بند کریں
جمعرات جنوری

مزید سماجی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
”پولیس کا ہے کام۔۔۔۔ مال بنانا“
محکمہ پولیس میں سپاہی سے لے کر تقریباًہر بڑے افسر تک بتدریج پیسے بٹورنے کے چکر میں رہتا ہے۔ منتھلی کے نام پرہر تھانہ کم و بیش اپنا حصہ وصول کرتا ہے ۔ اکثر تھانیدار تھانے کی حدود میں ہی منتھلی طے کرلیتے ہیں۔
جی زی:
محکمہ پولیس میں سپاہی سے لے کر تقریباًہر بڑے افسر تک بتدریج پیسے بٹورنے کے چکر میں رہتا ہے۔ منتھلی کے نام پرہر تھانہ کم و بیش اپنا حصہ وصول کرتا ہے ۔ اکثر تھانیدار تھانے کی حدود میں ہی منتھلی طے کرلیتے ہیں۔رشوت،بد عنوانی میں ملوث ان اہلکاروں کے تعلقات ایم این اے ، ایم پی اے اور دیگر اعلیٰ شخصیات سے ہوتے ہیں۔ جرم ثابت ہونے کے باوجود اثر و رسوخ کے بل بوتے پر نہ صرف اپنے عہدے کے بلکہ اپنی پسند کے تھانے میں ڈیوٹی سر انجام دیتے ہیں۔

ملک کے بیشتر باشندے پولیس کی کارگردگی اور ان کے مطالبوں کی وجہ سے اس قدر پریشان ہیں کہ اکثریت کی یہی دعا ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی دشمن کو بھی تھانے کی منہ نہ دکھائے۔ شاید وہ جانتے ہیں کہ حوالدار سے لے کر بڑے افسر تک سبھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کیلئے تیار بیٹھے ہوتے ہیں۔بار بار معطل کئے جانے کے بعد بھی وہ حاضر لائن ہو جاتے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ ہمارے تھانوں کا باوا آدم ہی نرالا ہے۔ نوکری سے برخاست اور پھر بحال ہونے کے بعد بھی چند ضمیر فروش اپنا دین وایمان فروخت کر کے دن دُگنی رات چوگنی دولت کما رہے ہیں۔
محکمہ پولیس میں سپاہی سے لے کر تھانیدار، سب انسپکٹر ، انسپکٹر غرض ہر اہلکار بتدریج پیسے بٹورنے کے چکر میں رہتا ہے۔ اُن لوگوں نے منتھلیوں کے نام پر بھی لاکھوں بٹورے اور بٹور رہے ہیں۔
صوبائی دارالحکومت لاہور میں بھی یہ دھندہ عروج پر ہے۔
تھانیدار شہر کے مختلف علاقوں سے منتھلی وصول کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ محکمہ پولیس کے ایس ایچ ہو کی زیر نگرانی جو ا، جسم فروشی، منشیات فروشی کے اڈے چلائے جا رہے ہیں۔اس دھندے میں ملوث افراد سے منتھلی وصول کی جاتی ہے جو کم و بیش دو لاکھ سے پانچ لاکھ تک ماہانہ ہوتی ہے۔اکثر سب انسپکٹر تھانیدار کی حیثیت سے اپنے کام میں دلچسپی لیتے ہیں۔
اُن کی یہ دلچسپی اپنے مفادات کی وجہ سے ہوتی ہے کیونکہ تھانیداروں کو بہت سے جرائم کی اُن سے پہلے خبر ہوتی ہے ۔ اکثر تھانیدار تھانے کی حدود میں ہی مک مکا اور منتھلیاں طے کر لیتے ہیں اور کچھ عرصے بعد وہ ایس ایچ او اورانسپکٹر کی حیثیت سے اپنے فرائض ادا کرنے لگ جاتے ہیں۔ جس طرح وہ اپنے عہدے تک پہنچتے ہیں،اُسی طرح ان کی منتھلیوں میں بھی اضافہ ہوتا رہتا ہے۔
محکمہ پولیس کے اہلکار ایک دوسرے کے اڈے اور بھید جانتے ہیں اور ایک دوسرے کے کام سے چشم پوشی کرتے ہوئے اپنا کام جاری رکھتے ہیں۔
کچھ عرصہ قبل ایک معروف صحافی کا مضمون نظروں سے گزرا کہ اک سندھی پولیس آفیسر لاہور میں میں بطور اے ایس پی سٹی تعینات ہوا تھا۔ اپنے ماتحت ایک تھانے میں تعینات ہونے والے انتہائی ایماندار ایس ایچ او سے اُس نے کہا” تم سے پہلے جو اس تھانے میں تعینات تھا اس سے ذرا ” بریفنگ“ لے لینا، اُس نے پرانے ایس ایچ او سے ”بریفنگ“ کیلئے رابطہ کیا تو ہو بولا میں اے ایس پی صاحب کو ڈیڑھ لاکھ کی منتھلی دیتا تھا تم اپنے حساب سے دیکھ لینا کہ تم نے کتنی دینی ہے۔
نئے ایس ایچ او نے کہاوہ تو ٹھیک ہے مگر ”بریفنگ“ پرنا ایس ایچ وہ بولا یہی ”بریفنگ “ ہے۔
لاہور چھ پولیس ڈویژن میں منقسم ہے۔ یہاں تقریباََ 100 پولیس سٹیشن ہیں ۔ داتا دربار پولیس سٹیشن کی منتھلی ڈیڑھ سے تین لاکھ تک ہے ، نوکھا، قلعہ گجر سنگھ، باغبانپورہ، شاہدرہ ،ڈیفنس ، نواں کوٹ ،شیراکوٹ، ستوکتلہ، بادامی باغ، فیکٹری ایریا، کوٹ لکھپت، راوی روڈ اور نشتر کالونی کے پولیس سٹیشنز کی منتھلیاں 5ب لاکھ سے تین لاکھ تک ، دو لاکھ سے ڈیڑھ لاکھ تک منتھلیاں پانے والے پولیس سٹیشنز میں سمن آباد، وحدت کالونی،گلشن راوی، شالیمار،گجر پورہ، اسلام پورہ، ساندہ، گلشن اقبال، مصطفیٰ ٹاوٴن، مستی گیٹ، باٹا پور ، گلبرگ، فیصل ٹاوٴن ،اچھرہ اور غازی آباد شامل ہیں۔

اقبال ٹاوٴن، جوہر ٹاوٴن،نواب ٹاوٴن، غالب مارکیٹ، شاہدرہ ٹاوٴن، مصری شاہ، گڑھی شاہو، بھاٹی گیٹ، گوالمنڈی، ٹبی سٹی ،لوہاری گیٹ، مانگا منڈی، سبزہ زار، ہنجروال، کاہنہ، شمالی اور جنوبی چھاوٴنیاں اور گلبرگ پولیس سٹیشنز جہاں پولیس آفیسر کی ایک بڑی تعداد ہے جو مختلف تھانوں میں بطور ایس ایچ او گزشتہ کئی سالوں سے اپنے فرائض کی انجام دہی میں مصروف ہے ۔
وہ کئی بار معطل کئے جانے کے باوجود کچھ عرصہ بعد دوبارہ واپس آ جاتے ہیں۔ ملک کے دیگر صوبوں اور شہروں میں بھی پولیس اس قسم کے کارنامے سر انجام دے رہی ہے ۔ پنجاب سے بلوچستان تک اور گوجرانوالہ سے گوجر خان تک۔ پولیس کے کارہائے نمایاں کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔ جو ناجائز دھندہ کرنے والوں کی خدمت میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہی ہے۔ حد تو یہ ہے کہ تھانوں میں حقدار کے ساتھ ناانصافی معمول کا حصہ ہے۔
اعلیٰ پولیس افسروں کی دوستیاں اور تعلقات جعل سازوں اور بدنام زمانہ افراد سے گہری ہیں اس کے اردگرد ان کے پولتو منجران کی آنکھوں میں دھول جھونکتے ہوئے انہیں ” سب اچھا ہے“ کی رپورٹس دیتے ہیں۔ قابل غورامریہ ہے کہ جس ملک میں قانون بنانے والے ہی قانون کو نظر انداز کر دیں اور سرکردہ افراد بھی اس میں اپنا حصہ ڈالنا نہ بھولیں تو اس ملک کا ”اللہ ہی حافظ ہے“۔
تاریخ اشاعت: 2014-10-18

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان