بند کریں
پیر جنوری

مزید سماجی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
لنڈا بازار بھی غریبوں کی دسترس سے باہر
لنڈا بازار موسم سرما میں عام آدمی کے اہل خانہ کو شدید موسم سے بچانے کا کام تو کر رہی رہا ہے لیکن اب یہاں صرف پرانے گرم مردانہ، زنانہ اور بچوں کے ملبوسات ہی فروخت نہیں ہو رہے

خالد یزدانی:
ایک دور تھا جب سردیوں کی آمد کے ساتھ ہی گرم کپڑوں کی خریداری میں اضافہ ہو جاتا تھا اور آج مہنگائی کے دور میں غریب اور متوسط طبقہ کے لئے نئے گرم کپڑوں کی خریداری مشکل بن جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ موسم کی تبدیلی کے ساتھ ہی پرانے گرم کپڑوں کا لاہور میں ایک بڑا مرکز لاہور ریلوے سٹیشن کے ساتھ ”لنڈا بازار“ تھا جہاں کبھی صرف کوٹ پتلون سویٹر اور اوورکوٹ ہی زیادہ تر فروخت ہوتے تھے۔

آہستہ آہستہ تبدیلی آنے لگی اور پھر پرانے جوتوں سے لے کر کھلونوں تک کی دکانیں سج گئیں اور لاہور کا ریلوے سٹیشن کا پاکستان میں مشہور لنڈا بازار نہ صرف لاہور کے کئی علاقوں میں کھل گیا بلکہ پاکستان کے ہر چھوٹے بڑے شہر میں کہیں نہ کہیں لنڈا بازار بن گیا اور اب لاہور کے پرانے لنڈا بازار میں بڑے بڑے بیوپاری کاروبار کر رہے ہیں اور یورپی ممالک سے آنے والے سامان کراچی سے لنڈا بازار ہی لائے جاتے ہیں۔
ایک محتاط اندازے کے مطابق ہر سال پچاس کروڑ روپے کے قریب پرانے کپڑے درآمد ہو رہے ہیں اور یہاں آنے والے کپڑوں اور دیگر سامان کو کھول کر ان میں سے عمدہ اور صاف کپڑوں کو الگ اور دیگر کو دوسری کیٹگری میں رکھ کر فروخت کیا جاتا ہے۔ اسی جگہ سے دوسرے اور تیسرے درجے کے مال کو خریدنے والے پھر شہر کے مختلف علاقوں میں ریڑھیوں یا فٹ پاتھوں پر بھی اسے فروخت کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

لنڈا بازار موسم سرما میں عام آدمی کے اہل خانہ کو شدید موسم سے بچانے کا کام تو کر رہی رہا ہے لیکن اب یہاں صرف پرانے گرم مردانہ، زنانہ اور بچوں کے ملبوسات ہی فروخت نہیں ہو رہے بلکہ دستانے، ٹوپیاں، جوتے اور کھلونوں کی بھی مختلف اقسام دکانوں پر دکھائی دیتی ہیں اور وقت گزرنے کے ساتھ جیسے جیسے روزمرہ کی اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے لنڈا بازار کی اشیاء کی قیمتیں بڑھنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ لنڈا بازار سے اچھی کوالٹی کے کپڑے اور سویٹر وغیرہ کو پوش علاقوں کے دکاندار بھی خرید کر لے جاتے ہیں اور انہیں ڈرائی کلین کروا کر مہنگے داموں فروخت کرتے ہیں۔
اگرچہ موسم سرما میں چھوٹے بڑے شہروں میں پرانے گرم ملبوسات کی فروخت عروج پر ہوتی ہے۔ لیکن پاکستان کے شمالی علاقہ جات جہاں موسم زیادہ سرد ہوتا ہے اور یہاں کے رہائشی نئے گرم ملبوسات خریدنے کی سکت نہیں رکھتے ان کے لئے لنڈا بازار میں فروخت ہونے والے کپڑے اور دیگر سامان غنیمت لگتا ہے کیونکہ نئی گرم جیکٹ، اوورکوٹ کی قیمتیں اتنی زیادہ ہیں جبکہ اس کی نسبت لنڈا بازار میں فروخت ہونے والا سامان اس کے مقابلے میں کم قیمت میں ملتا ہے اور یوں چند روپوں سے وہ اپنے اہل خانہ کے لئے خریداری کر سکتا ہے۔

گذشتہ کچھ عرصہ سے یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ پاکستان کے مختلف علاقوں میں اب سارا سال ہی موسم کی مناسبت سے سامان فروخت ہو رہا ہے۔ اگر لوگوں کی بڑی تعداد دسمبر میں گرم کپڑے کی خریداری کرتی ہے تو مارچ کے بعد دکاندار بھی موسم کی مناسبت سے دوسرا سامان فروخت کرنے لگتے ہیں جبکہ لنڈا بازار کے ایک دکاندار کا کہنا ہے کہ ہمارا کاروبار کبھی چند ماہ ہی چلتا تھا مگر اب سارا سال ہی خریداروں کا ہجوم رہتا ہے۔
گرمیوں میں اگر پردے، پرس، جوتے جینز کی پینٹ فروخت ہوتی ہیں لیکن ہمارا اصلی سیزن سردیوں میں ہی لگتا ہے جب کوٹ، جیکٹ، سویٹر کی خریداری عروج پر ہوتی ہے اور لنڈا بازار میں اب زیادہ تر سیکنڈ ہینڈ کپڑوں کا کاروبار کرنے والے ہی یہاں آتے ہیں۔ اس لئے اب یہاں بڑی بڑی مارکیٹیں تعمیر ہو چکی ہیں اور اس وقت پاکستان میں سیکنڈ ہینڈ ملبوسات اور دیگر اشیاء کی سب سے بڑی مارکیٹ بن چکی ہے جہاں سے سیکنڈ ہینڈ سامان کو سارے ملک سے آنے والے دکاندار بھی خرید کر لے جاتے ہیں اور اب یہاں صرف کپڑے ہی نہیں ضروریات زندگی کا ہر سامان فروخت ہو رہا ہے کیونکہ جیسے جیسے مہنگائی میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور عام آدمی نئی اشیاء خریدنے کی ہمت نہیں کر سکتا تو وہ لنڈا بازار کا ہی رخ کرتا ہے بلکہ اب تو یہ امیروں کے تن کو بھی ڈھانپ رہا ہے۔
اس لئے اب لنڈا بازار کی قیمتوں میں بھی حالیہ چند سالوں میں اضافہ ہوا ہے اور اس کاروبار سے وابستہ افراد بھی خریداروں کی ضرورت اور اپنے سامان کی کوالٹی کو مدنظر رکھ کر ہی قیمت کا تعین کرتے ہیں اور بیرون ملک سے بھی بڑے بڑے کاروباری افراد ایسے سامان کو منگوا رہے ہیں جن کی یہاں زیادہ مانگ ہو۔ دیکھا جائے تو آج کا لنڈا بازار اگرچہ استعمال شدہ یعنی سیکنڈ ہینڈ ملبوسات اور دیگر سامان کی وجہ سے تھوک کاروبار کی شکل اختیار کر چکا ہے۔
لیکن اس کا نام اب سارے ملک میں جہاں جہاں یہ کاروبار ہو رہا ہے اسی نام سے پکارا جا رہا ہے۔
لنڈا بازار میں فروخت ہونے والی استعمال شدہ پرانی اشیاء کے بارے میں یہ بھی سننے میں آیا ہے کہ ان کو استعمال کرنے والوں کی جلد اس سے متاثر ہو سکتی ہے اور وہ جلدی بیماری کا بھی شکار ہو سکتے ہیں اسی لئے ایک ماہر امراض جلد کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ ان اشیاء کو استعمال کرنے سے پہلے ان کو گرم پانی اور صابن سے دھونے کے بعد اچھی طرح دھوپ میں سکھایا جائے تو اس سے اس میں موجود جراثیم تلف ہو جاتے ہیں اور وہ مضر صحت نہیں رہتے۔

تاریخ اشاعت: 2014-01-18

(0) ووٹ وصول ہوئے