بند کریں
پیر فروری

مزید سماجی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
پاکستان کی جیلیں
یہاں دولت مند قیدی من مانی کرنے میں آزاد ہوتے ہیں۔۔۔۔۔۔ہمارے ہاں غریب قیدی کو تو جیلر کی ڈانٹ ڈپٹ ار مار کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔اُسے گالیاں دی جاتی ہیں اور جیل میں اُسے انتہائی غیر آرام دہ جگہ دی جاتی ہے
فراز خان :
جیلوں کے نام سے ہی سزا کا تصور اُبھرتا ہے۔ اسے عبرت کی جگہ سمجھا جاتا ہے مگر بد قسمتی سے پاکستان کی جیلوں میں ایسا نہیں ہے۔ غربت قیدی کیلئے تو یہ قید خانہ ہی ہے مگر امیر اور بااثر مجرموں کیلئے جیلوں میں بھی گھر کا سا ماحول فراہم کیا جاتا ہے۔ وہ یہیں بیٹھ کر اپنا پورا نیٹ ورک چلاتے رہتے ہیں۔ جیل کے نام سے ہی ایسے قید خانے کا تصور ذہن میں اُبھرتا ہے جہاں جرائم پیشہ افراد کو رکھا جاتا ہے۔
یہاں لوگوں کو اُن کے جرم کی مناسبت سے عدالت کی سنائی گئی سزا کی مدت تک رکھا جاتا ہے۔ قتل کے مجرموں کو عمر قید سنائی جاتی ہے تو چھوٹے موٹے جرائم پر چند دن یا چند ماہ کی سزا بھی ہوتی ہے۔ کسی کو محض قید کی سزا دی جاتی ہے تو کوئی قید بامشقت کا حق دار ٹھہرتا ہے۔جیل ایسے ہی افراد کو رکھنے کی جگہ ہے ۔ یہ قید خانہ ہے جو یقینا قیدیوں کیلئے اچھی جگہ نہیں ہوتی۔
یہاں جن افراد کو رکھا جاتا ہے اُن کے لیے زندگی سمٹ جاتی ہے اور دنیا محض اس قید خانے کی چار دیواری تک محدود ہو جاتی ہے۔
بد قسمتی سے پاکستان کی جیلوں میں ایسا نظر نہیں آتا۔ ہمارے ہاں غریب قیدی کو تو جیلر کی ڈانٹ ڈپٹ ار مار کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔اُسے گالیاں دی جاتی ہیں اور جیل میں اُسے انتہائی غیر آرام دہ جگہ دی جاتی ہے۔ غریب قیدیوں کے مقدمات بھی سالوں لٹکے رہتے ہیں۔
لیکن دوسری طرف ایسے قیدی جن کے پاس دولت ہو، جیل اُن کیلئے پُر سکون جگہ بن جاتا ہے۔ یہ قیدی کرپشن اور دیگر مجرمانہ سرگرمیوں کی بدولت بے پناہ دولت کما چکے ہوتے ہیں۔ جیل میں یہ دولت اُن کے کام آتی ہے ۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ یہاں جیلوں میں ہر چیز کی قیمت مقرر کر دی جاتی ہے۔ یہ دقیمت ادا کرنے والوں کو اچھی جگہ ، دھیما لہجہ اور موبائل فون تک دستیاب ہوتے ہیں۔
پاکستان بھر کی جیلوں میں ایسے جرائم پیشہ افراد کا راج ہے جو جیلوں میں بیٹھ کر اپنا نیٹ ورک چلا رہے ہیں۔ اخباری ریکارڈ کے مطابق یہ قیدی جیل سے ہی فون کرکے قتل تک کے فیصلے کرتے ہیں۔ جن قیدیوں کے پاس دولت ہو، اُن کے رشتے دار اور ساتھیوں کو انتظامات چلانے کی اجازت مل جاتی ہے۔ قیدیوں کے راشن سے لے کر اُنہیں دی جانے والی ناجائز سہولیات تک ہر چیز کاریٹ مقرر ہے ۔
جیل اہلکاروں کی کوشش ہوتی ہے کہ اُن کی ڈیوٹی ملاقاتیوں والے حصے میں لگے تاکہ مزید آمدنی یقینی ہو۔ جیل میں ملنے والی ان سہولیات کی بدولت خطر ناک مجرم جیل میں بیٹھ کر اپنا نیٹ ورک چلاتے رہتے ہیں۔ اُن کیلئے جیل حقیقی معنوں میں سسرال سے مختلف نہیں ہوتا۔ یہ ہماری جیلوں کا ایک رُخ ہے۔
جیل کی زندگی کی دوسرا رخ اس سے بھی بھیانک ہے۔ انہی جیلوں میں ایسے لوگ بھی قید ہیں جس کے پاس اس طرح دولت کے انبار نہیں ہیں۔
یہ لوگ رقم خرچ کر کے اپنے لئے سہولیات حاصل کرنے سے قاصر ہیں۔ اسلئے اُنہیں یہ صرف جیل کے عملے کے ہاتھوں ذلیل ہونا پڑتا ہے بلکہ با اثر قیدی بھی اُنہیں اپنا خادم تصور کرتے ہیں۔ ایسے ملزموں کے نہ صرف کیس سخت بنائے جاتے ہیں بلکہ عدالتوں میں بھی اُنہیں انصاف کی بجائے تاریخ ہی مل پاتی ہے۔ دیگرالفاظ میں دولت کی مدد سے اب جیل میں بھی راحت اور آسائشات خریدی جا سکتی ہیں۔
ہمارے ہاں جیل میں بھی ایک ہی جرم کی سزا پانے والے کیلئے الگ الگ ماحول مہیا کیے جاتے ہیں۔ ایک طرف وہ مجرم ہیں جنہیں گھر جیسا ماحول میسر آتا ہے اور وہ موبائل فن کی مدد سے اپنے دھندے چلاتے رہتے ہیں تو دوسری طرف وہ لوگ ہیں جو ان مجرموں کی ٹانگیں دبانے پر مجبور ہیں۔
کرپش اور نا اہلی کی وجہ سے اب جیل کے معانی بدل چکے ہیں۔ اب یہ دولت مندوں کیلئے عشرت کدے اور غریبوں کیلئے دہکتا تندرو بن چکے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ اب جرائم پیشہ افراد جیل جانے سے خوف نہیں کھاتے اور معاشرے میں سنگین نوعیت کی وارداتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ جیلوں کو ہوٹل کی طرح چلانے والے کرپٹ افسروں او اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی جائے اور باقاعدہ ایسی ٹیمیں تیار کی جائیں جو روایتی چھاپے کی بجائے خود جرائم پیشہ افراد کے روپ میں جیلوں تک پہنچیں اور وہاں کی صورتحال کاجائزہ لینے کے بعد اپنی رپورٹ تیار کریں۔
ہمارے خفیہ اداروں کے پاس ایسے قابل بھروسہ اور محنتی افسر موجود ہیں جو یہ ذمہ داری نبھا سکتے ہیں۔ اگر ہمیں وطن عزیز سے جرائم کا خاتمہ کرنا ہے تو پھر ” باادب با ملاحظہ ہوشیار“ کے نعروں کے ساتھ روایتی چھاپوں کی بجائے جدید انداز سے کام کرنا ہو گا اور قید خانوں کا وہ ماحول ختم کرنا ہوگا جو مجرموں کے دل سے جیل کا ڈر ار سختیوں کا خوف ختم کر دیتا ہے۔ جیلوں کو مجرموں کی آماجگاہ اور ” سسرال“ بنانے کی بجائے اصلاح کا مرکز بنانا بہت ضروری ہے ۔ ٹھوس منصوبہ بندی، قابل ٹیم اور سائنٹیفک انداز سے نگرانی کی صورت میں یہ سب ممکن ہے ورنہ ہماری جیلیں اسی طرح مجرموں کیلئے ”ڈیرے“ کا کردار ادا کرتی رہیں گی جو پاکستان کیلئے نقصان دہ ہے۔
تاریخ اشاعت: 2014-08-26

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان