بند کریں
جمعہ جنوری

مزید سماجی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
لاہور کی صاف و شاداب نہر۔۔۔گندا نالہ کیوں بنی؟
محکمہ آبپاشی ہر سال ایک ”جعلی کارروائی“ ڈال کر نہر کی صفائی کرتا ہے۔۔۔ مال روڈ پل سے ٹھوکر نیاز بیگ تک نہر کو باقاعدہ صاف کیا جاتاہے
سید شعیب الدین احمد:
دنیا ے دو شہر خوش قسمت اور خوبصورت کہلاتے ہیں ۔ جن کے درمیان سے دریا اور نہریں گزرتی ہوں۔ لاہور کا شمار بھی ایسے ہی خوش قسمت شہروں میں ہوتا ہے۔ جس کے ایک طرف دریائے راوی گزرتا ہے بلکہ لاہور دریائے راوی کے کنارے آباد شہر ہے۔ دریائے راوی کے علاوہ شہر کے ایک طرف بی آربی جیسی کشادہ اور گہری نہر گزر رہی ہے ۔
جبکہ تیسری طرف لاہور کینال ہے جس کے ایک طرف ماضی میں شہر آباد تھا اور دوسری طرف لاہور کینٹ آباد کیا گیا تھا مگر کینال کے دونوں کناروں پر لاہور شہر آباد ہے۔ لاہور کینال کا خوبصورت منظر اس شہر کے باسیوں کو آج بھی یاد ہے۔نہر کے دونوں طرف گھنے درخت ہوتے تھے اور گرمیوں میں پکنک منانے کے لئے خاندان نہر کنارے ”ٹھنڈے مقام“ کارخ کرتے تھے۔
اکثر پنجابی فلموں کی شوٹنگ نہر کے سرسبز کناروں پر ہوا کرتی تھی۔ مگر پھر آبادی بڑھتی گئی۔ نہر سکڑتی گئی اور درخت کٹتے گئے آج نہر کے دونوں اطراف 5,4 لین کی کشادہ سڑکیں ہیں۔ بلندو بالا درختوں کی جگہ 15-10 فٹ اونچے درختوں نے لے لی ہے۔برگد، شیشم، پیپل، کے درخت کٹ چکے ہیں یا کٹنے کے لئے تیار ہیں۔نہر اب شہر کے دونوں طرف آباد میٹرو پولیشن شہر کا حصہ ضرور ہے مگر اس کی خوبصورتی اب وہ نہیں رہی۔
بد قسمتی سے 67 برسوں میں حکمرانوں کی ڈنگ ٹپاوٴ پالیسیوں کی بدولت شارٹ ٹرم پالیسیاں بنائی گئیں جن کے فائدے تو نہیں ملے نقصانات ہی نقصانات ہوئے۔ 30 برسوں سے شہر پر برسراقتدار مسلم لیگ (ن) کا دور بھی ان 67برسوں میں شامل ہے۔ ان 67 برسوں میں لاہور کی ڈیڑھ کڑور آبادی کے سیوریج کے نکاس کا کوئی سسٹم نہیں بنایا گیا۔ لاہور کا تمام گندا پانی اکٹھا کر کے دریائے روای میں پھنکا جاتا ہے جس کی وجہ سے دریائے روای آج ایک گندے نالے میں ندلے چکا ہے۔
وہ دریا جس میں کبھی مچھلیاں پکڑنے کے لئے مچھیرے جال ڈالنے اور دریا کنارے لوگ بنسی پکڑے بیٹھتے رہتے تھے۔ وہ دریا اب اتنا آلودہ ہو گیا ہے کہ دریا میں مچھلی نہیں رہی۔ راوی کے ”ڈولے“ (مچھلی) لاہور یوں کی من پسند خوراک تھی جواب ناپید ہو چکی ہے۔ راوی میں کچھوے ہوا کرتے تھے جو نہیں رہے۔ یہ سب صرف دریا کے ساتھ نہیں ہوا۔ بی آر کے کنارے آباد تمام گاوٴں اپنا سیوریج اس میں پھینک رہے ہیں حتیٰ کہ کوڑا بھی نہر میں پھینکا جاتا ہے۔
لاہور کینال پر حکمرانوں کی سب سے زیادہ توجہ ہونی چاہیے تھی کیونکہ یہ شہر کے اندر سے گزر رہی ہے۔ مگر بد قسمتی سے اس سلسلہ میں بھی ”نااہلی“ دکھائی گئی۔ دھر پورہ سے لاہور نہر سے پوش آبادی میں داخل ہوتی ہے مگر دھرمپورہ سے بی آر بی تک علاقہ میں پسماندہ بستیاں آباد ہیں۔ دھرمپورہ کے بعد نہر میں سیوریج ڈالے جاتے رہے۔ صدر پرویز مشرف کے دورمیں اس نہر کے کنارے آباد پسماندہ بستیوں کی سنی گئی۔
دھرمپورہ سے ہربنس پورہ تک نہر کنارے سیوریج ڈالا گیا۔ یہ سیوریج ہربنس پورہ ، تاج باغ، تاجپورہ ، فتح گڑھ اور دیگر آبادیوں کو گندا پانی سمیٹ لیا گیا مگر اس کے بووجود ابھی بھی مغلپورہ ، دھر مپورہ، فتح گڑھ کے علاقوں میں کتنی سیوریج پائپ موجود ہیں جو گندا پانی نہر میں پھینک رہے ہیں۔ رہی سہی کسر گزشتہ 10 برسوں میں ہربنس پورہ سے بی آر بی نہر تک آباد ہونے والی غیر قانونی ہاوسنگ سکیموں نے پوری کر دی۔
ہجویری ہاوٴسنگ سکیم، نواب پورہ ، سوزو واٹر پارک اور اس کے اردگرد آباد آبادیوں کا سیوریج نہر میں آج بھی ڈالا جا رہا ہے۔ ہر بنس پورہ پولیس سٹیشن کے اردگرد دونوں اطراف بنائی گئی بستی کا گنداپانی نہر میں گر رہا ہے نہر بند ہو جائے تو یہ گندے پانی کے پائپ صاف نظر آتے ہیں۔ گزشتہ 10 دنوں کے دوران نہر بند رہی تو نہر میں گرنے والا یہ گندا پانی وہاں جمع ہو گیا اور نہر گندا نالہ بن کر رہ گی۔
رہی سہی کسر کتے مار کر نہر میں پھنک دیئے گئے۔ چند دن بند رہنے کے بعد نہر میں پانی بحال ہوا تو تمام گندگی ،غلاظت بہتے پانی میں چھپ گئی۔سوال یہ ہے کہ یہ پائپ جوز میں سے4 سے5 فٹ گہرائی میں نہر میں ڈالے گئے۔ آخر ضلعی انتظامیہ، ٹاوٴں انتظامیہ اور خصوصاََ محکمہ آبپاشی کے افسران کی آنکھوں سے کیسے بچے ہوئے ہیں۔ یہ پائپ ڈالنے کے بعد کاٹی گئی سڑک کو برابر کر دیا گیا اور پھر اس ”گناہ“ کی ہر نشانی مٹا دی گئی۔
گرین بیلٹ میں گھاس لگا کر کھدائی چھپادی گئی مگر جب سا ل میں کئی بار نہر بند ہوتی ہے بلکہ دسمبر اور جنوری میں صفائی کے لئے بند کی جاتی ہے تو کیوں اس ”آلودگی“ اور ”غلاظت“ سے شہریوں کو نجات نہیں دلائی جاتی۔ ایل ڈی اے جیسا طاقتور محکمہ جو ہاوٴسنگ سکیموں کا ذمہ دار ہے اس کے افسران کیوں سو رہے ہیں۔ضلعی انتطامیہ، ٹاوٴن انتظامیہ ، ایل ڈی اے، محکمہ آبپاشی ، محکمہ ماحولیات کے افسران کے بچے تو اس نہر کے آلودہ پانی میں نہیں نہاتے۔
مگر اس شہر کے لاکھوں نو جوان اور بچے اس نہر میں گرمیوں کے موسم میں لوڈشیڈنگ او سورج کی تپش سے بچنے کے لئے پناہ لیتے ہیں۔ یہ نوجوان اور بچے بلکہ اب نہر پر آنے والی فیملیز پیٹ اور جلد کی کتنی بیماریاں لیکر اپنے گھر جاتی ہیں۔ یہ ان کو بھی معلوم نہیں ہے۔ حکومت ہے کہ سو رہی ہے ۔ ہر سال لاکھوں افراد میں اس گندے غلیظ پانی سے بھری نہر بیماریاں بانٹ رہی ہے مگر ہمارے حکمرانوں اور افسران کی نظروں میں شاید غریب عوام کی حیثیت کیڑے مکوڑوں والی رہ گئی ہے ۔
محکمہ آبپاشی ہر سال ایک ”جعلی کارروائی“ ڈال کر نہر کی صفائی کرتا ہے۔ مال روڈ پل سے ٹھوکر نیاز بیگ تک نہر کو باقاعدہ صاف کیا جاتاہے۔ مگر بی آر بی سے دھرمپورہ تک نہر میں کنکریٹ کے بڑے بڑے ٹکڑے، اینٹیں پڑی ہیں۔ ہر سال درجن سے زائد بچے نہر میں چلانگ لگانے کے دوران نہر میں موجود پتھروں، کنکریٹ اور اینٹوں سے سر پرچوٹ لگنے سے پانی میں ہوش و حواس کھو بیٹھتے ہیں اور پانی سے زندہ باہر نہیں آتے۔ آخر ان کی موت کا ذمہ دار کون ہے۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے شہری اپنے بچوں کی موت کو اللہ کی طرف سے لکھی موت قرار دے کر صبر کر لیتے ہیں مگر ان اموات کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے اس کا تعین اب ضروری ہے۔
تاریخ اشاعت: 2014-09-23

(1) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان