بند کریں
بدھ جنوری

مزید سماجی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
ملاوٹ کرنے والے
کسی رعایت کے مستحق نہیں ناپ تول میں کمی بیشی اور اشیاء خودرونوش میں ملاوٹ پر انی برائیاں ہیں اور قرآن و حدیث کے مطالعے سے یہ بات روز روشن کی طرح سامنے آتی ہے
حمد اسلم وٹو :
ناپ تول میں کمی بیشی اور اشیاء خودرونوش میں ملاوٹ پر انی برائیاں ہیں اور قرآن و حدیث کے مطالعے سے یہ بات روز روشن کی طرح سامنے آتی ہے کہ پہلی قوموں میں یہ برائیاں موجود رہی ہیں اور کئی قومیں اس برائی کی وجہ سے قہر الہی اور غضب خدا وندی کی لپیٹ میں بھی آئی ہیں ایسے عذا ب کا شکا ر بننے والی قوموں کا ذکر قرآن و حدیث میں بکثر ت ملتا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گر امی ہے کہ ”جس نے ملاوٹ کی وہ ہم میں سے نہیں ہے،، لیکن بد قسمتی سے ہم نے دیگر ارشادات نبوی کی طرح اس فرما ن مبارک کو بھی پس پشت ڈال کر اپنے کاروبار ی زندگی کے معاملات میں ایسے الجھے ہیں اور کثرت مال کی ہوس نے ہمیں دین سے دور کر کے بے راہ روی کا شکا ر بنا دیا ہے اور تھوڑا لگا کر زیادہ کمانے کے لالچ نے حرام وحلال کی تمیز ختم کر دی ہے جیسے جیسے زمانہ تر قی کی منزلیں طے کر رہا ہے اسی انداز میں انسان کا شعور بلندی کی طرف رواں دواں ہے اس آگاہی اور شعور کی نعمت کو ہم منفی اور مثبت دونوں طرح استعمال میں لا کر اپنی زندگیوں کو خوش حال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن یہ حقیقت بھی اٹل ہے کہ یہ دنیاوی زندگی چند روز کا کھیل تماشا ہے ہماری آنکھوں پر خواہشات نفس نے حرص و ہوس کی پٹی باندھ رکھی ہے جس کی وجہ سے ہمیں اپنے مفاد کے علاوہ کوئی اور چیز نظر ہی نہیں آتی، ہم اپنے تھوڑے سے مفاد کی خاطر دوسروں کی زندگیوں کو داؤ پر لگانے سے بھی گریز نہیں کرتے، اشیاء خودرونوش میں ملاوٹ یہ صرف مالی نقصان پہنچاتی ہے بلکہ انسانی جانوں کو بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچتا ہے اس دنیا میں انسانی جان سے زیادہ قیمتی کوئی چیز نہیں ہے مگر ہم انسان ہو کر دوسرے انسانوں کی زندگیوں کو داؤ پر لگا رہے ہیں اور ایسا کرتے وقت ہمیں ایک لمحے کے لیے بھی احساس نہیں ہوتا کہ یہ انسانوں کا کام نہیں ہے بلکہ درندگی ہے کیونکہ دوسرے انسانوں کی زندگی سے کھیلنا درندوں کا کام ہوتا ہے، ہم کاروباری زندگی کے معاملات میں الجھ کر زیادہ سے زیادہ منافع کمانے کا سوچتے ہیں اس کے لیے خواہ کوئی بھی طریقہ اپنانا پڑے اس کی پرواہ نہیں کرتے ہیں اس بات کو بھول جاتے ہیں کہ ایک بزنس مین ہونے کے ساتھ ہم مسلمان بھی ہیں اور اسلام نے ہمیں کاروبار کے طریقے اور اصول بڑی وضاحت کے ساتھ بتائے ہیں اور ناپ تول میں کمی بیشی اور ملاوٹ کرنے سے سختی سے منع کیا ہے کیونکہ ایسا کرنے سے دوسروں کو مالی اور جانی نقصان پہنچتا ہے اور ہمارا مذہب تو دوسرے انسانوں کے علاوہ جانوروں تک فائدہ پہنچانے کا درس دیتا ہے، مگر افسوس کہ ہم نے کاروبار زندگی میں سے اسلام کو باہر نکالا ہوا ہے اور اسلام کے سنہری اصولوں کو پس پشت ڈال کر خود ساختہ زیادہ منافع کمانے کے طریقے ایجاد کر کے اپنے ساتھ دوسرے لوگوں کی زندگیوں کو بھی تباہ و برباد کر رہے ہیں، آج مارکیٹ میں ہر چیز کی نقل اصل چیز کی قیمت پر دستیاب ہے جعلی ادویات تیار کر کے انسانی زندگیوں سے بھی کھیلا جا رہا ہے، ایسی ادویات تیار کرنے والوں کو ایک لمحے کے لیے بھی خیال نہیں آتا کہ یہ انسانی زندگی کا معاملہ ہے کوئی کیڑے مکوڑوں پر تجربہ نہیں کیا جا رہا ہے مگر کثرت دولت کی خواہش نے دلوں سے خوف خدا اور انسانی ہمدردی کو نکال دیا ہے یہی وجہ ہے کہ جعلی ادویات کے استعمال اور ایک خاص قسم کے کھانسی کے شربت پینے سے کئی انسانی جانیں ضائع ہو چکی ہیں کاغذی کارروائی اور خانہ پری کرنے کے لیے انکوائری کمیٹیاں بنا کر مٹی ڈال دی جاتی ہے اور ان انسان دشمنوں اور انسانیت کے قاتلوں کے خلاف قانون حرکت میں نہیں آتا، اور وہ درندے پھر اپنی درندگی میں مصروف ہو جاتے ہیں، دودھ بھی خدا کی ایک نعمت ہے مگر اس نعمت کا بھی ہم نے جو حشر نشر کر رکھا ہے اللہ کی پناہ، اس دور میں خالص دودھ کا ملنا جوئے شیر سے بھی مشکل ہو چکا ہے اور یہ مسئلہ صرف بڑے شہروں کا نہیں ہے اب تو دیہات میں بھی خالص دودھ بڑی مشکل سے ملتا ہے پہلے زمانے میں تو دودھ میں پانی ڈالا جاتا تھا مگر آج کے اس ترقی یافتہ دور میں دودھ کی مقدار کو بڑھانے کے لیے ایسے ایسے طریقے ایجاد ہو چکے ہیں کہ عام آدمی یہ طریقے جان کر حیران رہ جاتا ہے پہلے دودھ میں پانی ملانے اور زیادہ دودھ کے حصول کے لیے بھینسوں کو ٹیکے لگانے کا رواج عام تھا یہ ٹیکہ بھینس کے اعصاب کو فوراً ڈھیلا کر دیتا ہے تو ایسے دودھ کے استعمال کرنے والے بچے بوڑھے اور جوان سستی اور کاہلی کا شکار ہونے لگتے ہیں آج کے نوجوان نسل میں تھکاوٹ، سستی اور کاہلی کی جو علامات پائی جاتی ہیں اس کی بڑی وجہ ایسے دودھ کے استعمال کی ہے، بھینسوں کو ٹیکہ لگانے کے علاوہ اب ایک ایسے زہریلے کیمیکل کی ملاوٹ کا انکشاف ہوا ہے ایسے دودھ کے استعمال کرنے سے کئی طرح کی موذی بیماریاں پیدا ہو رہی ہیں مگر اس پر قابو پانے کے لیے کوئی طریقہ نہیں اپنایا جا رہا ہے دودھ میں مختلف کیمیکل کی ملاوٹ کے علاوہ ایک اور خرابی بھی ہے وہ یہ کہ گوالے دودھ کے لیے پلاسٹک کے بنے ہوئے ڈرم استعمال کر رہے ہیں اور عام طور پر گوالے یہی ڈرم دودھ کی سپلائی کے لیے استعمال کر تے ہیں ، ہمارے ہاں بد قسمتی سے چیک اینڈ بیلنس کا کو ئی مو ثر نظام نہیں ہے اس لیے جس کے دل میں جو کچھ آتا ہے وہ کر رہا ہے اور جب پا نی سر سے گزر جا تا ہے تو متعلقہ محکمہ خواب غفلت سے بیدار ہو تا ہے اور سانپ گزرجا نے کے بعد لکیر کو چند دن پیٹنے کے بعد پھر خا موشی اختیار کر لی جا تی ہے پنجاب اور وفاق میں مسلم لیگ ن کی حکو مت قائم ہو چکی ہے مسلم لیگ ن کی حکو مت کو چا ہیے کہ وہ اس سنگین اور انتہائی سنجیدہ مسئلے پر پہلی فرصت میں قابو پا نے کے لیے اقدام اٹھا ئیں گے کیو نکہ انسانی جانوں سے کھیلنے والے کسی رعائت اور معافی کے لا ئق نہیں ہیں ، کیونکہ یہ انسانی جانوں کا معاملہ ہے۔
تاریخ اشاعت: 2014-02-01

(0) ووٹ وصول ہوئے