بند کریں
اتوار جنوری

مزید سماجی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
نوعمری میں خودکشی کے واقعات
عشق میں ناکامی اور سماجی دباؤ بڑی وجوہات ہیں۔۔۔۔ یہ حقیقت ہے کہ آجکل کی نوجوان نسل پڑھائی پر توجہ دینے کے بجائے موبائل فونز، کیبل نیٹ ورک پر آنے والے ڈراموں ، فلموں اور عشق ومحبت کے معاملات میں زیادہ دلچسپی لے رہی ہے
شہریاراشرف:
والدین کے پاس پیسے کی فراوانی ہویا کمی۔وہ ہمیشہ یہ کوشش کرتے ہیں کہ ان کی اولاد اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے ان کانام روشن کرے۔اولاد کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کے لیے والدین اپنی تمام توانائیاں صرف کرتے ہیں۔لیکن صورتحال اس وقت تشویش ناک ہوجاتی ہیں جب سکول کالج اور یونیورسٹی جانے والے بچے پڑھائی پر توجہ دینے کے بجائے ایسی سرگرمیوں میں حصہ لینے لگتے ہیں جس کے فوائد کم اور نقصانات زیادہ ہیں۔
یہ وہ سرگرمیاں ہیں جو انہیں کامیابی کے بجائے ناکامی کی طرف دھکیلتی ہیں اور وہی والدین جو کئی سالوں تک اپنے بچوں کی تعلیم کے اخراجات اٹھاتے ہیں انہیں شرمندگی، نداست اور اپنی اولاد کی موت جیسادکھ سہنا پڑتا ہے۔یہ حقیقت ہے کہ آجکل کی نوجوان نسل پڑھائی پر توجہ دینے کے بجائے موبائل فونز، کیبل نیٹ ورک پر آنے والے ڈراموں ، فلموں اور عشق ومحبت کے معاملات میں زیادہ دلچسپی لے رہی ہے۔
کالج اور یونیورسٹی میں طلباء طالبات گھنٹوں ایک دوسرے کے ساتھ باتیں کرتے ہیں اور گھر آنے کے بعد یہ سلسلہ موبائل فونز پرمیسج کی شکل میں شروع ہوجاتاہے اور رات پڑتے لیپ ٹاپ کی مدد سے ویڈیو کالنگ شروع ہوجاتی ہے۔والدین تویہ سمجھتے ہیں کہ ان کے بچے پرھائی میں ”مصروف ہیں لیکن حقیقت میں لڑکا اور لڑکی اس دوستی کو بڑھارہے ہوتے ہیں جس میں ساتھ مرنے اور ساتھ جینے کی قسمیں کھائی جاتی ہیں۔
حالات اُس وقت ایک نئی کروٹ لیتے ہیں۔جب اس عشق میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑجائے۔ناکامی کے آثار دکھتے ہی لڑکی یالڑکے میں سے کوئی ایک یادونوں ڈپریشن کا شکار ہوجاتے ہیں جس سے باہر نکلنا ان کے بس میں نہیں ہوتا۔عشق کو زندہ رکھنے کی جب کوئی بھی تدبیر کام نہیں آتی تو پھر ایسے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں موت کوگلے لگاناپسند کرتے ہیں اور خودکشی جیسا انتہائی اقدام اٹھانے سے بھی گریز نہیں کرتے۔

ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ سکول،کالج اور یونیورسٹیوں کے طلبا میں خودکشی کابڑھتاہوا رحجان واقعی تشویش ناک ہے جس سے معاشرے پر بہت بُرااثر پڑرہا ہے۔ان کاکہنا ہے کہ عشق اور متحانات میں ناکامی ، والدین کی ڈانٹ ڈپٹ ،خراب گھریلو حالات ، ٹی وی چینلز پر آنے والے ڈرامے اور فلمیں موبائی فونز جنسی زیادتی اور بلیک میلنگ جیسے عوامل طالب علموں کو خودکشی جیسے اقدام اٹھانے پر مجبور کر رہے ہیں۔
جب کوئی بھی انسان فرسٹریشن یاشدیدترین مایوسی کاشکار ہوجائے تو اس کے ذہن میں تین صورتیں بنتی ہیں۔وہ حالات سے سمجھوتہ کرے یاان کو تبدیل کرنے کی کوششیں کرے یا تیسری صورت زندگی سے راہ فرار کی ہے جو خودکشی ہی ہے۔
نوجوانوں کے حقوق کے لئے کام کرنے والی غیرسرکاری تنظیموں کے مطابق پاکستان میں گزشتہ دوبرسوں میں خودکشی کرنے والوں میں زیادتعداد14سے27برس تک کی عمر کے نوجوانوں کی ہے جن میں اکثریت طالب علموں کی تھی جو والدین، اساتذہ کی ڈانٹ ڈپٹ، امتحانات اور عشق میں ناکامی پر اپنے ہاتھوں ہی اپنی موت کا سامان کرلیتے ہیں ۔
نوعمری میں خودکشی کا ایک دلخراش واقعہ گزشتہ دونوں کراچی کے ایک سکول میں پیش آیا جب میٹرک کے طالب علم نے ساتھی طالبہ کوگولی مار کرخودکشی کرلی۔ کراچی میں سولجر بازار تھانے کی حدود میں گرومندرکے قریب واقع گلشن فاطمہ گورنمنٹ پرائمری اینڈلوئر سکینڈری سکول برائے طلباوطالبات علم اسمبلی میں مصروف تھے عین اسی وقت فائرنگ کی آوازیں سنائی دی گئیں۔
موقع پر پہنچنے پر معلوم ہو میٹرک کے طالب علم سولہ سالہ نوروزولد جانباز نے اپنی ساتھی طالبہ فاطمہ بشیر کو ماتھے پر گولی مارنے کے بعد خود کو گولی مار کر خودکشی کرلی۔لاشوں کے پاس دوخط بھی ملے ہیں جومرنے والے دونوں طلبا کے ناموں سے لکھے ہوئے تھے۔رومن اُردو میں لکھے ہوئے ان خطوط سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ دونوں ایک دوسرے کوپسند کرتے تھے۔
لیکن گھر والے نہیں ایک ہونے نہیں دیں گے۔دونوں نے اپنی آخری خواہش میں اپنے والدین سے درخواست کی ہے کہ ان دونوں کی قبریں ساتھ ساتھ بنائی جائیں۔
اس واقعہ پر ماہرین نفسیات کاکہنا ہے کہ پیار ایک مثبت جذبہ ہے لیکن جب حدسے بڑھ جائے تو منفی ہوجاتاہے ۔انسان کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت میں خلل پڑجاتا ہے ایسی صورت میں انسان کو درمیانی راستہ نظر نہیں آتا اور وہ مرنے پر تیار ہوجاتاہے۔
ماضی میں اس قسم کے کئی واقعات رونما ہوتے رہے ہیں۔لیکن ان میں امتحانات میں ناکامی پر خودکشی جیسا قدم اٹھانا بھی ہے7اپریل 2012ء کو اسلام آباد میں واقع نسٹ(Nust) کالج آف الیکٹریکل اینڈمکینیکل انجینئرنگ کے 22سالہ طالب علم احمد جاوید نے کلاس روم کی چھت سے کودکر خودکشی کرلی۔احمد کے والد کاکہنا ہے کہ اُس کے بیٹے نے یہ قدم امتحانات میں کم نمبر آنے پراٹھایاہے۔

اساتذہ کاطلبا کے ساتھ نامناسب اور پُرتشدد رویہ بھی انہیں خودکشی جیسے اقدام پر مجبور کرتا ہے۔ 26جون2012ء کو پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ کالج آرٹ اینڈڈیزائن میں سال سوم کے ہونہار طالب علم 22سالہ سیدجلال نے دوسری منزل سے چھلانگ لگا کر خودکشی کرلی۔اس کاشمار ڈپیارٹمنٹ کے ہونہار اور ذہین طلبا میں ہوتا تھا۔خودکشی کے تھوڑے دنوں بعد سیدجلال کے ساتھیوں کو ایک خط ملا جس میں لکھا تھا کہ “اس نے کچھ اساتذہ کے اپنے ساتھ غیرمناسب اور ختک آمیزرویہ اختیار کرنے پر یہ قدم اٹھایا۔

21جون 2012ء کو اسلام آباد کی ایئریونیورسٹی میں زیرتعلیم ایم فل کے طالب علم بشارت خان نے پنکھے سے جھول کر خودکشی کرلی۔اس واقعہ کے چند دن بعد بشارت خان کے کمرے سے جو خط ملا اس کے مطابق اُس نے اپنے کچھ اساتذہ کی پُرتشدد ذہنیت کے باعث خودکشی کرنے کافیصلہ کیا۔ایساہی ایک واقعہ مئی 2012ء میں پیش آیاجب ایبٹ آباد میں بورڈنگ سکول میں زیرتعلیم ساتویں جماعت کے طالب علم 14سالہ عبدالمبین نے گھر واپس آنے پر اپنے آپ کوکمرے میں بند کرکے خودکشی کرلی۔
اس کی جیب سے ملنے والے خط پردرج تھا کہ ”وہ اپنے انگریزی کے اُستاد کی مارپیٹ سے تنگ آکرسکول نہیں جانا چاہتا اس وجہ سے اُس نے خودکشی کرنے کا فیصلہ کیاہے۔
غیرسرکاری اداروں کی جانب سے جاری کی گئی رپورٹوں کے مطابق دنیا بھرمیں خودکشی کرنے والوں میں نوجوانوں کی تعداد ایک چوتھائی سے زیادہ ہے جبکہ پاکستان میں خودکشی کرنے والے افراد میں نوجوانوں کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہورہاہے۔
حکومت پاکستان نے 2001ء میں مینٹل ہیلتھ آرڈیننس جاری کیا لیکن آج تک اس آرڈیننس کو صحیح معنوں میں نافذ نہیں کیا گیا۔ایک عالمی ادارے کی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں خودکشی کرنے والوں کی تعداد دس لاکھ سے تجاوز کرگئی ہے جن میں ایک چوتھائی سے زیادہ تعداد نوجوانوں کی ہے جبکہ پاکستان میں خودکشی کرنے والے افراد میں نوجوانوں کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔اس کااندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ پاکستان میں ہر سال چھ ہزار سے زائد افراد خودکشی کرتے ہیں ۔
تاریخ اشاعت: 2015-09-14

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان