بند کریں
پیر فروری

مزید سماجی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
جبری مشقت کے نام پرسسکتی انسانیت
بڑی بڑی کوٹھیاں‘ محلات کتنی ننھی‘ معصوم جانیں نگل گئیں غربت نے پردہ نہ اٹھنے دیاایک زمانہ تھا بچوں کو اونٹ کی دوڑ میں استعمال کیا جاتا تھا۔ جان چلی جاتی تھی کسی کو پرواہ نہ ہوتی
وقار فانی:
ایک زمانہ تھا بچوں کو اونٹ کی دوڑ میں استعمال کیا جاتا تھا۔ جان چلی جاتی تھی کسی کو پرواہ نہ ہوتی ، اونٹ ریس جیت جاتا اور چیختا چلاتا معصوم ہمیشہ ہمیشہ کیلئے چپ ہوجاتا۔ 5سے 14سال کے 40ملین بچے ہیں جو ملک کے کسی نہ کسی کونے میں ”مشقت“ کرتے ہیں۔ گھروں میں کام کرنے والے بچو(لڑکی ہو یا لڑکا) کے دکھ کلیجہ چیر دیتے ہیں۔
جنسی و جسمانی تشد‘ کام کی زیادتی‘ 24گھنٹے کی نوکری‘ نہ آرام نہ چھٹی یہ سب کچھ بھی اسی اسلام کے نام پربننے والے ملک میں روا ہے۔ حدیث مبارکہ ہے کہ مزدور کی مزدوری پسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا کر دو۔ کیا ایسا ہوتا ہے ؟ ہرگز نہیں۔۔۔ یہ غلامی ہے ، بانڈڈ لیبر ہے، اس مزدوری کا ایک بھیانک رخ یہ بھی ہے کہ بعض ااوقات ”جینے کا حق“ تک چھین لیا جاتا ہے۔
لاہور میں واقع عسکری نائن کے ایک گھر میں کام کرنے والی 10سالہ ارم کو چوری کے الزام میں ہاتھ پاؤں سے باندھ کر پلاسٹک پے پائپ سے تشدد کا نشانہ بنایا جاتاہے۔ جو بعد ازاں ہسپتال میں پہنچ کر دم توڑ جاتی ہے۔ ارم کی بیوہ ماں کا دکھ کون سمجھے گا۔ بیٹی مزدوری کیلئے آئی تھی زندگی سے بھی گئی۔ نواب ٹاؤن میں ننکانہ کا 15سالہ محمد قاسم۔ عمر خان کے گھر میں تشدد سے جان دے دیتا ہے۔
غریب باپ کی دہائی کوئی سننے والا نہیں ہوتا۔ لاہور ہی کے ویلنشیاء ٹاؤن میں حکم عدولی پر مالکن سعدیہ کے ہاتھوں 14سالہ عثمان کی زندگی کا چراغ گل ہوجاتا ہے اس کے جسم پر نظر آنے والے تشدد کے نشانات سے مالکن بے خبری کا اظہار کردیتی ہے۔ غریب کا تو مقدمہ لڑنے والا بھی کوئی نہیں ہوتا۔ بڑی بڑی کوٹھیاں‘ محلات کتنی ننھی‘ معصوم جانیں نگل گئیں، غربت نے پردہ نہ اٹھنے دیا۔
لاہور میں ایک پروفیسر سلمان کے گھر میں سیالکوٹ کی 16سالہ لڑکی پر تشدد کیا جاتا ہے۔ جنسی زیادتی ثابت ہوجاتی ہے۔ پولیس اور ڈاکٹروں کی تصدیق کے باوجود انصاف نہیں ملتا۔ یوحن آباد کے مکین 12سالہ شازیہ مسیح کے قاتلوں کی ضمانت پر سراپا احتجاج ہوتے ہیں۔ مگر کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔ اسے ایک مسلمان وکیل کے گھر میں تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔
غریب کہاں جائے‘ انصاف دینے والے ظلم ڈھانے لگ جائیں‘ چلتی سانسیں ختم کرڈالیں تو کیا عرش نہیں کانپے گا۔ قہر نہیں آئے گا۔۔۔ کسی وکیل نے اپنے پیٹی بند بھائی کیخلاف مجبور شازیہ مسیح کے بے گناہ قتل کا مقدرمہ لڑنے کی بھی جرات نہ کی۔ چک نمبر 18/HLکی رہائشی خاتون اپنی بیٹی کے ہمراہ مقامی زمیندار رانا اسرار کے کھیتوں میں کپاس چننے کیلئے جاتی ہے۔
کام کے دوران رنا اسرار اسے زبردستی اٹھا کر اپنے ڈیرے پر لے جاتا ہے اور زیادتی کی کوشش کرتا ہے، خاتون کے شور مچانے پر زمیندار خنجر سے اسکی ناک کاٹ دیتا ہے۔ زخمی خاتون کو فوری طور پر ڈسٹرکٹ ہسپتال خانیوال داخل کروادیا جاتا ہے۔ ہائیکورٹ کے کمپلینٹ سیل کے نوٹس لینے پر ڈسٹرکٹ ایند سیشن جج واقعہ کی رپورٹ طلب کرتا ہے ، تھانہ خانیوال کے مطابق پولیس نے مذکورہ واقعہ کا مقدرمہ زمیندار رانا اسرار کے خلاف درج کر کے جسمانی ریمانڈلیا اور اسے جیل بھیج دیا ہے۔
چالان پیش ہوگا تو کیس چلے گا، عدالتی نظام میں بھی سقم ہے، ملزم با اثر ہے تو ضمانت ہونے میں دیر نہیں لگے گی۔۔ ایک اور بھیانگ داستان سنئیے۔۔۔ وزیر آباد کی مدینہ کالونی کی رہائشی چالیس سالہ گھریلو ملازمہ شبانہ بی بی پر گھر کا سربراہ چوری کا الزام لگادیتا ہے، اس کے بیٹھے نوکرانی کو تشدد کا نشانہ بناتے ہیں اور چہرے پر تیزاب پھینک دیا جاتا ہے۔
ہسپتال ذرائع کے مطابق خاتون کا ستر فیصد جسم متاثر ہوا ہے۔ پولیس کہتی ہے کہ ملزمان فرار ہوگئے ہیں جن کی تلاش جاری ہے۔ یہ تلاش کب تک رہے گی اس کا جواب کسی کے پاس نہیں اور بے چاری شبانہ کا دکھ نہ دیکھا جاسکتا ہے نہ سنا۔۔۔
اپریل 2014ء کا تازہ واقعہ سنئے سبزہ زار کے رہائشی اختر حسین کی 14سالہ بیٹی اقصیٰ ”زبیدہ پارک نواں کوٹ“ کے رہائشی حسن کے گھر ملازمہ تھی جسے مبینہ طور پر قیمتی سامان چوری ہونے پر مالک مکان اور اس کی بیوی نے پوچھ گچھ کی اور نہ ماننے پر اسے تشدد کے بعد مٹی کا تیل چھڑک کر آگ لگادی، وہ بری طرح جھلس گئی۔
ہسپتال داخل کرادیا گیا۔ لڑکی کا چہرہ اور جسم جل گیا ہے جبکہ سر کے بال بھی کاٹ دئیے گئے ہیں۔۔۔ مسلم لیگ(ن) کی ممبر صوبائی اسمبلی وکاکس کی جنرل سیکرٹری حنا پرویز بٹ کا کہنا ہے کہ گھروں میں کام کرنے والی خواتین اور بچوں کے تحفظ کیلئے بہت جلد قانون سازی کی جائیگی۔ خواتین پر تشدد روز بروز بڑھتا جارہا ہے جب تک ہم ان عناصر کو وہی سزا نہ دیں جو انہوں نے تشدد کیا ہو معاشرے سے اس کا خاتمہ ممکن نہیں۔
”کاکس“ نے تمام خاتون ایم پی ایز کو ان کے اپنے اپنے اضلاع میں فوکل پرسن نامزد کردیا ہے جو اپنے اضلاع میں خواتین کے ساتھ رپورٹ ہونے والے واقعات کا نوٹس لیں گی اور اس سلسلے میں انہیں پولیس کی مدد اور قانونی تحفظ کی فراہمی کیلئے کام کریں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ گھروں میں کامکرنے والوں میں اکثریت خواتین کی ہے اور بہت جلد پنجاب اسمبلی میں انکی پروٹیکشن کا بل بھی پیش کرینگے تاکہ یہ باقاعدہ قانون بن جائے۔
سپارک سے وابستہ علی حمزہ کہتے ہیں کہ جبری مشقت ہو یا تیزاب پھینکنے کے واقعات، قانون تو ہے مگر عملدرآمد نہیں ہوتا اس حوالے سے آگہی مہم کی بھی سخت ضرورت ہے ، ملزمان فرار کرادیے جاتے ہیں اور غریب کا کیس داخل دفتر۔۔۔ کتنی ایسی اندوہناک کہانیاں ہیں جنہیں لفظوں کا لاس نہیں مل سکا۔ جنہیں کوئی زبان نشر نہیں کرسکی وار جنہیں قلم کی سیاہی نصیب نہ ہوئی۔
۔۔ گھریلو ملازمین بالخصوص کم عمر بچوں اور بچیوں پر مظالم کی داستانیں ختم ہونے کو نہیں آرہیں۔ جس ملک کی پارلیمنٹ کے اراکین سے متعلق روح افسا خبریں‘ حیران کن انکشافات‘ غیر اخلاقی سرگرمیوں کے الزامات سامنے آئیں وہاں دوسروں کے گھروں میں برتن دھونے‘ جوٹھا کھانا کھانے‘ جوتے پالش کرنے‘ فرشوں کو چمکانے والیوں، بچے کو بہلانے والیوں اور گاڑیوں کو صاف کرنے والوں کی طرف کون توجہ دے گا۔
۔۔ شاید کوئی نہیں۔ سی آر سی کے مطابق 2500ماہانہ تنخواہ پر کام کرنے پر مجبور کم عمر بچوں اور بچیوں پر تشدد کے جنوری 2010ء سے 2013کے چھٹے مہینے تک 41کیس رپورٹ ہوئے اور ان میں سے اپنے مالکوں کے ناروا ظلم سے 18جان کی بازی ہار گئے۔ جن کے لواحقین آج بھی انصاف کے متلاشی ہیں۔ مگر کوئی جوابدہ نہیں۔ انسانی حقوق کے علمبردار ایڈووکیٹ لیاقت بنوریکا کہنا ہے کہ مزدور کو وہ مزدوری بھی نہیں دی جاتی جو اس کا حق ہے۔
ہمارے پاس ایسے سینکڑوں کیسز آتے ہیں جنہیں فری لیگل ایڈ دی جاتی ہے۔ قانون کی عملداری کے بغیر حالات کا بدلنا ممکن نہیں، کم سے کم اجرت بھی نہیں دی جاتی۔۔۔ انسانیات بڑے بڑے محلات میں آج بھی سسک رہی ہے لیکن مداوا کرنے والا کوئی نہیں ۔ ایک اچھی خبر یہ ہے کہ وزیر اعلیٰ محمد شہباز شریف نے جبری مشقت کے خاتمے کیلئے صوبائی وزیر محنت و انسانی وسائل راجہ اشفاق سرور کی سربراہی میں 18رنی کمیٹی تشکیل دی ہے جس کی مشاورت اور تجاویز کی روشنی میں اقدامات کے ذریعے جبری مشقت کے شکار بھٹہ مزدوروں، دیگر تجارتی و صنعتی اداروں میں مزدوروں کو آزادی حاصل ہوسکے گی اور ان کے حقوق کا تحفظ ہوگا۔
عالمی لیبر کانفرنس بھی اس بار اپریل کے اواخر میں لاہور میں ہورہی ہے۔ پنجاب بھر میں جبری مشقت کے خاتمہ کیلئے جاری کوششوں کو مزید تیز کردیا گیا ہے، کمیٹی جبری مشقت خاتمہ کے ایکٹ 1992ء اور قوانین 1995ء کے تحت بانڈڈلیبر کے خاتمہ کیلئے ٹھوس اقدامات عمل میں لائے گی۔ کمیٹی پنجاب بھر میں موجود 35لاکھ سے زائد بھٹہ مزدوروں سمیت دیگر شعبہ جات میں موجود تقریباََ ایک کروڑ پابند مزدوروں کو جبری مشقت سے نجات کیلئے مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرے گی، کمیٹی عدالتوں کے ذریعے آزاد ہونے والے مزدوروں کی بحالی، قانون کی عملداری، ایکشن پلان سمیت جبری مشقت کے خاتمہ کیلئے قانون میں ترامیم اور اسے قابل عمل بنانے کے حوالے سے بھی کام کرے گی نیز جبری مشقت کے خاتمہ کے حوالے سے قائم کی گئی ڈسٹرکٹ ویجیلنس کمیٹیوں کی کارکردگی کو بھی باقاعدگی سے مانیٹر کیا جائے گا۔
مذکورہ کمیٹی جبری مشقت کے خاتمے کیلئے کام کرنے والے ملکی و غیر ملکی اداروں اور این جی اوز کے ساتھ ورکنگ پارٹنر شپ کو مزید مستحکم کرنے کیلئے قابل عمل تجاویز پیش کرے گی۔ حکومت پنجاب کا یہ نہایت خوش آئند اقدام جبری مشقت کے خاتمہ کی جانب اہم پیش رفت ہے۔ کمیٹی کے اقدامات سے جبری مشقت کے شکار مزدوروں کے مسائل حل ہوں گے اور جلدی صوبہ بھر سے جبری مشقت کا خاتمہ ممکن ہوسکے گا۔
کیا اب بھی معاشی مسائل‘ غربت‘ تعلیم کے کم مواقع اور ریاست کے غیر ذہ دارانہ کردار کے باعث بچے اپنے وزن سے زیادہ بوجھ اور عمر سے زیادہ مشقت کرنے، معصوم کلیاں بے رحم مالکوں کی ہوس کا شکار ہونے پر مجبور رہیں گی۔ جبری مشقت اور غلامی کی صدیوں قدیم ثقافت آج بھی زندہ ہے۔ غربت ہر سو پھیلی نظر آتی ہے۔ اگرچہ دنیا بھر کے غریبوں کی ایک تہائی آبادی بھارت میں مقیم ہے۔
مگر ملک عزیز میں بھی یہ تعداد کم نہیں۔۔۔ بھارت کے آدھے سے زیادہ شہری دو ڈالر سے سے بھی کم یومیہ زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ 1947ء میں انگریز سے آزادی حاصل کرنے سے قبل ایشیا میں صدیوں تک جبری مشقت اور غلامی کا راج رہا۔ تاہم آزادی کے بعد پاکستان میں جبری مشقت اور غلامی کی ہیت میں تبدیلی ضروری آئی لیکن آج بھی نہ صرف مرد، خواتین بلکہ بچے بھی کانوں، فیکٹریوں، کھیتوں اور بھٹہ خشت میں جبری مشقت کرنے پر مجبور ہیں، جہاں انکی زندگی مالک کے قرضے چکاتے چکاتے ختم ہوجاتی ہے لیکن قرضہ ختم نہیں ہوتا اور یہ قرضہ پھر اگلی نسل کو منتقل ہوجاتا ہے۔
تاریخ اشاعت: 2014-05-02

(0) ووٹ وصول ہوئے