بند کریں
اتوار فروری

مزید سماجی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
قیدیوں، حوالاتیوں کی اصلاح کے لیے اقدامات کی ضرورت
کبھی کبھار انتہائی سنگیں نوعیت کے جرائم میں ملوث شخص جیل جا کر سدھر جاتا ہے اوراپنی اصلاح کر لیتا ہے کبھی انتہائی شریف الففس انسان بھی کسی نا کردہ گناہ کی پاداش میں سلاخوں کے پیچھے چلا جائے تو واپسی پر اسے سوسائٹی قبول کرتی ہے نہ وہ متمدن معاشرے کا فرد بننا پسند کرتا ہے
شاہ نواز تارڑ:
کبھی کبھار انتہائی سنگیں نوعیت کے جرائم میں ملوث شخص جیل جا کر سدھر جاتا ہے اوراپنی اصلاح کر لیتا ہے کبھی انتہائی شریف الففس انسان بھی کسی نا کردہ گناہ کی پاداش میں سلاخوں کے پیچھے چلا جائے تو واپسی پر اسے سوسائٹی قبول کرتی ہے نہ وہ متمدن معاشرے کا فرد بننا پسند کرتا ہے۔
اشرف المخلوقات کی اس اخلاقی تباہی میں فرد سے معاشرے،تھانے سے کچہری، ایف آئی آر کے اندراج سے لیکر مجموعہ ضابط فوجداری، پنچایت کے فیصلوں سے مجموعہ ضابط دیوانی تک کسی کو بھی بری الذمہ قرار نہیں دیا جا سکتا جس طرح سنور نے والایہ کہتا ہے کہ:
اچھا ہوا راہ میں تھوکی لگی ہمیں ہم گر پڑے تو سارا زمانہ سنبھل گیا تو دوسری طرف بگڑنے والا بھی یہ کہنے میں حق بجانب ہے کہ:
میں اگر سوختہ ساماں ہوں تو یہ روز سیاہ
دکھایا ہے خود میرے گھر کے چراغوں نے مجھے
لیکن اگر افراد اور ادارے گرے ہووٴں، بگڑے ہووٴں کو نظر انداز نہ کریں تو حوالاتیوں ،قیدیوں کو بھی مفید شہری بنایا جا سکتا ہے جیسا کہ آج کل پنجاب بھر کی جیلوں میں فنی تعلیم کی گئی ہے لیکن اس حوالے سے (بالخصوص کمسن) قیدیوں، حوالاتیوں کی اصلاح کے لیے خصوصی اقدامات کی ضرورت ہے ذہنی ،اخلاقی تربیت اور علمی نشونما کے لیے علماء ار ماہرین نفسیات کے ساتھ خصوصی نشستیں کرائی جائیں تاکہ جیل کے ماٹو”نفرت جرم سے ہے، انسان سے نہیں“ کا عملی اظہار ہو۔
اس حوالے سے ڈی ائی جی جیل خانہ جات ملک مبشر احمد خان نے نوائے وقت کے ساتھ خصوصی گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ جیلوں میں قیدیوں ،حوالاتیوں کو فنی تعلیم دینے کے لیے محکمہ داخلہ پنجاب اور ٹیوٹا میں معاہدہ ہو چکا ہے جس کے تحت پنجاب کو 13 جیلوں میں ٹیکنیکل ایجوکیشن سنٹرز قائم کیے جائیں گے جن میں کوٹ لکھپت ، گوجرانوالہ، میانوالی ،ساہیوال ،ملتان کی سنٹر ل جیلں، فیصل آباد ، بہاولپور کی بورسٹل جیلیں۔
اڈیالہ جیل راولپنڈی، ڈسٹرکٹ جیل ڈیرہ غازی خاں، اور ویمن سیکشن ڈسٹرکٹ جیل فیصل آباد شامل ہیں۔ملک مبشر احمد خان نے قیدیوں ، حوالاتیوں کے کورسز پر تفصیل سے روشنی ڈالی کہ جیلوں میں ہوم اپلائنسز ریپئرنگ، الیکٹریشن ،کار پینٹرز، بیوٹیشن، ایمبرا ئیڈری، گھریلوسلائی، ویلڈر، پلمبرز، موٹر سائیکل مکینک، ٹریکٹر مکینک،کمپیوٹر اپیلیکیشنز، موٹر وائینڈنگ ، فیشن ڈیزائینگ، ہینڈایمبرائیڈری اور انڈسٹریل سٹیچنگ کورسز کرائے جائیں گے۔
ڈی آئی جی ملک مبشر احم خان کے مطابق معاہدے کے تحت فرنیچر، آلات اور سٹاف وغیرہ ٹیوٹا فراہم کرے گی جبکہ قیدیوں ، حوالاتیوں کے ڈیٹا اور دیگر انتظامات ہوم ڈیپارٹمنٹ کے ذمے ہوں گے انہوں نے کہا کہ ”نفرت جرم سے ہے انسان سے نہیں“ کی عبارت زنداں کے درویوار تک محدود نہیں بلکہ اس کو انسانی ذہنوں میں بھی راسخ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تاکہ جیلیں محض عقوبت خانے بن کر نہ رہ جائیں بلکہ ان کو مکمل طور پر درالاصلاح بنایا جائے۔ ملک مبشر احمد خان نے یہ بھی بتایا کہ جیلوں میں قیدیوں، حوالاتیوں کی تعلیم کے لیے مکمل اور جامع حکمت عملی طے کر لی گئی ہے جس کے تحت ایم اے پاس خواتین اور مرد قیدیوں ، حوالاتیوں کو تعینات کیاجائے گا اور ان کو ماہانہ تنخواہ دی جائے گی۔
تاریخ اشاعت: 2015-10-14

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان