بند کریں
منگل جنوری

مزید سماجی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
ہم پاکستانی بن کر کب سوچیں گے؟
لمحہ فکریہ تو یہ ہے کہ ہم کب تک امریکی چودھراہٹ قائم رکھنے کے لئے اپنے سرکٹا کر اس کے لئے راستے ہموار کرتے رہیں گے۔ ہمیں اپنا مفاد پیش نظر رکھ کر چلنا ہوگا تاکہ امریکہ غلامی کا کشکول توڑا جا سکے
تہمینہ رانا:
امریکہ نے سوویت یونین کے خلاف جنگ میں افغان مجاہدین کی نہ صرف سرپرستی کی بلکہ جدید اسلحے کی صورت میں پہلی باربا قاعدہ منصوبہ بندی کے تحت اُنھیں سسنگرز بھ فیر اہم کئے تھے۔مشہور جریدے وال سٹریٹ جرنل میں سیکرٹ ایجنٹ مین کے حوالے سے شائع ہونے والے مضمون کے چند اقتباسات اس تحریر میں شامل کئے جا رہے ہیں تاکہ امریکہ کے اس کردار کا بھی جائزہ لیا جائے جس کے تحت پہلے وہ جہادیوں کی خود سر پرستی کرتا ہے اور پھر مطلب نکلتے ہی ان ہی مجاہدین کو دہشت گرد کا خطاب دے ڈالتا ہے۔
کیا اچھا ہو کہ دنیا بھر میں ”جیواور جینے دو “کی پالیسی رائج ہو جائے اور یہ دنیا کا گہورہ ہو ۔مگر ایسا ہونا مشکل بلکہ نا ممکن سا لگتا ہے ۔ اس کی وجہ وہ لوگ ہیں جو اپنی برتری قائم رکھنے کے لئے کئی سالوں پر محیط ”گریٹ گیم“جیسی حکمت عملی پر مبنی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔ ایسا صرف اور صرف اپنی چودھراہٹ قائم رکھنے کے لئے کیا جاتا ہے۔
سوویت یونین کی اجارہ داری ختم کرنے کے لئے امریکیوں نے افغانستان کی سرزمین پر وہ فساد برپا کیا کہ جس کے بھیانک اثرات کاآج بھی پاکستانیوں کو سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ بلکہ یہ کہنا بے جانہ ہوگا کہ یہ جنگ ”اوروں کی ہے اور ہمارے سروں پر جان بوجھ کر مسلط کی گئی ہے۔ امت مسلمہ کو خصوصی طور پر یہ بڑے اپنے لئے خطرہ گردانتے ہیں۔ اس لئے باقاعدہ اور منظم حکمت عملی کے تحت اسلامی ممالک کے سربراہان کو لالچ دے کر جال میں پھنسایا جاتا ہے اور پھر اُن سے مطلوبہ اہداف حاصل کرنے کے لئے مہربانیوں کے سلسلے بحال رکھے جاتے ہیں لیکن جہاں کسی نے ذراسی بھی اکڑ دکھائی تو پھر جوان کا حشر ہوتا ہے اُسے ہم عراق کے سابق صدر صدام حسین ،کرنل معمر قذافی کے بھیانک انجام کی شکل میں عملاََ دیکھ چکے ہیں۔
وال سٹریٹ جرنل میں فلپ مڈ”سیکرٹ ایجنٹ مین“ کے حوالے سے امریکی ایجنٹ مسٹر ڈیوائن کی اُن کاروائیوں اور کار ستانیوں کا پردہ فاش کرنے ہوئے لکھتے ہیں کہ روس افغانستان کی جنگ میں مجاہدین کو باقاعدہ حکمت عملی اور مربوط منصوبہ بندی کے تحت نہ صرف سپورٹ کیا گیا بلکہ اُنھیں جدید ترین اسلحے کے ذخائر سے لیس کرکے سوویت یونین جیسی سپرپاور کو ناکوں چنے چبوائے بلکہ یوں کہیے کہ باقاعدہ دھول چٹا دی۔
امریکی اگر براہ راست سوویت یونین کے ساتھ میدان میں اُترتے تو شاید وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کرپاتے اور یوں روس کی حالت موجودہ حالات سے قطعی مختلف ہوتی مگر ان بڑوں نے اس کے لئے باقاعدہ افغانستان جیسے منجھے ہوئے جنگجووٴں کی زمین پر اتحادیوں کے ساتھ مل کر شکار کیا۔ سی آئی اے میں جیک ڈیوائن کا کیرئیر دو دہائیوں پر محیط ہے ۔ 1986 ء مٰں سی آئی اے کے ڈائریکٹر کے دفتر میں اپنی یادیں دہراتے ہوئے ڈیوائن نے کہا ہم نے سسنگرز کے ذریعے تین ہیلی کاپٹرز کو مار گرایا جو ہمارے لئے یقینا ایک بڑی کامیابی جیسا تھا ڈائریکٹرولیم کسی جوکہ پرجوش جنگجو تھے نے ڈیوائن کی اس کامیابی کو سراہتے ہوئے کہا کہ آنے والے وقت میں بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہوگا۔
اس بات سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکیوں نے سوویت یونین کے خلاف برسر پیکار جنگجووٴں کو پہلے مجاہدین کے خطاب سے نوازا اور وقت بدلنے کے سات ہی کل کے مجاہدین نہ صرف دہشت بلکہ انہیں امریکہ اور دیگر اتحادی ممالک کے لئے بڑا خطرہ قرار دے دیا گیا۔ اب انہی مجاہدین کو دہشت گردی پھیلانے اور دنیا کا امن تباہ کرنے کا ذمہ دار گردانا چاہتا ہے۔ مسٹرجیک ڈیوائن تو اس بڑی جنگ کا چھوٹا سا مہرہ تھا کاش کہ معاملہ روس افغان جنگ کے بعد ختم ہو جاتا مگر اس کے بعد کے اثرات زیادہ بھیانک اور تکلیف دہ ہوتے چلے گئے۔
امت مسلمہ کی بڑی طاقت پاکستان کو سب سے زیادہ قیمت چکانا پڑی اس دور کے حکمرانوں نے اپنے امریکی آقاوٴں کو خوش کرنے کے لئے ہر کام کیا اور بے پناہ انعام واکرام کے حقدار ٹھہرے۔ امریکہ نے اپنی فوج کا انخلاء وقت اور صورتحال کی سنگینی کے باعث شروع کیا اور جاتے جاتے پاکستانیوں کو اس آگ میں جھونک گیا۔ دیکھئے کب تک اس پرائی آگ میں جلنا وطن عزیز کے باسیوں کا مقدر ہوگا۔
طاقتور ہمیشہ اپنی اجارہ داری قائم رکھنے کے لئے ہر وہ حربہ استعمال کرتا ہے جس سے اس کی برتری نہ صرف سلامت رہے بلکہ کمزور کو مزید کمزور کرنے سمیت اس کا قلع قمع ہی کردیا جائے، تاکہ نہ رہے بانس نہ بجے کی بانسری۔ مگر طاقت کے ذعم میں یکسر اس حقیقت کا نظر انداز کرنے سے سچائی کو بدلا نہیں جاسکتا کہ کمزور کو جتنا دبایا جائے وہ اس سے دُگنی طاقت کے ساتھ پھر سے اُبھرتا ہے۔
امریکہ خود کو سپرپاور ثابت کرنے کے جنون میں مسلم دنیا کے چھوٹے بڑے سبھی ممالک کو اپنی سازش کا شکار بنا چکا ہے ۔ لمحہ فکریہ تو یہ ہے کہ ہم کب تک امریکی چودھراہٹ قائم رکھنے کے لئے اپنے سرکٹا کر اس کے لئے راستے ہموار کرتے رہیں گے۔ ہمیں اپنا مفاد پیش نظر رکھ کر چلنا ہوگا تاکہ امریکہ غلامی کا کشکول توڑا جا سکے۔ وگرنہ ہم جتنا بھگت چکے ہیں ہماری نسلیں اس سے زیادہ بھگتیں گی اور ہم تاریخ کے ساتھ آنے والی نسلوں کے بھی مجرم ٹھہریں گے۔
تاریخ اشاعت: 2014-10-02

(0) ووٹ وصول ہوئے