بند کریں
بدھ جنوری

مزید سماجی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
جمہوریت خطرے میں ہے؟
دراصل جمہوری نظام کی اساس عوامی فلاح و بہود سے عبارت ہے جب ریاست میں عوام خوشحالی کی طرف بڑھ رہے ہوں تو جمہوری نظام مضبوط کہلاتا ہے ۔ جبکہ عوام کی زندگی میں موجود مسائل اس نظام کی کوتاہی کا منہ بولتا ثبوت ہوتے ہیں
زہرا حسین:
کوئی جمہوری حکومت اسی صورت قائم رہ سکتی ہے جو عوام کی فلاح وبہود کا پوری طرح خیال رکھتی ہو۔ عوام کا اعتماد اس وقت متزلزل ہو جاتا ہے جب حکمران اُن کی امیدوں پر پانی پھیر دیتے ہیں ۔ ملک میں موجودہ بحران کے باعث حکومت جن مشکلات کا شکار ہے وہ اس کے اپنے ہی پیدا کردہ ہیں۔
دراصل جمہوری نظام کی اساس عوامی فلاح و بہود سے عبارت ہے جب ریاست میں عوام خوشحالی کی طرف بڑھ رہے ہوں تو جمہوری نظام مضبوط کہلاتا ہے ۔
جبکہ عوام کی زندگی میں موجود مسائل اس نظام کی کوتاہی کا منہ بولتا ثبوت ہوتے ہیں ۔ موجودہ حالات میں جمہوری نظام کو اس پیمانے پر پرکھا جائے تو حکمران طبقے سے عوامی بیزاری میں ہر لمحے اضافہ ہی دکھائی دیتا ہے۔ اس ناراضی میں حزب اختلاف سے زیادہ کردار خود حکمران جماعت کا ہے۔ اپنے لئے مشکلات پیا کرنا اور پھر حکومت مخالف قوتوں کو احتجاج کی تحریک دینا، ایسے معاملات موجودہ حکومت کے مختصر عرصے میں خوب دکھائی دیتے ہیں۔
اس ضمن میں نظامی حوالے سے کمزوریوں کے علاوہ سیاسی کوتاہیوں کی بھی کچھ کمی نہیں ہے۔ عوامی مینڈیٹ سے قائم ہونے والی موجودہ جمہوری حکومت جب سے برسراقتدار آئی ہے نت نئے بحرانوں نے جنم لیاہے۔ اپنے اقتدار کے ابتدائی مہینوں میں ہی حکومت نے عالمی مالیاتی اداروں سے بھاری شرائط پر قرضہ لے کرعوام کو ٹیکسوں کے بوجھ تلے دبا دیا ۔ مہنگائی میں بتدریج اضافہ ہوتا رہا، اَمن وامان کی بدحالی نے عوام کو خوف وہراس میں مبتلا کئے رکھا۔
ایک کے بعد ایک بحران جنم لیتا رہا لیکن حالیہ بحران بجلی گیس اور پٹرولیم مصنوعات کی قِلت کے باعث کم وبیش ہر شخص حکومت کی کارکردگی سے مایوس ہو گیا۔ بلکہ مشکل کی گھڑی میں حکومت کو سنبھالا دینے والی پیپلز پارٹی بھی کم غصے میں نہیں رہی۔ عمران خان کو بھی ازسرنو احتجاجی تحریک چلانے کا سامان مہیا کر دیا گیا ہے ۔ اسی طرح دیگر سیاسی جماعتوں کی تنقید کا بھی سلسلہ جاری ہے جو عوامی سوچ پر اثر انداز ہورہا ہے۔
تو دوسری جانب حکومت سے بیزاری کا باعث بھی بن رہا ہے۔
گزشتہ دنوں پٹرولیم مصنوعات کی قِلت کے باعث خوب جگ ہنسائی ہوئی اور وزیراعظم سے لے کر عام لیگی کارکن بھی وضاحتیں کرتے نظر آئے۔ مضحکہ خیز امر یہ ہے کہ اس ضمن میں وزیراعظم نے چار اعلیٰ عہدیداروں کو معطل کرنے کی خوشخبری تو دے دی لیکن متعلقہ وزارت کی جانب سے کوئی تسلی بخش وضاحت سامنے نہ آئی۔
یہاں یہ امر قابل غور ہے کہ اگر مذکورہ بالا چار افسر بحران کے ذمہ دار تھے تو پھر چند دن کے بعد اوگر ا کو کیوں قصور دار ٹھہرایا گیا۔ اکثر لوگ چہ میگوئیاں کرتے نظر آئے کہ کیا ہی اچھا ہوتا اگر کسی بھی سطح پر متعلقہ شعبے کے وزیر کی سرزنش کی جاتی۔ سیاسی رہنماوں اور حکمرانوں کی وضاحتیں تو کچھ کام نہ آئیں بلکہ پٹرولیم مصنوعات کی قِلت کے حوالے سے کھپت بڑھنے ایسے جواز تلاش کر کے لاتے اور عوام کویہ باور کرایا جاتا رہا کہ انہوں نے پٹرول زیادہ استعمال کرنا شروع کر دیا ہے جو یقینا حکومت کی نااہلی کا ثبوت ہے۔
حکومت اگر وسائل اور مسائل میں توازن بر قرار رکھے تو اس قسم کے مسائل سرہی نہ اٹھائیں۔ اُلٹاتاویلیں یاد لائل سے اپنے آپ کو برّی الذمہ قرار دینے والی حکومت اپنی مشکلات میں خود ہی اضافہ کرتی جائے تو دوسروں کو بھی سنانے کا خوب موقع مل جاتا ہے گزشتہ دنوں میں حکومت نے لوڈشیڈنگ بحران پر قابو پانے کیلئے 2018ء ہدف دے کر اپنے پاوٴں پر خود کلہاڑی ماری ہے۔

لوڈشیڈنگ ایسا سنگین مسئل ہے۔ کہ موجودہ حکومت نے پرسراقتدار آنے سے قبل اس پرقابو پانے کو اپنی ترجیحات میں سرفہرست رکھا تھا۔ اب جبکہ حکومت کو ملکی باگ ڈور سنبھالے پونے دو سال ہو چکے ہیں ایک بار پھر اس پر قابو پانے کی مدت بڑھا کر اپنی حکومت کیلئے مشکلات تو کھڑی کی ہی ہیں۔ لیکن نیشنل گرڈ میں بار بار خرابی کے باعث بریک ڈاوٴن کی وجہ عوام کو جن مشکلات سے گزرنا پڑا حکومت جانتے ہوئے بھی انجان بنی رہی۔

ترجمان وزارت پانی وبجلی کے مطابق نیشنل گرڈ میں فنی خرابی کے باعث ملک میں بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی ۔ تعجب ہے کہ اس خرابی کو ایک ہی بار کیوں درست کیا جاتا ۔ عوام کو بنیادی سہولتوں کی عدم فراہمی میں تعطل ہو یا پٹرولم مصنوعات کا بحران حکومت اس” سازش“ کا نام دے کر بچ نکلنے کی کوشش کرتی نظر آتی ہے۔ اس حوالے سے پی ٹی آئی کے رہنماعمران خان کا کہنا تھا کہ حکومت کے خلاف کوئی سازش نہیں کر رہا بلکہ خود حکومتی اہلکار اپنے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں۔
عمران خان کی ا س رائے کی پوری طرح تائید ممکن نہیں تو ایسا بھی نہیں کہ اسے پوری طرح جھٹلایا جاسکے۔ عوام بخوبی آگاہ ہیں کہ جب ماضی قریب میں بجلی کی قیمتیں ایک دم آسمان کو چھونے لگی تھیں تو بھی حکومت نے اسے ” سازش“ ہی قرار دیا تھا۔
یہ ”سازش“ کس نے کی اس کا جواب خود حکومت کے پاس نہیں۔ وزاعظم نواز شریف اور ان کے ساتھیوں کو جان لینا چاہیے کہ عوام کونت نئے بیانات سے بہلائے جانے کی بھی کوئی حد ہوتی ہے۔
غور طلب امر یہ ہے کہ اگر ”نواز لیگ“ کی اہم وزارتوں میں بار بار سازشیں ہوتی رہیں تو حکومت کس طرح سے اپنی مدت پوری کر پائے گی ؟
پٹرولیم مصنوعات کے بحران پرچہ میگوئیاں شروع ہو گئی تھیں کہ بحران اس وقت دیکھنے میںآ یا تھا جب جنرل پرویز مشرف نے نواز شریف کی حکومت ختم کر کے ایمرجنسی نافذ کر دی تھی۔ اب جبکہ حکومت اپنی ناقص کارکردگی کے باعث مسلسل دباوٴ کا شکار ہے۔
حکومت مخالف تحریکیں ایک بار پھر سر اٹھا سکتی ہیں سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ جب تحریک انصاف اور عوامی تحریک کی مقبولیت میں کمی آرہی تھی تو حکومت کو اپنی گرتی ہوئی ساکھ کو سنبھالنے کا موقع ملا تھا جوا س نے موجودہ بحرانوں پر قابو نہ پاکر گنوایا ہے۔
موجودہ صورتحال کا تقاضا یہ ہے کہ حکومت اپنی غلطیوں یا کوتاہیوں کے پیچھے ”سازشی عناصر“ کا تذکرہ کرنے کی بجائے اپنی غلطیوں کا اعتراف کرتے ہوئے ان عناصر کو سامنے لائے جو ہر بار اس کیلئے مشکلات پیدا کرتے ہیں۔
رونہ کوئی مضائقہ نہیں کہ ایک بار پھر آمریت کے بوجھ تلے دب جائیں جس کے ہم کسی طور بھی متحمل نہیں ہیں ۔کہنے سننے سے یہ مسائل حل ہونے والے نہیں۔ جمہوریت بچانے کیلئے حکومت کوٹھوس ومثبت پالیسیاں مرتب کرتے ہوئے عوام کو ان تمام حقوق کی فراہمی یقینی بنانا ہوگی جو ایک جمہوری مملکت کی بقا کے ضامن ہیں۔
تاریخ اشاعت: 2015-03-04

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان