بند کریں
اتوار فروری

مزید سماجی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
انصاف میں تاخیر
پولیس کا رویہ عوام کو مایوس کر رہا ہے خادم اعلیٰ کا مظلوم گھرانوں سے تعزیت اپنی جگہ لیکن جب تک تھانہ کلچر درست نہیں ہوگا تب تک صورت حال میں بہتری کی امید نہیں
اسد نقوی :
پاکستان کے عوام انصاف میں تاخیر اور نا انصافی کی وجہ سے خودکشیوں پر اتر آئے ہیں یا پھر وہ اپنا بدلہ خود لینے لگے ہیں۔ یہ دونوں عمل باعث تشویش ہیں۔ خادم اعلیٰ کا مظلوم گھرانوں سے تعزیت اپنی جگہ لیکن جب تک تھانہ کلچر درست نہیں ہوگا تب تک صورت حال میں بہتری کی امید نہیں۔
چند ماہ قبل مظفر گڑھ میں زیادتی کا نشانہ بننے والی طالبہ نے انصاف نہ ملنے کی وجہ سے تھانے کے باہر خود کو آگ لگا لی تھی۔
یہ طالبہ اب اس دنیا میں نہیں ہے ۔ اب وہ ایک ایسے جہان میں پہنچ چکی ہے جہاں انصاف کرنے والا مظلوم کے ساتھ ہوتا ہے اور ظالم کو اپنے کیے کی سزا ملتی ہے۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ دنیا میں خدانے یہ منصب جنہیں سونپ رکھا ہے ان کی جانب سے اب عوام مایوسی کا اظہار کر رہے ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ طالبہ کی خود سوزی کے بعد پولیس چیف اور وزیراعلیٰ ہیلی کاپٹر پر مکمل پروٹوکول کے ساتھ اس کے گھر گئے۔
اس قدر پروٹوکول کے ساتھ آنے کا مقصد اس طالبہ کے ساتھ ہونے والے ظلم پر ہمدردی کا اظہار کرنا تھا ۔ وزیراعلیٰ کی جانب سے متاثرہ خاندان کے لئے امداد کا بھی اعلان کیا گیا اور انہوں نے پولیس افسروں اور ہلکاروں کو معطل کرنے کے احکامات بھی جاری کیے۔ خادم اعلیٰ کا اب معمول بن چکا ہے کہ وہ اکثر اسی طرح متاثرہ خاندان سے ملاقات کرتے ہیں اور سانحہ دکھ کا اظہار کرنے کے بعد امداد کا اعلان کرتے ہیں۔
اسی طرح وہ ذمہ داران کے خلاف کارروائی کا بھی حکم دیتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اس سب کے باوجود معاشرے میں ظلم کا عنصر کم ہونے میں کیوں نہیںآ رہا؟
ہمارے ہاں ظلم کے خلاف پہلا قدم پولیس کو اٹھانا ہوتا ہے۔ پولیس چالان کی روشنی میں ہی مقدمہ عدالت میں پیش کیا جانا ہے۔ اسی طرح ملزمان کی گرفتاری بھی پولیس کا ہی فرض ہے ۔ المیہ یہ ہے کہ ظلم کے خلاف اس پہلی دیوارکی بنیادیں ہی اپنی جگہ پر نہیں ہیں۔
مظفر گڑھ کی طالبہ بھی زیادتی کے بعد پولیس کے پاس ہی گئی تھی لیکن وہاں سے اسے انصاف تو کیا ملنا تھا الٹا پولیس نے ملزم کو ا کے اپنے بیان پر بے گناہ قرار دے دیا تھا۔
اسی طرح نرسوں کے احتجاج کے موقع پر بھی پولیس کی جانب سے نرسوں پر برسائی گئی لاٹھیوں اور تشدد کے مناظر پوری قوم نے دیکھے۔ سوال یہ ہے کہ یہ لاٹھی چارج قانون کے مطابق کیا گیا تھا؟ اگر یہ قانون کے مطابق تھاتو اس کے احکامات کس نے جاری کیے۔
اگر یہ قانون کے منافی تھا تو بات واضح ہے کہ جو پولیس سر عام میڈیا کی موجودگی میں اس رویہ کو اپنائے ہوئے تھی وہ تھانوں میں کس رویے کا مظاہرہ کرتی ہوگی؟ حقیقت یہ ہے کہ ہم پولیس اسٹیٹ میں زندہ ہیں ۔
وزیراعلیٰ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران پولیس کلچر تبدیل کرنے کے وعدے کیے تھے۔ وہ آج بھی محض وعدے ہی کرتے نظر آرہے ہیں۔ ہمار المیہ یہ ہے کہ یہاں پولیس اسے ملزم قرار دیتی ہے جس کے پاس وسائل کم ہوں اور وہ مقدمے بازی پر پیسے خرچ کرنے کا اہل نہ ہو۔
اسی طرح نہ صرف ایف آئی آر درج کرنے میں تاخیر کی جاتی ہے، بلکہ ایف آئی آر کے اندارج سے قبل پولیس اہلکار اس بات کا جائزہ لیتے ہیں کہ پولیس کے ” خرچہ پانی“ کا بوجھ اٹھانے کا اہل کون ہے ۔ اسی طرح رپورٹ لکھتے وقت ایسی رپورٹ لکھی جاتی ہے جسے پولیس اہلکار اپنی مرضی سے دوسرا رخ دے سکیں۔ چالان تیار کرتے وقت بھی اس میں کئی قسم رکھے جاتے ہیں۔
غرض پولیس ایسے تمام مواقع پیدا کرتی رہتی ہے جس سے کسی بھی وقت کیس کو اپنی مرضی کا رخ دیا جا سکے ۔ انہی کی بنیاد پر دیہاڑیاں لگائی جاتی ہیں اور لمبی رقمیں کمائی جاتی ہیں۔
یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ اگر آغاز میں ہی پولیس پر واضح ہو جائے کہ مدعی بے کس اور مجبور ہے جبکہ ملزمان بااثر اور پیسوں والے ہیں تو پولیس ملزمان کے پلڑے میں جا بیٹھی ہے ۔
ایسی صورت میں بھی مقدمہ ردج کرنے کی بجائے پولیس صلح صفائی پر زور دینا شروع کر دیتی ہے۔ ایسی خبریں بھی ریکارڈ پر ہیں کہ پولیس بااثر ملزمان کے ساتھ مل کر مدعی کو ہی ڈراتی دھمکاتی رہتی ہے اور صلح پر زور دیتی ہے ۔ یہ صورت حال اس قدر مایوس کن ہوتی ہے کہ عام شہری یا تو خود کشی پر مجبور ہو جاتا ہے یا پھر اپنی عزت بچاتے ہوئے مقدمہ واپس لے لیتا ہے۔

ہمارے ہاں عام تصور یہ ہے کہ انصاف فراہم کرنا عدالتوں کا کام ہے۔ یہ بات درست ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ عدالتوں میں عام طور پر ہی شواہد پیش کیے جاتے ہیں جو پولیس اکٹھے کرتی ہے۔ اس طرح پولیس مقدمات کو اتنا خراب کر دیتی ہے کہ سچائی جھوٹ کی دبیز چادر تلے چھپ جاتی ہے۔ ہمارے ہاں ضلع عدالتوں میں بھی کافی حد تک کرپشن پائی جاتی ہے لیکن اکثر معاملات تو پولیس کلچر کی ہی نذر ہو جاتے ہیں۔
پولیس کا رویہ اور کرپشن شہریوں کو اس حد تک مایوس کر رہی ہے کہ اب وہ تھانوں کے باہر خود سوزی پر اتر آئے ہیں۔ اب دیوانی مقدمات ہی نہیں فوجداری مقدمات بھی لٹکنے لگے ہیں۔ خادم اعلیٰ نے شاید انسانی جان کی قیمت 5 لاکھ مقرر کر رکھی ہے کہ وہ ہر سانحہ کے بعد آ کر امداد کا اعلان کر دیتے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ اہلکاروں کو معطل کرنے کے ساتھ ساتھ اعلیٰ افسروں سے سوال کیوں نہیں کرتے؟جس دن پولیس کرپشن کنٹرول نہ کرنے پر آئی جی کی سطح کے افسروں کو سزائیں دینے کا عمل شروع ہوا اس دن نہ صرف پولیس رپورٹس درست ہونا شروع ہو جائیں گئی بلکہ مظلوموں کو بروقت انصاف بھی ملنے لگا۔
بڑے ذمہ داران کو چھوڑ کر چھوٹے ملزمان کو سزائیں دی جائیں تو بڑی چھتری تلے مزید کرپٹ لوگ آکر یہی کام شروع کر دیتے ہیں جو آج کل ہو رہا ہے۔ضرورت اس امرکی ہے کہ ایک دو افراد کو معطل کرنے کی بجائے نظام درست کرنے کے لیے کا م کیا جائے پولیس اہلکاروں کو معطل کرنا یا انکوائری کرنا ہی کافی نہیں بلکہ ملزمان کی مدد کرنے یا انہیں تحفظ فراہم کرنے والوں کوبھی جرم میں برابر کا شریک تصور کرتے ہوئے وہی سزائیں دی جائیں جو مجرموں کے لئے مقرر ہوں۔

حکومت اور پولیس کے اعلیٰ افسروں کو یہ بات بھی ذہن میں رکھنی چاہیے کہ عوام انصاف کی خاطر ہی قانون کا احترام کرتے ہیں۔ موجودہ حالات میں یہ تاثر شدت سے پیدا ہو رہا ہے کہ پولیس اب مظلوم کے ساتھ نہیں ہوتی بلکہ تھانے ملزم اور ظالم کی پشت پناہی کرنے میں مصروف ہے۔ یہ تاثر انتہائی خطر ناک ہے۔ اگر یہ احساس بڑھتا رہا تو نہ صرف پولیس کا احترام اور ڈر ختم ہو جائے کا بلکہ بطور ادارہ اسے کام کرنے میں بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔
عوامی ردعمل اتنہائی خطر ناک ہوتا ہے۔جنرل مشرف کے دور حکومت میں باقاعدہ فوج کو حکم دیا گیا تھا کہ وردی میں بازاروں اور عوامی مقامات کا رخ نہ کریں۔ اس صورت حال کو جنرل کیانی نے بروقت سنبھال لیا رونہ معاملات بگڑتے چلے جا رہے تھے۔اب پولیس کے لئے ایسے احکامات جاری ہونے سے قبل ہی اس صورت حال کو سنبھالنا ضروری ہے۔ پولیس کلچر کو ردست کرنے کا کام اہلکار کی سطح سے نہیں ہو سکتا بلکہ اس کے لیے اعلیٰ افسروں کی سطح سے عملی کام کرنا ہوگا۔
تاریخ اشاعت: 2014-07-01

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان