بند کریں
جمعہ فروری

مزید سماجی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
نہر میں سر کے بل قلابازیاں لگانا ”جان لیوا ہو سکتا ہے“
گرمی کے اس موسم میں بھلا بچے پانی سے دور کیسے رہ سکتے ہیں چھوٹے بچوں کو تو واش روم جانے کا بہانہ چاہئے،کھلے لان یا صحن میں بار بار نہانا اور پانی بھرے ٹب میں بیٹھ کر پانی کے ساتھ کھیلنا یا پائپ کے ذریعے ایک دوسرے پر پانی پھینکنا
مظہر حسین شیخ:
پانی بچوں کا پسندیدہ کھیل ہے خاص طور پر اس موسم میں جب سورج آنکھیں دکھا رہا ہو شدت کی گرمی ہوتوکھلے اور ٹھنڈے پانی میں نہانے کو بہت جی چاہتا ہے،لیکن اس بات کا خاص خیال رکھنا چاہئے کہ پانی اتنا ہی اچھا جس میں دوبنے خطرہ نہ ہو۔موسم گرما ابھی عروج کو نہیں پہنچا لیکن پھر بھی بچے ٹولیوں کی صورت میں نہر میں نہانے جاتے ہیں ،حکومت نے نہر میں نہانے پر پابندی عائد کر رکھی ہے اور جگہ جگہ بورڈ یا بینرز نصب کررکھے ہیں لیکن بچے تو بچے بڑے بھی نہر کا رْخ کرتے ہیں ۔
یہ جانتے ہوئے کہ نہر میں نہانا خطرے سے خالی نہیں۔
گرمی کے اس موسم میں بھلا بچے پانی سے دور کیسے رہ سکتے ہیں چھوٹے بچوں کو تو واش روم جانے کا بہانہ چاہئے،کھلے لان یا صحن میں بار بار نہانا اور پانی بھرے ٹب میں بیٹھ کر پانی کے ساتھ کھیلنا یا پائپ کے ذریعے ایک دوسرے پر پانی پھینکنا رواں موسم میں بچوں کا پسندیدہ مشغلہ ہے، جونہی موسم گرما کا آغاز ہوتا ہے ابتداء میں کبھی بارش اور کبھی ہلکی پھلکی گرمی کبھی موسم خوشگوار تو کبھی سورج کی تپش۔
جون کے آغاز میں گرمی عروج کو پہنچ جاتی ہے‘ جبکہ بادلوں کا نام و نشان نہیں ہوتا رواں موسم گزشتہ ہفتے دو تین دن رات کے وقت خوب بارش ہوئی جس وجہ سے چند روز موسم خوشگواررہا۔
بچے گرمی کی شدت کو کم کرنے کے لئے بار بارنہانے کا بہانہ ڈھونڈتے ہیں جبکہ بڑے بچے نہر کا رْخ کرتے ہیں۔بدقسمتی یہ کہ گھروں میں لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پانی بھی نہیں آتااور ٹینکی کا پانی گرم ہوتا ہے اس سے نہانے کو جی نہیں چاہتا۔
مجبوراً بچوں کوگرمی کا زور توڑنے کے لئے نہر یا سوئمنگ پول پر جانے کا پروگرام بنانا پڑتا ہے۔دیہی علاقوں میں رہنے والے بچے نہریں‘ کھالوں پر نہاتے ہیں جب کہ شہروں میں رہنے والے بچے سوئمنگ پول یا تفریحی پارکوں کا رخ کرتے ہیں۔ نہانے کے بعد چند گھنٹے تو سکون سے گزر جاتے ہیں وہ بھی اگر برقی رو معطل نہ ہو تو۔پھر وہی گرمی‘ پسینہ اور گھبراہٹ شروع ہو جاتی ہے۔

والدین کا فرض ہے کہ بچوں کو سیروتفریح کے لئے اپنے ساتھ لے جائیں۔تاکہ ان کی بوریت دور ہو جائے۔اور اگر وہ نہر پر جانے کی ضد کرتے ہیں تو اس کے لئے کھلے پانی کا انتظام گھر پر ہی کردیں۔آج کے جدید دور میں چھوٹے چھوٹے پلاسٹک کے بنے ہوئے سوئمنگ پول جگہ جگہ دیکھنے کو ملتے ہیں چھوٹے بڑے ہر سائز کے سوئمنگ پول دستیاب ہیں ان میں ہوا بھر کر پانی سے بھر دیا جاتا ہے۔
اس پانی سے بچے بڑے شوق سے کھیلتے ہیں ننھے منے دوست اپنا یہ شوق اس سوئمنگ پول کے ذریعے ہی پورا کرتے ہیں اوران کو اس طرح پانی سے کھیلتا دیکھ کر بچپن یاد آجاتا ہے،گو کہ اس وقت کھلو نا نما سوئمنگ پول نہیں ہوتے تھے یہ شوق ٹیوب ویل سے نکلتے ہوئے ٹھنڈے پانی جس کو بمبی کہتے ہیں سے پورا کیا جاتا تھا اس بمبی کا پانی اتنا ٹھنڈا ہوتا تھا کہ چودہ نہیں بلکہ اٹھائیس طبق روشن ہو جاتے تھے۔

اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ آگ اور پانی پر قابو پانا انتہائی مشکل کام ہے۔آگ لگنے کے کئی واقعات آپ کی نظروں سے گزرے ہوں گے جس سے کئی ہلاکتیں ہو چْکی ہیں جبکہ موسم گرما میں بپھترتے دریا اورنہریں کئی بچوں اور بڑوں کو نگل چْکی ہیں ایسے کئی ناخوشگوار واقعات شہ سرخیوں کے ساتھ ٹی وی چینل اور اخبارات کی زینت بن چْکے ہیں۔اس موسم میں کئی دوست دریاوٴں کا رخ کرتے ہیں آپ کو معلوم ہونا چاہئے کہ پانی زندگی کی بنیادی ضرورت ہے اور اس کے بغیر کوئی جاندار زندہ نہیں رہ سکتا،اور پانی ہی انسان،خیوان اورفصلوں کا دْشمن ہے ضرورت سے زیادہ پانی تباہی مچا دیتا ہے بپھرتاپانی مال مویشی اور کئی جانیں بہا کر لے جاتا ہے۔
پانی انسان کا دوست بھی ہے اور دْشمن بھی، برسات کی بارشوں کے دوران جب ضرورت سے زیادہ بارشیں ہوتی ہیں تو بہت نقصان ہوتا ہے۔ اس لئے بپھرتے دریاوٴں اور نہروں کا رخ کرنے سے بہتر ہے کہ ایسی جگہ جایا جائے جہاں پانی گہرا نہ ہواور اس کا بہاوٴ تیز نہ ہو۔ پانی اتنا ہونا چاہئے جو قد سے نصف ہو۔
نہر میں نہانا بھی خطرے سے خالی نہیں اس پانی سے نہ صرف جلد کی بیماری جنم لیتی ہے بلکہ گلے اور پیٹ کی بیماریاں پھیلنے کا بھی خطرہ بھی سر پر منڈلاتا رہتا ہے جبکہ دوسری طرف نہر میں کہیں گہرائی زیادہ اور کہیں کم ہوتی ہے کم گہرائی میں نہاتے ہوئے پانی کا بہاوٴ دور لے جاتا ہے اور یہ اندازہ لگانا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہوتا ہے کہ یہاں پانی کی گہرائی کتنی ہے؟پانی گردن تک ہو تو اپنے آپ کو سنبھالنا مشکل ہوتا ہے قد سے زیادہ پانی میں نہانا یا قد کے برابر پانی میں نہانا بھی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے بعض پیراک اپنے کرتب‘ دکھاتے ہوئے ڈوبتے ہیں حالانکہ ان کو اچھا تیرنا آتا ہے لیکن پانی کے آگے کسی کا زورنہیں چلتا۔
بعض اوقات معمولی سا ایک غوطہ بھی جان لیوا ثابت ہوتا ہے۔سوئمنگ پول میں نہانا بہت اچھی ورزش بھی ہے،ہاتھ پاوٴں حرکت میں آتے ہیں ،اور بھوک بھی بہت لگتی ہے،اگر آپ سوئمنگ پول جانے کی سکت رکھتے ہیں تو ضرور جانا چاہئے اور پیراکی سیکھنی چاہئے،ہر سال پیراکی کے مقابلے ہوتے ہیں اور پوزیشن حاصل کرنے والوں کو انعامات سے نوازا جاتا ہے۔ہر کا م میں احتیاط لازم ہے لیکن اس بات کا خاص خیال رکھا جائے کہ جب تک سوئمنگ نہ آ جائے گہرے پانی میں داخل ہونے کی کوشش ہرگز نہ کریں۔
ہر سوئمنگ پول پر انسٹریکٹر ہوتا ہے جس کا کام بچوں کو پیراکی سکھانا ہے اس کی زیر نگرانی پیراکی سیکھیں۔ شروع میں یہ پانی چار فٹ گہرا جبکہ بعد میں اس کی گہرائی سلائیڈ کی صورت میں بیس فٹ تک جا پہنچتی ہے۔سیکھنے کے ابتدائی عمل میں چارفٹ سے زیادہ پانی میں جانے کی کوشش مت کریں۔
تاریخ اشاعت: 2015-05-25

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان