بند کریں
اتوار جنوری

مزید سماجی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
آن ڈیوٹی ٹریفک وارڈنز کی افطاری
افطار میں جب چند منٹ رہ جاتے ہیں تو جہاں سڑکوں پر چلتے یا گاڑیوں میں بھاگم بھاگ گھروں کی راہ لیتے مسافروں کو افطاری کی جلدی ہوتی ہے وہیں ان وارڈنز یا ٹریفک پولیس اہلکاروں کو بھی فکر ہوتی ہے کہ ان کا روزہ وقت پر کھل جائے
شاذیہ سعید:
جناب ذرا سگنلز‘ چوک اور سڑکوں پر نظرثانی کرو ایک ایسی ہستی نظر آئے گی جس نے شدید گرمی اور تپتی دھوپ میں نیلی وردی پہن رکھی ہے لیکن ماتھے ہر ایک شکن تک نہیں ایسا نہیں ہے کہ انکا روزہ نہیں بلکہ وہ بھی روزے سے ہی ہوتے ہیں لیکن اتنی سخت محنت کرنے کے باوجود انکی زبان ترش نہیں ہوتی، لہجہ کڑوا نہیں ہوتا اور نہ ہی پیشانی آلود ہوتی ہے۔
حالانکہ وہ ایک سرکاری آفیسر ہے، جب تک ڈیوٹی بجا لاتا ہے کھڑا رہتا ہے تاکہ تیزی سے چلتے پھرتے اڑدھام کو کنٹرول کر سکے اور یقین مانیئے جہاں ان کا سایہ بھی نہ ہو وہاں ٹریفک کے نظام میں بدنظمی دیکھنے میں آتی ہے۔ اب ہم بات کرتے ہیں ان کی آن ڈیوٹی افطاری کی ظاہری سی بات ہے محض ٹف جاب کی وجہ سے وہ اپنا روزہ تو نہیں چھوڑ سکتے لیکن وہ نہ صرف اپنے روزے پر قائم رہتے ہیں بلکہ لوگوں کی بدتمیزی کا جواب بھی پرسکون لہجے میں دیتے ہیں۔
افطار میں جب چند منٹ رہ جاتے ہیں تو جہاں سڑکوں پر چلتے یا گاڑیوں میں بھاگم بھاگ گھروں کی راہ لیتے مسافروں کو افطاری کی جلدی ہوتی ہے وہیں ان وارڈنز یا ٹریفک پولیس اہلکاروں کو بھی فکر ہوتی ہے کہ ان کا روزہ وقت پر کھل جائے۔ سخت ڈیوٹی کے باوجود یہ اہلکار اپنا روزہ کیسے افطار کرتے ہیں کیایہ گھروں سے کھانا لے کر آتے ہیں یا وہیں موجود کسی ٹھیلے سے لیکر روزہ افطار کرتے ہیں۔
یہ بات جاننے کے لئے ہم ریلوے سٹیش کی قریب نولکھا پولیس سٹیش پہنچے جہاں پر CTO طیب حفیظ چیمہ کی جانب سے میڈیا کے لئے افطاری کا انتظام کیا گیاتھا جس میں انہوں نے سٹی ٹریفک پلانز کے حوالے سے گفتگو بھی کی اور ڈیوٹی پوائینس پر موجود اہلکاروں میں افطاری بھی تقسیم کی۔ نولکھا تھانے کے سامنے معمول کے مطابق ٹریفک جاری و ساری تھی جبکہ اسے کنٹرول کرنے لئے وارڈنز بھی موجود تھے۔
ڈیوٹی پر موجودشکیل احمد،ندیم احمد، آصف ہاشمی اور زمان سے بات چیت کی جو کہ دوران ڈیوٹی بہت مشکل سے ہمارے سوالوں کا جواب دے پارہے تھے کیونکہ ٹریفک سنبھالنے کے ساتھ ساتھ اعلیٰ افسران کی آمد کا سلسلہ بھی جار ی تھا اس پر بھی دھیان دینا ان کے فرائض میں شامل تھا۔ شکیل احمد نے بتایا کہ افطاری کے وقت یوں تو ٹریفک کم ہوتی ہے جسے کنٹرول کرنا آسان ہوتا ہے لیکن اس کے باوجود بہت سے لوگ غلط روٹس کا استعمال کرکے جھگڑا بھی کرتے ہیں جس کی وجہ سے خاصی پریشانی ہوتی ہے۔
افطاری کے حوالے سے شکیل نے بتایا کہ انہیں محکمے کی جانب سے آن ڈیوٹی افطاری دی جاتی ہے جس میں کجھوریں،فروٹ، سکنجبین،روح افزاء کیک اور بسکٹ کا پیکٹ ہوتا ہے جس سے وہ روزہ افطار کرتے ہیں۔ وہ بخوشی اس بات کا اظہار کر رہے تھے کہ انہیں افطار سے ایک گھنٹہ قبل محکمہ کی جانب سے افطاری مہیا کرد ی جاتی ہے۔ گھر والوں کے ساتھ افطاری کے حوالے سے شکیل نے بتایا کہ یہ ہماری ڈیوٹی ہے جسے ہم نے ہر صورت میں پورا کرنا ہے، گھروالوں کے ساتھ افطار کی اپنی اہمیت ہے لیکن اس بات پر گھر والے پریشان نہیں ہوتے کہ ہمیں کچھ کھانے کو ملا یا نہیں کیونکہ انہیں معلوم ہے آن سپوٹ ہمیں افطاری مہیا کر دی جاتی ہے۔
عوام کے لئے ان وارڈنز کا ایک ہی پیغام تھا کہ جو بھی لوگ دکانوں سے گھروں کے لئے نکلتے ہیں تو انہیں چاہیے کہ وہ افطار سے کم از کم 20منٹ پہلے نکلیں تاکہ بروقت اپنے گھروں کو پہنچ سکیں چند منٹ پہلے نکلیں گے تو ٹریفک کا نظام بھی خراب ہوگا اور غلط راستے پر جانے سے چالان بھی ہوگا کیونکہ اکثر لوگ جلدی گھر جانے کے چکر میں ون وے پر آجاتے ہیں جس کی وجہ سے بد انتطامی ہوتی ہے ایسا نہ کیا کریں اور جس حد تک ہوسکے ہمارے ساتھ تعاون کریں تاکہ ٹریفک کے نظام کو مزید بہتر بنایا جاسکے۔
ڈیوٹی پر موجود عدنان عارف نے ہمیں بتایا کہ وہ کاغذات واپسی ڈیپارٹمنٹ میں ہوتے ہیں جو کہ آفس ورک ہے لیکن روزے کے باوجود اپنے فرائض انجام دینا ان کی عادت میں شامل ہے۔عدنان نے افطاری کے حوالے سے بتایا کہ محکمے کی جانب سے ایک گاڑی سپاٹ ٹو سپاٹ جا کر ڈیوٹی پوائینٹس پر موجود وارڈنز کو افطاری مہیا کرتی ہے تاکہ وہ اپنے فرائض مکمل طور پر انجام دے سکیں اور انکی جانب سے کسی قسم کی کوتاہی نہ ہو۔
ڈی ایس پی نوید‘ ٹریفک وارڈنز امین‘ فراست اور دیگر نے بھی خیالات کا اظہار کیا۔
چیف ٹریفک آفیسر لاہور طیب حفیظ چیمہ نے اس موقع پر نوائے وقت میگزین کو بتایا کہ ٹریفک پولیس بھی رمضان کے پہلے‘ دوسرے اور تیسرے عشرے کی ضرورت اور ترجیحات میں بتدریج اضافہ کرتی ہے۔ ابھی فوری طور پر سو وارڈنز کا اضافہ کر رہے ہیں۔ یہ فیلڈ میں رات آٹھ سے ساڑھے بارہ بجے تک خدمات انجام دیں گے۔
آخری عشرہ میں ان وارڈنز کی تعداد دو سو ہو جائے گی‘ ایس پی تمام رات خود نگرانی کریں گے وارڈنز کی یہ ڈیوٹیاں ترجیحی طور پر پروفیشنل ایریاز اور بازاروں میں لگائی جائیں گی ۔ طیب حفیظ چیمہ نے بتایا کہ اس وقت لاہور میں تقریباً چھ لاکھ موٹر سائیکلیں رجسٹرڈ ہو چکی ہیں‘ روزانہ نئی نکلنے والی موٹر سائیکلیں اس کے علاوہ ہیں۔ اٹلس ہنڈا کی ”روشن پاکستان مہم“ کے تحت روزانہ دس ہزار موٹر سائیکلوں کی ہیڈ لائٹس‘ انڈیکیٹرز خراب اور فیوز ہونے والے بلب فری لگا کر دیں گے‘ مکینک فری چیکنگ اور سروس کریں گے کیونکہ رات کو موٹر سائیکلوں کی اکثریت انڈیکٹرز کی خرابی کے باعث حادثات کا موجب بنتی ہے۔
اس سروس کیلئے اضافی عملے کی ڈیوٹی لگائی گئی ہے جبکہ لبرٹی‘ ایم ایم عالم روڈ جیسے رش کے مقامات پر لفٹر دیئے گئے ہیں اس موقع پر اٹلس ہنڈا کے نیشنل سیفٹی منیجر تسلیم شجاع بھی موجود تھے۔
سی ٹی او طیب حفیظ چیمہ نے بتایا کہ لوگوں میں ٹریفک قوانین کے شعور اور آگہی کے لئے ہر ہفتہ وارڈنز کیلئے جبکہ مختلف سکولوں میں ایجوکیشن یونٹ کے ذریعے لیکچرز کا سلسلہ بھی شروع کیا گیا ہے۔
جس کے مثبت یقیناً مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ سیٹ بیلٹ کے قانون پر سختی سے عملدرآمد ہو رہا ہے اور اب تک تہتر ہزار گاڑیوں کے سیٹ بیلٹ نہ باندھنے پر چالان ہو چکے ہیں۔ سی ٹی او نے کہا کہ دنیا بھر میں ہائی ویز اور مین شاہراہوں پر دو گھنٹے کی ڈرائیونگ کے بعد پندرہ منٹ کا آرام ملتا ہے۔ ہمارے ہاں ٹرک ڈرائیور‘ آٹھ سے سولہ گھنٹے تک مسلسل ڈرائیونگ کرتے ہوئے سو جاتے ہیں اور خوفناک حادثات کا باعث بنتے ہیں۔
گرمیوں میں اے سی والی گاڑیوں کے ریڈی ایٹر دو گھنٹے بعد پانی کے طلبگار ہوتے ہیں جسے نظرانداز نہیں کرنا چاہئے۔
کراچی میں خواتین کو ہیلمٹ پہننے کے سوال پر انہوں نے کہا کہ قانون کو ماحول کے مطابق بنانا ضروری ہے تاکہ اس پر عملدرآمد کو بھی یقینی بنایا جا سکے۔ طیب حفیظ چیمہ نے کہا کہ پنجاب اسمبلی سے قانون منظور کرایا جائے گا جس کے تحت موٹر سائیکل کمپنی بائیک کے ساتھ جزوی طور پر ہیلمٹ دینے کی پابند ہو گی اور یوں ہیلمٹ پہننا فرض ہو گا۔
انہوں نے کہا کہ گرمی اور سردی میں ٹریفک پولیس کے عملے کیلئے الگ الگ یونیفارم کی نوائے وقت کی تجویز سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ ایسا ہونا چاہئے لیکن پولیس کے محکمہ کی وجہ سے دونوں موسموں میں ایک جیسا یونیفارم پہنا جاتا ہے۔ رات کو ٹریفک وارڈنز کو پیلی چمکیلی جیکٹ پہنائی جاتی ہے جو دور سے نظر آتی ہے۔ زمانہ بدل رہا ہے چوراہوں پر گول چکر کی بجائے پلاسٹک کی چھتریاں دی جا رہی ہیں۔
سٹی ٹریفک پولیس کی جانب سے ٹریفک انتظامات کی بہتری اور غلط پارکنگ کے خاتمہ کیلئے اقدامات کا عوام نے خیرمقدم کیا ہے ۔ سی ٹی او کی نولکھا چوک میں وارڈنز کیساتھ یہ افطاری مذہبی رواداری کی بھرپور عکاس تھی‘ محمود ایاز بلاتفریق ایک ہی جگہ مذہبی عقیدت کیساتھ روزہ کشائی میں مصروف تھے۔ پی آر او ٹریفک پولیس علی نواز تمام انتظامات میں پیش پیش اور ایک ایک وارڈن اور صحافی کے پاس جا کر انکا روزہ کھلوانے کا اہتمام کرتے رہے۔
یہ ایک قابل تقلید روایت ہے جس کا سی ٹی وی طیب حفیظ چیمہ نے آغاز کیا ہے جو بلاشبہ قابل تحسین ہے۔
ہم لوگ تو گھروں میں بروقت پہنچ کر سکون سے بیٹھ کر اپنی ماوٴں اور بہنوں کے ہاتھ سے بنی افطاری سے لطف اندوز ہوتے ہیں لیکن ان وارڈنز کا کیا جو روزے کے باجود اپنے فرائض میں کوتاہی نہیں برتے بلکہ انکی یہ کوشش ہوتی ہے کہ ہم اپنے گھروں کو پہنچ سکیں۔
ہمارے لئے اتنی کڑی محنت کرنے والے وارڈنز کا حق بنتا ہے کہ وہ بھی اچھی افطاری سے لطف اندوز ہو سکیں جسے معیاری بنانے کا بہت آسان طریقہ ہے کہ جن لوگوں کے گھروں کے پاس ٹریفک پولیس کی ڈیوٹی ہے افطاری کے وقت انہیں بھی کچھ نہ کچھ ضرور کھانے کے لئے دیں۔ ہم روزانہ افطار پارٹیاں کرتے ہیں جس میں نجانے کیا کیا بناتے ہیں تاکہ ہمارے مہمان گھر سے خوش ہو کر جائیں تو ایسے میں ان وارڈنز کو بھی مہمان سمجھ کر انہیں بھی اپنے افطار کا حصہ ضرور بنائیں تاکہ وہ اپنے فرائض مزید تندہی انجام دے سکیں۔
تاریخ اشاعت: 2015-07-08

(2) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان