بند کریں
منگل جنوری

مزید سماجی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
کیاہم مُہذب قوم ہیں؟
اپنے گریبان میں جھانکنا ضروری ہے ہمارے ہاں شور شرابا اور عدم برداشت کا گراف ہر روز بڑھتا چلا جا رہا ہے ۔ دراصل شور شرابا اور انسانی نفسیات پر انتہائی بُرے اثرات ڈالتا ہے۔ جو چڑ چڑے پن اور عدم برداشت کی وجہ بنتا ہے
مصنف : سید بدر سعید
لاہور ائیر پورٹ سے باہر نکلنے والا شخص چند ہی لمحوں میں اندازہ لگا لیتا ہے کہ ہم کس قدر تہذیب یافتہ قوم ہیں۔ ائیر پورٹ سے ہی استقبال کرنے والا بے ہنگم شور، ہماری معروف شاہراہوں پر خطرناک انداز میں بھاگتی موٹر سائیکلوں ،ٹریفک وارڈنز کی لاپروائیوں اور جگہ جگہ نظر آنے والی دھول اور پان کی پیک ہماری ”اصل تہذیب “ کی عکاس ہیں۔
جب تک ہم اپنی عادات درست نہیں کریں گے تب تک پاکستان کا ترقی یافتہ اقوام کی صف میں کھڑا ہونا مشکل ہے۔
ہم یہ خواہش رکھتے ہیں کہ دنیا ہمیں تہذیب یافتہ اور ترقی کی حامل قوم سمجھے ۔ ہر دوسرے پاکستانی کی یہ خواہش ہے کہ وطن عزیز جلد ہی ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں شامل ہو جائے لیکن اگر ہمارے مجموعی معاشرے کو دیکھا جائے تویوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے ہم سب ہی پاکستان کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔
یہ ہمارا مجموعی مزاج بن چکا ہے۔
گزشتہ دنوں ہم بیرون ممالک سے پاکستان لوٹے تو ائیرپورٹ پر ہی زمین آسمان کا فرق نظر آنے لگا۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ لاہور ائیر پورٹ کی تعمیر سازی اچھی ہے لیکن ائیر پورٹ کے عملہ کا انداز ایسا تھا کہ اگر یہی عملہ دنیا کے کسی اور ائیر پورٹ پر تعینات ہوتا تو یا نوکری سے برخاست ہو چکا ہوتو یا پھر اپنی عادات درست کر چکا ہوتا۔
ائیر پورٹ سے باہر آتے ہی بے مقصد شور سے واسطہ پڑتا ہے۔ یہ رواج ہمارے ہاں ہی ہے کہ ہم بلاوجہ اونچی آواز میں دوسروں کو مخاطب کرتے ہیں ۔ وہی بات جو قریب جا کر دھیمی آواز میں بھی ہوسکتی ہے ہم دور سے ہی ہاتھ بلند کر کے چلانا شروع کر دیتے ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ دوسرا شخص بھی قریب آنے کی بجائے اپنی جگہ سے ہی ہاتھ اُٹھا کر چلاتے ہوئے گفتگو کرنے لگتا ہے ۔
وطنِ عزیز میں بلامقصد اونچی اونچی آواز میں غیر مہذبانہ انداز میں گفتگو معمول کی بات ہے۔ یہاں تک کہ سڑک پر موٹر سائیکل سوار بھی اسی طرح گفتگو کرتے نظر آتے ہیں جو سنگین حادثات کا بھی باعث بنتی ہے۔ دوسری جانب ٹریفک وارڈنز اُن سب سے لاتعلق ہو کر سٹرک کنارے گپیس ہانکتے نظر آتے ہیں۔
ہمارے ہاں شور شرابا اور عدم برداشت کا گراف ہر روز بڑھتا چلا جا رہا ہے ۔
دراصل شور شرابا اور انسانی نفسیات پر انتہائی بُرے اثرات ڈالتا ہے۔ جو چڑ چڑے پن اور عدم برداشت کی وجہ بنتا ہے۔ یہ بے ہنگم شور انسانی اعصاب کو بُری طرح سے متاثر کرتا ہے ۔ دنیا بھر کے ترقی یافتہ ممالک بے ہنگم شور کو ” آلودگی“ قرار دیتے ہیں اور اس کے خلاف باقاعدہ مہم چلاتے ہیں۔اب دنیا بھر کے متعدد ممالک نے سٹرکوں پر بھی بلامقصد ہارن بجانے پر پابندی اور جرمانہ عائد کر رکھا ہے۔
اسی طرح ہسپتالوں ، درس گاہوں اور رہائشی علاقوں کے قریب بھی ہارن بجانے پر پابندی ہے ۔ ہمارے ہاں بڑے شہروں میں بعض جگہیں حکورمت نے ”سائلنس زون“ قرار دے رکھی ہیں یہاں ہارن بجانے پر پابندی ہے لیکن صورتحال یہ ہے کہ انہی علاقوں میں سب سے زیادہ ہارن کی آوازیں سنائی دیتی ہے۔ ہم ہر وہ کام کرتے ہیں جس سے منع کیا جائے۔ جہاں تھوکنا منع ہو وہیں لوگ تھوکتے نظر آتے ہیں۔
جہاں کوڑا کرکٹ پھینکنے پر پابندی ہووہاں ہی کوڑے کرکٹ کاڈھیر لگا نظر آتا ہے۔ یہاں تک کہ انتظامیہ کی جانب سے کوڑا کرکٹ کیلئے جو ڈبے رکھے جاتے ہیں وہ اندر سے خالی رہتے ہیں لیکن اُن کے باہر کوڑے کا ڈھیر لگا ہوتا ہے۔
کسی بھی معاشرے یا ملک کی اخلاقیات اور تہذیب کی درست عکاسی وہاں کی سڑکوں پر ہوتی ہے۔ معاشرے کا ہر فرد سٹرک پر آتا ہے اور اُس معاشرے کا ہر مزاج اور رویہ بھی سڑکوں پردیکھنے میں آتا ہے۔
ہم جن ممالک کو ترقی یافتہ اور تہذیب یافتہ ممالک کہتے ہیں ان کی سٹرکوں پر گاڑیاں اپنی اپنی لین میں نظر آتی ہیں ۔ لوگوں کے چہرے پر مسکراہٹ کھیلتی رہتی ہے۔ اُن کے ہاں ٹریفک قوانین کی پابندی اور دوسروں کا احترام چھلکتا نظرآتا ہے۔ بزرگوں کو راستہ دینا اور ایمبولینس کے سائرن کی آواز سنتے ہی گاڑی سٹرک کے کنارے کھڑی کر کے ایمبولینس کیلئے پہلی لین خالی کردینا فرض کی حیثیت رکھتا ہے۔
اس کے برعکس ہمارے ہاں سڑکوں پر نوجوان زگ زیگ موٹر سائیکل دوڑاتے نظر آتے ہیں۔ سلنسر اُتار کر بلا مقصد اور بے ہنگم شور پیدا کرنا، زور زور سے ہارن بجانا اور ایک پیہے پر موٹر سائیکل چلانا معمول کی بات ہے۔ دوسروں سے آگے نکلنے کی کوشش میں راستے جام کر دینا بھی ہماری عام عادت ہے۔ ہمارے ہاں تو ایمبولینس کو بھی راستہ نہیں دیا جاتا البتہ ایمبولینس کو دیکھتے اس نیت سے اس کا پیچھا کیا جاتا ہے کہ جب اسے رستہ ملے گا تو ہم بھی اس سے فائدہ اُٹھالیں گئے۔

دنیا بھر میں فرض شناسی کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ ہمارے ہاں صورتحال اس کے برعکس نظر آتی ہے۔ استاد، ڈاکٹر ،دفتری بابو غرض ہر شعبہ سے منسلک لوگ اپنی ذمہ داریاں سرانجام دینے کی بجائے محض خانہ پری کے چکر میں رہتے ہیں۔ ملاوٹ ، دھوکہ، فریب اور جعل سازی ہماری کاروباری زندگی کی پہچان بن چکا ہے۔ یورپ میں مذہبی تہوار کے موقع پر اشیاء کی قیمتیں کم کر دی جاتی ہیں لیکن ہمارے ہاں رمضان سے قبل ہی ذخیرہ اندوزی شروع ہو جاتی ہے۔
ڈاکٹر مریضوں کو تڑپتا چھوڑ کر احتجاج میں مصروف نظر آتے ہیں۔ غرض زندگی کے ہر شعبے میں ہم بدتہذیبی ، غیر اخلاقی اور عدم برداشت کی سی صورت حال پیدا کرتے رہتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اس کی ذمہ داری کس پر عائد کی جائے۔ دنیا بھر میں تو ہر شخص اپنی ذمہ داری خود قبول کرنے کی اخلاقی جرات رکھتا ہے۔ یہاں تک کہ حادثات کی صورت میں بھی وزیر استعفیٰ دے کر اپنی ذمہ داری قبول کر لیتے ہیں۔
ہمارے ہاں یہ رواج ہے کہ ہم اپنی غلطیوں کی ذمہ داری بھی دوسروں کے سر ڈالتے ہیں۔ ہماری موجودہ معاشرتی اور اخلاقی صورتحال کی ذمہ داری بزرگ عموماََ نئی نسل پرڈالتے ہیں۔اُن کے بقول نئی نسل اخلاقیات اور تہذیب سے عاری ہے۔ دوسری جانب دیکھا جائے تویہ ذمہ داری براہ راست بزرگوں پر بھی عائد ہوتی ہے۔ ماں کی گود بچے کی پہلی درس گاہ ہوتی ہے۔
والدین ہی اپنے بچے کو اخلاقیات کی تربیت دیتے ہیں۔ اسی طرح والدین کا فرض ہے کہ بچوں کی سرگرمیوں پر بھی نظر رکھیں۔ اس کے دوستوں کے بارے میں جانیں اور اس کی تعلیمی کارکردگی سے آگاہ رہیں۔ بد قسمتی سے آج کی مائیں بچے کی تربیت کی بجائے ٹی وی ڈراموں اور سوشل پارٹیز میں مصروف نظر آتی ہیں تو دوسری طرف باپ زیادہ سے زیادہ دولت کمانے کی جدوجہد میں مصروف ہوتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ گزشتہ صدی میں جو کسی قدر شائستگی اور تہذیبی روایات نظر آتی تھیں اب وہ بھی عنقا ہو چکی ہیں۔ ہمارے اساتذہ اور نصاب بھی کردار سازی میں ناکام نظر آتا ہے۔ اب تعلیم کا مقصد کردار سازی کی بجائے ڈگری کاحصول اور اعلیٰ ملازمت تک محدود نظر آتا ہے۔ اس کی وجہ اس شعبے میں کمرشل ازم کا آنا ہے۔ اب سرمایہ کارکردار سازی کی بجائے دولت کمانے کیلئے تعلیمی ادارے قائم کرتے ہیں۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم مجموعی اور انفرادی دونوں سطح پر اس بات کا جائزہ لیں کہ ہم کیسا معاشرہ تشکیل دے چکے ہیں اور مستقبل میں اس کے کس قدر خوفناک نتائج پیدا ہوسکتے ہیں۔ اس جائزے کے بعد یہ بھی ضروری ہے کہ معاشرے کا ہر فرد اپنی اپنی جگہ پر اپنا کرادر ادا کرے اور پاکستان کی تعمیر وترقی کیلئے متحرک ہو۔یقینا اس وقت ہم کسی بھی رُخ سے مہذب قوم نہیں ہیں۔
ہمارے اندر وہ تمام عادات پائی جاتی ہیں جو غیر مہذہب اقوام کی پہچان ہوتی ہیں۔ ہم تہذیب یافتہ اقوام سے کچھ بھی نہیں سیکھ سکے۔دیکھا جائے تو اسلام نے ہمیں جو طرز زندگی سکھایا ہے وہ مہذب اقوام اپنا چکی ہیں۔ اگر ہم بھی اسلامی تعلیمات کے مطابق زندگی گزاریں اور دوسروں سے ویسا ہی برتاوٴ کریں جو اسلام ہمیں سکھاتا ہے تو کوئی شک نہیں کہ ہم دنیا کی بہترین تہذیب یافتہ قوم بن سکتے ہیں۔
تاریخ اشاعت: 2015-01-29

(0) ووٹ وصول ہوئے

مصنف کا نام     :     سید بدر سعید

سید بدر سعید کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-