بند کریں
بدھ جنوری

مزید سماجی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
پاکستان میں انقلاب
ارسطو اِس سے متفق نہیں ہے۔۔۔۔۔ ارسطو شخصی انقلاب کو پسند نہیں کرتا ہے۔ بد قسمتی سے پاکستان میں آج تک ایسا انقلاب نہیں آسکا جس میں حکمران کی بجائے نظام میں تبدیلی لائی گئی ہو
غلام زہرا:
بابائے سیاسیات ارسطونے اپنی شہرہ آفاق تصنیف ”سیاسیات (Politocs) میں انقلاب کی مختلف اقسام بھی بیان کی ہیں۔ اس کے نزدیک مکمل انقلاب وہ ہے جس میں معاشرہ اور ریاست کے ہر شعبے میں تبدیلی لائی جائے جبکہ نامکمل انقلاب صرف ایک ہی شعبہ تبدیل کرتا ہے۔ ارسطو کا نظریہ ہے کہ خونی انقلاب مکمل بھی ہو سکتا ہے اور نا مکمل بھی لیکن دونوں صورتوں میں خون خرابہ ہوتا ہے اور بہت سی جانیں ضائع ہو جاتی ہیں۔
ارسطو شخصی انقلاب کو پسند نہیں کرتا ہے۔ بد قسمتی سے پاکستان میں آج تک ایسا انقلاب نہیں آسکا جس میں حکمران کی بجائے نظام میں تبدیلی لائی گئی ہو۔
”انقلاب،”انقلاب،”انقلاب“
اس وقت پاکستان میں سیاسی جماعتوں سمیت عوام نے بھی انقلاب کی رٹ لگا رکھی ہے اور اس کیلئے پوری طرح سے سرگرم عمل بھی ہیں“
ایک تجزیہ نگار کے بعد دوسرے کی رائے تھی کہ ”پاکستان میں انقلاب نا گزیر ہے ، حد ہوتی ہے عوام کے صبر کی “ تیسرا کیسے خاموش رہ سکتا تھا۔
اس کے بعد تینوں کی رائے ملک و عوام اور حکمرانوں کی نااہلی کے متعلق کم وبیش ایک جیسی تھی۔ اختلاف تھاتو انتاکہ دو کاکہنا تھا کہ ہمیں یہ سمجھ نہیں آتی کہ آخر اُنیس کروڑ عوام پریہ چند گنے چنے خاندان ہی مسلط کیوں کر دیئے گئے ہیں۔ کچھ مدت بعد چہرہ بدل جاتا لیکن نظام میں کوئی تبدیلی نہیں آتی۔ حالانکہ چہرے بدلنے کے ساتھ ساتھ نظام میں بھی تبدیلی آنا ضروری ہے اور اس تبدیلی کیلئے انقلاب کی ضرورت ہے جس کا خواب گزشتہ 67 برسوں سے عوام کو دکھایا جاتا رہا ہے۔

بلاشبہ انقلاب قربانیوں مانگتا ہے اور پاکستانی عوام نے اس تبدیلی و انقلاب کیلئے ہر قسم کی قربانیاں دی ہیں۔ سیاسی رہنما پرُ جوش تقریروں اور انقلاب کا نعرہ لگا کر عوام کی ہمدردیاں حاصل کر نے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ انقلاب کے نعرہ میں ایسی طاقت ہے جو با آسانی ووٹروں کے دلوں میں اپنی جگہ بنالیتا ہے ۔ پاکستانی سیاست کا بغور جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ دراصل یہ رہنما انقلاب کی الف ب سے بھی واقف نہیں۔
جو بھی پرسر اقتدار آیا اپنے کھاتے کھولنے میں مصروف ہو گیا۔ عالمی مالیاتی اداروں سے قرضہ لے کراُس کی ادائیگی کے ضمن میں عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ لادا جاتا رہا ۔بد عنوانی، کرپشن اور دھاندلی ملکی سیاست کا حصہ رہا ہے اور ایسے میں اگر کوئی نیا چہرہ تبدیلی یا انقلاب کی بات کرتا ہے تو اُس کی آواز میں آواز ملانے کی جرات پیدا کرنا بھی انقلاب کے دائرہ کار میں آتا ہے۔

”انقلاب کیا ہے؟“ بابائے سیاسیات ارسطو نے اپنی شہرہ آفاق کتاب ”politics “ (سیاسیات) میں انقلاب پر روشنی ڈالتے ہوئے اس کی آٹھ اقسام بیان کی ہیں۔
ارسطو کے نزدیک مکمل انقلاب وہ ہے جو کسی بھی معاشرے کے عمومی سماجی اور سیاسی نظام کے بنیادی ڈھانچے کے علاوہ اُس کے سیاسی اصولوں میں بھی تبدیلی لائے جبکہ نامکمل انقلاب صرف ایک ہی شعبہ کو تبدیل کرتا ہے۔

دنیا نے دیکھا کہ روس میں 1917 میں مکمل انقلاب لاتے ہوئے تعلیمی، سیاسی، معاشی اور معاشرتی تبدیلیاں لائی گئیں لیکن 14 اگست 1947 کو قیام پاکستان کے بعد صرف سیاسی تبدیلی رونما ہوئی تھی ۔ لیاقت علی خان پاکستان کے پہلے وزیراعظم بنے جبکہ ملک کے آئین ، تعلیم اور تقافت میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔ چند مفاد پرستوں نے پاکستان کو مکمل طور رپ اسلامی ریاست بنانے کا قائداعظم کا نظریہ کامیاب نہ ہونے دیا۔

ارسطو کا نظریہ ہے کہ آزادی اور انقلاب خون کے بغیر ممکن نہیں۔ انقلاب مکمل ہو یا نا مکمل اس کے حصول کیلئے خون کا نذرانہ لازمی پیش کرنا پڑتا ہے ۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کو پاکستان کی سیاست میں پذیرائی اُس وقت نصیب ہوئی جب پنجاب یونیورسٹی کی سر زمین پر شرپسندوں نے اُن کا خون گرایا تھا۔ وکلا ء تحریک ہو یا ڈاکٹروں کی تحریک یا کوئی اور تحریک وہ بھی خون کے نذرانے کے بعد کامیاب ہوئی ۔
اسی طرح دنیا میں کوئی بھی تحریک یا جماعت کامیابی حاصل نہیں کرسکتی جب تک ریاست کی طرف سے اُس پر تشدد نہ ہوا ہو۔
ارسطو کے مطابق آئینی انقلاب ایسا انقلاب ہے جس میں آئین کی حدود میں رہتے ہوئے ملک ، معاشرہ ، سوسائٹی یا محلے میں انقلاب لایا جائے۔ 11 مئی 2013ء کو پاکستانی سیاست میں آنے والا انقلاب آئینی تھا۔اسی طرح پاکستان مسلم لیگ نواز کے دوسابق ادوار، پی پی پی کے تین ادوار اور حسین شہید سہروروی، میر ظفر اللہ خاں، جمالی اور شوکت عزیز بھی آئینی انقلاب کا حصہ ہیں۔
خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت بھی آئینی انقلاب کا حصہ ہے جبکہ جنرل ایوب، جنرل یحییٰ خان، جنرل پرویز مشرف اور جنرل ضیاء الحق کا انقلاب غیر آئینی تھا۔ بعض اوقات ریاست یا معاشرہ کے افراد بھی آئینی حدود میں رہتے ہوئے اپنے علاقے میں تبدیلی لا سکتے ہیں۔
جہاں تک شخصی انقلاب کی بات ہے تو ارسطو کے مطابق شخصی انقلاب میں صرف اور صرف اشخاص کا تبادلہ ہوتا ہے، جبکہ دیگر معاملات و امور بدستور چلتے رہتے ہیں۔
اس انقلاب میں چند برسراقتدار حکمرانوں کے علاوہ سماج میں کوئی تبدیلی نہیں لائی جا سکتی اور آخر کار کچھ دیر بعد عوام اُن سے ناراض ہو نے کے بعد دوسرے رہنما منتخب کر لیتے ہیں۔ شخصی انقلاب آئینی اور غیر آئینی طریقے سے بھی آ سکتا ہے۔ اس نظریے کی روشنی میں یہ سمجھنے میں دیر نہیں لگتی کہ پاکستان میں صرف اور صرف اشخاص یعنی چہروں کا ہی تبادلہ ہوتا ہے۔
ہر مرتبہ چہرے بدل جاتے ہیں مگر نظام تبدیل نہیں ہوتا۔
شخصی انقلاب کے ساتھ غیر شخصی انقلاب کا ذکر ناگزیر ہے۔ ارسطو غیر شخصی انقلاب کا پسند کرتا ہے جس کے ذریعے نظام میں تبدیلی لائی جاتی ہے۔ بد قسمتی سے پاکستان میں آج تک غیر شخصی انقلاب نہیں آسکا کیونکہ اس کے ذریعے عوامی نمائندگی کا دعویٰ کرنے والے لیڈروں کو کچھ نہیں ملتا ، سب کچھ عوام کو ہی ملتا ہے۔

طبقاتی انقلاب میں مخصوص برسراقتدار طبقات کو تبدیل کرنا مقصود ہوتا ہے یعنی اگر غریب، مزدور پیشہ طبقہ امراء کے طبقے کو ختم کر کے برسر اقتدار آجائے تو ایسا انقلاب طبقاتی کہلائے گا۔
ارسطو کے خیال میں عدم مساوات کا احساس، معاشی ناہمواری، سیاسی جانبداری، متوسط طبقہ کانہ ہونا اور انتہا پسند نظریات معاشرے کو غیر مستحکم کرتے ہیں جن سے انقلاب کی راہ ہموار ہوتی ہے۔
ان کے علاوہ ارسطو نے بے مقصد انقلاب پر بھی بڑی مدلل رائے دی ہے۔ ارسطو کا نظریہ ہے کہ بعض اوقات ریاست یا معاشرہ کا کوئی مخصوص طبقہ بغیر مقصد اپنے تحفظات کے حصول کیلئے معاشرے میں انتشار اور افرادتفری پیدا کردیتا ہے۔ اس کا مقصد صرف اور صرف عوامی شہرت حاصل کرناہوتا ہے۔ پاکستان میں یہ بات عمومی طور پر نظر آتی ہے۔
ارسطو کے افکار اور پاکستان کی تاریخ کا جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ ملک میں آج تک کبھی بھی ارسطو کے تصور انقلاب کی صورت مکمل انقلاب نہیں آیا۔
14 اگست 1947 کو حصول پاکستان کے وقت قائداعظم محمد علی جناح کا مقصد مکمل انقلابی اصلاحات تھاجس میں برصغیر کے اس خطہ زمین پر واقع مذہبی، ثقافتی ،سماجی ، تعلیمی اور سیاسی تبدیلی کرنا مقصود تھا۔ اس کے بعد بھی عوامی لیڈر ہونے کا دعویٰ کرنے والے سیاستدانوں نے بھی انقلاب لانے کی بہت کوشش کی مگر ناکام رہے۔
سوال اُٹھتا ہے کہ پاکستان میں انقلاب کیسے آئے گا؟ اس کیلئے بانیان سیاسیات کے اس نظریے سے استفادہ کیا جانا بہت ضروری ہے کہ پہلے انقلاب کی صدا لگانے والوں میں انقلاب لایا جائے جبکہ پاکستان میں ماسوائے ایک دو ایک تمام حکمران تبدیل نہیں ہوئے۔

یہ حقیقت ہے کہ پاکستان میں تقریباََ 23 خاندان شروع دن سے کسی نہ کسی طرح حکومت میں رہے ہیں اور ان تمام سیاسی جماعتوں کا صرف ایک ہی منشور ہے کہ اقتداد کی ہوس۔
ملک میں انقلاب ، انقلاب کی صدا بلند کرنے والوں کو چاہیے کہ وہ پہلے اپنے اندر انقلابی تبدیلیاں لائیں ورنہ شخصی اور طبقاتی تبدیلی نہ ہونے کی بدولت ہم دوکشتیوں کے سوار بنے رہیں گے۔
ملک میں حالیہ سیاسی بحران میں انقلاب کے نعروں نے خاص وعام میں ہلچل مچا رکھی ہے۔ اس موقع پر عوام کی ذمہ داری ہے کہ وہ آزمائے ہووٴں کو باربار آزمانے کی بجائے نئے چہروں کو آزمائیں۔ برسراقتدار جماعت کافرض ہے کہ وہ اقتدار کی ہوس کی بجائے ہو ش سے کام لے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کو چاہیے کہ پوری ایمانداری سے اپنی ذمہ داریاں بنھائے اور سیاسی جماعتوں میں آئینی ،شخصی اور طبقاتی تبدیلیوں کیلئے اقدامات کروائے۔
تاریخ اشاعت: 2014-09-16

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان