بند کریں
پیر فروری

مزید سماجی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
ہن دس۔۔۔۔!
سیاست میرے لیئے لکھنے کے موضوعات میں سے شجر ممنوع کی حیثیت رکھتاہے،اگرایک طرف مجھے اپنے قیمتی وقت کا بخوبی اندازہ ہے تو دوسری طرف لکھے پہ لکھنے کی عادت نہیں ہے ، مگر ہم ہر لحظہ فقط اپنی زندگی نہیں جیتے
مصنف : الطاف گوہر
لٹکا ہوا چہر ہ، جھکی ہوئی نگاہیں، دھیماں لہجہ ، اورپر سکوت ماحول کسی بھی طرح اسرار سے کم نہ تھا، شیرنی والی للکارجانے کہاں کھو گئی ،یا الہی ماجرہ کیا ہو گیا، کیا سورج مغرب سے نکل آیا؟ اگرایسا نہیں تو پھرکہیں تبدیلی ضرور آگئی تھی۔۔۔ مجھے جا کر لکڑیاں لادو ، یا پھر گیس کا سلنڈر۔۔ عرصہ ہوگیا۔۔گھر میں کھانا پکائے ہوئے۔۔۔۔۔۔۔
بیگم کے لہجہ کی تندی کو کم از کم میں دھیماں نہ کر سکاجویہ انقلاب موجودہ سیاسی نظام نے بھرپا کردیا۔۔
سیاست میرے لیئے لکھنے کے موضوعات میں سے شجر ممنوع کی حیثیت رکھتاہے،اگرایک طرف مجھے اپنے قیمتی وقت کا بخوبی اندازہ ہے تو دوسری طرف لکھے پہ لکھنے کی عادت نہیں ہے ، مگر ہم ہر لحظہ فقط اپنی زندگی نہیں جیتے بلکہ لا محالہ ایک گھر، محلہ ، شہر اورملک وقوم کے پیمانہ پہ ایک اجتماعی شناخت بھی رکھتے ہیں۔
لہٰذا کبھی کھبار شجر ممنوع کو بھی ہاتھ لگانے میں کوئی مضائقہ نہیں، اکثر یہ بھی خیال آتا ہے کہہ اگر ہمارے جدامجد نے جنت میں شجر ممنوع کو ہاتھ نہ لگایا ہوتا تو جانے زندگی کسی اور رخ بہہ رہی ہوتی۔۔۔۔؟
کبھی کبھی ہم سماجی ،معاشی ،قومی اور مذہبی اجتماعی زندگی بھی جیتے ہیں مگر کبھی بھی افلاس، بے روزگاری، غربت اور محبت میں اجتماعیت برقرار نہیں رکھ سکتے۔
بچن کا معاملہ یاد آتا ہے کہ سکول کے دور میں کیا عجب زندگی تھی ، اتنی باقاعدہ اور ذمہ دار مگر اب شائد ناقابل تصور۔کم عمری میں ،غالباً جماعت پنجم کے دور میں ہم جماعتوں کے علاوہ کھیل کود سے زیادہ زندگی اور دنیا کو کچھ تصور محال ہے، البتہ ایک بات جو قدرے اضافی تھی اور وہ تھی۔۔۔اجتماعیت۔۔ اور وہ بھی کھیل کود، عبادات اور اللہ کو یاد کرنے کے مختلف پروگرامز۔
۔
مجھ میں ان معاملات میں بہت باقائدگی پائی جاتی رہی۔۔ہم جماعتوں میں یہ عادت بھی آج سے مختلف تھی کہہ ایسے پروگرامز میں ایک دوسرے کو نہ صرف دعوت دیتے بلکہ ذوق شوق سے شامل بھی ہوتے، جبکہ ان پروگرامز میں سے چیدہ چیدہ ، محافل نعت، تبلیغی جماعت میں نصرت کیلئے شمولیت،درس قرآن میں شمولیت ، رمضان میں شب بیداری ، محافل شبینہ،مختلف مذہبی پروگرامز میں شمولیت، محرم میں دس روز تک مجالس میں باقائدگی سے حاضری اورجب کبھی کسی کے پیر صاحب آتے تو اللہ ہو کی ضرب لگانے میں پیش پیش اور ہر اتوارکو مسیحی پرگرام میں شمولیت۔
۔۔سب کا اللہ ایک تھا اور شائد آج بھی سب کے اللہ تباک تعالیٰ ایک ہیں۔۔۔ کبھی کسی میں کوئی تفریق نہیں دیکھی۔۔۔ہر دکھ تکلیف میں دوسروں کیلئے جان چھڑکتا،ہر کوئی اپنے فرقہ و مسلک و دیگر کو معاملات میں نہ شامل کرتا۔۔۔ ہماری ایک جامع مسجد میں ہر مسلک کا اگر کوئی علیحدہ پروگرام ہوتا توکسی دوسرے کی اس میں قطعی کوئی مداخت نہ ہوتی۔۔۔ ا س وقت سیاست کا کچھ پتہ نہ تھا۔
۔۔
زندگی میں پہلی بار سیاست سے آشنائی اس وقت ہوئی جب ایک روز ایک مسلک کے لوگوں نے دوسرے مسلک کے لوگوں کو باقاعدہ مارکر نہ صرف مسجد سے نکال دیا بلکہ اس میں نماز پڑھنے کیلئے پابندی بھی لگا دی ، جاؤ اور جا کر اپنی علیحدہ مسجد بناؤ۔ مجھے اس بات کی بھی سجمھ بالکل نہیں آئی۔۔۔سہم گیا۔۔کم عمری و ناسمجھی کا دور تھا۔۔۔۔ میرے ہم جماعت بھی ڈر گئے۔
۔شائد اس دن اللہ سب کیلئے علیحدہ علیحدہ ہو گیا؟
مجھے اپنے ہم جماعت، تاجے کی بات اکثر یاد آتی ہے جو اسکول میں داخل ہونے کے بعد استانی کے ایک سوال متحیر ہوگیااپنا وہ واقعہ اس طرح سے سناتا۔۔۔؛ استانی نے پوچھا بتاؤ اللہ کتنے ہیں؟ تو اس نے کہا اللہ ایک ہیں۔۔ مگر استانی نے کہا، ایک تمہارا رب اور ایک میرا رب تو اب بتا? کتنے رب ہوئے ، تو تاجہ پریشان ہو گیا۔
۔۔ کچھ جواب نہ بن پایا۔۔۔۔ بس یہی کہتا رہاکہ یارکیا سب کا اپنا اپنا اللہ ہے۔۔۔۔؟ اس وقت تو میں بھی حیران تھا کہ کچھ مجھے بھی کچھ سمجھ نہ آیا شائد عمر کا تقا ضہ تھا۔۔۔۔ مگر آج شائد یہ معاملہ سمجھنا آسان ہوجائے۔۔۔
ہماری جامع مسجد کے امام اپنے علاقے کے مفتی صاحب بھی تھے۔۔ میں نے اسکول و کالج کی تعلیم کے متوازی وقت نکال کر قرآن پاک کی تعلیم ان مفتی صاحب سے حاصل کی۔
۔۔ جب کالج کا دور آیا تو۔۔۔ایک روز پھر سیاست سے پالا پڑا۔۔۔ جمعہ کے خطبہ میں مولانا نے بات کرتے ہوئے اچانک اپنے موضوع کا رخ دوسرے فرقہ کے خلاف موڑلیا اور کچھ ایسی بات شروع کی جو قطعی اشتعال پیدا کر رہی تھی۔۔۔مجھ میں شعوری بلوغت آچکی تھی۔۔ اوران باتوں کا بھی موازنہ کرسکتا تھا۔۔ پہلے تو میں نے ہزاروں کے مجمے کو دیکھا جو پر سکون تھا ، بے حرکت و شائد بے حس۔
۔۔ میرے لیئے یہ معاملہ ناقابل برداشت تھا اور میں دوران جمعتہ المبارک کی تقریر کے کھڑا ہو گیا اور مولانا کی طرف اشارہ کرکے کہا۔۔۔ آپ اپنی گفتگو کو یہیں روک لیں ، ہم یہاں انتشار سیکھنے نہیں آتے۔۔ برائے مہربانی کچھ اللہ اور رسول اللہ ﷺ کی بات کریں۔۔ توڑ نے کی نہیں جوڑنے کی بات کریں۔۔،،، مولانا نے فوری اپنا موضوع تبدیل کر لیا۔۔۔ مگرجمعہ کے اختتام پہ میرے ارد گر د مجمہ لگ گیا۔
۔ دو دھڑے بن گئے۔۔ کچھ نے کہا بہت اچھا کیا۔۔۔ اورکچھ نے کہا کہ میں نے غلط کیا۔۔ مگر مجھے سیاست دان نہیں بننا تھا ورنہ حالات مناسب تھے۔۔۔ اور معاملہ وہیں ختم ہوگیا۔۔
تاجے نے تو پڑھائی چھوڑدی مگر مجھے ابھی پڑھنا تھا۔۔میں تو علم کا بھوکا تھا۔۔۔ کالج کا لائبریرین جاتے ہوئے اکثر مجھے اضافی چابیاں تھما دیتا کہ جب جا? تو تالا لگا تے جانا۔
۔۔۔میری کتاب سے دوستی مجھے باندہ رکھتی جیسے میرے لیے یہ موبائل کا کوئی رات کا پیکیج ہوا وردلربا کی کھنک میرے لیئے وقت گزرنے کے احساس کاختم کردے۔۔ پھر ایک وقت آیا اور کتابوں سے نکل کر معاملہ نظارہ قدرت کی طرف محو ہو گیا۔۔شائد میری دوستی اب مطالعہء انفس و آفاق سے ہوگئی۔۔۔۔ اورپھر دوستی کا یہ سفر مطالعہ سے مشاہدہ میں تبدیل ہوگیا۔
۔۔۔۔
گزشتہ الیکشن کی گہما گہمی میں ایک خدائی فوجدار کی حیثیت سے بیگم نے بھرپور حصہ لیا۔۔۔اوراس علاقہ میں جہاں سے پی ٹی آئی نے الیکشن جیتا ، اکلوتی شیر کی للکارلئے دوسروں کو ترغیب دیتی رہی۔۔۔ہمارے علاقہ میں پی ٹی آئی کا ہی زیادہ رجحان ہے۔۔۔ اب اس خدائی فوجدار کو بہت سے معاملات پیش ہیں۔۔۔محلے کی خواتین کا سامنا کرنا بہت مشکل ہو رہا ہے۔
۔۔ !
بجلی تو پہلے نہیں تھی اوراسکے نرخ بڑھنے کے باوجود معاملہ جوں کا توں ہے۔۔پانی مرضی سے آتا ہے اور گیس کاصرف بل جمع کروانے کیلئے لگی ہوئی ہے ، ویسے لگتا ہے گھروں میں نہیں بلکہ سرائے میں رہتے ہیں۔۔۔بے سرو سامانی ہے۔۔۔ ؟ دیگر اشیائے ضرورت کے ساتھ ساتھ اب کھانا پینا بھی باہر سے ہی ممکن ہے۔۔۔
دنیا کس طرف جا رہی ہے اور ہم زمانہ پتھر کی طرف لوٹ رہے ہیں۔ شائد اس کا احساس پید انہ ہوتا مگر آج جب بیگم نے کہا کہ لکڑیاں ہی لے آؤ گیس تو آنی نہیں ، اب تو میں بازارمیں بچوں کیلئے کچھ خریدنے بھی نہیں جاسکتی۔۔۔۔۔کیونکہ۔۔۔۔۔ محلے کی عورتیں کہتی ہیں۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔بڑ ا شیر شیر کردی سیں۔۔۔ہن دس۔۔۔۔۔۔۔!
تاریخ اشاعت: 2014-02-11

(0) ووٹ وصول ہوئے

مصنف کا نام     :     الطاف گوہر

الطاف گوہر کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-