بند کریں
منگل جنوری

مزید سماجی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
انقلاب اور عوام کی بہتری
اس کیلئے آزاد اور غیر جانبدار خارجہ پالیسی ضروری ہے جائزہ لیں تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ پاکستان کے اکثر لوگ تبدیلی اور انقلاب کی بات کرتے ہیں ۔ توجوانوں میں خصوصاً اس حوالے سے جوش و خروش دیکھنے میں آیا ہے
مصنف : سید بدر سعید
یہ ایک طے شدہ بات ہے کہ بہترین ریاست کسی فرد واحد کی ملکیت نہیں ہوتی، نہ ہی یہ محض کسی ایک شخص کو تحفظ دینے کیلئے وجود میں آتی ہے۔ ایک ہی ملک میں کئی مذاہب کے لوگ اور متعدد نظریات کے حامی رہتے ہیں۔ اصولاََ ان سب مذاہب اور نظریات کے حامیوں کے اپنے اپنے مخصوص دائروں میں رہنے وار ریاستی قوانین کی پابندی کرنے پر ریاست ان سبھی کو تحفظ فراہم کرتی ہے۔
پاکستان ایک نظریاتی ریاست ہے۔ اسلام تمام مذاہب کو امان دیتا ہے، ای لئے قائد اعظم نے بھی واضح طور پر کہا تھاکہ یہاں ہر شخص کو اپنے مذہب کے مطابق زندگی بسر کرنے کی آزادی ہو گی۔ ایسی صورت میں اب یہ ریاستی ذمہ داری ہے کہ وہ ہر پاکستانی کو برابری کے حقوق اور سہولیات فراہم کرے۔ بدقسمتی سے پاکستان ابھی تک اس مقام پر نہیں آسکا جہاں قائد اعظم اسے دیکھا چاہتے تھے۔

۔ عوام کی اسی رگ کو بھانپتے ہوئے ہر سیاسی لیڈر بھی تبدیلی اور انقلاب سے ہی اپنی تقاریر کا آغاز کرنے لگا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا موجودہ حالات میں تبدیلی آسکتی ہے؟ کیا پاکستان ترقی کی جانب گامزن ہوسکتا ہے؟ کیا پاکستان کے عام شہریوں کے حالات بہتر ہوسکتے ہیں؟ کم از کم موجودہ حالات میں ان سوالوں کے جوابات انتہائی مایوس کن ہیں۔ یاد رہے کہ تبدیلی کا مطلب نہ تو حکومتی چہرے بدلنا ہے، نہ ہی کسی ایک کو ہٹ اکر اس کی جگہ دوسرے کو لانا ہے بلکہ یہاں تبدیلی کا مطلب معاشرے کی ترقی ہے۔
اگر پاکستان عالمی برادری میں اپنی پوزیشن مستحکم کرتا چلا جائے اور پاکستان کے عام شہریوں کو بہتر روزگار اور اچھی ملازمتیں ملنے لگیں تو اسے تبدیلی سمجھا جائے گا۔ عام مزدور ظلم کی جس چکی میں پس رہا ہے اگر وہ اس سے باہر نکلنے میں کامیاب ہوجائے تو یہی اصل تبدیلی ہے۔
یہاں کسی ایک شخص کے بدلنے سے کوئی تبدیلی ممکن نہیں بلکہ مجموعی طور پر معاشرے کا رویہ اور رجحانات تبدیلی ہونا ضروری ہیں۔
اس سلسلے میں سیاسی و مذہبی رہنما اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ عدم برداشت کے رویے کی حوصلہ شکنی کے ساتھ ساتھ اخالق، محبت اور تہذیب کو جگہ دینی ہوگی۔ دوسری جانب پاکستان کے دیگر ممالک سے تعلقات کی نوعیت ہے۔ پاکستان اندرونی طور پر بھی تبھی ترقی کرسکتا ہے جب عالمی برادری میں اسے ممتاز مقام ملنے لگے اور دنیا بھر سے اچھے تعلقات قائم رہیں۔
یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ ریاستیں ایک دوسرے کی مدد سے ہی ترقی کرتی ہیں۔ عالمی منڈیوں میں بہتر جگہ حاصل کرنا اور ملک میں سرمایہ کاری لانا بہت ضرور ہوتا ہے۔ دیکھا جائے تو یہ بات وضح نظر آتی ہے کہ ریاست کا مجموعی رویہ اور پالیسی اس سارے عمل پر بہت اثر انداز ہوتی ہے حکومتی کا دیگر ممالک سے رویہ اور تعلقات ہی کسی ریاست کی کامیابی یا ناکامی کی وجہ بنتا ہے۔

یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ ترقی کی شاہراہ پر سفر کرنے والی ریاستیں اپنی واضح رائے رکھتی ہیں۔ وی کسی ایک پلڑے میں اپنا وزن ڈالنے کی بجائے سبھی سے اچھے تعلقات استعار کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ بدقسمتی سے پاکستان میں حکومت بدلتے ہی خارجہ پالسی میں بھی تبدیلی کردی جاتی ہے۔ پاکستان ایک دور میں ایک جانب جھکا نظر آتا تو دوسرے دور میں دوسری جانب جھکا ملتا ہے۔
اچھی ریاست کیلئے یہ ممکن نہیں ہوتا کہ وہ کسی ایک جانب انتہائی جھکاؤ ظاہر کر کے دوسری جانب موجود ممالک سے بگاڑ پید اکرے۔
ہم گزشتہ دور حکومت میں ایک ملک کی جانب جھکے ہوئے تھے تو اب اس کے مخالف کیمپ میں نظر آتے ہیں۔ یہ صورتحال باعث تشویش ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اپنے فرض کا احساس کرتے ہوئے تمام برادر ممالک سے اچھے تعلقات قائم رکھے اور کسی ایک جانب جھکاؤ ظاہر کرکے دیگر ممالک سے تعلقات بگاڑنے کی بجائے متنازعہ معاملات میں خود کو غیر جانبدار رکھے۔

اگر واقعی ایسا ہوگیا تو پھر تبدیلی کا سفر بھی شروع ہوگا۔ ہر پانچ سال بعد بدلتی خارجہ پالیسی عالمی منڈیوں میں پاکستان کی ساکھ کمزور کرنے کاباعث بن رہی ہے۔ پاکستان کی ساکھ بہتر ہوگی تو ہی وطن عزیز ترقی کی منازل طے کرے گا۔ ضرور اس بات کی ہے کہ حکومت اپنی متنازعہ پالیسیوں پر نظر ثانی رکے اور ایسے اقدامات کرے جن کی امید کسی بھی اچھی ریاست سے کی جاسکتی ہو۔
تاریخ اشاعت: 2014-05-20

(0) ووٹ وصول ہوئے

مصنف کا نام     :     سید بدر سعید

سید بدر سعید کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-

: متعلقہ عنوان