بند کریں
اتوار فروری

مزید سماجی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
محرم الحرام باہمی رواداری اور اخوت و محبت کا مہینہ
محرم الحرام ایثار، قربانی، اتحاد امت، باہمی رواداری اور پرامن بقائے باہمی کا درس دیتا ہے۔ مدینہ طیبہ سے میدان کربلا تک اسلام کے لئے عظیم قربانیوں کی تاریخ اسی ماہ مبارک سے وابستہ ہے
مولانا عبدالروٴف فاروقی:
محرم الحرام ایثار، قربانی، اتحاد امت، باہمی رواداری اور پرامن بقائے باہمی کا درس دیتا ہے۔ مدینہ طیبہ سے میدان کربلا تک اسلام کے لئے عظیم قربانیوں کی تاریخ اسی ماہ مبارک سے وابستہ ہے اور اس ماہ مبارک نے ان قربانیوں کی عظمت و فضیلت کو چار چاند لگا دیئے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے ماہ محرم کو اْس دن سے عزت و احترام اور حرمت و فضیلت کا مہینہ قرار دیا ہے جب سے قرآن مجید کے الفاظ میں ”جس دن اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کو پیدا کیا) اور سال کے بارہ مہینوں میں سے جن چار کو محترم قرار دیا اُن میں محرم سرفہرست ہے۔
قبل از اسلام زمانہ جاہلیت میں بھی ان مہینوں کا احترام کیا جاتا تھا۔ اسلام نے قرآن مجید کی تصدیق اور شہادت سے اس ازلی حرمت کو ابدی حرمت بنادیا ہے۔ اسلامی تقویم کا پہلا اور رسول اللہ ﷺ کی ہجرت مدینہ کے لئے فیصلوں اور تیاریوں کے لئے اہم مہینہ ہونے کی وجہ سے محرم الحرام ممتاز ہے اور پھر جس طرح قبل از اسلام تاریخ کے ایسے عظیم واقعات اس ماہ مبارک میں پیش آئے جنہوں نے انسانیت کو اپنی طرف متوجہ کیا۔
اسی طرح دور نبوت و رسالت اور اسلام کے صدر اوّل میں ایسے واقعات پیش آئے کہ امت مسلمہ انہیں فراموش نہیں کرسکتی۔ خاص طور پر یکم محرم الحرام کوخلیفہ دوم مراد رسولﷺ سیدنا حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور دس محرم الحرام کو نواسہء رسول سیدنا حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اپنے قافلہ اور خاندان نبوت کے افراد کے ساتھ شہادت کے واقعات نہ صرف مسلمان بلکہ انسانیت اور تاریخ انسانیت ان سے متاثرہ ہوئے بغیر نہ رہ سکی۔
ان اہم واقعات کی وجہ سے امت نے اسلام کی سربلندی کی لئے جدوجہد کے سفر کو مدینہ و کربلا سے وابستہ کر لیا ہے کہ خون شہادت سے اسلامی تاریخ سرخ رْو ہے اور مسلمان کا ایمانی جذبہ اپنے اندر مسلسل حرارت محسوس کرتا ہے۔
عدل اجتماعی اسلام کی اساس ہے اور اس کے لئے ایک طرف حضرت سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا اسوہء قابل تقلید ہے تو دوسری طرف اپنی اور اپنے خاندان کی جانوں کا نذرانہ پیش کرنا لازوال مثال ہے۔
جس کے لئے خاندان نبوت اور سیدنا حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا صبر و رضا۔ اعلائے کلمة اللہ، جرأت و استقامت اور جس موٴقف کو حق سمجھتے تھے اس کے لئے ہر مخالف کے ساتھ ٹکرا جانا، ایک ایسا کردار ہے جس نے تاریخ کو ، کربلا کو، اُمتِ مسلمہ کو اور ایمانی جذبوں کو زندہ و جاوید کر دیا ہے۔
ان قربانیوں کا سب سے بڑا سبق ہے ذاتی جذبات و خواہشات اور مفادات کی ، کسی عظیم مقصد کے لئے ”قربانی “ ہے۔
آج کے حالات میں جب اسلامی جمہوریہ پاکستان بیرونی دباوٴ کا شکار ہے اور چاروں طرف سے پاکستان کو دشمن طاقتوں نے اپنے گھیرے میں لے رکھا ہے۔ ان حالات میں داخلی طور پر رواداری اور پر امن بقائے باہمی کے اصول پر عمل کیا جائے اور داخلی انتشار کی ہر کوشش کو ناکام بنایا جائے۔ یہی وقت کی ضرورت ہے اور محرم الحرام کا پیغام ہے اور اسی میں امت کی عظمت رفتہ کو بحال کرنے کی سب سے بڑی تدبیر بھی ہے۔ جس کیلئے علماء کرام کے ساتھ ساتھ قومی اداروں کی بھی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے۔
تاریخ اشاعت: 2014-11-01

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان