بند کریں
جمعہ جنوری

مزید سماجی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
حکمران یا لیڈر؟
بحریہ ٹاوٴن کے چیئرمین ملک ریاض کا خیال ہے کہ ملک میں رائج نظام اور اسکو چلانے والے پاکستان کی ترقی میں بڑی رکاوٹ ہیں۔ جب تک نظام چلانے والے یہ لوگ ٹھیک نہیں ہوں گے جسے مرضی حکمران بنالیں ملک ٹھیک نہیں ہو گا۔
خان بابا:
بحریہ ٹاوٴن کے چیئرمین ملک ریاض کا خیال ہے کہ ملک میں رائج نظام اور اسکو چلانے والے پاکستان کی ترقی میں بڑی رکاوٹ ہیں۔ جب تک نظام چلانے والے یہ لوگ ٹھیک نہیں ہوں گے جسے مرضی حکمران بنالیں ملک ٹھیک نہیں ہو گا۔ اس وقت پاکستان کو کسی لیڈر، کی ضرورت ہے حکمران کی نہیں۔ ان کا یہ بھی خیال ہے کہ ایک ہزار اور پانچ ہزار روپے کے نوٹ کرپشن کا بڑا ذریعہ ہیں اگر ملک سے ان بڑے نوٹوں کے ساتھ ساتھ بانڈز بھی ختم کر دئیے جائیں تو کرپشن اور مہنگائی میں کمی آجائے گی اور بلیک منی ، وائیٹ منی میں تبدیل ہو جائے گی۔

اس بات میں تو کوئی شک نہیں ہے کہ پاکستان کو اس وقت کسی ”اصلی “ لیڈر کی ضرورت ہے۔ یوں تو اس وقت ملک میں کئی لیڈر موجود ہیں مگر اُنہیں اپنے طور پر یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ پاکستان کا عوام کے اصلی مسائل کیا ہیں؟ ان کی مستقبل رہائش گاہیں ملک سے باہر ہیں ۔ وہ حکمرانی کی ”ملازمت “ کے سلسلے میں عارضی طور پر پاکستان آتے ہیں جیسے دیہات سے تعلق رکھنے والے نوجوان ملازمت کے لیے بڑے شہرمیں آتے ہیں اور جب اُنہیں موقع ملتا ہے تو وہ اپنے دیہات چلے جاتے ہیں۔
اور جاتے ہوئے یا جانے سے پہلے ہی اپنی کمائی اپنے گھر بھجوا دیتے ہیں۔ یہی حال ہمارے ان ”لیڈروں‘ کا ہے۔ ان میں سے کسی کاگھر دوبئی میں ہے تو کسی کاجدہ میں اور کسی کا لندن میں اور کوئی امریکہ کی کسی ریاست میں جاکر فارغ وقت گزارتا ہے۔ بات محض فارغ وقت گزارنے کی نہیں ہے۔ فارغ وقت تو بہت سے لوگ اپنے اپنے دفتر میں بھی گزاردیتے ہیں ۔
اصلی بات تو وطن سے پیار کرنے اور اسکے اظہار کی ہے۔ اس خطے کے عوام کا حکمران تو کوئی بھی ہو سکتا ہے۔ ماضی میں مختلف سلاطین نے بھی یہاں حکومت کی پھر انگریز حکمران آتے رہے جو یہاں سے دولت سمیٹ کر اپنے اپنے ملک میں لے گے پھر جب محمد علی جناح نام کا قائداعظم اس خطے کو ملا تو اس نے اس خطے کی قسمت بدل دی۔ اس کے بعد بدقسمتی سے اُس پائے کا کوئی بھی لیڈر نہ مل سکا۔
اگر کسی کے اندر قیادت کی کوئی رمق نظر آئی تو زندگی نے اسے موقع ہی نہ دیا۔ قیادت کے اس قحط الرجال میں بہت سے ”بونے“ قائد بن کر بیٹھے ہوئے ہیں اور یہ اپنے سے زیادہ کسی ذہین یا قابل شخص کو آگے بھی نہیں آنے دے رہے ۔ یہی وجہ ہے کہ جو بھی تبدیلی یا بہتری کی بات کرتا ہے عوام اُسکے پیچھے چل پڑتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ عوام کوایک سے بڑھ کر ایک حکمران تو مل رہے ہیں۔
مگر لیڈر نہیں۔
ملک ریاض کا یہ خیال کہ ” ایک ہزار اور پانچ ہزار روپے کے نوٹ ختم کرنے سے کرپشن کا خاتمہ ہو سکتا ہے “ ناقابلِ فہم ہے۔ اگر وہ اس بات کی وضاحت کرد یں تو ملک و قوم پر ان کا بڑا احسان ہوگا۔ ملک ریاض ایک کامیاب بزنس مین ہیں۔ وہ صاف کہتے ہیں کہ اُنہوں نے میٹرک تھرڈ ڈویژن میں پاس کیا تھ مگر اپنی محنت اور لگن سے وہ ملک کے چوٹی کے کاروباری افراد میں شمار ہوتے ہیں۔
بلکہ ایوانِ اقتدار تک ان کی رسائی ہے۔ گزشتہ دنوں ملک میں دس ہزار روپے کانوٹ جاری ہونے کی خبریں آرہی تھیں مگر جب اس پر بہت زیادہ تنقید ہوئی تو سٹیٹ بنک آف پاکستان کویہ وضاحت کرنا پڑی کہ پانچ ہزار سے زیادہ مالیت کا کوئی نوٹ جاری نہیں کیاجا رہا ورنہ تو لوگ اس نوٹ کی جھلک انٹرنیٹ پردیکھ ہی چکے ہیں۔ عین ممکن ہے کہ ملک صاحب نے بھی حکومت کو بتا دیاہو کہ فل الحال اتنا بڑا نوٹ نہ چلایا جائے۔ یہ حقیقت ہے کہ مضبوط معیشت کے حامل ممالک میں ایک ہزار سے زیادہ بڑا نوٹ گردش نہیں کرتا۔ اتنے بڑے نوٹ کے مارکیٹ میں گردش کرنے سے کرپشن پر اثر پڑے یا نہ پڑے مگر معیشت پر منفی اثر ضرور پڑتا ہے۔
تاریخ اشاعت: 2015-09-21

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان