بند کریں
جمعرات مارچ

مزید سماجی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
سیلاب متاثرین اور پولیس کا تشددانہ رویہ
نتظامیہ صرف پولیس کی مدد سے لوگوں پر تشدد کر کے ان سے گھر اور علاقہ خالی کراتی ہے۔ پولیس کے بے رحم تشدد سے تنگ آکر غریب لوگ ضروری سامان کو ساتھ لیکر اور باقی سامان جو انہوں نے بڑی مشکل اور محنت سے کمایا ہوتا ہے
ص۔ب:
سیلاب کی بدمست موجوں کو سینکڑوں جانیں ہڑپ کرنے ہزاروں مکانات زمین بوس ہزاروں ایکڑ رقبہ پر کھڑی فصلیں اور انفراسٹرکچر تباہ کرنے کے بعد ٹھنڈا پڑ گئی ہے۔ اس دوران سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں رہنے والے لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ایک طرف سیلاب کا پانی اور دوسری طرف پولیس کے تشددانہ رویہ نے سیلاب متاثرین کو شدید پریشانی میں مبتلا کئے رکھا۔
جس علاقہ میں سیلاب کے پانی کے داخل ہونے کی امید ہوتی انتظامیہ اس علاقے کو خالی کرنے کی وارننگ جاری کردیتی، غریب لوگوں کی ایک ایک جمع پونجی ان کی قیمتی اثاثہ ہوتی ہے وہ اس کو کیسے چھوڑ کر علاقہ خالی کرسکتے ہیں۔ انتظامیہ علاقہ خالی کرنے کا اعلان کر دیتی ہے اور پولیس رعب، دبدبہ اور لاٹھی چارج سے لوگوں کو علاقہ سے نکالنے لگ جاتی ہے، سیلاب کے ایام میں سب کو اپنی فکر پڑی ہوتی ہے۔
جن لوگوں کے پاس ٹرانسپورٹ ہوتی ہے وہ اپنا یا رشتہ داروں کا سامان محفوظ مقامات تک منتقل کرنے کی کوشش میں ہوتے ہیں اب وہ لوگ جن کے پاس سامان کو منتقل کرنے کا ذریعہ نہیں ہوتا اور انتظامیہ جسکی ذمہ داری ہے کہ عوام کی جان و مال کا خیال کرتے ہوئے ٹرانسپورٹ مہیا کرے اورلوگوں کو ان کے مال مویشی اور سامان سمیت محفوظ مقامات تک منتقل کرے وہ چپ سادہ کر بیٹھ جاتی ہے یا دریائی علاقے میں جاکر صرف فوٹو سیشن کر کے اعلیٰ حکام کو خوش کرتی ہے۔
انتظامیہ صرف پولیس کی مدد سے لوگوں پر تشدد کر کے ان سے گھر اور علاقہ خالی کراتی ہے۔ پولیس کے بے رحم تشدد سے تنگ آکر غریب اور سادہ لوگ ضروری سامان کو ساتھ لیکر اور باقی سامان جو انہوں نے بڑی مشکل اور محنت سے کمایا ہوتا ہے وہ پیچھے چھوڑکر محفوظ مقام کی طرف چلے جاتے ہیں۔ سیلاب زدہ علاقوں میں چوری ڈکیتی کی وارداتیں بڑھ جاتی ہیں۔ متعلقہ تھانے کے پاس وافر نفری موجود نہیں ہوتی کہ وہ لوگوں کا انخلاء بھی کرے اور چوری ڈکیتی کی وارداتیں بھی کنٹرول کرے۔
جو لوگ سامان گھر چھوڑ کر جاتے ہیں وہ چوری کرلیا جاتا ہے یا پھر پانی کی بے رحم موجوں کی نظر ہو جاتا ہے۔ مصیبت زدہ لوگوں کے ساتھ پولیس کا تشددانہ رویہ کہاں کا انصاف ہے؟ سیلاب زدہ علاقوں میں فوٹوسیشن کیلئے آنے والے وی آئی پی شخصیات کی سکیورٹی اور لوگوں کو ان سے دور رکھنا بھی پولیس کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ سیلاب سے متاثرہ لوگ اعلیٰ حکام تک پہنچ کر ان کیخلاف شکایات نہ کرسکیں اس لئے وہ لاٹھیوں کا بے دریغ استعمال کر کے مصیبت زدہ لوگوں کی خوب درگت بناتے ہیں اور ان کو دور دھکیل دیتے ہیں۔
امدادی سامان سیلاب متاثرہ لوگوں تک پہنچانا بھی پولیس کے ذریعے ممکن ہوتا ہے۔ پہلے تو کچھ سامان مقامی سیاستدان یا این جی اوز کے لوگ اپنے پاس رکھتے ہیں پھر کچھ پولیس تقسیم کرتے ہوئے اپنے لئے بطور نذرانہ رکھ لیتی ہے۔ بچہ کھچا مال سیلاب متاثرہ لوگوں تک پہنچانے کیلئے لوگوں کو گھنٹوں لائن میں کھڑا کیاجاتا ہے مگر یہاں بھی سفارشی لوگ جان نہیں چھوڑتے جس کی وجہ سے لوگوں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو جاتا ہے اور وہ سامان پر ٹوٹ پڑتے ہیں اور ایک بار پھر ان متاثرین کو پولیس کے شدید تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
بعض اوقات متاثرین کے غلط رویے ان میں اکثر بھکاریوں کی موجودگی کی وجہ سے بدانتظامی پیدا ہو جاتی ہے۔ اورپولیس کو مجبوراً تشدد کا نشانہ بنانا پڑتا ہے۔ انتظامیہ جن بندوں کو توڑنے یا کٹ لگانے کا فیصلہ کرتی ہے تو عملدآمد کرانے کیلئے پولیس کی مدد لی جاتی ہے۔ اس سے ممکنہ متاثر ہونے والے لوگ اس پر احتجاج کرتے ہیں تو ایک بار پھر پولیس کے تشدد کا نشانہ بنتے ہیں اور مقدمات کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ پولیس کو اپنی اتھارٹی کا جائز اور قانونی حق استعمال کرنا چاہیے اس سلسلے میں پولیس افسران اور کانسٹیبلان کیلئے تربیتی کورسز انتہائی ضروری ہیں۔اس طرح ہی پولیس پر لوگوں کا اعتماد بڑھ سکتا ہے اور پولیس معاشرے میں کھویا ہوا مقام بھی حاصل کر سکتی ہے۔
تاریخ اشاعت: 2014-10-01

(1) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان