بند کریں
منگل جنوری

مزید سماجی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
ماں بیٹیوں کا تہرا قتل، دم توڑتی اخلاقی و معاشرتی اقدار کا المیہ
پولیس نے فریدہ بی بی کے شوہر یونس بھٹی کی درخواست پر مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کر دی ہے۔یونس بھٹی فالج کامریض ہے۔ پولیس نے گفٹ سنٹر میں لگے سی سی ٹی وی کی فوٹیج بھی حاصل کر لی ہے
احسان شوکت:
ہمارے معاشرے میں قتل و غارت گری کے لرزہ خیز واقعات میں تشویشناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ جس سے معاشرے میں خونریزی اور قتل و غارت گری کا بڑھتا ہوا رجحان سامنے آتا ہے۔ایسا ہی ایک دلخراش واقعہ صوبائی دارالحکومت لاہور میں گلبرگ کے علاقہ قذافی سٹیڈیم کے قریب پیش آیا ہے۔ جب ایک شخص نے خون کی ہولی کھیلتے ہوئے اندھا دھند فائرنگ کر کے اپنے دوست کی کار سوار بیوی اور دو بیٹیوں کو قتل کر دیا اور پھر خود کو گولی مار کر خودکشی کرلی تھی۔
افسوسناک واقعہ کے مطابق باغبانپورہ کے علاقہ سنگھ پورہ ، جنید پارک کے رہائشی سابق کسٹم انسپکٹر یونس بھٹی کی اہلیہ 55سالہ خدیجہ اپنی دو بیٹیوں22سالہ مائزہ ا ور21سالہ نائرہ کے ساتھ کار پر سوار ہو کر گلبرگ میں قذافی سٹیڈیم کے قریب پہنچیں تو اس دوران اس کے خاوند کے دوست بشیر احمد نے جس کے مبینہ طور پر خدیجہ اور اس کی بیٹی مائرہ سے تعلقات بتائے جاتے ہیں۔
اس نے ان کی کار میں پچھلی سیٹ پر بیٹھ پرتینوں ماں ،بیٹیوں پر اندھا دھند فائرنگ کر دی اور پھر خود کو بھی گولی مار لی۔ فائرنگ سے علاقہ میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ اس دوران مقامی لوگوں نے پولیس کو طلاع کر دی۔ پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی۔ جب پولیس وقوعہ پر پہنچی اس وقت 55سالہ خدیجہ شدید زخمی ہونے کے باوجود سانسیں لے رہی تھی جبکہ اس کی دونوں بیٹیاں مائزہ ا ور21سالہ نائرہ دم توڑ چکی تھیں۔
پولیس نے زخمی خدیجہ کو ہسپتال پہنچایا جو کچھ دیر بعد زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہسپتال میں دم تو گئی۔ اس واقعہ کے بارے میں مقتول لڑکیوں کے بھائی جواد کا کہنا ہے کہ اسے وقوعہ کے فوری دیر بعد اس کی بہن مائزہ کا موبائل فون پر ایس ایم ایس موصول ہوا۔جس میں اس نے لکھا تھا کہ انہیں ابو کے دوست بشیر نے گولیاں مار کر شدید زخمی کر دیا ہے۔ جواد کا کہنا ہے کہ جب وہ جائے حادثہ پرپہنچا تو اس وقت تک اس کی دونوں بہنیں دم توڑ چکی تھیں۔
بشیر ان لڑکیوں کے والد یونس بھٹی کا کلاس فیلو اور دوست بھی تھا۔ فریدہ اپنی بیٹیوں مائزہ اور نائرہ کے ہمراہ قذافی سٹیڈیم میں مائزہ کی دوست کی سالگرہ کے لئے گفٹ خرید نے آئی تھی۔ ماں فریدہ گاڑی چلا رہی تھی، مائزہ آگے فرنٹ سیٹ پر جبکہ نائرہ پچھے سیٹ پربیٹھی تھی۔اس دوران وہاں ان کے والد کا دوست بشیر بھی آ گیا۔جس کے بعد چاروں نے ایک گفٹ سنٹر میں شاپنگ کی اور پھر چاروں کار میں بیٹھ گئے۔
ماں فریدہ ڈرائیونگ سیٹ پر ، مائزہ آگے جبکہ نائرہ اور بشیر پیچھے سیٹ پر بیٹھے تھے۔جہاں اس نے تینوں ماں ،بیٹیوں پرفائرنگ کرنے کے بعد خود کو بھی گولی مار لی تھی۔پولیس نے فریدہ بی بی کے شوہر یونس بھٹی کی درخواست پر مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کر دی ہے۔یونس بھٹی فالج کامریض ہے۔ پولیس نے گفٹ سنٹر میں لگے سی سی ٹی وی کی فوٹیج بھی حاصل کر لی ہے۔
فریدہ کو پیٹ اور سینے، نائزہ کو گلے جبکہ مائزہ کو کنپٹی اور بشیر کو خود بھی کنپٹی پر فائر لگا ہوا تھا۔بشیر کی جیب سے ایک چھری بھی ملی ہے۔جس سے معلوم ہو تا ہے کہ وہ انہیں قتل کرنے کی منصوبہ بندی کر کے آیا تھا۔ نائرہ سپیئرئیرکالج میں گریجویشن جبکہ مائزہ لاہور یونیورسٹی میں ماسٹرز کی طالبہ تھی مقتول خواتین کے ورثاء کا کہنا ہے کہ بشیر کا ان سے کوئی پیسوں کا لین دین تھا۔
53 سالہ ملزم بشیر احمد چاہ میراں لاہور کا رہائشی تھا۔ یونس بھٹی اور بشیر احمد بچپن کے دوست اور ان کے درمیان گھریلو مراسم تھے۔ بشیر بیرون ملک آتا جاتا رہتا تھا جبکہ اس نے شادی بھی نہیں کی تھی۔ بشیر مختلف لوگوں کو باہر کے ملک جانے اور دیگر نوکری دلانے کا جھانسہ دے کرپیسے بٹورتا تھا۔پولیس ذرائع کے مطابق تہرے قتل اور خودکشی کا یہ واقعہ قاتل کے مقتولہ ماں کے ساتھ مراسم کاشاخسانہ لگتا ہے۔
خاتون فریدہ اور لڑکی نائرہ کے موبائل فون میں موجود میسجز اور اب تک تفتیش سے پولیس اس نتیجہ پر پہنچی ہے کہ ملزم بشیر کے اپنے دوست کی بیوی خدیجہ اور اس کی بیٹی نائرہ کے ساتھ تعلقات تھے۔ملزم بشیر انہیں بلیک میل کرتا تھااورماں ،بیٹیوں سے رقم کا تقاضا کرتا تھا۔ملزم بشیرسے نائرہ نے قطع تعلق بھی کر لیا تھا۔اسی رنجش پر اس نے خدیجہ کو دونوں بیٹیوں سمیت قتل کرکے خودکشی کر لی ہے۔
پولیس کو نائرہ کی گود سے ایک ”سی ڈی“ بھی ملی ہے۔ جو غالب امکان ہے ان قتلوں کی وجہ بن،کیونکہ پولیس کو شبہ ہے کہ اس میں کوئی ایسا قابل اعتراض مواد ہو سکتا ہے۔ جس کی بنیاد پر تلخ کلامی ہوئی اور بات قتل و غارت تک جا پہنچی۔وہ ”سی ڈی“تین جگہ سے ٹوٹی ہوئی ہے۔جس وجہ سے وہ چل نہیں رہی ہے۔جس پر پولیس حکام نے وہ سی ڈی فرانزک سائنس لیبارٹری کو بھجوا دی ہے۔
پولیس کے مطابق ملزم بشیر کے موبائل فون سے سب سے زیادہ ایس ایم ایس فریدہ کو کئے گئے ہیں۔ موبائل میں اس نے فریدہ کا نام ”فری موٹو“ کے نام سے لکھا تھا۔ اس کے علاوہ ایک اور نمبر ”این جی“ کے نام سے بھی لکھا ہوا ہے۔اس پر بھی متعدد ایس ایم ایس کئے گئے ہیں۔وہ نمبر نائرہ کا تھا۔تاہم جو ایس ایم ایس پولیس نے اپنے پاس محفوظ کئے ہیں ان سے پتا چلتا ہے کہ بشیر اس فیملی کے ساتھ انتہائی بے تکلف تھا۔
پولیس کو نائرہ کے پرس سے قائداعظم لائبریری کا کارڈ بھی ملا ہے جبکہ بشیر کی جیب سے بھی قائداعظم لائبریری کا کارڈ نکلا ہے۔جس پر پولیس تفتیش کر رہی ہے کہ بشیر لائبریری نائرہ کے لئے ہی تو نہیں جاتا تھا۔ پولیس ذرائع کے مطابق بشیر مقتولہ فریدہ سے گاہے بگاہے رقم وصول کرتا رہتا تھا۔چند روز قبل اس نے دس لاکھ روپے کا مطالبہ کیا تھا۔ انکار کرنے پر اس نے یونس کی موجودگی میں دھمکی دی تھی کہ اگر رقم نہ ملی تو فریدہ کے ساتھ دونوں بیٹیوں کو قتل کر دے گا۔
بشیر نے کہا تھا کہ تمہارا بیٹا جواد جو ٹریڈرز کا کاروبار کرتا ہے مجھے اس سے رقم لے کر دو۔ جن لوگوں سے میں رقم ادھار لے کر تم لوگوں پر خرچ کرتا رہا ہوں اب ان کی جانب سے مجھے رقم کی واپسی کا تقاضا کیا جا رہا ہے۔ فرانزک رپورٹ کے مطابق ایک پستول سے 2میگزین چلائے گئے۔جن میں سے 10گولیاں تینوں ماں بیٹیوں کو لگیں اور ایک گولی ملزم نے اپنی کنپٹی پر ماری جبکہ ایک زندہ گولی پستول میں موجود تھی۔
11خول ایک جیسے اور پستول پر فنگر پرنٹ ملزم بشیر بھٹی کے ہی ہیں۔بشیر کے بھائی نے پولیس کو بیان ریکارڈ کرایا ہے کہ گھر میں کھانے کو تو روٹی تک نہیں تھی جبکہ اس نے لوگوں کے بہت پیسے دینے تھے اوراسے قرض خواہ بہت تنگ کرتے تھے۔جس پروہ بہت پریشان رہتا تھا۔ بشیر نے ایسا کیوں کیا، وہ نفسیاتی مریض بن چکا تھا۔غرض ایسے واقعات ہمارے معاشرے میں بے راہ روی کے علاوہ ٹوٹتے ہو ئے خاندانی نظام کی بھی عکاسی کرتے ہیں۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی مشرقی اقدار اورا خلاقیات کو فروغ دے کر ایسے واقعات کا سدباب کریں۔
ایس ایس پی انویسٹی گیشن لاہور رانا ایاز سلیم
ایس ایس پی انویسٹی گیشن لاہور رانا ایاز سلیم نے کہا ہے کہا کہ اب تک کی تفتیش کے مطابق یہ انتہائی افسوسناک واقعہ ملزم بشیر احمد کے خاتون اور اس کی بیٹی سے تعلقات کے علاوہ بلیک میلنگ کا بھی شاخسانہ ہے۔
بشیر احمد تعلقات قطع کرنے پراب خواتین کوبلیک میل کرتا تھا۔ان سے رقم کا بھی تقاضا کرتا تھا۔موقع سے جوسی ڈی ملی ہے۔اس کی حالت انتہائی مخدوش ہے اور وہ چل نہیں رہی۔جس پر اسے فرانزک لیب بھجوادیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ خواتین کے موبائل میں سے بعض قابل اعتراضات ایس ایم ایس ملے ہیں۔ایسے واقعات کے سدباب کے لئے ضروری ہے کہ خواتین کو اگر کوئی بلیک میل کرے تو وہ پولیس سے رابطہ کریں یا اپنے کسی عزیز کو بتائیں اوروہ اس میں کوئی جھجھک محسوس نہ کریں تاکہ مزید کوئی پیچیدہ صورتحال پیدا نہ ہو سکے۔
خواتین بدنامی کے ڈر سے ملزمان کے حوصلے نہ بڑھنے دیں بلکہ اسے درندوں کو قانو ن کی گرفت میں لانے کے لئے پولیس کی مدد کریں۔ملزم خواتین کے اسی ڈر سے فائدہ اٹھاتا ہے۔معاشرہ بھی اس سلسلہ میں اپنا رویہ تبدیل کرے۔ تاکہ ایسے ناسوروں کو کیفرکردار تک پہنچایاجاسکے جبکہ ہم تمام تھانوں میں خواتین کی شکایات کے لئے خصوصی ڈیسک قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔جہاں خواتین کی شکایات اور مسائل سننے کے لئے خاتون پولیس اہلکار تعینات ہوں گی۔
تاریخ اشاعت: 2015-02-11

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان