسپتالوں سرکاری دفاتر اور شاہراہوں پر ہمیں اکثریہ کلچر نظر آتا ہے۔ قومی ائیرلائن کواسی وجہ سے دنیا بھر میں شرمندگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے کہ اکثر کسی وی آئی پی کی وجہ سے پروازیں تاخیر کا شکار ہو اجاتی ہیں۔ پی آئی اے چونکہ سرکاری ادارہ ہے، اسلئے اس کے عملے کو خصوصاََ وی آئی پیز کے انتظار میں جہاز کو روکے رکھنا پڑتا تھا۔
وی آئی پیز کلچر کی وجہ سے اہم شخصیات قومی ائیر لائن کے طے شدہ شیڈول کے نظرانداز کرنے لگیں وہ اپنی مرضی سے ائیر پورٹ آتیں جہاں اُن کے انتظار میں طیارہ گھنٹوں کھڑا رہتا تھا۔
گزشتہ دنوں بھی ایسا ہی ہو الیکن اس بار عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا تھا۔ ہوا کچھ یوں کہ پہلے مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی رمیش کمار تاخیر سے آئے تو مسافروں نے اُن کے خلاف احتجاج کرنا شروع کر دیا اور اُنہیں جہازمیں سوار نہ ہونے دیا۔ اُن کے پیچھے پیچھے پیپلز پارٹی کے راہنما رحمٰن ملک بھی آ رہے تھے لیکن جیسے ہی صورت حال اُن کی سمجھ میں آئی اُنہیں بھی لوٹتے ہی بنی۔
قومی ائیرلائن کے مسافروں کی وجہ سے دونوں راہنماوٴں کو وی آئی پی کلچر اپنانے کی سزا بھگتنی پڑی اور سکی بھی اُٹھانی پڑی ۔ ان مناظر کی ویڈیو مسافروں نے موبائل فون کی مدد سے بنالی اور یوں یہ خبر نہ صرف میڈیا کا حصہ بن گئی بلکہ سوش میڈیا پر بھی پھیل گئی۔
وی آی پی کلچر کے خلاف عوام کا یوں اُٹھ کھڑا ہونا اس بات کی علامت ہے کہ عوامی شعور بیدار ہو رہا ہے۔
عوام اب طاقتور اور بااثر شخصیات کو اختیارات سے تجاوز کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ یہ واقعہ ہمارے ”وی آئی پیز“ کیلئے بھی ایک پیغام ہے کہ اُن کااحترام اپنی جگہ لیکن قانون سب کیلئے برابر ہے۔ لہٰذا آئندہ کسی ناخوشگوار حادثے سے بچنے کے لئے انہیں بھی قوانین کی پابندی کرنی ہوگی ۔ وی آی پی کلچر کے خلاف عوامی ردعمل سے جہاں بہت سے لوگوں کو خوشی ہوئی، وہیں بعض سنجیدہ حلقوں نے تشویش کابھی اظہار کیا ہے۔
اُن کا کہنا ہے کہ اگر یہ سلسلہ آگے بڑھا تو اداروں کے قوانین ، احترام ، انتظامیہ سے تعاون سبھی اصولوں کو اپنے ساتھ بہالے جائے گا۔ جس سے انار کی پھیلنے کا ڈر ہے۔ ڈاکٹر رمیش کمار نے بھی یہ سوال اٹھائے ہیں کہ اُنہیں سیٹ سے اٹھاکر باہر نکالا گیا اور اس دوران قومی ائیر لائن کے عملہ نے مجرمانہ خاموشی کا مظاہرہ کیا۔ اگر کوئی شخص قوانین کی پاسداری نہیں کر رہا تھا تو پھر اُسے سزا دینے کا اختیار ادارے کے ذمہ داران کے پاس تھا۔
اب گیند با اثر طبقے کی کورٹ میں ہے۔ اُنہیں فیصلہ کرنا ہے کہ اپنی ہٹ دھرمی سے ملک میں انار کی پھیلانے کا باعث بنیں گے یا پھر وی آئی پی کلچر سے تو بہ کریں گے۔
ایسا ہی ایک اور واقعہ بھی پیش آیا ، جب وزیراعظم کے اہل خانہ کے ہمراہ سفر کرنے والی ملازمہ کوا کانومی سے کلب کلاس میں بٹھانے کی کوشش کی گئی۔ یہ خبر میڈیا پر آئی تو ملازمہ کا اُس کی اصل سیٹ پر بھیج دیا گیا۔
اس کے ساتھ ساتھ پروٹوکول دینے والے افسر کو معطل کر دیا گیا۔ یہا ں بھی سوال اُٹھتا ہے کہ پروٹوکول لینے کا حکم دینے والے بااثر افراد کے خلاف کوئی کاروائی کیوں نہیں کی گئی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اداروں کو اندارونی طورپ اس قدر مضبوط کیا جائے کہ وہ کسی اعلیٰ شخصیت کیلئے قوانین توڑنے سے انکار کرنے کی جرات کرسکیں۔ اسی طرح بااثر طبقے کو بھی اس بات کا خیال رکھنا ہوگا کہ اُن کی عزت تبھی ہوگئی ،جب وہ قوانین کی پاسداری کریں گے ورنہ اب وی آئی پی کلچر کے ساتھ ساتھ ایک عوامی کلچر بھی چل نکلا ہے۔ جس میں عام شہری اپنے طور پر وی آئی پیز کو اصول و قوانین یاد کروانے پر اتر آتے ہیں۔
تاریخ اشاعت: 2014-09-30

(0) ووٹ وصول ہوئے

مصنف کا نام     :     سید بدر سعید

سید بدر سعید کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-

: متعلقہ عنوان