بند کریں
منگل فروری

مزید سماجی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
اسلام کے گہوارہ سعودی عرب میں رمضان المبارک
دنیا بھر کے مسلمان رحمتوں بھرے مہینے کا کئی ماہ قبل انتظار و انتظامات شروع کر دیتے ہیں۔ اسلام کے گہوارے سعودی عرب میں یہ تیاریاں کئی ماہ قبل شروع ہو جاتی ہیں، دنیا بھر کے مسلمانوں کی یہ خواہش ہوتی ہے
امیر محمد خان:
دنیا بھر کے مسلمان رحمتوں بھرے مہینے کا کئی ماہ قبل انتظار و انتظامات شروع کر دیتے ہیں۔ اسلام کے گہوارے سعودی عرب میں یہ تیاریاں کئی ماہ قبل شروع ہو جاتی ہیں، دنیا بھر کے مسلمانوں کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ اس مبارک ماہ میں عمرہ اور طواف کے کعبہ، وروضہ رسول ﷺ پر حاضری دیں چونکہ رمضان المبارک صرف تیس دن کا ہوتا ہے اسلئے دوسرے مبارک ماہ شعبان اور دوسرے ماہ سے عمرہ کی سعادت کیلئے دنیا بھر سے لاکھوں افراد یہاں پہنچ جاتے ہیں، ان ضیوف الرحمان کی مہمان نوازی کیلئے ہزاروں کنٹیسنرز اور ٹرک غذائی اجزاء سے بھر پور سعودی عرب پہنچنا شروع ہو جاتے ہیں،چونکہ یہ ماہ بابرکت ہے تو صرف روزہ دار ہی نہیں، کاروباری افراد بھی اس سے استفادہ حاصل کرتے ہیں، مکہ المکرمہ اور مدینہ النورہ قرب جوار کی رہائشوں میں رہائشی سرگرمیاں شروع ہو جاتی ہیں۔
سعودی عرب میں خاص طور دفاتر اور کاروبار کے اوقات کار تبدیل ہو جاتے ہیں، افطار سے چند گھنٹے قبل کاروبار بند ہوتے ہیں جبکہ تراویخ کی ادائیگی کے فوری بعد سحری تک کاروباردوبارہ کھل جاتے ہیں۔ دنیا بھر میں افطاری کی دعوتیں ہوتی ہیں مگر سعودی عرب میں افطار کے ساتھ سحری کی دعوتیں بھی نہائت پر تکلف ہوتی ہیں، جو سحر تک جاری رہتی ہیں۔ اختتام فجر کی باعماعت نماز کے ساتھ ہوتاہے، ہر لحاظ سے یہ ماہ بابرکت ہے۔
روزہ مسلمانوں میں پرہیز گاری کی تربیت کئی طرح کرتا ہے، سب سے پہلے یہ احساس بیدار کرتا ہے کہ پندرہ سولہ گھنٹے کھانے پینے کی حلال اشیاء اپنے رب کے حکم سے اپنے لئے حرام کر لی ہیں تو وہ باتیں جو پہلے ہی حرام ہیں، حالت صوم حلال اورجائز ہونگی؟ مثلاََ جھوٹ، خیانت ، بے ایمانی ، وغیرہ۔ جب مسلمان روزہ پورے شعور سے رکھے تو جونہی وہ کسی گناہ کا مرتکب ہونے لگتا ہے تو روزہ س کے ضمیر پر دستک دیتا ہے کہ تم ” روزہ کی حالت میں ہو“ روزہ ایک راز ہے بندے اور اس کے خالق کے درمیان صرف وہ دونوں ہی جانتے ہیں کہ حکم کے خلاف کوئی کاتوہی نہیں ہوئی۔

تقوی کی ایک اہم مثال روزہ ہے۔ بھوک کا احساس خیرات دینے کا جذبہ دیتا ہے کہ وہ لوگ جنہیں غذا میسر نہیں ان کا کیا حال ہو گا۔ صحیح بخاری کے مطابق جس شخص نے رمضان کے روزے ایمان و احتساب کے ساتھ رکھے اس کے سابقہ گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں“ روزہ نہ صرف تقویٰ اور ایمان کو مضبوط کرتا ہے بلکہ بے شمار بیماریوں کا علاج بھی ہے کلسٹرول ، ہائی بلڈ پریشر ، گردوں کی بیماری اپنے ڈاکٹرز سے مشورہ کر کے اللہ کے حکم کی تعمیل کرتے ہیں اور اللہ ان کی بیماریوں میں شفاء دیتا ہے۔
سعودی عرب یوں تو عام طور پر روزہ کی برکتیں ہر جگہ دیکھنے کو ملتی ہیں ایک ماحول ، موسم رمضان کالگتا ہے، مگر جو خوش نصیب حرمین یعنی مکہ المکرمہ ، مدینہ المنورہ میں خانہ کعبہ ، یا روضتہ رسول پرروزہ کھولتے ہیں وہاں منظر قابل رشک ہوتا ہے ، لاکھوں لوگ طویل ترین دستر خوانوں پر روزے افطار ہونے سے قبل بیٹھتے ہیں اور نہائت خوشنودی سے دعا میں مشغول ہوتے ہیں، کچھ لوگ خود اپنے ہمراہ کھجوریں اور روزہ کھولنے کی دیگر اشیا ء لاتے ہیں مگر بے شمار مخیر حضرات لاکھوں ریال کا افطار کا سامان تقسیم کررہے ہوتے ہیں، آپ کے سامنے انواع اقسام کی روزہ افطار کرنے کی اشیاء ہونگی،(سبحان اللہ) اگر ان دستر خوانوں کی پیمائش کی جائے تو یہ دنیا کے سب سے بڑے دستر خوان ہوتے ہیں جہاں ہر روزہ دار خوشنودی سے اللہ کو یاد کر رہا ہوتاہے۔
یہ منظر اتنا روح پرور ہوتا ہے کہ اس منظر کو ٹیلی ویژن پر دیکھ کر بے شمار لوگ مسلمان ہو چکے ہیں۔ نہ صرف حرمین میں بلکہ سعودی عرب کے ہر شہر کی ہر شارع پر جب آپ افطار کے وقت ٹریفک سگنل پر رکیں گے تو سعودی اور دیگر قومیتوں کے لوگ جن میں پاکستانی مسلمان بھی ہوتے ہیں ہر گاڑی میں پانی، کھجور، کیک ، جوس کے ڈبے تقسیم کرتے ہیں کہ اگر روزہ راستے میں کھل جائے تو وہ افطار میں تاخیر نہ کریں۔
فجر کے بعد سے کھانے پینے کی اشیاء کی تمام دکانیں، ہوٹلز بند ہو جاتے ہیں۔ سرعام کھانے سے تادیبی کارروائی حکومت کی جانب سے ہوتی ہے۔ یہ بات بھی قابل غور ہے کہ دفاتر میں اوقات کار صرف مسلمان ملازمین کیلئے تبدیل ہوتی ہے۔ جبکہ غیر مسلم ملازمین چاہے انکار عہدہ کتنا ہی بڑا ہو وہ اسے عام اوقات کار کے مطابق کام کرنا پڑتا ہے۔
تاریخ اشاعت: 2014-07-22

(0) ووٹ وصول ہوئے