بند کریں
منگل فروری

مزید سماجی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
منشیات کے سوداگر اور رگوں میں اندھیرے
نشئی لوگ مختلف نشہ آور اشیاء خریدنے کے لئے اپنے گھرو ں کا سامان تک فروخت کر دیتے ہیں۔ گھر کے ایک ایسے ہی نشہ آور سربراہ نے چند ہفتے پہلے نشے میں دھت ہو کر ایک منشیات فروش کے پاس اپنی بیٹی فروخت کر دی تھی
احمد کمال نظامی:
گذشتہ چند دنوں میں منشیات کے عادی افراد کے حوالے سے مختلف علاقوں سے اچھی خبریں نہیں آئی ہیں۔ نشئی لوگ مختلف نشہ آور اشیاء خریدنے کے لئے اپنے گھرو ں کا سامان تک فروخت کر دیتے ہیں۔ گھر کے ایک ایسے ہی نشہ آور سربراہ نے چند ہفتے پہلے نشے میں دھت ہو کر ایک منشیات فروش کے پاس اپنی بیٹی فروخت کر دی تھی لیکن اس کی بیوی کو بروقت پتہ چل گیا کہ اس کے شوہر نے کیا گل کھلایا ہے لہٰذا وہ شک پڑنے پر اپنے گھر سے نکل کر سیدھی منشیات فروشوں کے اڈے پر پہنچ گئی اور اس نے ایک سفید پوش منشیات کے دھمکی لگا دی کہ اس کے شوہر نے اسے بتا دیا ہے کہ وہ بیٹی کو ہیروئن کے پاوٴڈر کے لئے فروخت کر آیا ہے اور اس نے اس سلسلہ میں اپنی بیٹی کے خریدار کا نام بھی نہیں چھپایا۔
پہلے تو اس بچی کے ہونے سے انکار کرتا رہا اور جب اس نے دیکھا کہ اس کے منشیات کے روزمرہ کے گاہک کی بیوی اس معاملہ کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ ساتھ میڈیا میں لے جانے کی باتیں کر رہی ہے تو اس نے بچی کا اپنے پاس ہونے کا اعتراف کر لیا اور بتایا کہ اس بچی کے باپ نے وعدہ کیا کہ وہ شام تک پورے ایک ماہ اس سے لی جانے والی ”پڑیوں“ کا حساب اسے چکا کر اپنی بیٹی کو واپس لے جائے گا۔
اس بچی کی عمر صرف تین سال تھی۔ منشیات فروش نے اسے کھلونے دے کر اپنے ایک ساتھی منشیات فروش کے گھر رکھ لیا تھا اور انہیں یقین تھا کہ بچی کا باپ ان کی رقم نہیں لا سکے گا اور معاملہ ٹھنڈا پڑنے پر وہ اس بچی کو فروخت کر کے اپنی ادھار کی رقم معہ سود کما لیں گے۔ منشیات فروش میں درمیان میں معزز آدمیوں کو ڈال کر یہ خاتون بچی کی برآمدگی کو بہانہ بنا کر ان کے خلاف کوئی قانونی کارروائی نہیں کرے گی اور نہ ہی یہ بات میڈیا کو بتائے گی، بچی اس خاتون کو واپس کر دی۔
اس بچی کو واپس کرنے والوں میں سے ایک نے یہ بات اس شرط پر بتا دی تھی کہ اس کا یا منشیات فروش کے ہاتھوں فروخت ہونے والی بچی کا کسی تحریر میں نام ظاہر نہ کیا جائے۔ایک منشیات فروش کے ہاتھوں ایک بچی کسی تاریک مستقبل سے دوچار ہوتے ہوئے بچ گئی۔ کنک بستی کے 20سالہ نشئی کاشف نے بھی اپنا نشہ پورا کرنے کے لئے لوگوں، اپنے جاننے والوں اور سرکاری اداروں کی چیزیں چوری کرنے کا دھندا اختیار کر رکھاتھااور اپنے نشہ کی دھن میں وہ بعض مساجد کے پنکھے تک اتار کر فروخت کر کے رقم منشیات فروشوں کے حوالے کر چکا تھا۔
پانچ چھ سال قبل اس نے شالیمار ٹاوٴن، مدینہ ٹاوٴن میں میرے پرانے گھر سے جو میرے فیصل گارڈن میں شفٹ کر جانے کے بعد سے خالی تھی۔ گھر میں لگا ہوا لال پمپ چوری کرنے کی نیت سے اتار لیا تھا اور وہ گھر سے نکلنے کی کوشش کر رہا تھا کہ سامنے کے مکان میں میرے ایک واقف کار کی بیٹی نے اپنے بھائی کو بتا دیا۔ اس کے بھائی نے ایک پڑوسی لڑکے کے ساتھ اسے قابو کر لیا اور بعد میں ان کے بزرگوں نے ٹیلی فون پر مجھے یہ سب صورت حال بتائی میرے ہاں پہنچنے پرچورکومیرے سپرد کر دیا۔
اس نے اس بات کا اعتراف کیاکہ وہ نشہ کے لئے وارداتیں کرتاہے لیکن اس نے مجھے یقین دلا یا تھا کہ وہ اب کبھی ایسا نہیں کرے گا۔ سال چھ ماہ تک اس لڑکے کے متعلق اچھا ہو جانے کی خبریں ملتی رہیں اور پھر خبر آئی کہ اب اس نے چند دوسرے لڑکوں کے ساتھ مل کر بجلی اور ٹیلی فون کی تاریں اتارنے اور ان کو فروخت کر کے ”پڑیاں“ خریدنے کا معمول بنا لیا ہے۔
تھانہ غلام محمد آباد کے علاقہ کنک بستی سے اس نشئی کاشف کی المناک موت کی خبر آ گئی ہے۔ وہ ایک فیکٹری سے بجلی کی تاریں چوری کر رہا تھا کہ اسے زوردار جھٹکا لگا اور موقع پر ہی لقمہ اجل بن گیا۔ اسلام نگر کے 25سالہ صغیر احمد بھی نشہ کرنے کا عادی تھااس نے محنت مزدوری بھی چھوڑ دی تھی۔ اسے ”پڑیا“ حاصل کرنے میں دشواری پیدا ہو گئی اور اسکے گھر والوں نے پیسے دینے بند کر دیئے تو اس نے تنگ آ کر گھر میں گندم میں رکھی جانے والی گولیاں کھا کر خودکشی کر لی۔
آج نشہ کے عادی افراد کے حوالے سے یہ کالم لکھنے کی تحریک مجھے نوائے وقت، 6مئی کی اشاعت میں منشیات کے حوالے سے چھپنے والی انگریزی اخبار ”دی نیشن“ کی اس رپورٹ سے ملی ہے جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان میں منشیات کے عادی افراد کی تعداد 67لاکھ ہو گئی ہے اسی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اس خطرناک رجحان میں مبتلا افراد کی عمریں 25سال سے 39سال ہیں۔
پاکستان میں ایڈز کا مرض بہت زیادہ بڑھ گیا ہے۔ جب سرنج کو کوئی ایسا نشئی استعمال کرتا ہے جو ایڈز کے مرض کا شکار ہوتا ہے یہ جراثیم دوسرے میں منتقل ہو جاتے ہیں اور اس طرح استعمال شدہ سرنج جب مختلف افراد میں مل کر استعمال کی جاتی ہے تو وہ ایک دوسرے کو لاحق موذی امراض کا باعث بنتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت نے اب میڈیکل سٹوروں کو پرانی سرنج واپس کرنے والوں کو نئی سرنج مارفین کے ٹیکوں اور دیگر ادویات کے ہمراہ مفت دینے کی ہدایت کر دی ہے۔
اینٹی نارکوٹکس کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پنجاب کے تمام بڑے شہروں کے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں طلباوطالبات کو نشے کا عادی بنانے والے گروپ کے 15کارندوں کو گرفتار کرکے ان سے 39کلو ہیروئن برآمد کی گئی ہے۔ ملزم تعلیمی اداروں میں یہ منشیات تقسیم کرتے تھے جن میں ایک طریقہ تو یہ تھا کہ زیادہ تر تعلیمی اداروں کی کنٹین اور اسٹیشنری کی دکانوں کے ملازم یا ملازمہ کو ماہانہ تنخواہ دے کر ان کے ذریعے طلباء اور طالبات میں انسانی رگوں میں موت کے اندھیرے پھیلانے والا ہیروئن کا پاوٴڈر ابتداء میں مفت اور بعد ازاں فروخت کرایا جاتا تھا اور دوسرے نجی کوریئر کمپنیوں کے ذریعے یہ منشیات مختلف تعلیمی اداروں کے نامی گرامی طلبا اور طالبات کو سمگل کی جاتی تھی۔
محلہ وارث پورہ کے لوگوں نے اپنے محلہ میں منشیات کے دھندہ کے خلاف ایک احتجاجی ریلی نکالی۔یہاں زیادہ تر کرسچین برادری ہے یہاں ہرگھر ولایتی شراب ہے،وہ اپنے پرمٹوں پر یہ شراب خرید کر اسے مہنگے داموں فروخت کرتے ہیں وارث پورہ میں شراب کے عادی افراد کی آمدورفت ہے لہٰذا یہ محلہ منشیات فروخت کرنے والوں کی وجہ سے بدنام ہو چکا ہے۔ اس محلے سے منشیات فروشی کے خلاف احتجاجی ریلی کا نکلنا بہت زیادہ حوصلہ افزا بات ہے کیونکہ اب صرف کرسچین برادری کے پرمٹوں پر خریدی جانے والی ولایتی شراب ہی فروخت نہیں ہوتی بلکہ شراب فروخت کرنے والوں نے جعلی اور دیسی شرابیں بھی فروخت کرنے کا دھندا شروع کر رکھا ہے۔
دیسی شراب کے پینے سے درجنوں اموات واقع ہو چکی ہیں۔ سرکاری ملازمین اور پولیس کی ملی بھگت سے شہر میں متعدد مقامات پر خطرناک کیمیکل تیار کئے جاتے ہیں جنہیں شراب بتا کر فروخت کیا جاتا ہے اس سے سینکڑوں افراد کے گردے ناکارہ ہو چکے ہیں۔بعض ہوٹلوں میں تو ولایتی شراب فروخت ہوتی ہے لیکن شہر کے مضافاتی علاقوں میں بہت سے لوگوں نے شراب کی بھٹیاں لگا رکھی ہیں وہ یہ سب شراب شہر کے منشیات فروشوں کے ذریعے فروخت کرتے ہیں۔
نئے سال کی خوشی میں شہر میں شرابیوں کو بہت واضح طو رپر پہچانا جا سکتا تھا۔ہمارامذہب اسلام ہے اسلام میں شراب نوشی حرام ہے بدقسمتی سے پاکستان کا ایک بہت بڑا اشرافیہ شراب کو منشیات میں شمار نہیں کرتا اوراس کی دلیل یہ دی جاتی ہے کہ جس شے کو خریدنے کے خود حکومت پرمٹ جاری کرتی ہے۔ اس کے استعمال کو ہیروئن، چرس یا افیون کی طرح انسانی صحت کے لئے مضر کیسے قرار دیا جا سکتا ہے۔
روزانہ کی چھاپہ مار کارروائیوں میں کوئی ایسا دن نہیں جب پولیس متعدد ناجائز فروشوں سے کئی کئی سو شراب کی بوتلیں برآمد نہ کرتی ہو۔ چھاپہ مار کارروائیوں میں ملزموں سے اسلحہ کے ساتھ ساتھ ہیروئن اور چرس بھی برآمد ہو جاتی ہے لیکن سب سے پیشہ لوگوں سے برآمد کی جاتی ہے وہ مختلف نوع کی شراب کی بوتلیں ہوتی ہیں۔ منشیات سے ملک کو کیسے پاک کیا جا سکتا ہے۔
یہ کام صرف اینٹی نارکوٹکس فورس کے ادارے سمیت پولیس افسروں اور اہلکاروں کو یہ بات کون سمجھائے کہ وہ منشیات فروشوں سے مک مکا کا سلسلہ ترک کر کے ان کو کیفرکردار تک پہنچانے کے لئے ان پر سخت ہاتھ ڈالیں۔ شاید بااختیار شخصیات اور اداروں میں موجود کالی بھیڑوں کی وجہ سے ہم کبھی بھی اپنے ملک اور معاشرے کو منشیات کی لعنت سے نجات دلانے میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔
تاریخ اشاعت: 2014-05-14

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان