بند کریں
اتوار جنوری

مزید سماجی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
سیاسی پناہ حاصل کرنے والے
یہ اپنے وطن کی بدنامی کا سبب بنتے ہیں۔۔۔۔۔ اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق یورپی ممالک ڈنمارک ، فن لینڈ، آئس لینڈ، ناروے اور سویڈن میں پناہ حاصل کرنے والوں کی تعداد میں 38 فیصد اضافہ ہوا
تہمینہ رانا:
سیاسی پناہ حاصل کرنا اور تارکین وطن کہلانا کوئی آسان بات نہیں۔ کسی دوسرے ملک جا کر اُس کی شہریت حاصل کرنے کیلئے اپنے وطن کے خلاف پروپیگنڈا سمیت جان تک جو کھم میں ڈالنا پڑتی ہے تب جا کر دوسرے ملک کی شہریت ” یا قسمت یا نصیب“ کے تحت میسر آتی ہے تو ان قوانین و پابندیوں سے جان نہیں چھوٹتی جو گلے کو طوق بن کر آپ کا مقدر بنا دی جاتی ہیں۔
اُن لوگوں نے جو اچھے مستقبل کیلئے بیرون ملک سیاسی پناہ حاصل کرتے ہیں اُن لوگوں کیلئے بھی سیاسی پناہ کا حصول از حد مشکل وناممکن بنا دیا ہے جو واقعی حقدار ہیں اور جن کی مجبوری اور حقیقی مسائل اتنے ہیں کہ وہ اس سر زمین سے ہجرت کریں۔
” سیاسی پناہ“ کا لفظ ایسے افراد کیلئے بھی استعمال ہوتا تھا جن کو ڈر یا خوف لاحق ہوتا تھا کہ کوئی اُن کا پیچھا کر رہا ہے۔
مگر اب تو لوگ بہتر روزگار اور بچوں کی بیرون ملک تعلیم کیلئے بھی مغربی ممالک کا رُخ کرتے ہیں۔ بعض جرائم پیشہ افراد بھی پکڑے جانے کے ڈر سے سیاسی پنا ہ حاصل کرتے ہیں۔ پاکستان کی بات کریں تو ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو قومی و ملکی تشخص اور وقار کی اہانت کا سبب بنتے ہیں۔ اپنے اور اپنے خاندان کے بہتر معیار زندگی کیلئے جب وہ بیرون ملک سیٹل ہوتا چاہتے ہیں تو دوسرے سراسر جھوٹ اور منافقت کا سہارا لیتے ہیں کہ اپنے ملک پاکستان میں اُن کی جان کو خطرات لاحق ہیں، اسلئے اُنہیں کسی بھی شرط پر دوسرے ملک کی شہریت دی جائے۔
2010ء تا 2012 کے دوران پاکستان کی شہریت ترک کرنے والوں کی تعداد میں 111 فیصد اضافہ ہوااور تعداد 11000 سے بڑھ کر 23200 تک تجاوز کر گئی۔
اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق یورپی ممالک ڈنمارک ، فن لینڈ، آئس لینڈ، ناروے اور سویڈن میں پناہ حاصل کرنے والوں کی تعداد میں 38 فیصد اضافہ ہوا اور یوں 62900افراد نے ان پانچ ممالک کا رخ کیا جبکہ امریکہ پناہ دینے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے جہاں ہزارو ں افراد نے پناہ لینے کی خواہش کی جو گزشتہ برس کی نسبت 17 فیصد زائد تھی۔
2013 میں سیاسی پناہ کی درخواستوں میں 64 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ۔ سیاسی پناہ حاصل کرنے کیلئے زیادہ تر شام، صومالیہ، سربیا اور مقدونیہ سے لوگوں نے جرمنی کا رخ کیا۔ گزشتہ دنوں ملک بدری کا معاملہ مغربی میڈیا میں خاصا اہم رہا ۔ ہیومن رائٹس واچ نے سری لنکا سے مطالبہ کیا کہ پاکستان کی اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے افراد کا اُس وقت تک ملک بدر نہ کرے جب تک اقوام متحدہ اُن تک مکمل رسائی حاصل کر کے اُن کے تحفظ کے اقدامات نہیں کر لیتی۔
ان گرفتار شدگان میں اکثریت قادیانیوں کی تھی جبکہ کچھ اہل تشیع اور عیسائی بھی تھے ۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین یا یو این ایچ سی آر کو قیدیوں تک مکمل رسائی نہ دینے کا اندیشہ بھی ظاہر کیا گیا۔ اقوام متحدہ کے ریفیوجی ڈائریکٹر بل فر لیک کا کہنا تھاکہ سری لنکن انتظامیہ نے پاکستانی اقلیتی فرقے کے اراکین کو ملک بدر کرنے کی دھمکی اُس وقت دی جب پاکستان میں ایسے گروپس کی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے ۔
اُنہوں نے سیاسی پناہ دینے سے گریزاں سری لنکن حکو مت کی جانب سے اُن افراد کو واپس بھیج کر ممکنہ سزاووٴں سے بچانے کا کوئی بہترین راستہ نہیں نکالا ۔ بین الاقوامی قانون کے تحت حکومتیں ایسے پناہ گزینوں پر واپسی کیلئے دباوٴ نہیں ڈال سکتیں جنہیں وہاں تکالیف اُٹھانے کا خطرہ ہو۔ اس اصول کا اطلاق اُن افراد پر بھی ہوتا ہے جنہیں سیاسی پناہ دینے سے انکار کر دیا گیا ہو۔
سری لنکا کے مغربی ساحلی شہر نگومبو میں پاکستانی نژاد افراد کے خلاف کارروائی کا آغاز 9 جون کو سیکورٹی خدشات کے پیش نظر کیا گیا۔ اس شہر کو پاکستانی پناہ گزینوں کی جنت بھی کہا جاتا ہے۔ یہاں گزشتہ برس یو این ایچ سی آر نے تقریباََ پندرہ سو پاکستانیوں کی رجسٹریشن کی تھی۔ قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیئے جانے کے بعد سے ان کی طرف سے کسی نہ کسی بہانے سے ملکی وقار کو داو پر لگایا جاتا رہا ہے اور پاکستان کے خلاف سازیشن کی جاتی رہی ہیں۔
بین الااقوامی میڈیا کی سر پرستی سمیت اُنہیں اُن تمام عناصر کی پشت پناہی حاصل ہے جو پاکستان کے نام پر کسی بھی وقت کیچڑ اچھالنے سے گریز نہیں کرتے ۔ امریکی حقوق انسانی گروپ ہیومین رائٹس واچ نے بھی میڈیا کے ساتھ مل کر بھر پور انداز میں یہ تاثر دینے کی ناکام کوشش کی کہ خدانخواستہ پاکستان اقلیتوں کیلئے غیر محفوظ ملک ہے۔
دنیا کے ہر ملک میں حالات کے مطابق دہشت گردی کے واقعات رونما ہوتے ہیں ان کے ساتھ اگر پاکستان کا موازنہ کیا جائے تو یہاں موجود اقلیتوں کو جتنی مذہبی، معاشی، سماجی، معاشرتی، سیاسی دوسرے ملک میں نہیں کیا جا سکتا۔
کچھ شرپسند عناصر جب بدامنی پھیلانا چاہتے ہیں تو وہ دنیا کے کسی بھی ملک کسی بھی خطے میں گناوٴنے اور مذموم عزائم کے تحت اپنے مقاصد حاصل کر لیتے ہیں۔
تاریخ اشاعت: 2014-08-27

(0) ووٹ وصول ہوئے