بند کریں
جمعرات جنوری

مزید سماجی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
پرائیویٹ سکولز ترمیمی آرڈیننس 2015 ء
حکومت پنجاب نے پرائیویٹ سکولوں کی فیس کے بارے میں آرڈیننس جاری کر دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ کسی پرائیویٹ سکول نے فیس بڑھائی یا وصول شدہ بڑھی ہوئی فیس واپس نہ کی تو روزانہ 20ہزار جرمانہ ہو گا اور جرمانے کی یہ رقم40لاکھ روپے تک جا سکتی ہے
مرزا کاشف علی:
حکومت پنجاب نے پرائیویٹ سکولوں کی فیس کے بارے میں آرڈیننس جاری کر دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ کسی پرائیویٹ سکول نے فیس بڑھائی یا وصول شدہ بڑھی ہوئی فیس واپس نہ کی تو روزانہ 20ہزار جرمانہ ہو گا اور جرمانے کی یہ رقم40لاکھ روپے تک جا سکتی ہے تیس دن سے زیادہ قانون کی خلا ف ورزی پر مجسٹریٹ ادارے کو 2لاکھ سے 20لاکھ روپے تک جرمانہ کر سکتا ہے۔
رجسٹریشن کے بغیر سکول چلانے پر مالک کو 3لاکھ سے 40لاکھ روپے تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔گورنر پنجاب رفیق رجوانہ نے نجی تعلیمی اداروں کی فیسوں کے حوالے سے پرائیویٹ ایجوکیشنل انسٹی ٹیو شن پروموشن اینڈ ریگولیشن ترمیمی آرڈیننس 2015میں نجی تعلیمی اداروں کو محض بھاری جرمانے ادا کرنے کی حد تک ہی زور دیا ہے اور بظاہر نظر آرہا ہے کہ ایسا محض حکومت پنجاب کے خالی خزانوں کو بھرنے کا پلان ہے۔
یہی وجہ ہے کہ آرڈیننس میں محض سکولز ہی کو نہیں بلکہ ایجوکیشن انسٹی ٹیو شنز کا لفظ استعمال کر کے اس کا دائرہ کار ہر طرح کے نجی اکیڈمیز، کالجز و یونیورسٹیز سمیت تمام قسم دیگر پرائیویٹ تعلیمی اداروں تک پھیلادیا ہے۔آل پاکستا ن پرائیویٹ سکولز فیڈریشن نے آرڈیننس اور کریک ڈاؤن فیصلہ کو آئین و قانون سے متصادم قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔
پنجاب حکومت نے پرائیویٹ سکولوں کی فیس کے معاملے پر آرڈیننس جاری کر تے ہوئے کریک ڈاؤن کا جو فیصلہ کیا ہے وہ آئین و قانون سے متصادم ہے اور بنیادی حقوق کے خلاف ہے۔
ملک بھر میں مختلف جگہوں پر پرائیویٹ سکولزکو انتظامیہ کی طرف سے فیسوں کوکنٹرول کرنے کے نام پر زبردستی کر کے تعلیم دشمنی کا ثبوت دیاجا رہا ہے او ر تعلیمی اداروں کا تقدس پامال کر نے کی سازش نہ صرف تعلیم دشمنی ہے بلکہ حکومتی پالیسی کے بر خلاف بدترین مثال بھی ہے۔
جس کے خلاف ہائیکورٹ نے پنجاب حکومت کو زائد فیسوں پر نجی سکولوں کے خلاف کاروائی سے روک دیا ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے بھی ایسا ہی فیصلہ دیتے ہوئے حکومت کا زائد فیسوں پر نجی سکولوں کے خلاف حکم معطل کر دیا ہے۔
حکومت تعلیمی اداروں کو نت نئے تجربات اور غیر متعلقہ اداروں کی مداخلت سے بچائے کیونکہ 25-A آرٹیکل کے مطابق تعلیم حکومت کا آئینی فرض ہے۔
پرائیویٹ سکولزبھر پور تعاون کر رہے ہیں لیکن حکومت کو بھی چاہئے کہ وہ تعلیمی اداروں کو25مختلف قسم کے ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیتے ہوئے فلاحی اداروں کا درجہ دے اور بھر پو ر سرپرستی فراہم کرے۔
ہماری دانست میں اس بات کو بھی پیش نظر رکھنے کی ضرورت ہے کہ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 25 کے تحت پاکستان کی ریاست چھ سال سے لیکر پندرہ سال تک کی عمر کے بچوں کو مفت اور لازمی تعلیم فراہم کرنے کی پابند ہے۔
اس صورتحال میں سارے عوامی غیض و غضب کا رْخ نجی سکولوں کی طرف موڑ دینا کسی طور مناسب نہیں ہے۔
نجی سکولوں کی فیسوں سے حاصل ہونے والی رقم کا پچاس فیصد اساتذہ اور سٹاف کی تنخواہوں کی ادائیگی میں خرچ ہو جاتا ہے۔ اساتذہ کی تنخواہوں میں ان کی کارکردگی کو مدنظر رکھتے ہوئے سالانہ دس سے بیس فیصد اضافہ کیا جاتا ہے۔ بعض اوقات اساتذہ کی بہتر کارکردگی کی وجہ سے تنخواہوں میں ہونے والے اضافے کی شرح میں مزید اضافہ بھی ہو جاتا ہے۔
پاکستان میں حالیہ برسوں میں بجلی کے اخراجات میں ہونے والا اوسط اضافہ17% کے قریب ہے۔پرائیویٹ سکولوں کو کمرشل قرار دیے جانے کی وجہ سے انہیں بجلی کا مہنگا ترین ٹیرف ادا کر نا پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ بہت سے نجی سکول بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے دوران بجلی کی سپلائی کو بحال رکھنے کے لئے جنریٹر چلاتے ہیں جس سے ان کے اخراجات میں اوربھی اضافہ ہو جاتا ہے۔

اگرچہ پاکستانیوں کو سکیورٹی فراہم کر نا بنیادی طور پر پاکستان کی ریاست کی ذمہ داری ہے لیکن دسمبر 2014ء کے بعدسے نجی تعلیمی اداروں کو بچوں کی سکیورٹی یقینی بنانے کے لئے کافی اضافی اخراجات کرنا پڑرہے ہیں۔ پا کستان کے ایک لاکھ تہتر ہزار نجی تعلیمی ادارے پروفیشنل خواتین کی سب سے بڑی تعداد کو نجی شعبے میں روزگار مہیا کیے ہوئے ہیں۔
ایک اندازے کے مطابق ان نجی اداروں میں 15 لاکھ اساتذہ کام کر تے ہیں اور2کروڑ سے زائد طلباء زیر تعلیم ہیں۔ فیسوں میں اضافے کی حد مقرر کرنے سے یہ تعلیمی ادارے نہ تو اپنے اساتذہ کو پرکشش معاوضے دینے کے قابل ہونگے اور نہ ہی ان اساتذہ کے بچوں کو مفت تعلیم کی سہولت دے سکیں گے۔ایسی صورت میں نجی سکولوں کے لیے یہ بھی ممکن نہیں ہو گا کہ وہ اساتذہ کی پیشہ ورانہ ترقی اور تربیت کے لیے زیادہ رقوم خر چ کر سکیں۔
پرائیویٹ سکول آہستہ آہستہ ا علی تعلیم یافتہ پروفیشنل سے محروم ہوتے جائیں گے۔ پرائیویٹ سکولوں کے لیے خدمات کا موجودہ معیار برقرار رکھنا ممکن نہیں ہو سکے گا۔
نجی تعلیمی اداروں کی خدمات پاکستان میں زیرِ تعلیم 40% بچوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کر رہے ہیں اور صوبہ پنجاب میں یہ تعداد 60% ہے۔ آئین کے آرٹیکل 25A کے تحت یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو تعلیم کی سہولت مہیا کرے لیکن نجی تعلیمی ادارے حکومت کی آئینی اور اخلاقی ذمہ داری کو پورا کرنے میں اس کی مدد کر رہے ہیں۔
نجی سکولوں سے پڑھ کے نکلنے والے بچوں نے پاکستان میں اور عالمی سطح پر بہت نمایاں مقام حاصل کیا ہے۔نجی سکولوں کی وجہ سے پاکستانی بچوں کو معروف قومی اور بین الاقوامی یونیورٹیز میں داخلے کے مواقع ملے ہیں اور پاکستانی نوجوانوں کے لئے روزگار کے مواقع مہیا ہوئے ہیں۔
سرکاری ملازمین اور بیوروکریٹس ہر سطح کے کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کو سرکاری سکولوں میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے بھجوائیں۔
اس طرح سے سرکاری سکولوں کے معیار کو بہتر بنانے میں کافی مدد مل سکتی ہے۔ تعلیم اور پیشہ ورانہ تربیت کی وزارت کے مرتب کردہ اعدادوشمارکے مطابق اس وقت ملک میں42ہزار سے زیادہ پرائمری سکولوں میں بچوں کیلئے پینے کا صاف پانی و دیگر سہولیات دستیاب نہیں ، سب سے زیادہ بری حالت سندھ کی ہے جہاں 21771تعلیمی ادارے ، پنجاب میں 6615پرائمری سکولوں، خیبر پختونخوا میں 7680 اور بلوچستان میں تقریبا 5ہزار سکولوں کے بچوں کو پینے کا صاف پانی و دیگر سہولیات دستیاب نہیں ہیں۔
سرکاری سکولوں میں اساتذہ کی تعداد ضرورت سے کہیں کم ہے۔اکثر کی تعلیمی قابلیت بھی مطلوبہ معیار کے مطابق نہیں گھوسٹ اساتذہ کی اطلات بھی منظر عام پر آ رہی ہیں۔ اس کی وجہ سے سرکاری سکولوں کا تعلیمی معیار روز بروز گر رہا ہے۔ پاکستانی ذرائع ابلا غ کو گورنمنٹ سکولوں کی بہتری کے لیے بھی آواز اٹھانی چاہیے تاکہ حکومت نجی سکولوں کے خلاف جاری الزام تراشی کی آڑ میں شہریوں کو تعلیم دینے کی اپنی ذمہ داری سے بھاگ نہ سکے۔
پاکستان کے بڑے نجی سکولوں کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت یہ موقع دیا جانا چاہیے کہ وہ سرکاری سکولوں کے تعلیمی معیار کی بہتری کے لیے تعمیری رول ادا کر سکیں اور ہم اس کے لیے تیار ہیں۔ جب تک سرکاری سکولوں کی حالت بہتر نہیں ہو تی حکومت کو چاہیے کہ وہ لوئر مڈل کلاس اور مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والے مستحق خاندانوں کو فیسوں کے ووچرز جاری کرے تاکہ وہ اپنے بچوں کو نجی سکولوں کے ذریعے معیاری تعلیم دلوا سکیں۔
تاریخ اشاعت: 2015-11-05

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان