بند کریں
پیر جنوری

مزید سماجی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
قبرستان یا جرائم کے اڈے
لوٹ کامال تقسیم کرنے کیلئے قبرستان کا انتخاب کیا جاتا ہے۔۔۔۔۔ٹوٹی قبریں گودام کا کام دیتی ہیں۔ ملک دشمن عناصر بھی قبرستانوں کو اپنے مذموم مقاصد کیلئے استعمال کرتے ہیں۔ اب تک ایسے متعدد واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں
مصنف : سید بدر سعید
شہر خموشاں انسان کی آخری آرام گاہ سمجھے جاتے ہیں۔ یہ مرنے والے لاکھوں افراد کو اپنے دامن میں سمیٹ لیتے ہیں۔یہاں ایک گھنٹے کے نومولود س لے کر سو سال سے زائد عمرپانے والے بزرگ تک سبھی دفن ہیں۔ ولیوں اور شہید وں کے مدفن بھی ہیں اور بیگنا ہوں کے قاتل اور جرائم پیشہ بھی ادھر ہی لا کر دفن کئے جاتے ہیں۔ ہمارے ہاں شہر خاموشاں کا اخترام پایا جا تا ہے ۔
یہاں سے گزرنے والے آپنے آخری مقام کو ذہن میں رکھتے ہیں اور اس بات کو ذہن میں پختہ کرتے ہیں کہ ایک روز ہمیں بھی ادھر ہی آناہے۔لوگ مذہبی تہوار کے موقع پر خصوصاََ اپنے پیاروں کی قبروں پر پھول چڑھانے اور فاتحہ خوانی کرنے آتے ہیں۔
قبرستان کے تمام تر تقدس اور ہیبت کے باوجود یہاں کچھ ا یسی کہانیاں بھی گردش کرتی ہیں۔ جو تشویش کا باعث ہیں۔
پاکستان میں موجود اکثر قبرستان وسیع رقبے پر پھیلے ہوئے ہیں۔ ان میں سے اکثر کی چار دیواری یا تو نا مکمل ہے یا پھر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے جبکہ بے ترتیب قبروں کی وجہ سے قبرستان میں کوئی باقاعدہ راستہ بھی نہیں ہوتا ۔لوگوں کے گزرنے کی وجہ سے ٹیڑھا میٹرھا کچا سا راستہ بن جاتا ہے جو نئی قبریں بننے کے بعد اپنارخ تبدیل کرتا رہتا ہے۔ اکثر قبرستانوں کی نگرانی یا حفاظت کا بھی خاص بندوبست نہیں ہے۔
یہی وجہ ہے کہ قبرستانوں میں جرائم پیشہ افراد اپنے ٹھکانے بنا لیتے ہیں۔قبرستانوں میں قبریں کھودینے اور قبرستان کی دیکھ بھال کیلئے گورگن موجود ہوتے ہیں لیکن اُن کی اکثریت وہیں بیٹھ کر بھنگ رگڑنے اور دیگر نشہ آور محلول تیار کرنے میں مصروف نظر آتی ہے۔کسی مزار کے احاطے میں تاش کی بازیاں لگتی ہیں اور جو اکھیلا جاتا ہے۔ ملنگوں کے نام پر چرس بھرسے سیگریٹ اوربھنگ کا نشہ عام ہے۔
”بوٹی “ پینا ملنگوں کی روایت سمجھا جاتا ہے انہی ملنگوں کے بھیس میں منشیاتکی خریدو فروخت ہوتی ہے اور منشیات فروش اپنے ڈیلروں کو نشہ آور اشیا فروخت کرتے ہیں جو شہر بھر میں پھیلا دی جاتی ہے ۔ یہاں صرف منشیات کا ہی کاروبار نہیں ہورہا بلکہ ہر طرح کی مجرمانہ سرگرمیاں جاری رہنے کی وجہ یہ ہے کہ دیگر مقامات کی نسبت یہاں قانون نافذ کرنے والے اداروں سے بچنے کے مواقع زیادہ ہیں۔

ٹوٹی قبریں گودام کا کام دیتی ہیں۔ ملک دشمن عناصر بھی قبرستانوں کو اپنے مذموم مقاصد کیلئے استعمال کرتے ہیں۔ اب تک ایسے متعدد واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں۔ چنیوٹ رجوعہ سادات کے نواح میں واقع قبرستان کے پاس بچے والی بال کھیل رہے تھے۔ اُن کی گیند قبرستان میں چلی گئی۔ وہ گیند اٹھانے گئے تو ایک درخت کی جڑ میں انہیں ہینڈ گرینڈ نظر آئے جسے اطلاع ملنے پر متعلقہ ادارے کے اہلکاروں نے ناکارہ بنادیا۔
کراچی میں اورنگی ٹاون کے علاقے میں مومن آباد کے قبرستان میں پولیس نے مشکوک افراد کی موجودگی کی اطلاع پر چھاپہ مارا اور سرچ آپریشن کیا تو ایک قبر سے تیں بوریاں برآمد ہوئیں جن میں رپیٹر ، نائن ایم ایم ،دستی بم اور بے انتہا بارودی مواد کے ساتھ ساتھ بم میں استعمال ہونے والی تاریں بھی موجود تھیں۔ کراچی ہی میں عیسیٰ نگری کے قریب قبرستان سے بھی خودکش جیکٹ برآمد ہوئی جسے ٹائم ڈیوائس سے جوڑا گیا تھا۔
بروقت اطلاع مل جانے پر سرکاری اہلکاروں نے اسے ناکارہ بنا دیا۔ ایک اور رپورٹ کے مطابق مینگورہ پولیس نے بھی دتکے کے قبرستان سے راکٹ لانچر گولہ برآمد کیا۔قبرستانو ں کو سکیورٹی کے نقطہ نظر سے انداز کرنے کی وجہ سے شدت پسند اور ملک دشمن عناصر یہاں اسلحہ کے کاروبار میں مصروف ہیں۔ یہیں اسلحہ کی بندربانٹ ہوتی ہے اور بڑے حملوں کیلئے بارودی مواد کی ترسیل ہوتی ہے۔
نجانے کتنی قبریں ملک دشمن عناصر کا ”اسلحہ ڈپو“ بن چکی ہیں اور کتنے مزارات کوبد بختوں نے جوئے کے اڈوں اور منشیات کی ہول سیل دکانوں میں تبدیل کر رکھا ہے۔
جرائم پیشہ افراد اور مختلف گینگ لوٹ کا مال تقسیم کرنے کیلئے بھی قبرستانوں کو ہی سبہتر جگہ سمجھا جاتا ہے ۔ یہاں نہ صرف لوٹ کا مال چھپایا جاتا ہے بلکہ برابر حصوں میں تقسیم کر کے ایک دوسرے کے حوالے بھی کیا جاتا ہے ۔
مخالف کو قتل کرنے کیلئے بھی قبرستان سے بہتر جگہ کوئی نہیں سمجھی جاتی ۔ یہاں مخالفین کولاکر اُن پر تشدد کیا جا تا ہے اور پھر قتل کر کے کسی پرانی قبر میں پھینک دیا جاتا ہے ۔جنوری 2014 میں ہی کراچی کے میواشاہ قبرستان کے قریب تیس سالہ نوجوان کی تشدد زدہ لاش ملی تھی۔ اس نوجوان کو بھی اغوا کرنے کے بعد تشدد کر کے ہلاک کیا گیا تھا۔ ایسے متعدد واقعات ریکارڈ پر آچکے ہیں۔
کفن چوری اور مردہ چوری کی وار داتیں تو میڈیا پر آتی ہی رہتی ہیں ۔ بھکر کے آدم خور انسانوں نے تو قبروں سے مردے نکال کر نہ صرف اپنی بھوک مٹائی بلکہ علاقائی ہوٹل میں بھی گوشت فروخت کرتے رہے۔ مردے چرا کر میڈیکل کے طالب علموں کو بھی بیچے جاتے ہیں۔ کفن چوری اور مردے چوری میں عموماََ گورکن ملوث ہوتے ہیں۔ یہ گورکن مردے اور کفن چوری کے بعد قبر کو پہلے کی طرح دوبارہ بند کر دیتے ہیں۔

ہر قسم کے جرائم پیشہ افراد نے قبرستانوں کو اپنی سرگرمیاں کا مرکز بنانا شروع کیا تو قبضہ مافیا کیسے ییچھے رہ سکتا تھا۔ قبرستانوں کی چار دیواری نہ ہونے کی وجہ سے قبضہ مافیا بھی سرگرم ہو گیا۔ اب صورتحال یہ ہے کہ ذمہ داران کی ملیا میٹ کر کے گھر دکانیں اور ڈیرے بنائے جا چکے ہیں جہاں لوگ مستقل رہائش اختیار کے ہوئے ہیں۔ قبرستان کی زمین پردکانیں بنا کر کرایہ پر دی جاتی ہیں اور ڈیرے بناکر وہاں جانور باندھے جاتے ہیں۔
یہ ڈیرے جرائم پیشہ اور اشتہاری مجرموں کے اُٹھنے بیٹھنے کے اڈے بن چکے ہیں۔ آہستہ آہستہ انہی ڈیروں کے ساتھ مزید زمین پر قبضہ کر کے امکان یا حویلی بنا لی جاتی ہے۔ لیکن انتظامیہ نے آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔
بات یہیں تک محدود نہیں بلکہ قبرستانوں میں مساجد کے نام پر کوٹھیاں بھی بنائی جا چکی ہیں۔ طریقہ ورادات یہ ہے کہ مکمل گھر بنایا جاتا ہے جس پر بہترین پتھراور ٹائلز کا استعمال کیا جاتا ہے۔
اس گھر کی تعمیر میں فنکاری یہ ہوتی ہے کہ نیچے ایک ہال بنایا جاتا ہے جسے مسجد یا مدرسہ کا نام دے کر اوپر مکمل گھر بناکر رہائش اختیار کر لی جاتی ہے ۔ کئی جگہوں پر تو قبرستان کے بیچوں بیج مسجد کے نام پر دو دو منزلہ رہائش گاہیں تعمیر کی جا چکی ہیں۔ ان کئی کئی مزلہ کوٹھیوں میں عموماََ جرائم پیشہ افراد اور اشتہاری ملزم ہی رہتے ہیں کیونکہ کسی عام فیملی ک یوں قبرستان کے وسط میں رہنا دل گردے کا کام ہے۔

لاہور میں میانی صاحب قبرستان کو تاریخی حیثیت حاصل ہے۔ اس وسیع قبرستان میں بھی اب پختہ تعمیرات اور گھر نما مساجد نظر آتی ہے۔
قبرستانوں میں پولیس کے چھاپوں کے دوران فرار ہونے اور چھپنے کے زیادہ مواقع ہوتے ہیں۔اول تو پولیس قبرستان کے اند رجاتی ہی نہیں اور خانہ پُری کیلئے ایک آدھ مزار کے اردگرد چھاپہ مار کر چند ملنگوں اور نشیوں کو گرفتار کر لیتی ہے۔
ان کے پیچھے آنے والا کوئی نہیں ہوتا لہٰذا اُن کو گرفتاری پر پولیس کی ”دیہاڑی“ نہیں لگتی۔ اسلئے عموماََ اگلے ہی دن اُنہیں گالیوں سے نواز کر چھوڑ دیا جاتا ہے۔ قبرستان میں مستقل ڈیرے لگانے والے جرائم پیشہ افراد خود کو ”قبروں کے کیڑے“ کہتے ہیں۔ اُن کا دعویٰ ہے کہ انہیں قبرستان سے گرفتار نہیں کیا جا سکتا کیونکہ ٹوٹی قبروں میں چھپنا ان کیلئے معمول کی بات ہے۔
یہ قبرستان سے اپنی ہتھیلی کی طرح واقف ہوتے ہیں ۔ ان کا یہ دعویٰ کسی حد تک درست ہے کیونکہ نہ تو انتظامیہ ان کے خلاف کارروائی کرتی ہے اور نہ ہی قبرستانوں میں ہونے والے غیرقانونی اقدامات کی روک تھام کیلئے ٹھوس اقدامات کئے جاتے ہیں۔
حکومت قبرستان کا تقدس بحال کرنے اور اُنہیں جرائم کے اڈے بننے سے روکنے میں کتنی سنجیدہ ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایاجا سکتا ہے کہ رواں مالی سال کے بجٹ میں قبرستانوں کی بحالی کی سکیموں کی مد میں دو ارب روپے مختص کئے گے تھے جن سے چار دیواری جنازگاہ کو پختہ کرنے ، لائٹنگ کے انتظامات اور نکاسی آب سمیت دیگر اہم انتظامات کرنے تھے۔
اس بجٹ میں ایک ارب یعنی نصف دیگر سکیموں پر خرچ کر دیاگیا اور باقی رقم کا بھی خاص استعمال نہ ہو سکا۔ اگر حکومت جرائم پیشہ سرگرمیوں کا خاتمہ چاہتی ہے تو اسے ہر صورت قبرستانوں پرتوجہ دینی ہوگی ۔ قبرستانوں کی موجودہ صورتحال یہ سوچنے پر مجبور کر رہی ہے کہ یہ قبرستان وفات پانے والوں کی آخری آرام گاہ ہیں یا مجرموں کی پہلی پناہ گاہ ہیں؟؟؟؟؟
تاریخ اشاعت: 2014-12-02

(3) ووٹ وصول ہوئے

مصنف کا نام     :     سید بدر سعید

سید بدر سعید کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-