بند کریں
منگل فروری

مزید سماجی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
میڈیا کی آزادی
اس کی حدود متعین کرنے کی ضرور ت ہے۔۔۔حامد میر سمیت کسی بھی صحافی یا میڈیا گروپ پر ہونے والے حملے کی حمایت نہیں کی جاسکتی۔ اس حملے کے بعد معاصر میڈیا گروپس نے جس طرح کی فضا پیدا کرنے کی کوشش کی
عمران ملک:
سینئر صحافی حامد میر پر حملے نے اتنے سوال نہیں اٹھائے جتنے سوال اس حملے کے بعد ہونے والے میڈیا پروگرامز نے اٹھا دئیے ہیں۔ سینئر صحافی و اینکر سے پہلے بھی میڈیا گروپس اور صحافیوں پر حملے ہوتے رہے ہیں اور اس حملے کے بعد بھی یہ سلسلہ جاری ہے بلکہ اس کے بعد فائرنگ کے ایک واقعہ میں ایک صحافی قتل بھی ہوچکا ہے لیکن اسے محض ایک کالمی خبر سے زیادہ اہمیت نہیں دی گئی۔
حامد میر سمیت کسی بھی صحافی یا میڈیا گروپ پر ہونے والے حملے کی حمایت نہیں کی جاسکتی۔ اس حملے کے بعد معاصر میڈیا گروپس نے جس طرح کی فضا پیدا کرنے کی کوشش کی اسے بھی قابل تعریف نہیں کہا جاسکتا ۔ اس سے ایک ایسی فضا پیدا ہونے لگی تھی جو پاکستان کیلئے نقصان دہ تھی۔
اس ساری صورتحال میں سب سے پہلے غلطی خود حامد میر سے ہوئی۔ ان کے بقول انہیں ایک سکیورٹی اہلکار نے بتایا تھا کہ انکا نام ایک ایسی لسٹ میں شامل ہے جنہیں نشانہ بنایا جائے گا۔
سکیورٹی اہلکار کا خود آکر سینئر صحافی کو خطرہ سے آگاہ کرنا ظاہر کرتا ہے کہ اس ادارے نے صحافی کو محتاط رہنے کا کہا تھااور ان کا مطلب یہ تھا کہ صحافی اپنی حفاظت کی جانب سے غافل نہ ہوں۔ سینئر صحافی نے اس ہمدردی کو دوسرے رخ سے دیکھا اور اس اہلکار کو بھی کہہ دیا کہ مجھے آئی ایس آئی سے خطرہ ہے، آپ یہ بات اپنے افسران کو بھی بتا دیں۔ یہ نہ صرف ادارے کی رپورٹ کو جھٹلانے کے مترادف تھا بلکہ انہوں نے اس اطلاع کو ادارے کی جانب سے دھمکی کے طور پر لیا۔
اس کے بعد مبینہ طور پر انہوں نے ایک ویڈیو بیان ریکارڈ کرایا جس میں انہوں نے اپنے اوپر کسی بھی قسم کے حملے کی صورت میں اس کا ذمہ دار پاکستان کے سب سے بڑے خفیہ ادارے آئی ایس آئی اور اس کے چیف سمیت اہم افسروں کو ٹھہرایا۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ انہوں نے یہ بیان پاکستان کے کچھ اداروں اور اہم شخصیات کے ساتھ ساتھ غیر ملکی میڈیا گروپس اور تنظیموں کو بھی بھیج دیا تھا۔
بظاہر انہوں نے یہ قدم اپنی حفاظت کیلئے اٹھایا تھا لیکن یہ ان کی بہت بڑی غلطی تھی۔ اس ویڈیو بیان کے بعد ایک طرح سے انہوں نے تمام پاکستان دشمن غیر ملکی خفیہ اداروں کو اپنی جانب متوجہ کرلیا تھا۔ اس ویڈیو کو مختلف صحافتی حلقوں میں پھیلانے کے بعد یہ بات ممکن نہ رہی تھی کہ اس کی بھنک ان طاقتوں کو نہ ہوسکے۔ اس کے بعد انجانے میں وہ ان طاقتوں کیلئے ”ہاٹ ٹارگٹ“ بن گئے جو پاکستان اور آئی ایس کو بدنام کرنے کی تگ و دو میں تھے۔
صورتحال یہ بھی کہ انہیں جو بھی نشانہ بناتا اس ویڈیو نے سامنے آجانا تھا اور اس کی رو سے اس کی ذمہ داری آئی ایس پر ڈالی جانی تھی۔
سینئر صحافی پر حملے کے بعدد وسری بڑی غلطی انکے بھائی کا بیان تھا جس نے صورتحال کو متنازہ کردیا اور سینئر صحافی کے زخمی ہونے کے بعد ان سے ہمدردی رکھنے والی کئی افراد کو متنفر کردیا۔ عین ممکن ہے ان کے بھائی اور خاندان کی جانب سے اس حملے کے بعد دکھ، صدمے اور جذباتیت کے عالم میں احتیاط کا دامن چھوٹ گیا ہو لیکن معاصر میڈیا گروپ نے اس پر جس طرح کی رپورٹنگ ، تجزیے اور پروگرام کئے اس نے نہ صرف زخمی صحافی کا کیس خراب کردیا بلکہ وطن عزیز کو مزید انتشارکی جانب دھکیل دیا۔
اسے مختلف طبقات نے غیر ذمہ دارانہ رویہ قرار دیا او سچ یہ ہے کہ اسے بنیاد بنا کر بھارتی میڈیا سمیت عوالمی میڈیا نے پاکستان کے خلاف خوب کیچڑ اچھالا جس سے وطن عزیز کی بدنامی ہوئی۔ اس صورتحال سے مخالف میڈیا گروپس نے بھی خوب فائدہ اٹھایا اور ایک صحافی پر ہونے والے حملے میں اصل صورتحال دب گئی جبکہ میڈیا اور قومی اداروں میں محاذ آرائی شروع ہوگئی جس کا سب سے بڑا نقصان پاکستان کو ہی ہوا او عوالمی سطح پر بھی ہماری ساکھ خراب ہوئی۔

اب اس صورتحال میں یہ بات واضح ہے کہ میڈیا کے حالیہ رویے کو عوامی سطح پر بھی پسند نہیں کیا جارہا۔ میڈیا کا کام خبر دینا ہے اور صورتحال کی درست عکاسی کرنا ہے۔ میڈیا تھانیدار یا جج ہر گز نہیں ہے۔ اسی طرح میڈیا پر بھی قوانین کی پابندی ضروری ہے۔ جب عراق اور افغاسنتان سے امریکی فوجیون کی لاشیں واپس آنا شروع ہوئی تو امریکی حکومت نے سختی سے ملکی میڈیا کو منع کردیا تھا کہ نہ تو یہ لاشیں دکھائی جائیں گی اور نہ ہی ان کی اصل تعداد بتائی جائے گی۔
ان کا مقصد امریکی عوام کا حوصلہ بلند رکھنا تھا۔امریکی میڈیا کو آزادی اظہار رائے کا چیمپئن کہا جاتا ہے لیکن اس آزاد میڈیا نے بھی اس حکومتی حکم نامے کی پابندی کی۔ اس مثال کا مقصد صرف یہ واضح کرنا ہے کہ آزادی اظہار رائے کی بھی کچھ حدود ہوتی ہیں۔ جہاں بات ملکی مفادات کی ہو، وہاں آزادی اظہار رائے ختم ہوجاتی ہے۔ حب الوطنی کا تقاضا یہی ہے کہ ملکی مفادات کا تحفظ سب سے پہلے کیا جائے۔

ملکی مفادات کے تحفظ کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ اگر کسی ادارے کا کوئی فرد قانون کو ہاتھ میں لے اور مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث ہو تو اسے کچھ نہ کہا جائے لیکن اس کا یہ مطلب ضرور ہے کہ ملکی وقار کی دھجیاں نہ ڑائی جائیں۔ حامد میر پر ہونے والے حملے کے حوالے سے وہ، ان کا خاندان یا ان کا ادارہ آئی ایس آئی یا ان کے چیف کو ذمہ دار سمجھتے تھے تو اس سلسلے میں بغیر ثبوت آئی ایس آئی جیسے معتبر ادارے پر کیچڑ اچھالنے یا الزام تراشیوں کی بجائے حکومت ، وزیر دفاع اور آرمی چیف سے انکوائری کا مطالبہ کیا جاسکتا تھا۔
فوج کے قوانین کے مطابق بھی اگر کوئی فوجی افسر یا اہلکار قوانین کی خلاف ورزی کرے تو اس کا کورٹ مارشل تک کیا جاتا ہے۔ متاثرہ فریق فوج کے سربراہ کو ثبوت فراہم کر کے کارروائی کا مطالبہ کرسکتے تھے تاکہ اصل صورتحال واضح ہوسکے لیکن بدقسمتی سے یہاں دوسرا راستہ اپنایا گیا جس سے پاکستان کو نقصان پہنچا۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ اہم شخصیات خصوصاَ وزیر اعظم اور آرمی چیف اس معاملے کو سلجھانے کی کوشش کریں اور دوسری جانب میڈیا کو بھی ضابطہ اخلاق کی پابندی کرنے کے ساتھ ساتھ منفی ہتھکنڈوں سے روکنے کیلئے بھرپور لائحہ عمل تیار کیا جائے۔
میڈیا کے کردار پر اٹھتی انگلیوں کو میڈیا کے نمائدے ہی روک سکتے ہیں۔ میڈیا گروپس اور تنظیموں کو بھی اس سلسلے میں آگ آنا ہوگا۔ یہ وقت جذباتیت اور مفادات سے زیادہ پاکستان کی تعمیر و ترقی کا ہے ۔ ہمیں ہر صورت اپنے وطن کو آگے لانے میں اپنا کردار ادا کرنا ہے۔
تاریخ اشاعت: 2014-05-12

(0) ووٹ وصول ہوئے