بند کریں
بدھ جنوری

مزید سماجی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
مردہ گوشت کا گھناؤنا کاروبار
کچھ عرصہ قبل گائے بکرے کے گوشت میں پانی کی آمیزش سے اسکے وزن کو بڑھانے نے کا فارمولا آزمایا جا رہا تھا تاکہ زیادہ سے زیادہ منافع کمایا جاسکے۔ مگر آج صورت حال اس سے بھی زیادہ گھمبیر ہو گئی ہے
خالد یزدانی:
اسلامی تعلیمات میں اس بات کو بھی اہمیت دی گئی ہے کہ ناپ تول میں بھی انصاف کرو اور اگر کسی بھی چیز میں کوئی کمی یا خرابی ہے تو دکاندار کا فرض ہے کہ خریدار کو اس سے بھی آگاہ کرئے۔ مگر آج وطن عزیز پاکستان میں ملاوٹ سے پاک اشیائے ضروریہ کا تصوربھی ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے اور ہر ایک کا دعویٰ یہی ہوتا ہے کہ اس کی اشیا کوالٹی میں سب سے بہتر ہیں۔
یہ حقیقت ہے کہ صاف ستھری اور خالص اشیا ہی انسانی صحت کی ضامن ہوتی ہیں ملاوٹ شدہ خراب یا پرانی ہونے کی وجہ سے ایسی ا شیا کے انسانی صحت پر بھی مضر اثرات مرتب ہوتے ہیں بلکہ کئی دفعہ انسانی جانوں کے لئے بھی خطرناک ثابت ہوتے ہیں اسی لئے آج دنیا بھر میں کھانے پینے کی تمام اشیاء پر تاریخوں کا اندراج واضح طور پر پرنٹ کیا جاتا ہے کہ اس تاریخ تک یہ قابل استعمال ہیں۔
اس کے بعد ان کا استعمال نہیں کرنا چاہئے۔
پاکستان میں آج دیگر کئی اشیاء کی طرح گوشت میں بھی ہیرا پھیری کی جا رہی ہے کچھ عرصہ قبل گائے بکرے کے گوشت میں پانی کی آمیزش سے اسکے وزن کو بڑھانے نے کا فارمولا آزمایا جا رہا تھا تاکہ زیادہ سے زیادہ منافع کمایا جاسکے۔ مگر آج صورت حال اس سے بھی زیادہ گھمبیر ہو گئی ہے حال ہی میں میڈیا پر آنے والی خبروں کے مطابق غیر معیاری گوشت کی فروخت تو ہو ہی رہی تھی مگر اب مردہ جانوروں کا گوشت بھی بڑی تعداد میں ان علاقوں میں لاکر فروخت کیا جا رہا ہے جہاں مانگ زیادہ ہے۔
کچھ عرصہ قبل اوکاڑہ سے لاہور آنے والی ایک وین کو قانون نافذ کرنے والے ادارے نے روک کر چیک کیا تو معلوم ہوا اس میں مردہ گدھوں کا کئی سو من گوشت موجود تھا جو لاہور کے مختلف علاقوں کے ہوٹلوں کی سپلائی کیا جانا تھا اور یہ سلسلہ کب سے جاری تھا اس سلسلے میں سوار افراد کو گرفتار کر کے پوچھ گچھ کا سلسلہ جاری ہے ا۔ اسی طرح کی کاروئیاں ملک کے چھوٹے بڑے شہروں میں اگر ہو ر ہی ہیں تو دوسری طرف ان عناصر کے خلاف جو چند روپوں کے لالچ میں عوام کو ایسا مضر صحت گوشت فروخت کرنے کا گھناؤنا کاروبار کر رہے ہیں جس سے ان کو کھانے والا اگر مرنے سے بچ بھی جاتا ہے تو کئی خطرناک امراض کا شکار تو بن سکتا ہے اور انجانے میں اب تک لذت کام ودہن کے لئے بڑے ہوٹلوں اور تکہ شاپس کا رخ کرنے والے اس بات سے بے بہرہ ہوتے ہیں کہ خوشنما، خوشبو دار، مصالحوں اور صاف ستھری پلیٹوں میں ”سرو“ کیا جانے والا یہ ”زہر“ حضرت انسان کی صحت پرکیا اثرات ڈالے گا۔
چند روز قبل لاہور کی ٹولنٹن مارکیٹ میں بھی ضلعی انتظامیہ نے لائیو سٹاک ڈیپارٹمنٹ کے ساتھ ایک خفیہ اطلاع پر مشترکہ طور پر کارروائی کرتے ہوئے تین سو کلو مردہ برائلر گوشت قبضے میں لے لیا تھا اس موقع پر ڈسٹرکٹ آفسر لائیو سٹاک اور ڈی ڈی او نے بتایا تھا کہ مردہ مرغیوں کا یہ گوشت شیرانوالہ کے علاقہ سے لایا گیا تھا اور جب ہم نے ٹولنٹن مارکیٹ میں اپنے عملہ کے ساتھ کارروائی کی تو ملزمان فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے تھے جنہیں گرفتار کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔
متعلقہ افسران نے یہ بھی بتایا تھا کہ ان مردہ مرغیوں کا گوشت چھوٹے علاقوں کے ہوٹلوں کو زیادہ تر فروخت کیا جاتا ہے جہاں زیادہ تر تکہ کباب بنانے والے اسے استعمال کرتے ہیں۔ اس حوالے سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اب ٹولنٹن مارکیٹ میں محکمہ لائیو سٹاک نے اپنے ایسے افراد بھی تعینات کئے ہیں جو یہاں کی خفیہ نگرانی کرتے ہیں اور ایسا گھناؤنا کاروبار کرنے والوں کی فون پر فوراً اعلیٰ حکام کو اطلاع دیتے ہیں جس پر فوری طور پر کارروائی کی جاتی ہے۔

انسان پیسہ کمانے میں اتنا گر سکتا ہے اسکا تصور کرنا مشکل ہے۔ چند پیسوں کی لالچ میں مردہ جانوروں کے گوشت کو فروخت کرنے جیسے کاروبار سے اب گدھوں تک کے گوشت کو فروخت کرنے والے کسی رو رعائت کے مستحق نہیں اور اس مذموم کاروبار کو روکنے کے لئے وسیع پیمانے پر کارروائی کرنیکی ضرورت ہے۔ کیونکہ ان تمام اقدامات کے باوجود ملک کے ان حصوں میں جہاں گائے بکرے اور مرغیوں کے گوشت کی مانگ میں زیادہ اضافہ ہو وہاں ایسا گھناؤنا اور مکروہ کاروبار کرنیوالے لالچی افراد کی بھی کمی نہیں ہوتی جو انسانی ضروریات کو مد نظر رکھ کر یہ کام کرتے ہیں اور اس میں ایسا دھندہ کرنے والوں کے ساتھ ان کو خرید نے والے بھی برابر کے شریک ہوں گے کیونکہ ان کو ایسا گوشت نسبتاً کہ قیمت پر ملتا ہوگا۔

مرغیوں کا کاروبار کرنے والوں کے بارے میں مشہور ہے کہ مرغیوں کو شہروں میں سپلائی کرنے کے لئے لایا جاتا ہے تو راستے میں درجنوں مرغیاں مر جاتی ہیں جنہیں ٹھنڈی مرغی اور زندہ مرغیوں کے لئے گرم کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔ حکومت او رضلعی انتظامیہ کی طرف سے ایسا گھناؤنا کاروبار کرنے والے افراد کی نشاندہی کے لئے وقتاً فوقتاً الیکٹرک اور پرنٹ میڈیا پر تشہیری مہم بھی چلاتے رہتے ہیں تاکہ ایسے عناصر کے بارے میں کسی کو علم ہوتو وہ ان کو آگاہ کریں مگر آج صورت حال یہ ہے کہ آئے دن تمام تر اقدامات کے باوجود ایسا گھناؤنا کاروبار کرنے والے بیانگ دہل کر رہے ہیں اوراس میں قانون نافذ کرنے والے ان عناصر کو بھی گرفت میں لینا ہوگا جو ان کی پشت پناہی کرتے ہیں جن کی وجہ سے یہ انسانی صحت کے دشمن قانون کی گرفت سے بچ نکلتے ہیں اسکے لئے عوامی سطح پر مختلف تنظیموں کو بھی آگے بڑھ کر کام کرنا ہوگا تاکہ شہری رقم خرچ کرنے کے باوجود مردہ خوری سے تو محفوظ رہ سکیں اسکے لئے خریدار پر بھی کچھ ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں کہ وہ بھی اپنی آنکھیں کھلی رکھے۔
تاریخ اشاعت: 2014-12-13

(1) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان