بند کریں
جمعہ فروری

مزید سماجی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
حکمران کب تک خیالی دنیا میں رہیں گے؟
ہمارا بڑاالمیہ یہ بھی ہے کہ آج تک یہاں نہ تو پولسی کا طرز عمل تبدیل ہوا اور نہ ہی تھانہ کلچر کو تبدیل کیا جاسکا ہے۔ اکثر تھانے دار جرائم روکنے کی بجائے انہیں پروان چھڑاتے نظر آتے ہیں
مصنف : سید بدر سعید
سید بدر سعید:
ہمارا بڑاالمیہ یہ بھی ہے کہ آج تک یہاں نہ تو پولسی کا طرز عمل تبدیل ہوا اور نہ ہی تھانہ کلچر کو تبدیل کیا جاسکا ہے۔ اکثر تھانے دار جرائم روکنے کی بجائے انہیں پروان چھڑاتے نظر آتے ہیں۔ اعلیٰ افسروں کی جانب سے ”سب اچھا“ کی رپورٹ فائلوں کا سفر کرتی رہتی ہیں لیکن زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ پنجاب میں سرکاری فائلیں اور لیڈروں کے بیانات بتاتے ہیں کہ ماڈل تھانے بنائے جارہے ہیں، پولیس کو منظم کیا جارہا ہے اور حالات بہتر ہورہے ہیں۔
دوسری جانب صوبے میں 2013ء میں ساڑھے تین لاکھ سے زیادہ وارداتیں ہوئی اور پولیس اہلکار ہمیشہ کی طرح اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کر کے شہریوں کو ہراساں کرتے رہے۔ یہ تو وہ وارداتیں ہیں جو ریکارڈ کی گئیں کیونکہ پولیس کے پھندے میں پھنسنے سے بچنے کیلئے بے شمار شہری تھانے میں رپورٹ کرانا ضروری نہیں سمجھتے۔
2013ء کے بعد اب ہم2014میں قدم رکھ چکے ہیں۔
یہ سال جہاں کئی حوالوں سے اپنی یاد دلاتا رہے گا وہیں یہ احساس بھی رہے گا کہ تمام تر حکومتی دعوؤں اور نعروں کے باوجود گزشتہ سال بھی تھانہ کلچر درست نہ ہوسکا۔ عوام دوست پولیس لوگوں کی مدد، تھانہ کلچر کا خاتمہ اور اختیارات کے ناجائز استعمال کی روک تھام کے تمام تر دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے۔ 2013ء پولیس اور تھانہ کلچر کے حوالے سے اچھی یادیں نہ چھوڑ کر گیا۔
یہ صرف لفظی جمع خرچ نہیں ہے بلکہ پولیس کا اپنا ریکارڈ بھی اس کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔ وزیراعلیٰ بھی جانتے ہیں کہ عوم تھانہ کلچر سے کس قدر تنگ ہیں، اسی لئے انہوں نے انتخابات سے قبل اس مسئلہ کو اپنی تقاریر کا حصہ بنا یا لیکن اقتدار میں آنے کے بعد وہ جس طرح اس مسئلہ کو بھول گئے، اس سے محسوس ہوتاہے کہ وہ اگلے انتخابات میں بھی تھانہ کلچر درست کرنے اور عوام سے زیادتی کرنے والے کرپٹ پولیس اہلکاروں اور افسروں کو الٹالٹکا دینے کے دعوے کرنے کا عزم رکھتے ہیں۔

اگر 2013ء کے پولیس ٹریک ریکارڈ پر نظر ڈالیں تو لاقانونیت اور جرائم مسکراتے نظر آتے ہیں۔ غیر جانبدارنہ رپورٹس یا غیر سرکاری رپورٹس کو ایک طرف رکھ دیں تب بھی خود پنجاب پولیس کا اپنا ریکارڈ وزیر اعلیٰ کو ”ہے ، دیکھنے کی چیز“ کا آلاپ سنا رہا ہے۔ پولیس ذرائع سے ملنے والے ریکارڈ کے مطابق 2013ء کے پہلے گیارہ ماہ میں مختلف جرائم کی مد میں 36026کیس درج ہوئے۔
ان کے علاوہ ایسے لاتعداد جرائم الگ سے ہیں جن کی رپورٹ ہی درج نہیں کرائی جاتی۔ وجہ یہ ے کہ پولیس کا رویہ عوام کو بدگمان کر چکا ہے۔ گزشتہ سال درج ہونے والی رپورٹ س کی تعداد 2012ء سے کم ہے جس پر بعض پولیس افسر چھلانگیں لگاتے نظر آرہے ہیں لیکن 3لاکھ 60ہزاور کا ہندسہ معمولی نہیں ہے۔ گزشتہ دو سال کے دوران پنجاب میں ہونے والے جرائم کا جائزہ لیں تو یہ تعداد 7لاکھ 26ہزاور سے بھی تجاوز کرجاتی ہے۔
اس سے پچھلے سالوں کا جائزہ لینا دل گردے کا کام ہے۔ گزشتہ سال ڈکیتی ، چوری، کار چوری اور اغوا کے 90526کیس رجسٹر ہوئے۔ 2013ء میں 25000سے زائد گاڑیاں اور موٹر سائیلیں چوری ہوئیں یا چھین لی گئیں۔ پولیس ریکارڈ کے مطابق گزشتہ سال قتل، ڈکیتی، چوری ، اغوا برائے تاوان اور گینگ ریپ کے 17042ملزمان گرفتار کئے گئے۔ دوسری طرف 105000اشتہاری ابھی بھی کھلے پھر رہے ہیں جو پولیس کو مختلف مقدمات میں مطلوب ہیں۔
یعنی خادم الیٰ کا صوبہ فی االحال ابھی تک خطرناک مجرموں کیلئے محفوظ ٹھکانہ بنا ہوا ہے۔ پولسی افسران کی جانب سے دعویٰ کیا جاتا ہے کہ انہوں نے جرائم پر بڑی حد تک قابو پالیا ہے۔ قومی خزانے سے اس محکمہ کو اربوں روپے دیے جاتے ہیں۔ کئی نئی فورسز بن رہی ہیں اور جدید اسلحہ کے نام پر بھی فنڈ مانگا جاتا ہے۔ 2012ء میں پنجاب پولیس نے مختلف جرائم کے حوالے سے 3لاکھ 95ہزار کسی رجسٹر کئے۔
2010ء میں 38643مقدمات رجسٹر کئے گئے۔ 2009ء میں پنجاب پولیس کے ریکارڈ میں383379جبکہ 2008ء میں 374400کیسز رجسٹر کیے گئے۔ بدقسمتی سے 2008ء سے اب تک پنجاب کے جرائم ساڑھے تین لاکھ سالانہ سے زائد رہے ہیں۔ اس کے باوجود گڈ گورننس انصاف اور بہترین پولیس کا ڈھنڈورا پیٹا جائے تو اسے کیا کہا جائے؟
حکومت پنجاب کی جانب سے امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کیلئے متعدد اقدامات کیے گئے۔
کئی بل منظور اضافہ ہوا۔ فرانزل سائنس ایجنسی بنائی ماڈل پولیس تھانوں پر پیسہ خرچ کیا گیا اور غیر ملکی ایجنسیوں کی جانب سے شروع کیے گئے پروفیشنل کورسز میں پنجاب پولیس کی شرکت کو یقینی بنایا گیا۔ اس کے باوجود سچ یہی ہے کہ 2013ء میں پولیس لگ بھگ سبھی ہائی پروفیائل مقدمات کو حل کرنے میں ناکام رہی۔
پنجاب پولیس کی بند فائلوں کا جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ بہت سے معاملات خصوصاََ بم دھماکوں اور فرقہ وارانہ فسادت کو ناقبل تفتیش قرار دے کر ہمیشہ کیلئے بند کردیا گیا۔

2013ء میں یہ بھی دیکھنے میں آیا کہ پولیس اہلکاروں کو بے مقصد ڈیوٹیاں سونپ کر ان کی توجہ اصل دہشت کردوں سے ہٹائی گئی۔ ایک پولیس افسر کے ذہن میں جانے کیا سمائی کہ انہوں نے پوری فورس کو موٹرسائیکلوں کی نمبر پلیٹ چیک کرنے پر لگا دیا ۔ ان دنوں پولیس کی توجہ مجرموں کی بجائے بازاروں اور تفریحی مقامات کی پارکنگ میں نمبر پلیٹ کے بغیر کھڑی موٹر سائیکلوں پر ہی رہی۔

پنجاب پولیس اپنے گریبان میں جھانکے تو 2013ء میں خودپولیس کے خلاف غیر قانونی حراست، تشدد اور رشوت کے الزام میں 7682سے زائد مقدمات درج ہوئے۔ قانون نافذ کرنے والوں کی جانب سے قانون کی دھجیاں اڑانے کا یہ سلسلہ اعلیٰ ترین افسروں سے ہوتا ہوا عام کانسٹیبل تک پہنچتا ہے۔ 85 انسپکٹروں کو ایس ایچ او شپ کیلئے نااہل قرار دیا گیا۔ 13انسپکٹروں اور سب انسپکٹروں کو حبس بے جا کے کیسوں میں جرم ثابت ہونے پر معطل کر کے محکمانہ کارروائی کے احکامات جاری کئے گئے۔
163اے ایس آئیز اور کانسٹیبلوں کے خلاف بھی فوجداری مقدمات درج ہوئے جبکہ 41انسپکٹروں، سب انسپکٹروں اور کانسٹیبلز کو گرفتار کر کے جیل بھیجا گیا۔ 167ایس ایچ او اور سب انسپکٹروں کو حبس بے جا کے مقدمات میں اعتراف جرم کرنے پر بھاری جرمانے کئے گئے۔
حکومت کی جانب سے پولیس کو مراعات کے ساتھ ساتھ بھاری فنڈ بھی دئیے جاتے ہیں۔ ماڈل تھانوں کا شور بھی سنائی دیتا رہا ہے جبکہ پولیس افسروں کی فائلوں میں ”سب اچھا“ کی رپورٹ بھی بہت خوبصورت لگتی ہے۔
حکومت تھانہ کلچر درست کرنے کے نعرے لگاتی ہے تو دوسری جانب پولیس افسروں سے بات کریں تو لگتا ہے جیسے پولیس ڈیپارٹمنٹ تیزی سے کامیابی کی جانب بڑھ رہا ہے۔ یہ الگ بات کہ ایسی کامیابی صرف فائلوں کی حد تک نظر آتی ہے جبکہ زمینی حقائق کچھ اور ہیں۔ وزیر اعلیٰ اور الیٰ پولیس افسروں کو چاہئے کہ ماڈل پولیس اور کامیابیوں کے نعرے لگانے سے قبل ایک نظر ادھر بھی ڈال لیں۔
ضروری امر یہ ہے کہ اگر پولیس کو اس کے اصل فرض کی جانب لانا ہے اور عوام دشمن تھانہ کلچر ختم کرناہے تو پھر پولیس کو ”فنڈ“ اکٹھا کرنے کے مشن سے ہٹانا ہوگا۔ اسی طرح ناکہ کلچر کی حوصلہ شکنی کر کے مجرموں کا کھوج لگانے کی طرف مائل کرنا ہوگا۔ شاید پولیس کی اعلیٰ قیادت کا خیال ہے کہ ڈاکو اس شاہراہ سے ضرور گزرتے ہیں جہاں روزناکہ لگائے پورے تھانے کی نفری کھڑی کردی جاتی ہے۔ جدید دور کے ڈاکو دفاتر میں بیٹ کر سب اچھا کی فائلیں نہیں پڑھتے بلکہ زمینی حقائق پر نظر رکھتے ہیں۔ تھانہ کلچر کے خاتمے کیلئے حکومت اور پولیس افسروں کو بھی پروٹوکول کے مزے لینے کی بجائے صورتحال کا خود زمینی جائزہ لینا ہوگا۔
تاریخ اشاعت: 2014-01-23

(0) ووٹ وصول ہوئے

مصنف کا نام     :     سید بدر سعید

سید بدر سعید کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-

: متعلقہ عنوان