بند کریں
منگل جنوری

مزید سماجی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
ہم پاکستانی ہیں
طالع آزما جنرل ، کرپٹ بیورو کریسی او رکرپٹ سیاستدانوں نے اس پیارے پاکستان کا جو حشر کردیا ہے وہ سب پر عیاں ہے۔ جن کے پاس گدھا گاڑی نہیں تھی
ثناء پیرزادہ:
یہ ہمارا پیارا وطن پاکستان دنیا کے ایسے خطے میں واقع ہے جہاں خوبصورت شاداب وادیاں ہیں۔ شمالی علاقہ جات میں قدرتی نظاے جنت نظیر ہیں۔ قدرتی پھولوں اور پھلوں سے آراستہ یہ علاقے قدرت کا حسین شاہکار ہیں۔ قبائلی غیور پٹھان، محبت وطن جنہوں نے ہمیشہ مغربی سرحدوں کی حفاظت کی۔ پنجاب کے میدانی علاقے اپنی مثال آپ ہیں۔
ہر طرف ہریالی اور ہر موسم کی فصلوں اور باغات سے بھرپور کھیت کھلیاں یہاں کا حسن ہے۔ وادی سندھ باب الاسلام عروس البلاد کراچی جو پاکستان کا گیٹ وے ہے ۔ سمندر اور ساحل سمندر کی اہمیت سب پر عیاں ہے۔ سندھ کی وادی میں زراعت سبزیاں پھل ریگستان میں بھی دستیاب ہیں۔ زمین میں بے بہا قدرتی خزانے لئے ہوئے بلوچستان، قدرتی بندرگاہ گوادر اس کی اہمیت ساری دنیا جانتی ہے۔
چاروں موسم، تازہ سبزیاں ہر قسم کے عمدہ پھل، پیارے ملک پاکستان میں بھی پیدا ہوتے ہیں لیکن ہم پاکستانی ناشکری قوم ہیں۔ ہر بندہ پاکستان قوم کو کوستا رہتا ہے۔ کیا ہم نے بحیثیت قوم اور انفرادی طور پر اپنا فرض نبھایا ہے؟؟؟ اس ملک کے لیڈروں نے پیارے وطن کی کیا درگت بنائی ہے، سب پر عیاں ہے۔
طالع آزما جنرل ، کرپٹ بیورو کریسی او رکرپٹ سیاستدانوں نے اس پیارے پاکستان کا جو حشر کردیا ہے وہ سب پر عیاں ہے۔
جن کے پاس گدھا گاڑی نہیں تھی وہ بلٹ پروف گاڑیوں اور گارڈز کے ساتھ شاہانہ کروفر اور گردن میں سریا لئے ہوئے پھرتے ہیں۔ یہ سب اللہ بادشاہ کی شان ہے اور دو نمبر پیسے کا کمال ہے۔ ہر طرف ہاہا کار مچی ہوئی ہے۔ عام عوام کا کوئی پرسان حال نہیں۔ قانون ہے تو غریبوں، پٹواریوں، کلرکوں کیلئے۔ ارب لوگوں کو سات کون معاف ہیں۔ (شاہ زیب قتل کیس) ۔ اس ملک پر صرف ایک ہزار کاندان حکومت کر رہے ہیں۔
جو کہ کھرب پتی ہیں۔ ان خاندانوں نے پاکستان کی جڑیں کھوکھلی کردی ہیں۔ کوئی لیڈر ڈیزل کی اسمگلنگ کر کے ارب پتی ہے۔ کوئی ڈرگ مافیا کا ساتھی ہے۔ کسی لیڈر نے ایک کارخانے سے 20کارکانے بنالئے ہیں۔ نمبر دو ڈوگرہ بنا کر عوام کی صحت اور زندگی سے کھیل رہے ہیں تو کوئی لیڈر کانسٹیبل سے ارب پتی ہوگیا ہے۔ کئی منشیات کے سمگلر ہیں۔ اس ملک کے کئی لیڈر بھارت سے اربوں روپے رشوت لے کر قومی منصوبوں کی بھپور مخالفت کرتے ہیں، جیسے کہ کالا باغ ڈیم۔

محترم جناب میاں صاحب نیک نیت معلوم ہوتے ہیں۔ اللہ بادشاہ انہیں توفیق دے کہ وہ پاکستان کو علامہ اقبال، قائد اعظم کا پاکستان بنا سکیں۔یہ تب ہی ممکن ہے کہ ہر پاکستانی اپنا فرض دیانت داری سے نبھائیں، اربوں کی گیس چوری نہ کرے، اربوں کی بجلی چوری نہ کرے۔ اربوں کا ڈیزل، پٹرول چوری کر کے نہ بیچیں، بھتہ خوری، ٹارگٹ کلنگ سے کنارہ کش ہوجائیں۔
ڈاکو کی اور سماج دشمن عناصر کی کیا زندگی ہے کہ جب موت آتی ہے تو کفن دفن کرنے والا کوئی نہیں ہوتا۔ یہ ہماری بہادر، نڈر، اسلامی جذبے سے سرشار، مسلح افراج کا ہی طرہ امتیاز ہے کہ اس نے نصرف خداوندی سے اس ملک کو ہر آفت اور مصیبت ہے بچایا اور دسمن کے ناپاک عزائم کو ہمیشہ ناکامیاب کیا۔ پاکستان کے مذہبی لیڈر صرف اپنی انا کی تسکین کیلئے اور اپنے آپ کو نمایاں کرنے کیلئے فروعی اور عقل سے ماوراہ بیان بازی کررہے ہیں۔

جو اسلام کے ٹھیکیدار پاکستان کے کونے کونے میں دہشت گردی سے بے گناہ معصوم پاکستانی عوام جن میں بوڑھے ، عورتیں، بچے، جوان اور غیور بہادر، نڈر، محب وطن، پاکستان کی مسلح افراج کے افسر جوان شامل ہیں، جن کو شہید کیا جاچکا ہے۔ کیا یہ پاکستان اور پاکستانی مسلمانوں کے دوست ہیں؟؟؟
تاریخ اشاعت: 2014-05-08

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان